Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
147 - 198
ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان، حاکم جابر بن عبداﷲرضی اﷲتعالٰی عنہما سے راوی:
قال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم افضل الذکر لاالٰہ الااﷲ و افضل الدعاء الحمد ﷲ۱؎۔ حسنہ الترمذی وصححہ الحاکم۔
رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر ذکر لاالٰہ الّا اﷲاور افضل دعا الحمد ﷲہے۔ ترمذی نے اسے حسن کہا اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا۔(ت)
 (۱؎ جامع ترمذی باب ان دعوۃ المسلم مستجابۃامین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی۲ /۱۷۴)
معہذا کنایہ تصریح سے ابلغ ہے
اللھم لکل صمت
 (ا ے اﷲ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا۔ت) کہنے والا اخلاص عبادت لوجہ اﷲعرض کرتا ہے اور اﷲعزوجل فرماتا ہے:
ان اﷲلا یضیع اجر المحسنین۲؎۔
اﷲتعالیٰ کسی نیکو کار کااجر ضائع نہیں کرتا۔(ت)
 (۲؎ القرآن ۹ /۱۲۰)
اور فرماتا ہے:
الصوم لی وانا اجزی بہ۳؎
 ( روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا ہوں۔ت)
 (۳؎ مشکٰوۃکتاب الصوم الفصل الاول مجتبائی دہلی ص۱۷۳)
پھر  :  علٰی رزقک افطرت
 ( تیرے رزق پر میں نے افطارکیا۔ت)کہہ کر شکرِ نعمت بجالاتا ہے۔
اور رب جل وعلا فرماتا ہے:
ولئن شکرتم لا زید نکم۴؎
 ( اگر تم شکر کرو تو میں تمہارے لیے اضافہ کروں گا۔ت)
 (۴؎ القرآن ۱۴ /۷)
اگر دو شخص بادشاہ کے درِ دولت پر حاضر ہوں، ایک عرض کرے اے بادشاہ!مجھے یہ دے دے۔دوسرا عرض کرے اے بادشاہ! میں تیرا فرمان سر آنکھوں سے بجا لاتا ہُوں اور تیرا ہی دیا کھاتا ہوں انصاف کیجئے۔ حُسنِ طلب کس کا حصّہ ہے؎
أ اذکرحاجتی ام قد کفانی    حیاؤک ان شیمتک الحیاء

اذا اثنی علیک المرء یوما    کفاہ من تو ضک الثناء

کریما لا یغیرہ صباح     عن الخلق الکریم ولامساء
 (کیا میں اپنی حاجت ذکر کروں یا آپ کا حیاء ہی میرے لیے کافی ہے، جو آپ کا زیور ہے۔

جب کسی دن کسی نے آپ کی تعریف کی تو آپ کی ثنا کا روشن ہونا ہی اس کیلئے کافی تھا،

ایسا کریم کہ صبح وشام مخلوق کو نوازتے ہُوئے کوئی تغیر واقع نہیں ہوتا)
بالجملہ قابل قبول و مؤید بالمعقول والمنقول وہی قول ثانی وثالث ہے اور وقت الافطار و عندالافطار وبعد الافطار وہنگامِ افطار و نزدیک افطار وپس افطار، سب کاحاصل ایک ہی ہے، نزدیک ترجمہ عند ہے، اور عند خواہ ظرف مکان ہو
کما افادہ فی الاتقان ۱؎الشریف
(جیسا کہ اتقان شریف میں ہے ۔ت)
 ( ۱؎ الاتقان فی علوم القرآن النوع الاربعون فی معرفۃ معانی الادوات مصطفی البابی مصر۱ /۱۶۵)
خواہ ظرف زمان ومکان دونوں
کما نص علیہ فی القاموس ۲؎
 ( جیسا کہ اس پر قاموس میں تصریح ہے۔ت)
 ( ۲؎ القاموس المحیط تحت فصل العین باب الدال مصطفٰی البابی مصر۱ /۳۳۰)
امتیاز بحسب مدخول علیہ ہوگا
کما بینہ فی تاج العروس۳؎
 ( جیسا کہ اس کی تفصیل تاج العروس میں ہے ۔ت)
 (۳؎تاج العروس تحت فصل العین باب الدال احیاء التراث العر بی بیروت۲ /۳۵-۴۳۴)
مگر شک نہیں کہ زمان ، زمانی پر داخل ہو کر افادہ قربِ زمانی ہی  کرے گا، کوئی عاقل نہ کہے گاکہ عندالصبح کا حاصل قرب مکان صبح ہے، اصل یہ کہ وضع عند قرب مطلق کے لیے ہے، حِسی ہو یا معنوی،
کما صرح بہ فی مسلم الثبوت۴؎وشرح الکافیۃ لرضی وغیرھا من المعتبرات
 (جیسا کہ مسلم الثبوت، شرح کافیہ للرضی اور دیگر معتبر کتب میں اس پر تصریح کی ہے۔ت)
 ( ۴؎ مسلم الثبوت مسائل ادوات التعلیق مطبع انصاری دہلی ص۶۸)
مکانیات سے قربِ مکانی ہوگا، زمانیا ت سے قربِ زمانی، متعالی عن المکان والزمان سے قربِ مکانت،
کما فی قولہ
تعالیٰ عند ملیک مقتدر۵؎
 ( جیساکہ اﷲتعالیٰ کے ارشاد گرامی میں ہے: (عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور ۔ت)
 ( ۵؎ القرآن    ۵۴ /۵۵)
تو نظر باصل معنی کہ عند لغت میں بمعنی جانب وناحیہ تھا
کما فی القاموس۶؎
 ( جیسا کہ قاموس میں ہے۔ت)
(۶؎ القاموس المحیط تحت فصل العین باب الدال احیاء التراث العربی بیروت۱/ ۳۳۰)
وراتحاد جہت مستلزم قرب، اور وہ ہنگام حقیقت قرب مکانی کہ جہت حقیقیہ مختص بمکانیات ہے، اُسے ظرف مکان کہیں صحیح اور نظر بحال کہ یہ قربِ حسی ومعنوی سب کو شامل ہوکر زمانیات کو بھی متناول ہوگیا ظرف زمان ومکان دونوں کہیں بھی صحیح،
ھذاماظھر لی ولہ استعمالات اٰخرمنسلخ فیھا عن معنی الظرفیۃ کالحکم والاعتقاد کقولک ھذا عند ابی حنیفۃ والفضل والاحسان کقولہ تعالٰی
فان اتممت عشرافمن عندک۱؎
وغیرہ ذٰلک کما ذکرہ الحریری فی درۃ الغواص لیس ھذامقام تفصیلھا۔
یہ تمام وُہ تھا جو مجھ پر آشکار ہوا اس کے دیگر استعمالات بھی ہیں جو معنی ظرفیت کے علاوہ ہیں، مثلاً حکم اور اعتقاد جیساکہا جائے یہ امام ابو حنیفہ کا قول ہے یا بمعنی فضل واحسان کے ''مثلاًـ'' اﷲتعالیٰ کا مبارک فرمان ہے پس اگر آپ دس مکمل کریں تو تمہارا احسان ہے، ان کے علاوہ دیگر معانی بھی ہیں جنہیں حریری نے درۃ الغواص میں ذکر کیا ہے لیکن یہ مقامِ تفصیل نہیں(ت)
 (۱؎ القرآن ۲۸ /۲۷)
معانی از قبیل ثانیاا ور افطار منجملہ معانی تو اس مراد وہی قرب زمانی ، ہرذی عقل جانتا ہے کہ عند الافطار کے معنی حین الافطار ہیں نہ کہ
فی مکان الافطار، ای مکان کان فیہ المفطرحین افطر والا فالافطار لیس مما یحل فی المکان
 ( افطار کے وقت جہاں افطار کرنے والاہو، ورنہ افطار خود مکان میں حلول نہیں کرتا۔ت) کیا آج اگر کسی شخص نے ایک جگہ روزہ افطار کیا اور چھ۶مہینے بعد آکر اس جگہ پر دُعاءِ مذکور پڑھ لے یا چار پہر تک وہیں بیٹھا رہا صبح کو دُعا پڑھے تو
یقول عند الافطار
( افطار کے وقت کہے ۔ت) کاحکم ادا ہوگیا کہ آخر مکان تو وہی ہے، لاجرم ماننا پڑے گا کہ یہاں عند سے اتحاد زمان ہی مفاد اور اتحاد سے وہی تعقیب متصل مراد، یہ سب واضحاتِ جلیلہ ہیں جن کی اضاحت گویا وقت کی اضاعت، مگر کیا کیجئے کہ بعد وہم واہم و ورود سوال حاجتِ ازاحت۔
ان تقریرات سے بحمد اﷲتعالیٰ تمام سوالوں کا جواب ہوگیا اور روشن طور پر منجلی ہُوا کہ مقتضائے سنّت یہی ہے کہ بعد غروب جو خُرمے یا پانی وغیرہ از قبل نماز افطار معجل کرتے ہیں اُس میں اور علم بغروب شمس میں اصلاًفصل نہ چاہئے یہ دُعائیں اس کے بعد ہوں، ہاں کبھی افطار مقابلِ سحور اس کھانے کو کہتے ہیں جو صائم شام کو کھاتا ہے۔
ابن خزیمۃ فی صحیحہ ومن طریقہ البیہقی وابوالشیخ بن حبان فی الثواب عن سلمان الفارسی رضی اﷲتعالٰی عنہ یرفعہ الی النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فی فضائل شھر رمضان، قال من فطرفیہ صائما کان مغفرۃ لذنوبہ وعتق رقبتہ من النار، وکان لہ مثل اجرہ من غیران ینقص من اجرہ شئی، قالوایا رسول اﷲلیس کلنا یجد مایفطر الصائم۱؎الحدیث
ابن خزیمہ نے صحیح میں، اور اسی طریق سے بیہقی نے اور ابوالشیخ بن حبان نے الثواب میں حضرت سلمان فارسی رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے فضائلِ رمضان کے بارے مرفوعاً بیان کیا کہ رسول ا ﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے  بیان فرمایا جس نے کسی کا روزہ افطار کروایااس کے گناہ معاف اور اس کی گردن جہنم سے آزادہوجائے گی، اور اس کے لیے روزہ دار کے برابر اجر ہوگا اور روزہ دار کے اجر میں بھی کمی نہ ہوگی۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اﷲ! ہم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو روزہ دار کوسیر  ہو کرکھانا کھلانے کی طاقت نہیں رکھتے الحدیث۔
 (۱؎ صحیح ابن خزیمہ باب فضائل شہرر مضان المکتب الاسلامی بیروت۳ /۱۹۲)
وفی روایۃ ابی الشیخ فقلت یا رسول اللہ افرأ یت ان لم یکن ذلک عندہ ؟قال فقبضہ من طعام ،قلت افرأیت ان لم یکن عندہ ،لقمۃ خبز قال فمذقۃ من لبن قال افرأیت ان لم یکن عندہ قال فشربۃ من ماء  ۲؂
اور ابوالشیخ کی روایت میں ہے میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ! اس کے بارے میں کیا حکم ہے جس کے پاس اتنا نہ ہو؟ فرمایا تو ایک مُٹھی طعام سہی۔ میں نے عرض کیا اگر اس کے پاس روٹی کا ٹکڑا نہ ہو؟ فرمایا دُودھ کا گھونٹ۔ عرض کیا اگر یہ بھی نہ ہو؟فرمایا پانی کا گھونٹ پیش کردے۔
 (۲؎ کنز العمال بحوالہ حب حدیث ۲۳۶۵۸موسستہ الرسالۃ بیروت۸ /۴۶۰)

(الترغیب والترھیب بحوالہ ابن حبان فی کتاب الثواب الترغیب فی اطعام الطعام مصطفٰی البابی مصر۲ /۱۴۴)
وفی حدیث ابی داؤد وغیرہ بسند صحیح عن انس رضی اﷲتعالٰی ان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم جاء الی سعد بن عبادۃ فجاء بخبز و زیت فاکل ثم قال النبی صلی اﷲعلیہ وسلم افطر عندکم الصانمون واکل طعامکم الابرار وصلت علیکم الملٰئکۃ ۳؎وفی لفظ افطرنا مرۃ مع رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فقر بواالیہ زیتا فاکل واکلنا حتی فرغ قال اکل طعامکم الابرار وصلت علیکم الملٰئکۃ وافطر عند کم الصائمون۔
اور ابوداؤد وغیرہ میں سند صحیح کے ساتھ حضرت انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سعد بن عبادہ کے پاس آئے، انہوں نے روٹی اور زیتون پیش کیا، آپ نے تناول کیا اور فرمایا تمہارے پاس روزہ داروں نے افطار کیا، تمہارا کھانا ابرار نے کھایا اور تم پر ملائکہ نے رحمت کی دعا کی۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں: ایک دفعہ ہم نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ و سلم کے ساتھ افطاری کی۔ آپ کی خدمت اقدس میں زیتون پیش کیا گیا آپ نے اور ہم سب نے تناول کیا جب فارغ ہوئے فرمایا: تمہارے کھانے کو نیک لوگوں نے کھایا تمہارے لیے ملائکہ نےدعا  کی اور تمہارے پاس روزہ داروں نے افطار کیا۔(ت)
 (۳؎سنن ابی داؤدکتاب الاطعمۃآفتاب عالم پریس لاہور۲ /۱۸۲)
اسی طعام شام سے پہلے ایک دُعا وارد ہوئی ہے اُس میں بھی یہ الفاظ موجود ہیں:
الدار قطنی فی الافراد عن انس رضی اﷲتعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اذا قرب الٰی احدکم طعامہ وھو صائم فلیقل، بسم اﷲ والحمدﷲ اللھم لک صمت وعلی رزقک افطرت وعلیک توکلت سبحٰنک وبحمدک تقبل منّی انک انت السمیع العلیم۱؎۔
امام دارقطنی نے افراد میں حضرت انس رضی اﷲتعالٰی عنہ سے نقل کیا کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:'' جب تمہارے پاس کھانا لایا جائے اور تم حالتِ روزہ میں ہوتو یہ کلمات کہو اﷲکے نام کے ساتھ شروع، تمام حمداﷲکے لیے ہے، اے اﷲ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اورتیرے رزق پر افطار کیا اور تجھ پر توکّل کیا، تیری ذات مقدس ہے اورحمد تیری ہے، مجھ سے قبول فرمالے، بیشک تُو سُننے اور جاننے والاہے''۔(ت)
 (۱؎ کنز العمال بحوالہ قط فی الافرادحدیث ۲۳۸۷۳مکتبۃ التراث الاسلامی حلب۸ /۵۰۹)
حدیث طبرانی:عن انس رضی اﷲتعالٰی عنہ قال کان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اذا افطر قال بسم اﷲاللھم لک صمت وعلٰی رزقک افطرت۲؎۔
حضرت انس رضی اﷲتعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم جب افطار فرماتے تو کہتے:'' اﷲکے نام کے ساتھ، اے اﷲ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق پر افطار کیا۔''(ت)
 (۲؎ مجمع الزوائد بحوالہ طبرانی اوسط باب مایقول اذاافطردارالکتاب بیروت۸ /۱۵۶)
میں کہ ظاہر تسمیہ مشعر تقدیم ہے، اگر افطار سے یہی طعامِ شام بمعنی مذکور مراد، جب تو امرواضح ہے، ورنہ وہ بسببِ شدّت ضعف قابلِ احتجاج نہیں، اس کی سند میں داؤد بن الزبرقان متروک ہے۔
قال فی التقریب التھذیب متروک کذبہ الازدی اھ۳؎قلت وکذاالجوزجانی کما فی المیزان۔
التقریب التہذیب میں ہے کہ یہ متروک ہے اور ازدی نے اسے کاذب کہا ہے اھ میں کہتا ہوں جوز جانی نے بھی کہا ہے، جیسا کہ میزان میں ہے۔(ت)
 (۳؎ تقریب التہذیب تحت حرف الدال دارالکتب العلمیۃ بیروت۱ /۲۷۹)
یہ اس مسئلہ میں آخر کلام ہے، امید کرتا ہُوں کہ یہ تحقیق وتفصیل اس تحریر کے غیر میں نہ ملے گی،
وﷲ الحمد وبہ التوفیق ایاہ نسأل ھدایۃ الطریق، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
Flag Counter