Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
150 - 198
کتابُ الحج
مسئلہ ۲۷۷: مسئولہ واحد یارخاں صاحب از بریلی ۴ذی قعدہ ۱۳۲۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت کا حج کوجانا درست ہے یا نہیں؟
الجواب

حج کی فرضیت میں عورت مرد کا ایک حکم ہے، جوراہ کی طاقت رکھتا ہواُس پر فرض ہے مرد ہو یا عورت ، جوادا نہ کرے گا عذابِ جہنّم کا مستحق ہوگا۔ عورت میں اتنی بات زیادہ ہے کہ اُسے بغیر شوہر یا محرم کے ساتھ لیے، سفر کوجانا حرام، اس میں کچھ حج کی خصوصیت نہیں، کہیں ایک دن کے راستہ پر بے شوہر یا محرم جائے گی تو گنہگار ہوگی، ہاں جب فرض ادا ہوجائے تو بار بار عورت کو مناسب نہیں کہ وُہ جس قدر پردے کے اندر ہے اُس قدر بہتر ہے۔ حدیث میں اس قدر ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے امہات المومنین کو حج کراکر فرمایا ھذہ ثم حصر البیوت یہ ایک حج ہوگیا اس کے بعد گھر کی چٹائیاں۔ پھر یہ بھی اولویت کا ارشاد ہے نہ کہ عورت کو دُوسرا حج ناجائز ہے، ام المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا نے اس کے بعد پھر حج کیا۔ واﷲتعالٰی اعلم ۔
مسئلہ ۲۷۸تا ۲۸۰: از ایٹہ ۸رمضان مبارک مرسلہ اسحاق نائب مدرس تحصیلی اسکول

جناب مولانا صاحب! عرضِ حال ذیل کو ملاحظہ فرماکر جواب ضرور ضرور لکھ دیجئے گا:

(۱) زید خرچ زاد راہ آمدورفت کا اپنی ذات خاص سے رکھتا ہے اگر والدین اجازتِ حج مکہ معظمہ کی نہ دیں تو حج نامبردہ کا ہوسکتا ہے یا کیا؟

(۲) والدین پر قرضہ قلیل اور حقیقتِ زمینداری اس سے کہیں زیادہ قیمت کی ہے۔

(۳) زید مذکور کی اہلیہ نیز عیال اطفال سے کوئی نہیں ہے۔
الجواب

جبکہ زید اپنے ذاتی روپے سے استطاعت رکھتا ہے تو حج اس پر فرض ہے،اور حجِ فرض میں والدین کی اجازت درکار نہیں بلکہ والدین کو ممانعت کا اختیار نہیں، زید پر لازم ہے کہ حج کو چلا جائے اگر چہ والدین مانع ہوں، والدین پر قرض ہونا اس شخص پر فرضیّت میں خلل انداز نہیں۔
واﷲتعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۲۸۱:از شہر کہنہ مسئولہ سیّد محمد نوراﷲصاحب اشرفی جیلانی محرر دار الافتائے اہلسنت بریلی ۸ذی الحجہ ۱۳۲۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کو بوجہ ہونے امکان حج کے جب کبھی حج کی ترغیب دی تو کہتا ہے کہ ہم نے حاجیوں کی اکثر مدد کی ہے پس ہم پر حج کرنا فرض نہیں ہے، اور کسی عالم کا قول نہیں مانتا، پس کیا اس سے حج شرعاً ساقط ہے؟
الجواب

یہ کلمہ کفر  ہے، حاجیوں کی مدد کرنے سے حج ساقط نہیں ہوسکتا ، اس شخص پر توبہ وتجدید اسلام فرض ہے، تجدیدِ نکاح وتجدیدِ اسلام کرے۔ واﷲتعالٰی اعلم ۔
مسئلہ ۲۸۲: از بدایوں مولوی محلہ مکان عطا احمد صاحب از طرف اہلیہ شاہ ابو الحسین صاحب مرحوم ومغفور ۷رمضان ۱۳۲۹ھ

حضرت جناب مولانا صاحب ! بعد سلام سنت واضح ہو مجھ کو سخت ضرورت وانتشار برائے دریافت ایک امر واقع ہوگیا وُہ یہ ہے کہ میں اس سال جو حجِ بیت اﷲکو جاتی ہوں تو بارادہ حجِ بدل اپنے پیر و مرشد جناب نانا صاحب حضرت شاہ آلِ رسول رضی اﷲتعالیٰ عنہ کے جاتی ہوں مارہرہ  آکر ایک امر جدید دریافت ہوا کہ جس سے آج اور اب تک بے خبر محض تھی، وُہ امر یہ ہے کہ جناب مرحومہ مغفورہ والدہ صاحبہ جو بیت اﷲتشریف لے گئی تھیں وہاں جاکر ان کو مرض الموت پیدا ہوا اور بتاریخ آٹھویں ذی الحجہ مقامِ منٰی پہنچ کر انتقال ہوگیا اور حج نہیں ہوا، تو مجھ پر اب حجِ والدہ مغفورہ لازمی ہوگیا، چونکہ میں اپنے ہمراہ بوجہ محرمیت برادر زادہ کو لیے جاتی ہوں جس کی عمر ۱۹ سال کی ہے اور اوّل مرتبہ یہ برادر زادہ بیت اﷲجاتا ہے تو دریافت طلب آپ سے یہ امر ہے کہ میں اس بچّہ سے حجِ والدہ مغفورہ کرادوں اور خود حج بعوض پیر وشد کروں اور میں سابق میں اپنے شوہر اور اپنے والد مغفور کا حج کر کے آئی ہُوں اور میرا ذاتی حج عرصہ اٹھارہ سال ہُوا کہ ہوچکا تھا، اگر برادر زادہ سے حجِ والدہ مرحومہ نہ ہوسکتا ہو تو میں خود قیام کرکے ایک سال تک دونوں حجِ مرشد ووالدہ کروں، ان امور کا جواب جلد مرحمت ہو۔
الجواب

بعد ادائے تسلیم خادمانہ ملتمس اگر حضرت کی والدہ ماجدہ رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہا پر اُسی سال حج فرض ہوا تھا اس سے پہلے کسی برس میں مال وغیرہ اتنا نہ تھا کہ حج فرض ہوتا تو جب تو ان کا حج بفضلہ تعالیٰ ادا ہوگیا، بلکہ ایسا ادا ہُوا کہ ان شاء اﷲقیامت تک ہر سال حج ادا کرتی رہیں گی، اور اگر اس سال سے پہلے فرض ہوچکا تھا تو البتّہ حجِ فرض اُن پر باقی رہا، حضرت ان کی طرف سے ادا فرمائیں یا ادا کرادیں تو اجرِ عظیم ہے، اب دیکھا جائے کہ یہ صاحبزادے جب سے بالغ ہوئے کسی سال زمانہ حج میں مال وغیرہ اتنا سامان ان کے پاس تھا کہ ان پر حج فرض ہوگیا یا اب تک ان پر فرض نہ ہوا اور اگر ان پر اصلاً فرض نہ ہوا تو حضرت ان کو والدہ ماجدہ کی طرف سے حج کرادیں اور خود پُرنور پیرو مرشدبرحق رضی اﷲتعالٰی عنہ کی طرف سے کریں، اور اگر خودان پر حج فرض ہولیا ہو تو یہ دوسرے کی طرف سے حج کرنے سے گنہگار ہوں گے مگرحج جس کی طرف سے کریں گے ادا ہوجائے گا ان پر گناہ رہے گا اور ایسی صورت میں اُن سے حجِ غیر کرانا بھی مکروہ ہے کہ ایک گناہ کا حکم دینا ہے، زیادہ حدِ ادب!
مسئلہ۲۸۳: از نواب مولوی سلطان احمد خاں صاحب    ۲۲ذیقعدہ ۱۳۲۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حجِ بدل کی کیا کیا شرائط ہیں؟بینو اتوجروا
الجواب

حجِ بدل یعنی نیا بۃً دوسرے کی طرف سے حجِ فرض ادا کرنا کہ اُس پرسے اسقاطِ فرض کرے ان شرائط سے مشروط ہے:

(۱) جس کی طرف سے حج کیا جائے قبل احجاج اس پر حج فرض ہو، اگر فقیر نے حج کرادیا پھر غنی ہوا خود حج کرنا فرض ہوگا۔

( ۲) محجوج عنہ حجِ بدل یعنی نائب کے وقوفِ عرفہ کرنے سے پہلے خود ادا سے عاجز ہو، اگر بحالِ قدرت حج کرایا پھر عاجز ہوگیا از سرِ نواحجاج لازم ہوگا۔

(۳) عجز اگر ممکن الزوال تھا مثل حبس ومرض، تو شرط ہے کہ تادمِ مرگ دائم رہے، اگر بعد حج خود قادر ہوا خود ادا فرض ہوگی بخلاف اس عجز کے کہ قابلِ زوال نہیں، جیسے نابینائی اگر بطور خرقِ عادت بعد احجاج زائل بھی ہوجائےاعادہ ضرور نہیں۔
 (۴) حجِ بدل کرنے والا تنہا ایک محجوج عنہ کی طرف سے حج واحد کی نیت کرے مثلاً
احرمت عن فلان یا اللھم لبیک عن فلان۱؎
اگر اس کی طرف سے نیت نہ کی یا دو حج کی نیت کی ایک اس کی طرف سے ایک اپنی طرف سے یادو شخصوں کی طرف سے نیت کی ایک اس کی جانب ایک منیب آخر کی جانب سے، تو کافی نہ ہوگا۔
 (۱؎ المنسک المتقسط مع ارشادالساری باب الحج عن الغیردارالکتاب العربی بیروت ص۲۹۲)
 (۵) یہ حج بامر محجوج عنہ ہو بلا اجازت دوسرے کی طرف سے حج کافی نہ ہوگا مگر جبکہ وارث اپنے مورث کی طرف سے حج کرے یا کرائے
لقیامہ مقامہ خلافۃ۔

ۤ
 (۶) مصارفِ آمد و رفت وسائر نفقہ حج کل یا اکثر مال محجوج عنہ سے ہوں۔

(۷) حج اگر بحیات محجوج عنہ ہو توجسے اس نے امر کیا وہی حج کرے، وُہ دوسرے سے کرادے گا تو ادا نہ ہوگا اور اگر بعد وفات محجوج عنہ ہے تو مامور دوسرے کو بھی اپنی جگہ قائم کرسکتا ہے اگر چہ میت نے اس کا نام لے کروصیت کی ہوکہ فلاں میری طرف سے حج کرے، ہاں اگر صراحۃً اس نے نہی کردی تھی کہ وہی کرے، نہ دوسرا، تواب دوسرا کافی نہیں۔

(۸) حجِ بدل کرنے والا اکثر راستہ سواری پر طے کرے اگر باوصف گنجائش نفقہ پیادہ حج کرےگا نفقہ واپس دے دے گا اور حج اس کی طرف سے نہ ہوگا۔

(۹) محجوج عنہ جب اہل آفاق سے ہو تو لازم ہے کہ اس کی طرف سے حج آفاقی کیا جائے اگر اس نے حج کو بھیجا اس نے عمرہ کا احرام باندھا بعد عمرہ مکہ معظمہ سے احرام حج باندھا اس کی طرف سے حج نہ ہوگا کہ یہ حج مکی ہوانہ آفاقی ، ہاں اگر قریب حج میقات کی طرف نکل کر احرامِ حج میقات سے باندھے تو جائز ہے کہ حج آفاقی ہوا نہ مکّی۔

(۱۰) مخالفت نہ کرے مـثلاً تنہا حج کے لیے امر کیا تھا اس نے قران یا تمتع کیا نفقہ واپس دے گا اور حج اس کی طرف سے نہ ہوگا۔

(۱۱) حجِ بدل کرنے والا حج صحیح اس دفعہ میں ادا کرے، ناعاقل بچّے یا مجنون کا حج کافی نہیں، ہاں مراہق کا کافی ہے، یونہی اگر وُہ حج فاسد کردیا کافی نہ ہوگا اگر چہ قضا بھی کرے۔ بیس ۲۰ شرطیں منسک متقسط میں ہیں انہیں گیارہ میں آگئیں۔ واﷲتعالٰی اعلم
Flag Counter