Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
145 - 198
العروس المعطار فی زمن دعوۃالافطار (۱۳۱۲ھ)

(افطار کی دُعاکے وقت کے بیان میں عطر آلود دُولھا)
بسم اﷲالرحمٰن الرحیم

اﷲرب محمد صلی علیہ وسلّما
مسئلہ۲۷۲: از بنارس محلہ پتر کنڈہ مرسلہ مولوی محمد عبدالمجید صاحب چشتی فریدی پانی پتی ۱۵ رمضان المبارک ۱۳۱۲ھ

ہمارے علماء رحمہم الغفار وابقاہم الٰی یوم القرار، اس میں کیا فرماتے ہیں کہ دعائے افطارِ روزہ
اللھم لک صمت وعلی رزقک افطرت
کو بعض علماء فرماتے ہیں کہ قبل افطار کہے، چنانچہ رسالہ
تنبیہ الانام فی آداب الصیام
میں ہے: اور قبل افطار کے یہ پڑھنا
اللھم لک صمت الخ
سنّت ہے۱؎ انتہی۔
 (۱؂تنبیہ الانام فی آداب الصیام)
اور بعض فرماتے ہیں کہ وقتِ افطار کہے۔ چنانچہ رسالہ مفتاح الجنۃ مؤلفہ مولانا کرامت علی جونپوری مرحوم میں ہے: اور افطار کے وقت سنّت ہے کہ کہے
اللھم لک صمت ۲؎ الخ انتہی ۔
(۲؎ رسالہ مفتاح الجنۃ، مولوی کرامت علی)
اور کتاب جواہر الاحکام تصنیف مولوی عبداﷲمعروف بہ مستان شاہ میسوری میں نقلاًعن الکفایہ ہے۔ مثلاً سنّت وہی ہے کہ وقتِ افطار یہ دُعا کہے
اللھم لک صمت ۱؎الخ انتہٰی۔
 (۱؎ جواہرا لحکام، مولوی عبد اﷲ)
اور رسالہ خیرالکلام فی مسائل الصیام مؤلفہ جناب مولوی محمد عبدالحلیم مرحوم لکھنوی میں ہے:
وقت افطار سنت آنست کہ بہ گوید اللھم لک صمت۲؎الخ انتہی۔
افطار كے وقت سنّت یہ ہے کہ دُعا مانگے:اے اﷲ!میں نے تیرے لیے روزہ رکھاالخ(ت)
 (۲؎ رسالہ خیر الکلام فی مسائل الصیام، مولوی عبد الحلیم)
اور نورالہدایہ ترجمہ اردو شرح وقایہ مؤلفہ مولوی وحید الزمان میں ہے :جس وقت افطار کرے کہے
اللھم لک صمت وعلٰی رزقک افطرت
یعنی اے اﷲ! تیرے ہی واسطے میں نے روزہ رکھا تھا اور تیرے رزق پر افطار کرتا ہوں۔ روایت کیا اس کو ابوداؤد نے کہ ایسا ہی کرتے تھے آنحضرت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم۳؎ انتہی۔
 (۳؎نورالہدایہ ترجمہ شرح وقایہ، کتاب الصوم باب مکروہات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۱۷۶)
اور رسائل ارکان اربعہ مؤلّفہ مولانا ومقتدانا جناب مولوی عبد العلی کے رسالہ صوم میں ہے:
وینبغی ان یقول عند الافطار اللھم لک صمت وعلٰی رزقک افطرت عن معاذبن زھرۃ قال بلغنی ان رسول اﷲ کان اذاافطر قال اللھم لک صمت وعلٰی رزقک افطرت، رواہ ابوداؤد انتہی۴؎۔
افطار کے وقت یہ کہنا چاہئے اے اﷲ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق پر افطار کیا ، کیونکہ حضرت معاذ بن زہرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم جب افطار فرماتے تو کہتے اے اﷲ! میں نے تیری خاطر روزہ رکھا اور تیرے  رزق پر افطار کیا، اسے ابوداؤد نے روایت کیا انتہی(ت)
 (۴؎ رسائل ارکان ربعہ     بیان انہ یستحب الافطار بالتمر    مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ     ص۲۱۵)
اور رسالہ تعلیم الصیام میں ہے: معاذبن زہرہ نے کہا حضرت ( صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم) افطار کے وقت یُوں کہتے تھے:
اللھم لک صمت وعلٰی رزقک افطرت، رواہ ابوداؤد مرسلا۵؎انتہی۔
اے اﷲ! میں نے تیری خاطر روزہ رکھا اور تیرے رزق پر افطار کیا۔ اسے ابوداؤد نے مرسلاً روایت کیا۔(ت)
 (۵؎ رسالہ تعلیم الصیام)
اورشیخ عبد الحق قدس سرہ کی مدارج النبوۃ میں ہے:ودروقتِ افطار فرمودے
اللھم بک صمت۱؎ الخ انتہی۔
حضور اکرم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم افطار کے وقت فرماتے اے اﷲ! میں نے تیرے لیے رکھا الخ انتہی(ت)
 (۱؎ مدارج النبوۃ         باب دہم در انواع عبادات نوع چہارم درصوم     نوریہ رضویہ سکھر     ۱ /۴۲۹)
اور اُنہیں کی اشعۃ اللمعات میں حدیث معاذ بن زہرہ کے ترجمہ میں ہے:
بود آنحضرت چوں افطارمی کردمی گفت اللھم لک صمت خداوند برائے رضائے تو روزہ داشتہ ام وعلیٰ رزقک افطرت وبر روزی توکہ رسانیدی می کشادم روزہ را۲؎انتہی۔
حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم جب افطار کرتے، فرماتے
اللھم لک صمت
اے اﷲ! میں نے تیری رضا کیلئے روزہ رکھا
وعلیٰ رزقک افطرت
اور تیرے عطا کردہ رزق پر روزہ افطار کیا انتہی(ت)
 (۲؎ اشعۃ اللمعات     کتا ب الصوم     فصل ثالث        نوریہ رضویہ سکھر    ۲ /۸۴)
اور بعض کہتے کہ اس دعا کو بعد افطار کہے۔ چنانچہ مظاہر حق ترجمہ اردو مشکٰوۃ مؤلفہ جناب مولوی قطب الدین مرحوم دہلوی میں ہے: ابن ملک نے کہا ہے کہ حضرت( صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم) ان کلمات (یعنی اللھم لک صمت الخ) کو بعد افطار کہتے تھے۳؎ انتہی۔
 (۳؎مظاہر حق ترجمہ مشکوٰۃ المصابیح کتاب الصوم افطار کی دعا  دارالاشاعت کراچی  ۲ /۳۱۴)
تو ان قولوں میں صحیح قول کون سا ہے؟ اور نیز اس میں کہ وقت افطار سے مراد قبل از افطار ہے اور پہلے قول اور اس قول کا مآل واحد ہے یا بعد افطار اور پچھلے قول اور اس قول کا مآل واحد ہے اور نیز اس میں کہ لفظ افطر ت کا ترجمہ'' افطار کرتا ہوں میں'' جیسا کہ مؤلف نورالہدایہ ترجمہ اردوشرح وقایہ نے کیا ہے صحیح ہے یا ''افطار کیا میں نے'' جیسا کہ شیخ قدس سرہ نے اشعۃ اللمعات میں کیا ہے صحیح ہے؟ اور نیز اس میں کہ بر تقدیر صحت ترجمہ ثانی کے اس دُعا کا بعد افطار ہونا ثابت ہوگا یا نہیں؟ اور نیز اس میں کہ زید تو کہتا ہے کہ حدیث کے لفظ
اذاافطرت قال اللھم لک صمت الخ
 (جب افطار کرتے تو فرماتے اے اﷲ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھاالخ۔ت) میں اذا حرفِ شرط ہے، افطر جملہ فعلیہ شرط ہے، قال اپنے فاعل ضمیر مستتر اور
اللھم لک الخ
مقولہ کے ساتھ جزا ہے۔ اور عمرو کہتا ہے اذا حرفِ شرط، افطر شرط، اور فقد قال جزا۔ بس یہ کلام تو تمام ہوچکا اب
اللھم لک صمت برأسہ
اور نیز ایک دوسرا کلام ہے قال سے اس کو کچھ تعلق نہیں تو دونوں میں صحیح قول کس کا ہےـ؟ اور نیز اس میں زید توکہتا ہے کہ
اللھم لک صمت الخ
دُعا ہے اور عمرو کہتا ہے نہیں، کیونکہ دُعا تو وُہ کلام ہوتا ہے جو کہ متضمن مضمون طلب ہو، اور یہ ایسا نہیں تو دُعا بھی نہیں، تو دونوں میں صحیح قول کس کاہے؟ اور نیز اس میں کہ لفظ عند ظرف ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو ظرف زمان بمعنی وقت ہے یا ظرف مکان بمعنی نزدیک اور پاس کے؟ اور نیز اس میں کہ مولانا بحرالعلوم مرحوم کے قول
وینبغی ان یقول عند الافطار
کا ترجمہ'' اور لائق ہے کہ کہے وقت افطار کے'' کرنا چاہئے یا '' اور لائق ہے یہ کہ کہے نزدیک افطار کے'' کرنا چاہئے؟ بینو اتوجروا
Flag Counter