| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
مسئلہ ۲۶۹ تا ۲۷۰ :از اروہ نگلہ ڈاک خانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ محمد صادق علی خاں صاحب رمضان ۱۳۳۰ھ (۱) روزہ افطار کر نا کس چیز سے مسنون ہے؟ (۲) رمضان مبارک میں روزہ افطار کے بعد مغرب نماز پڑھ کر بہت سے آدمی جمع ہو کر حقّہ پیتے ہیں جس سے بیہوش ہوتے ہیں کچھ خبر نہیں رہتی، ہاتھ پیروں میں رعشہ ہوجاتا ہے، آیا یہ حالت شرعاً سکر میں ہے یا نہیں؟ ایسا حقّہ پینا جائز ہے یا نہیں؟بینو اتوجروا
الجواب (۱) خرمائے تر، اور نہ ہو تو خشک ، اور نہ ہو تو پانی۔ سنن ابی داؤد وجامع ترمذی میں بسندِ حسن انس رضی اﷲتعالٰی عنہ سے ہے:
کان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم یفطر قبل ان یصلی علی رطبات فان لم تکن رطبات فتمیرات وان لم تکن تمیرات فحساحسرات من ماء۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نماز ادا کرنے سے پہلے تر کھجور سے روزہ افطار فرماتے، اگر تر کھجور یں نہ ہوتیں تو خشک کھجوریں استعمال فرماتے، اگر کھجوریں نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پیتے۔ واﷲتعالیٰ اعلم(ت)
(۱؎ جامع ترمذی باب ماجاء مایستحب علیہ الافطار امین کمپنی دہلی ۱ /۸۸) (سنن ابی داؤد باب ما یفطر علیہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۲۱)
(۲)ایسا حقّہ پینا کبھی ہو، حرام ہے، اور یہ حالتِ سُکر نہیں بلکہ تفتیر ہے ،اور سُکرو تفتیر دونوں حرام ۔ ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کی حدیث میں ہے :
نھی رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم عن کل مسکرومفتر۲؎۔
رسول اﷲصلی تعالیٰ علیہ وسلم ہر نشہ آور مفتر سے منع فرماتے تھے (ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۶۳)
اور تفصیل مسئلہ ہمارے رسالہ حقۃ المرجان لمھم حکم الدخان میں ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۷۱ :ازبنارس محلہ کندی گڑ ٹولہ متصل شفاخانہ مرسلہ حکیم عبد الغفور صاحب ۱۲ رمضان ۱۳۱۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دعاءِ افطار
اللھم صمت وعلٰی رزقک افطرت
قبل از افطار پڑھنی چاہئے یا بعدافطار؟ مظاہر حق نواب قطب الدین حسن واشعۃ اللمعات شیخ عبد الحق میں ترجمہ افطرت کا بصیغہ ماضی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دُعا آنحضرت صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم بعد افطار کے پڑھتے تھے، چنانچہ ابن ملک نے بھی اس کو لکھا ہے، قول ابن ملک کو کہ آنحضرت صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم دعا مذکور بعد افطار کے پڑھتے تھے نواب قطب الدین حسن دہلوی نے مظاہر حق شرح مشکٰوۃ میں نقل کیا ہے، لیکن بعض کتابوں میں لکھتے ہیں کہ دعا مذکورہ بالاقبل افطار پڑھنی چاہئے۔ بینو اتوجروا۔
الجواب فی الواقع اس کا محل بعد افطار ہے،
ابوداؤد عن معاذ بن زھرۃانہ بلغہ ان النبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کان اذا افطر اللھم لک صمت وعلی رزقک۱؎فحمل افطر علی معنی ارادۃ الافطار وصرف عن الحقیقۃ من دون حاجۃ الیہ وذالایجوز وھکذا فی افطرت۔
ابو داؤد میں حضرت معاذبن زہرہ رضی اﷲعنہ سے کہ رسالتمآب صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم افطار کے وقت یہ دُعا پڑھتے: '' اے اﷲ! میں نے تیری رضا کی خاطر روزہ رکھا، تیرے رزق پر افطار کیا'' تو یہاں افطر سے مراد ارادہ افطارلینا اور حقیقی معنی سے بے ضرورت اعراض کرنا ہے حالانکہ یہ جائز نہیں اور اسی طرح کا معاملہ ''افطرت'' میں ہے(ت)
(۱؎سنن ابی داؤد باب القول عندالافطار آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۲۲)
مولانا علی قاری علیہ الباری مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
(کان اذاافطر قال) ای دعا وقال ابن الملک ای قرأبعد الافطار ۲؎الخ۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
(جب افطار کرتے تو کہتے) یعنی دُعا کرتے ابن الملک نے کہا کہ افطار کے بعد یہ دُعا پڑھتے تھے الخ۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ مرقاۃ شرح مشکٰوۃ کتاب الصوم مسائل متفرقہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۴ /۲۵۸)