الجواب
اقول وباﷲالتوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق
مقتضائے دلیل یہ ہے کہ دُعا روزہ افطار کرکے پڑھے اوّلاً حدیث مذکور ابی داؤد کہ ابن السنی نے کتاب عمل الیوم واللیلہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں یُوں روایت کی:
عن معاذبن زھرۃ قال کان رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اذاافطر قال الحمد ﷲالذی اعاننی فصمت ورزقنی فافطرت۱؎۔
حضرت معاذبن زہرہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم جب افطار فرماتے تو یہ پڑھتے: سب حمداﷲکی جس نے میری مدد فرمائی کہ میں نے روزہ رکھا اور مجھے رزق عطا فرمایا کہ میں نے افطار کیا۔(ت)
(۱؎ شعب الایمان باب فی الصیام حدیث ۳۹۰۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۴۰۶)
(کتاب عمل الیوم و اللیلۃ باب مایقول اذاافطر حدیث ۴۷۹ معارف نعمانیہ حیدر آباد دکن ص ۱۲۸)
اور نیز ابن السنی نے کتاب مذکور اور طبرانی نے معجم کبیر اور دار قطنی نے سنن میں موصولاً یوں تخریج کی:
عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنھما قال کان رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اذاافطر قال اللّٰھم لک صمنا وعلٰی رزقک افطر نا فتقبل منا انّک انت السمیع العلیم۲؎۔
حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اﷲصلّی اﷲعلیہ وسلم جب افطار فرماتے تو یہ دُعا پڑھتے:اے اﷲ! ہم نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق پر افطار کیا، ہماری طرف سے قبول فرما تو سننے اور جاننے والا ہے(ت)
(۲؎ کتاب عمل الیوم و اللیلۃباب مایقول اذاافطر حدیث۴۸۰معارف نعمانیہ حیدر آباد دکن ص ۱۲۸)
(سنن الدار قطنی باب القبلۃ للصائم حدیث ۲۱نشر السنۃ ملتان۲ /۱۸۵)
ونیز حدیث ابی داؤدو نسائی ودار قطنی وحاکم وغیرہم:
عن ابن عمر رضی اﷲتعالٰی عنھما قال کان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اذاافطر قال ذھب الظمأ و ابتلت العروق ویثبت الاجران شاء اﷲتعالٰی۱؎ ۔
حضرت عبد اﷲابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اﷲصلّی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم افطار کرتے توفرماتے : پیاس چلی گئی، رگیں تر ہوگئیں، اور اگر اﷲتعالٰی نے چاہا تو اجر ثابت ہوگیا(ت)
(۱؎ سُنن ابی داؤدباب القول عندالافطارآفتاب عالم پریس لاہور۱ /۳۲۱)
(سنن الدار قطنی باب ا لقبلۃ للصائم نشرالسنۃ ملتان۲ /۱۸۵)
ان سب کا مفاد صریح یہی ہے افطر شرط اور قال کذااس کی جزا، مجرد قول کہ مقولے سے معرا کرلیا جائے صلاحیتِ وقوع ہی نہیں رکھتا، ترتّب کہ لازم جزائیت ہے کہاں سے آئیگا، اللّٰھم کو کلامِ مستانف قراردینا ایسی بات ہے کہ شرع مائۃعامل خواں بھی قبول نہ کرے گا،اور جزا شرط سے مقدم نہیں ہوتی بل یعقبہ ویترتب علیہ
کما لایخفی علٰی کل من لہ ادنی مسکۃ
(بلکہ جزا شرط سے مؤخر اور اس پر مترتب ہوتی ہے جیسا کہ ہر اس شخص پر واضح ہے جو اس فن کے ساتھ تھوڑا سابھی تعلق رکھتا ہے۔ت) اورمقارنت حقیقیہ یہاں معقول نہیں کہ عین وقتِ افطار بالاکل والشرب یعنی جس وقت کوئی مطعوم حلق سے اتارا جائے عادۃً خاص اُس حالت میں قرأت نامتیسر ، لاجرم تعقیب مراد، وھوالمقصود ہاں افطار بالجماع میں اقتران حقیقی مقصود مگر وُہ یہاں قطعاً مرادنہیں کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت) یہیں سے واضح ہُوا کہ قولِ ثانی وثالث کا مآل ایک ہی ہے اور نکتہ تعبیر اشعار بعدیت متصلہ ہے کہ لفظ بعد بعدیتِ منفصلہ کوبھی شامل، اور وُہ خلافِ مقصود ہے۔ لہذا بلفظ ''وقتــ'' تعبیر کہ نافی انفصال ہو، ہنگامِ استحالہ مقار نہ اگر چہ معاقبہ تقدم و تاخّر دونوں کو متناول ، مگر حالت مجازات مانع تقدم ہے، ولہذا جہاں خارج سے تقدم معلوم، شرط میں تاویل ارادہ وغیرہ معمول،
کما فی قولہ عزّوجلّ
اذاقمتم الی الصّلٰوۃ فاغسلوا وجوھکم۲؎
جیسا کہ اﷲ عزوجل کے مبارک ارشاد میں ہے جب تم نماز کا ارادہ کرو تو چہرے کو دھولو۔
(۲؎ القرآن ۵ /۶)
وفی حدیث کان رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اذا دخل الخلاء قال اللھم انی اعوذبک من الخبث والخبائث۳؎، رواہ الائمۃ احمد والستۃ عن انس بن مالک رضی اﷲتعالٰی عنہ، اماھٰھنا فحمل''افطر'' علی الارادۃ، عدول عن الحقیقۃ من دون حاجۃ تحمل علیہ ولا صارف یدعوالیہ، فلایفعل ولایقبل۔
رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی حدیث میں ہے، جب کوئی بیت الخلاء میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو کہے اے اﷲ! میں ناپاک وخبیث سے تیری پناہ میں آتاہوں۔ اسے امام احمد اور ائمہ ستّہ نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے لیکن مذکورہ صورت میں لفظ افطرکو ارادہ افطار پر محمول کرنا بے ضرورت حقیقت سے اعراض ہے اور یہاں کوئی مجاز پر قرینہ بھی نہیں، لہذا ایسا نہ کیا جائے اور نہ اسے قبول کیا جائے۔(ت)
ثانیاً ان ادعیہ میں افطرت(میں نے افطار کیا) اور افطرنا(ہم نے افطارکیا)،ذہب الظمأ(پیاس چلی گئی) ابتلت العروق(رگیں تر ہوگئیں) سب صیغے ماضی ہیں اور افطار باللفظ متصوّر نہیں کہ مثل عقود انشاء مقصود لاجرم اخبار متعین ،تو تقدیم علی الافطار میں یہ سب بھی ارتکاب تجوز کے محتاج ہوں گے کہ خلافِ اصل ہے
(جب تک کوئی مجبوری نہ ہو نصوص کو ظاہرپر ہی محمول کرنا چاہئے اور یہاں کوئی ضرورت ومجبوری نہیں۔ت) یہاں سے بھی ظاہر ہوا کہ ترجمہ حضرت شیخ محقق نوراﷲمرقدہ الشریف ہی صحیح ہے اور ''افطار کرتا ہوں'' بلاوجہ حقیقت سے عدول۔طرفہ یہ کہ اب بھی حاجت تجوز باقی۔
لما قدمنا من امتناع المقارنۃ فلا بد من تاویل الحال بالاستقبال والافطار بالارادۃ۔
کیونکہ ہم نے پہلے بیان کردیا کہ یہاں مقارنت و اتصال ممتنع ہے لہذا حال کو بمعنی استقبال اور افطار بمعنی ارادہ افطار کیاجائے گا۔(ت)
ثالثاًمرسل ابن السنی وبیہقی میں لفظ الحمد ﷲاور مؤید تا خیر کہ حمد بعداکل معہود ہے جس طرح قبلِ اکل تسمیہ۔
رابعاً یہ تو ظاہر ہے اور شاید مدعیِ تقدیم کو بھی مسلّم ہوکہ یہ دُعائیں دن میں پڑھ لینے کی نہیں کہ ہنوز وقتِ افطار بھی نہ آیا، اب اگر عمرو بعد غروب شمس یہ دُعائیں پڑھ کر افطار کرے اور زید بعد غروب فوراً افطار کرکے پڑھے تو دیکھنا چاہئے کہ اس میں کس کا فعل اﷲ عزو جل کو زیادہ محبوب ہے، حدیث شاہدعادل ہے کہ فعل زید زیادہ پسند حضرت جلا وعلا ہے کہ رب العزت تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:
ان احبّ عبادی الیّ اعجلھم فطرا۱؎، رواہ الامام احمد والترمذی وحسنہ وابنا خزیمۃ وحبّان فی صحیحہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم عن ربہ تعالٰی وتقدس۔
مجھے اپنے بندوں میں وُہ زیادہ پیارا ہے جو اُن میں سب سے زیادہ جلد افطار کرتا ہے(اسےامام احمد اور ترمذی نے حسن کہا۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں حضرت ابوھریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے نقل کیا اُنہوں نے نبی اکرم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے اور آپ نے اﷲتبارک وتعالیٰ سے ذکر کیا، یعنی یہ حدیث قدسی ہے۔ت)
(۱؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی تعجیل الافطارامین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی۱ /۸۸)
شک نہیں کہ صورتِ مذکورہ میں زید کا افطار جلد تر ہو اتو یہی طریقہ زیادہ پسند ومرضی ربّ اکبر ہُوا جلّ جلالہ، وعمّ نوالہ، یہ دوسرا مؤید ہے اس کا کہ وقت الافطار وبعد الافطار کا مآل واحد ہے کہ جب افطار غروب شمس کے بعد جلد ہو تو احب وافضل ،اور مقارنت افطار ودُعا،نا متیسر اور پیش ازغروب ،وقت افطار معدوم، تو وہ صورت بعدیت متصلہ ہی مقصود ومفہوم۔
خامساً فعل اقدس حضور پُرنور سید المرسلین صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم بتانے والے بھی اسی کا انکار کرتے ہیں ، عادتِ کریمہ تھی کہ قریب کسی کو حکم فرماتے کہ بلندی پر جا کر آفتاب کو دیکھتا رہے، وہ نظر کرتا ہوتا اور حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اس کی خبر کے منتظر ہوتے، اُدھر اُس نے عرض کی کہ سُورج ڈوبا ادھر حضور والا صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے خُرما وغیرہ تناول فرمایا،
الحاکم وصححہ عن سھل بن سعد و الطبرانی فی الکبیر عن ابی الدرداء رضی اﷲتعالٰی عنھما وھذا حدیث سھل قال کان رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اذا کان صائما امررجلا اوفی علی نشز فاذاقال غابت الشمس افطر۱؎
حاکم نے حضرت سہل بن سعد رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے نقل کرکے صحیح کہا اور طبرانی نے الکبیر میں حضرت ابودرداء رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ حدیث سہل کے الفاظ یہ ہیں: رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم جب روزہ دار ہوتے تو کسی شخص کو بلند جگہ پر جاکر چاند دیکھنے کا حکم فرماتے ، جب وُہ کہتا سورج ڈوب گیا ہے، تو پھر افطار فرماتے،
(۱؎ المستد رک للحاکم کتاب الصوم دارالفکر بیروت ۱ /۴۳۴)
ولفظ حدیث ابی الدرراء امر رجلا یقوم علٰی نشز من الارض فاذا قال قد وجبت الشمس افطر۲؎،
حدیث ابوالدرداء کے الفاظ یہ ہیں کسی شخص کو حکم دیتے زمین کے اونچے مقام پر کھڑے ہوکر سُورج دیکھو جب وہ کہتا سورج ڈوب گیا ہے تو آپ افطارفرماتے۔
(۲؎ مجمع الزوائد بحوالہ طرانی کبیردارالکتاب العربی بیروت۳ /۱۵۵)
وفی کشف الغمۃ عن جمیع الامۃ، للامام العارف سیّدی عبد الوھاب الشعرانی قدس سرہ الربانی کانت عائشۃ رضی اﷲتعالٰی عنہا تقول رأیت رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وھو صائم یترصد غروب الشمس بتمرۃ فلما توارت القاھافی فیہ۱؎۔
کشف الغمہ عن جمیع الامہ للامام عارف سیّدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی میں سیّدہ عائشہ رضی اﷲتعالٰی عنہا کا بیان یوں منقول ہے کہ میں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو روزے کی حالت میں دیکھا آپ کھجور پکڑے سورج کے غروب ہونے کا انتظارفرما رہے ہیں، جیسے ہی وُہ ڈوبا آپ نے کھجور مُنہ میں ڈال لی۔(ت)
(۱؎ کشف الغمۃ عن جمیع الامۃ کتاب الصوم دارالفکر بیروت ۱ /۲۵۵)
یہ تینوں حدیثیں بھی اُس تقدیم افطار کا پتا دیتی ہیں کہ اخبار وافطار میں اصلاً فصل نہ تھا کما لایخفی( جیسا کہ مخفی نہیں۔ت) لاجرم تصریح فرمائی کہ یہ دُعا افطار کے بعد واقع ہوئی،
مولانا قاری رحمۃ الباری مرقاۃ شرح مشکٰوۃ میں زیر حدیث مذکور ابی داؤد فرماتے ہیں:
ان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کان اذا افطر قال ای دعا وقال ابن الملک ای قرأبعد الافطار۲؎الخ۔
رسالتمآب صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم جب افطار فرماتے تو کہتے یعنی دُعا فرماتے،ابن الملک نے کہا کہ آپ افطار کے بعد یہ کلمات پڑھتے الخ(ت)
(۲؎ مرقاۃ شرح مشکوۃ کتاب الصوم مکتبہ امدادیہ ملتان ۴ /۲۵۸)
اس عبارت سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ اللّٰھم لک صمت الخ دُعا ہے، دُعا کے معنی پکارنا،اور اللھم سے بہتر کون ساپکارنا ہوگا، بلکہ اسی مرقاۃ میں تصریح فرمائی کہ
کل ذکردعا وکل دعاذکر۳؎
(ہر ذکر دعا ہے اور ہر دُعا ذکر ہے۔ت)
(۳؎ مرقاۃ شرح مشکوۃ کتاب الدعوات المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۵ /۱۳۵)
صحیح بخاری شریف میں باب وضع کیا:
باب الدعاء بعد الصلاۃ
( نماز کے بعد دُعا کے بارے میں باب) اور اسی میں حدیث لائے:
تسبحون فی دبر کل صلٰوۃ عشرا وتحمدون عشر او تکبرون عشرا۴؎۔
تم ہر نماز کے بعد دس دفعہ سبحان اﷲاور دس دفعہ الحمد اﷲاور دس دفعہ اﷲاکبر کہو۔(ت)
(۴؎صحیح بخاری الدعاء بعد الصلٰوۃقدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۹۳۷)
یونہی
باب الدعااذا ھبط وادیا
(یہ باب اس بارے میں ہے کہ جب کسی وادی میں اُترے تو دُعا کرے۔ت) میں حدیثِ جابر رضی اﷲتعالیٰ عنہ کی طرف اشارہ کیا:
قال کنا اذاصعد ناکبرنا واذا نزلنا سبحنا۱؎۔
جب ہم اُوپر چڑھتے تو اﷲاکبر اور جب نیچے اُترتے تو سبحان اﷲ کہتے (ت)
(یہ باب اس بارے میں ہے کہ جب سفر کا ارادہ کرے یا سفر سے لَوٹے تو دُعا کرے۔ت) میں
حدیث یکبر علٰی کل شرف ۲؎الخ
(آپ ہربلند ی پر تکبیر کہتے۔ت) لائے
(۲؎ صحیح بخاری باب الدعا اذاارادسفراًقدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۹۴۴)
بلکہ خود حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے احادیث کثیرہ میں ذکر کو دُعا فرمایا، صحیحین میں ہے:
عن ابی موسٰی الاشعری رضی اﷲتعالٰی عنہ قال کنّا مع النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فی سفر فکنا اذا علونا کبرنا فقال النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ایھا الناس اربعو اعلٰی انفسکم فانکم لاتدعون اصم ولا غائبا ولکن تدعون سمیعا بصیرا۳؎۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے ہے ہم حضور اکر م صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے جب ہم بلند جگہ پر چڑھتے تو تکبیر کہتے۔ حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے آپ پر نرمی کرو کیونکہ تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے تم تو سننے اور دیکھنے والے کو پکار رہے ہو۔(ت)
(۳؎ صحیح بخاری باب الدعاء اذاعلاعقبۃقدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۹۴۴)
جامع ترمذی میں ہے:عن عبد اﷲبن عمرو بن العاص رضی اﷲتعالٰی عنہما قال قال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم خیرالدعاء دعاء یوم عرفۃ وخیرماقلت اناوالنبیون من قبلی لاالٰہ الّا اﷲوحدہ، لاشریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وھو علٰی کل شئی قدیر قال الترمذی حدیث حسن غریب ۴؎
حضرت عبد اﷲبن عمرو بن عاص رضی اﷲتعالٰی عنہما سے ہے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بہتر دُعا یومِ عرفہ کی دُعا ہے، اور سب سے بہتر یہ دُعا ہے جومَیں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء نے مانگی: اﷲکے سواکوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں ،ملک وحمد اسی کے لیے ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے، ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے ،
(۴؎ جامع الترمذی باب فی فضل لا حول ولا قوۃ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ /۱۹۸)
قال مناوی خیر ماقلت ای مادعوت۵؎۔ مناوی
'' خیر ما قلت '' کا ترجمہ '' جو میں نے دعا کی'' کیا ہے۔(ت)
(۵؎ التیسیر شرح جامع صغیر تحت حدیث خیر الدعاء مکتبہ الامام الشافعی ریاض ۱ /۵۲۵)