Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
148 - 198
صَومِ نفل
مسئلہ ۲۷۳: از بنارس محلہ مانپور متصل کول چونرہ اونچی سیڑھی مرسلہ عبد الستار۱۵شوال۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ مین کہ ۲۷تاریخ ماہ رجب کی، روزہ رکھنا چاہئے یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب

بیہقی شعب الایمان اور دیلمی نے مسند الفردوس میں سلمان فارسی رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کی:
فی رجب یوم ولیلۃ من صام ذٰلک الیوم وقام تلک اللیلۃ کان کمن صام من الدھر مائۃ سنۃ وقام مائۃ سنۃ وھو  لثلث بقین من رجب وفیہ بعث اﷲتعالٰی محمد اصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلّم۱؎۔ قال البیہقی منکر ۲؎
رجب میں ایک دن اور رات ہے جو اس دن کا روزہ رکھے اور وُہ رات نوافل میں گزارے سَوبرس کے روزوں اور سَوبرس کے شب بیداری کے برابر ہو، اور وہ ۲۷رجب ہے اسی تاریخ اﷲ عزوجل نے محمد صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔

( امام بیہقی نے اس روایت کو منکر کہا ہے۔ت)
(۱؎ الفردوس بمأثور الخطاب حدیث۴۳۸۱دارالکتب العلمیہ بیروت۳ /۱۴۲)

(شعب الایمان حدیث ۳۸۱۱دارالکتب العلمیہ بیروت۳ /۳۷۴)

(۲؎ کنز العمال بحوالہ ھب حدیث ۳۵۱۶۹مکتبۃ التراث الاسلامی بیروت۱۲ /۳۱۲)
نیز اسی میں بطریق ابان بن عیاش حضرت انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مرفوعاًمروی:
فی رجب لیلۃ یکتب للعامل فیھا حسنات مائۃ سنۃ، وذٰلک لثلٰث بقین من رجب فمن صلی فیہ اثنتی عشرۃ رکعۃ یقرأ فی کل رکعۃ فاتحۃ الکتاب وسورۃ من القرأن، ویتشھد فی کل رکعۃ ویسلم فی اٰخرھن، ثم یقول، سبحٰن اﷲ والحمدﷲ ولاالٰہ الااﷲ واﷲاکبرمائۃ مرۃ ویستغفر اﷲمائۃ مرۃ ویصلی عن النّبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم مائۃ مرۃ ویدعولنفسہ ماشاء من امر دنیاہ واٰخرتہ ویصبح صائمافان اﷲیستجیب دعاء کلہ الاان یدعوفی معصیۃ ۱؎۔ قال البیھقی ھو اضعف من الذی قبلہ۲؎، قال ابن حجر فیہ متھمان۔۳؎
رجب میں ایک رات ہے کہ اس میں عمل نیک کرنے والے کو سَو برس کی نیکیوں کا ثواب ہے اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے جو اس میں بارہ رکعت پڑھے ہررکعت میں سورہ فاتحہ اور ایک سورت، اور ہر دورکعت پر التحیات اور آخر میں بعد سلام
سبحن اﷲ والحمد ﷲ ولاالٰہ الااﷲ واﷲاکبر
سوبار، استغفار سَو بار،درود سو بار ،اور اپنی دنیا وآخرت سے جس چیز کی چاہے دعا  مانگے اور صبح کو رزہ رکھے تو اﷲتعالیٰ اس کی سب دعائیں قبول فرمائے سوائے اس دُعا کے جو گناہ کے لیے ہو۔ (بیہقی فرماتے ہیں یہ روایت سابقہ روایت سے زیادہ ضعیف ہے۔ حافظ ابن حجر کہتے ہیں اس کے دو۲ راوی متہم بالکذ ب ہیں۔ت)
 (۱؎ شعب الایمان حدیث۳۸۱۲۱دارالکتب العلمیہ بیروت۳ /۳۷۴)

(۲؎ کنز العمال بحوالہ شعب الایمان حدیث ۳۵۱۷۰مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۲ /۳۱۲)

۳؎ ماثبت بالسنۃ مع اردوترجمہ بحوالہ ابن حجر ذکرماہ رجب ادارہ نعیمیہ رضویہ لال کھوہ موچی گیٹ لاہورص۲۵۲)
فوائد ہناد میں انس رضی اﷲتعالٰی عنہ سے مروی:
بعث نبیا فی السابع والعشرین رجب فمن صام ذٰلک الیوم ودعا عند افطارہ کان لہ کفارۃ عشر سنتین۴؎۔ اسنادہ منکر۔
۲۷ رجب کو مجھے نبوت  عطا ہُوئی جو اس دن کا روزہ رکھے اور افطار کے وقت دُعا کرے دس برس کے گناہوں کا کفارہ ہو( اس کی اسناد منکر ہے۔ت)
 ( ۴؎ تنزیہ الشریعۃبحوالہ فوائد ہناد کتاب الصوم حدیث۴۱دارالکتب العلمیۃ بیروت۳ /۱۶۱)
جزء ابی معاذ مروزی میں بطریق شہر ابن حوشب ابوھریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے موقوفاًمروی :
من صام یوم سبع وعشرین من رجب کتب اﷲلہ صیام ستین شھراوھوالیوم الذی ھبط فیہ جبریل علی محمد صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بالرسالۃ۱؎۔
جو رجب کی ستائیسویں کا روزہ رکھے تو اﷲتعالیٰ اس کے لیے ساٹھ مہینوں کے روزوں کا ثواب لکھے، اور وُہ وُہ دن ہے جس میں جبریل علیہ الصلٰوۃ والسلام محمد صلّی اﷲتعالیٰ علیہ و سلم کے لیے پیغمبری لے کر نازل ہُوئے۔
 (۱؎ تنزیہ الشریعۃبحوالہ جزء ابی معاذکتاب الصوم حدیث۴۱دارا لکتب العلمیہ بیروت۳ /۱۶۱)
تنزیہ الشریعۃ سے ماثبت بالسّنۃ میں ہے:
وھذاأمثل ماوردفی ھذاالمعنی۲؎۔
یہ اُن سب حدیثوں سے بہتر ہے جو اس باب میں آئیں۔ بالجملہ اس کے لیے اصل ہے اور فضائلِ اعمال میں حدیثِ ضعیف باجماعِ ائمہ مقبول ہے واﷲتعالٰی اعلم۔
 (۲؎ تنزیہ الشریعۃبحوالہ جزء ابی معاذکتاب الصوم حدیث۴۱دارا لکتب العلمیہ بیروت۳ /۱۶۱)

(ما ثبت بالسنۃ مع اردو ترجمہ ذکرماہِ رجب ارادہ نعیمیہ رضویہ لال کھوہ موچی گیٹ لاہورص۲۳۴)
مسئلہ ۲۷۴: ۱۲ شعبان المعظم۱۳۲۱ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روزہ رکھنا ماہِ مبارک رجب مرجب کی ۲۷تاریخ کو سوارمضان کے بہ نسبت اور روزوں کے فضیلت رکھتا ہے یا نہیں؟ اور اگر رکھتا ہے تو کیا وجہ ہے اور ماسوا اس روزے کے درمیان سال بھر کے اور کون کون روزہ ایسا ہے جس کو حضرت رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد واسطے روزہ رکھنے کے فرمایا ہے، اور اگر کوئی شخص روزہ ۲۷ رجب المرجب کو رکھے تو کس قدر مستحقِ ثواب کارہوگا؟ اور نیز دُوسرے روزوں میں؟ اور اگر کوئی منع کرے اور روں کو، اور منکر ہو خود، تو وُہ کون ہے گنہ گار ہے یا نہیں؟ بیّنو اتوجروا۔
الجواب

صوم وغیرہ اعمالِ صالحہ کے لیے بعد رمضان مبارک سب دنوں سے افضل عشر ذاالحجہ ہے، رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مامن ایام العمل الصالح فیھن احب الی اﷲتعالٰی من ھذہ الایام العشرقالوا یا رسول اللہ ولاالجہاد فی سبیل اﷲقال ولا الجہاد فی سبیل اﷲالارجلا خرج بنفسہ ومالہ ثم لم یرجع من ذٰلک بشئی۱؎۔ رواہ البخاری والترمذی وابوداؤد وابن ماجۃ و الطبرانی فی الکبیر بسند جید والبیہقی کلھم عن ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنھما والطبرانی فیہ بسند صحیح عن ابن مسعود والبزارفی مسندہ بسند حسن وابو یعلی بسند صحیح وابن حبان فی صحیحہ عن جابربن عبد اﷲرضی اﷲتعالٰی عنہم اجمعین۔
دس۱۰ دنوں سے زیادہ کسی دن کا عمل صالح اﷲ عزوجل کو محبوب نہیں، صحابہ نے عرض کی یا رسول اﷲ اور نہ راہ خدا میں جہاد؟ فرمایا: اور نہ راہِ خدا میں جہاد مگر وُہ کہ اپنی جان ومال لے کر نکلے پھر ان میں سے کچھ واپس نہ لائے (اسے بخاری، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں سند جیّد کے ساتھ اور بیہقی تمام حضرات نے حضرت عبد اﷲبن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے، اور اس میں طبرانی نے حضرت ابن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ اور بزار نے اپنی مسند میں سند حسن کے ساتھ اور ابویعلیٰ نے سند صحیح کے ساتھ اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت جابر بن عبدا ﷲرضی اﷲتعالٰی عنہم اجمعین سے روایت کیا ہے۔(ت)
 (۱؎جامع الترمذی باب ماجاء فی العمل فی ایّام العشرامین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی۱ /۹۴)

(السنن الصغیر للبیہقی باب العمل الصالح فی العشر الخ دارالکتب العلمیہ بیروت۱ /۳۷۸)
Flag Counter