ابو ھریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے ہے رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مامن ایام احب الی اﷲان یتعبد لہ فیھا من عشر ذی الحجہ یعدل صیام کل یوم منھا بصیام سنۃ وقیام کل لیلۃ منھا بقیام لیلۃ القدر۲؎۔ رواہ الترمذی وابن ماجۃ والبیھقی۔
اﷲ عزوجل کو عشرہ ذی الحجہ سے زیادہ کسی دن کی عبادت پسندیدہ نہیں، اُن کے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں اور ہر شب کا قیام شب قدر کے برابر ہے۔(اسے ترمذی، ابن ماجہ اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ت)
(۲؎ جامع الترمذی باب ماجاء فی العمل فی ایام العشرامین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی۱ /۹۴)
(سُنن ابن ماجہ باب صیام العشرایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۲۵)
خصوصاً روزِ عرفہ کہ افضل ایّام سال ہے، اس کا روزہ صحیح حدیث سے ہزاروں روزوں کے برابر ہے اور دو۲ سال کامل کے گناہوں کی معافی، ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ ۔
الائمۃ الستۃ الاالبخاری عن ابی قتادۃ رضی اﷲعنہ قال سئل رسول صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلّم عن صوم یوم عرفۃ قال یکفرالسنۃ الماضیۃ والباقیۃ ۱؎
بخاری کے علاوہ ائمہ ستّہ نے حضرت ابو قتادہ رضی اﷲعنہ سے روایت کیا کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے یوم عرفہ کے بارے دریافت کیا گیا تو فرمایا یہ سال گزشتہ اور آئندہ کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الصیام قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۳۶۸)
(سنن ابن ماجہ باب صیام العشرایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۲۵)
ولابی یعلی بسند صحیح عن سھل بن سعد رضی اﷲتعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم من صام یوم عرفۃ غفرلہ ذنب سنتین متتابعین۲؎
اور ابویعلیٰ نے سند صحیح کے ساتھ حضرت سہل بن سعد رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲعلیہ وسلم نے فرمایا : جس نے عرفہ کے دن روزہ رکھا اس کے مسلسل دوسالوں کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
(۲؎ مسند ابو یعلٰی حدیث ۷۵۱۰مؤسسہ علوم القرآن بیروت۶ /۵۰۵)
وللطبرانی بسند حسن والبیہقی واللفظ لہ عن ام المؤمنین رضی اﷲتعالٰی عنہا قالت کان رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم یقول صیام یوم عرفۃ کصیام الف یوم۔۳؎
اور طبرانی میں سند حسن کے ساتھ اور بیہقی نے اور بیہقی کے الفاظ ہیں امّ المؤمنین رضی اﷲتعالٰی عنہا سے روایت کیا گیا ہے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرمایا کرتے کہ عرفہ کے روزہ کا ثواب ہزار دن کے روزوں کے برابر ہے۔(ت)
(۳؎ شعب الایمان حدیث ۳۷۶۴دارا لکتب العلمیہ بیروت۳ /۳۵۷)
پھر سب دنوں سے افضل روزہ عاشورہ یعنی دہم محرم کا روزہ ہے اس میں ایک سال گزشتہ کے گناہوں کی مغفرت ہے، رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من صام یوم عرفۃ غفر لہ سنۃ امامہ وسنۃ خلفہ ومن صام عاشوراء غفرلہ سنۃ۴؎۔ رواہ الطبرانی بسند حسن فی معجمہ الاوسط عن ابی سعید ن الخدری رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
جس نے عرفہ کاروزہ رکھا اس کے پہلے اور آئندہ کے سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور جس نے عاشوراء کا روزہ رکھا اس کے ایک سال کے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں۔ اسے طبرانی نے معجم الاوسط میں حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲتعالٰی عنہ سے سندِ حسن کے ساتھ روایت کیا ہے(ت)
محرم کے ہردن کا روزہ ایک مہینہ کے روزوں کے برابر ہے۔
الطبرانی فی الکبیر الصغیر عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما بسند لا باس بہ عن النبی صلّی اﷲتعالٰی علیہ وسلم من صام یوما من المحرم فلہ بکل یوم ثلٰثون حسنۃ۱؎۔
طبرانی نے معجم الکبیر اور صغیر میں حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے ایسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے جس میں کوئی حرج نہیں، کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے محرم کا ایک روزہ رکھا اس کے لیے ہر دن میں تیس۳۰ نیکیاں ہیں(ت)
افضل الصوم بعد رمضان، شعبان لتعظیم رمضان ۲؎۔ رواہ الترمذی واستغربہ والبیہقی فی الشعب وفیہ صدقۃ بن موسٰی۔
رمضان کے بعد سب سے افضل شعبان کے روزے ہیں تعظیم رمضان کے لیے۔ (اسے ترمذی نے روایت کرکے غریب کہا اور بیہقی نے شعب الایمان میں ذکر کیا، اور اس میں ایک راوی صدقہ بن موسیٰ ہے۔ت)
تو ۲۷ رجب کے روزے بعد رمضان سب روزوں سے افضل کہنا صحیح نہیں، ہاں بعض احادیث اُس کی فضیلت میں مروی ہُوئیں کہ فقیر نے اپنے فتاوٰی میں ذکر کیں، اُن سب میں بہتر حدیث موقوف ابوھریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے ہے:
من صام یوم سبع عشرین من رجب کتب اﷲتعالٰی لہ صیام ستین شھرا ۳؎۔
جو ۲۷ رجب کا روزہ رکھے اﷲتعالٰی اُس کے لیے پانچ برس کے روزوں کا ثواب لکھے۔
(۳؎ تنزیہ الشریعۃبحوالہ جزء ابی معاذکتا ب الصوم حدیث۴۱دارالکتب العلمیہ بیروت۲ /۱۶۱)
ایسی جگہ حدیث موقوف مرفوع ہے کہ تعیین مقدار اجر کی طرف رائے کواصلاً راہ نہیں، اور حدیثِ ضعیف ۴؎
فضائل اعمال میں باجماع ائمہ مقبول ہے کما فصلنا ہ بما لا مزید علیہ فی رسالتنا الھاد الکاف فی حکم الضعاف
( اس کی پوری تفصیل جس پر اضافہ دشوار ہے ہم نے اپنے رسالہ الہاد الکاف فی حکم الضعاف میں کی ہے۔ت)
۴؎ اس کے مطالعہ کے لیے رسالہ''منیر العین فی حکم تقبیل الابہا مین'' ملاحظہ ہو جو فتاوٰی رضویہ(جدید)جلد ۵ کے ص۴۲۹پر ہے۔
احادیث صحاح وحسن وصوالح میں اور بھی بہت روزوں کے فضائل آئے ہیں جیسے شش عید وایامِ بیض کہ دونوں میں ہرایک سال بھر کے روزوں کا ثواب لاتا ہے کہ
من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا ۱؎
(جس نے کوئی نیکی کی اسے اس کا دس گنا اجر ملے گا ۔ت)
(۱؎ القرآن ۶ /۱۶۰ )
وروزہ دو شنبہ و روزہ پنجشنبہ وروزہ چہار شنبہ وپنجشنبہ کہ دوزخ سے آزاد ہیں۲؎اور روزہ چہار شنبہ وپنجشنبہ و جمعہ کہ جنت میں گوہر ویاقوت وزبرجد کا گھر بناتے ہیں ۳
(خیر سے روکنے والا )کے وبال میں داخل ہونا ہے جب تک ذاتاً یا عارضاً ممانعتِ شرعیہ نہ ثابت ہو، ۲۷ کے علاوہ روزہ ہائے رجب میں احادیث کثیرہ وارد ہیں جن میں بعض خود اوربعض بتعدد مرتبہ صالح رکھتی ہیں، شیخ محقق مولانا عبد الحق محدّث دہلوی قدس سرہ القوی نے ماثبت بالسنۃ میں اُن کی تفصیل فرمائی۔
ومایروی عن الفاروق الاعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ ،فلان رجب کانت تعظمہ الجاھلیۃ ایضا وقد کان العھد قریبا والاحکام لم تتبین عند کثیر من الاعراب فتخشی الزیادۃ ولکل وجھۃ ھو مولیھا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
اور جو فاروق رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی ہے پس اس لئے کہ اہلِ جاہلیت بھی رجب کی تعظیم کرتے تھے زمانہ جاہلیت اسلام سے قبل قریب تھا اور بہت سے عربوں پر احکام اچھی طرح واضح نہ ہوسکے تھے تو اس لئے رجب کے روزوں کے متعلق بیان میں از خود اضافہ کرنے کا خدشہ موجود ہے جبکہ ہر ایک کیلئے اپنے عمل کی راہ ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۲۷۵ :از موضع سرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب ۱۳۳۱ھ
اکثر عورتیں مشکل کشا علی کا روزہ رکھتی ہیں کیسا ہے؟
الجواب
روزہ خاص اﷲ عزّوجل کے لیے ہے، اگر اﷲکا روزہ رکھیں اور اس کا ثواب مولا علی کی نذر کریں توحرج نہیں مگر اس میں یہ کرتی ہیں کہ روزہ آدھی رات تک رکھتی ہیں،شام افطار نہیں کرتیں، آدھی رات کے بعد گھر کے کواڑ کھول کر کچھ دُعا مانگتی ہیں اُس وقت روزہ افطار کرتی ہیں، یہ شیطانی رسم ہے،واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۷۶: از بلگرام شریف محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت صاحبزادہ سیّد ابراہیم میاں صاحب قادری دامت برکاتہم ۲۳رمضان ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اعتکاف آخر عشرہ رمضان شریف کا پورے دس روز میں ادا ہوتا ہے یا تین چار روز آخر میں بھی جائز ہے؟ ایک شخص کا بیان ہے کہ مقصود مشروعیت اعتکاف کے واسطے شرف ادراک لیلۃ القدر کی ہے یہ کامل دہ میں حاصل ہوگا، دوسرے شخص کا بیان ہے تین چار روز میں بھی جائز ہے ایسا دیکھا گیا ہے۔
الجواب
اعتکاف عشرہ اخیرہ کی سنتِ مؤکدہ علیٰ وجہ الکفایہ ہے، جس پر حضور پُر نور سیّد عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے مواظبت ومداومت فرمائی پورے عشرہ اخیرہ کا اعتکاف ہے، ایک روز بھی کم ہو تو سنّت ادا نہ ہوگی، ہاں اعتکافِ نفل کے لیے کوئی حد مقرر نہیں، ایک ساعت کا بھی ہوسکتا ہے، اگر چہ بے روزہ ہو۔ ولہذا چاہئے کہ جب نماز کو مسجد میں آئے نیتِ اعتکاف کرلے کہ یہ دوسری عبادت مفت حاصل ہوجائے گی،
درمختار میں ہے:
سنۃ مؤکدۃ فی العشر الاخیر من رمضان ای سنۃ کفایۃ کما فی البرھان وغیرہ۱؎۔
رمضان کے آخری عشرہ میں سنتِ مؤکدہ ہے یعنی سنّتِ کفایہ ہے،جیسا کہ برہان وغیرہ میں ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الاعتکاف مجتبائی دہلی۱ /۱۵۶)
اسی میں ہے :
واقلہ نفلا ساعۃ من لیل اونھار عند محمد، وھو ظاھر الروایۃ عن الامام لبناء النفل علی المسامحۃ وبہ یفتی والساعۃ فی عرف الفقہاء جزء من الزمان لا جزء من اربعۃ وعشرین کمایقولہ المنجمون کما فی غرر الاذکار وغیرہ۱؎۔
امام محمد کے نزدیک کم سے کم نفلی اعتکاف دن و رات میں ایک گھڑی کا بھی ہوسکتا ہے اورامام اعظم سے بھی ظاہر الروایت میں ہے کیونکہ نفل کی بناء آسانی پر ہے اور اسی پر فتوٰی ہے، عرف فقہا میں ساعت کا مفہوم زمانے کا ایک جزہے نہ کہ چوبیس گھنٹوں میں سے ایک گھنٹہ جو کہ اہل توقیت کا مؤقف ہے، جیسا کہ غرر الاذکار وغیرہ میں ہے۔(ت)
الاعتکاف ینقسم الٰی واجب وھوالمنذور تنجیزااوتعلیقا والٰی سنۃ مؤکدۃ وھو اعتکاف العشر الاواخر من رمضان والٰی مستحب وھو ماسواھما۲؎۔
اعتکاف واجب، سنتِ مؤکدہ اور مستحب پر منقسم ہے، واجب جس کی نذر مانی گئی ہو خواہ فی الفور یا معلق ہو، اور سنّتِ مؤکدہ وہ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف ہے، اور مستحب جوان مذکورہ دونوں صورتوں کے علاوہ ہے(ت)