Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
143 - 198
مسئلہ ۲۶۵ :از کوہ الموڑہ رانی دھارہ    مسئولہ حکیم مولوی خلیل اﷲخاں صاحب سلمہ ۷ ماہ مبارک ۱۳۳۳ھ

سحر وافطار کے نقشے عطا ہوں صاحبزادہ نواب دولھا صاحب مانگتے ہیں، ایک دومنٹ کا تفاوت دیکھ لیا جائے گا۔
الجواب : نقشے بھیجتا ہُوں، الموڑے اور بریلی میں اس ماہ مبارک میں سحری کا اوسط تفاوت منفی پانچ (-۵) ہے یعنی اتنے منٹ وقتِ بریلی سے پہلے ختم ہے اور افطار کا اوسط مثبت ایک(+۱-۱/۴) یعنی وقت بریلی سے سوا منٹ بعد۔لیکن یہ حساب ہموار زمین کا ہے پہاڑ پر فرق پڑے گا، اور وہ فرق بتفاوتِ بلندی متفاوت ہوگا، اگر دو۲ ہزار فٹ بلندی ہے تو غروب تقریباً چار منٹ بعد ہوگا،اور طلوع اُسی قدر پہلے، لہذا جب تک یہ نہ معلوم ہوکہ وُہ جگہ کس قدر بلند ہے جواب نہیں دے سکتا۔ اگر کسی دن کے طلوع یا غروب کا وقت صحیح گھڑی سے دیکھ کر لکھو تو میں اس سے حساب کرلُوں کہ وُہ جگہ کتنی بلند ہے۔واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ۲۶۶:  از سہادر ضلع ایٹہ مرسلہ سیدفردوس علی صاحب     ۲۱رمضان المبارک ۱۳۲۸ھ

بعد آداب وتمنّائے قد مبوسی گزارش ہے کہ ۵رمضان شریف یوم شنبہ مطابق ۱۰ستمبر کو افطار روزہ ایک مسجد میں ریلوے ٹائم سے پونے سات بجے روزہ افطار کیا جاتا تھا مطلع فرمائیے کہ اُس روز ریلوے ٹائم سے کس قدر فرق ہے، زیادہ حدِ ادب فقط
الجواب 

سہادرمیں جس کا عرض شمالی الر ص مح۲۷ درجے ۴۸ دقیقےاور طول شرقی عح نح۷۸ درجے ۵۳ دقیقے  ہے پنجم  ماہ مبارک روز شنبہ مطابق ۱۰ ستمبر ۱۹۱۰ء کو غروب آفتاب صحیح وقت سے چھ بج کر سوا چھبیس منٹ پر ہوا تو وُہ گھڑی جس کے ساڑھے چھ پر افطار کیا گیا اگر صحیح تھی روزہ بے تکلف ہوگیا کہ غروب کو پونے چار منٹ گزرچکے تھے اس سے پہلے جو پونے سات پر افطار کرتے تھے خلافِ سنت تھا افطار میں اتنی تاخیر مکروہ ہے ریلوے وقت سہادر کے اپنے وقت سے چودہ منٹ اٹھائیس سیکنڈ تیز ہے
واﷲ سبحانہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۷: از الہ آباد صدر بازار     محمد حشمت اﷲصاحب     ۱۹ رمضان ۱۳۳۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص امام مسجد ہے او سب لوگ روزہ اُس کی اذان سے افطار کرتے ہیں اور وُہ دیر سے افطار کا حکم دیتا ہے یہاں تک کہ کئی مرتبہ آزمایاگیا ہے کہ تارانکل آیا اس کوتارا دکھابھی دیا گیا تواس پر بھی اس نے کہا کہ ابھی دومنٹ کی دیر ہے تو اس حالت میں کچھ روزہ میں نقص تو واقع نہیں ہوتا ہے؟اگر کوئی واقع ہوتا ہے تو کیا کرنا چاہئے ؟
الجواب

جب آفتاب تمام وکمال ڈوبنے پر یقین ہوجائے فوراً روزہ کی افطار سنّت ہے، حدیث میں فرمایا:
لاتزال امتی بخیر ما عجلواالفطر واخروالسحور۱؎۔
ہمیشہ میری اُمّت خیر سے رہے گی جب تک افطار میں جلدی اور سحری میں دیر کریں۔
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     روایات ابو ذر     دارالفکر بیروت     ۵ /۱۴۷)
مگراتنی جلدی جائز نہیں کہ غروب مشکوک ہو اور افطار کرے یا سحری میں اتنی دیر لگائے کہ صبح کا شک پڑجائے اور تارے کی سند نہیں بعض تارے دن سے چمک آتے ہیں ہاں، سیّاروں کے سوا جو کواکب ہیں وہ اکثر ہمارے بلد میں غروبِ آفتاب کے بعد چمکتے ہیں اگر ان ستاروں میں سے کوئی ستارہ چمک آتا ہے اور پھر وہ افطار نہیں کر دیتا اور دو۲ منٹ کی دیر بتاتا ہے تو یہ رافضیوں کا طریقہ ہے، اور بہت محرومی وبے برکتی ہے، اُسے توبہ کرنی چاہئے واﷲتعالٰی اعلم اس صورت میں مسلمان اس پر نہ رہیں جب غروب پر یقین ہوجائے افطار کریں۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۶۸:ازکوہ الموڑہ رانی دھارہ مسئولہ حکیم مولوی خلیل اﷲصاحب سلمہ ۷ماہ مبارک ۱۳۳۳ھ

بعد از اہدائے سلام سنت الاسلام ولوازم آداب تسلیمات فدویانہ، معروض خدمت فیض درجت آنکہ والا نامہ گرامی بشرف صدور لایا، مفخر وممتاز فرمایا، کل اس کوٹھی کی بلندی دریافت کی گئی بلندی دریافت کرنے کا ایک آلہ ہوتا ہے جو سطح سمندر سے جس قدر بلند ہو وہ بتاتا ہے ،ایک چھوٹا ساآلہ ہے جوکہ چھوٹی سی ڈبیہ کی طرح ہوتا ہے مثل گھڑی کے گول، اس میں سُوئی ہوتی ہے جو کہ بلندی کے نمبروں پر گشت کرتی ہے، غرض وہ کل دیکھا گیا اس کے ذریعہ سے ذیل کی بلندی دریافت ہوئی، پانچہزار پانچ سو پچاس فٹ سطح آب سے بلندی ہے اس لیے صاحبزادہ نواب دولھا صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ اب لکھ بھیجوکہ اس حساب سے کیا وقت نکلتا ہے، لیکن یہ بلندی اُس وقت ٹھیک وقت بتاسکتی ہے جبکہ یہ جگہ ہموار ہو یہاں شرقاً وغرباً پہاڑ ہے جس باعث سے طلوع مؤخر اور غروب مقدم ہوتا ہے اور یہ ٹیکری پہاڑ جو کہ غربی جانب ہے ہم سے تین سو یا چار سو فٹ بلند ہے اور شرقی جانب کا پہاڑ غالباً چھ سو فٹ ہوگا اور شمالی جانب پندرہ روزہ کے راستہ پر برف کا پہاڑ نظر آتا ہے جس پر شعاع آفتاب کی بہت پہلے پڑتی ہے اور مطلع صاف ہو تو اس کی چمک یہاں پر بخوبی نظر آتی ہے اور قریب کے پہاڑوں پر کہیں شعاع نہیں ہوتی اور لوگ نماز پڑھتے ہوتے ہیں اور شرق وغرب جو پہاڑ ہے اس پر بھی الموڑہ ہی کی آبادی ہے، سب طرف مکانات بنے ہُوئے ہیں اور اس کوٹھی سے اور خاص شہریعنی بازار سے چنداں تفاوت نہیں، اب اگر ایک ہزار فٹ پر دو۲ منٹ بڑھاجائیں تو گیارہ منٹ اور سوا منٹ طول یا عرض بلد کاکل سوا بارہ منٹ جمع کرنا پڑیں گے، جس حساب سے آج کا افطار ۰۲۳منٹ پر ہونا چاہئے(۰۱۱+۱۲=۰۲۳)لیکن میرے خیال میں۲۰ منٹ سے پیشترہی مشرق سے سیاہی نمودار ہوجاتی ہے لیکن مغربی بادلوں میں خوب سرخی اور چاروں طرف کسی قدر بادلوں پر سرخی پائی جاتی ہے، چونکہ صاحبزادہ صاحب موصوف کو تحقیق مطلوب ہے اس لیے خاکسارنے یہاں کی مجموعی کیفیت گزارش کردی، امید کہ جواب باصواب سے ممتاز فرمایا جائے، رام پور سے جو نقشے آئے ہیں اُن میں اس نقشے کے حساب سے تین چار منٹ کا، بَل ہے یعنی غروب چار منٹ مؤخرہے۔
الجواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،
شرقی غربی پہاڑوں کے سبب تاخرِ طلوع وتقدمِ غروب معتبر نہیں، وہ دیوار ہائے مکان کی مثل ہیں ، نہ وہ شعاعیں کہ کوہ برف پر پڑکر روشنی دیتی ہیں کچھ قابلِ لحاظ نہیں جبکہ وُہ پہاڑ اس سے بلند تر ہیو وہ شب کی چاندنی کے مثل ہیں کہ چاند پر شعاعِ شمس ہی پڑکر روشنی پیدا ہوتی ہے۔ نہ یہاں اربعہ متناسبہ ہے کہ دو ہزار فٹ پر چار منٹ تھے توہزار پر دو اور ساڑھے پانچ ہزار پر گیارہ ہوں بلکہ یہاں  تزاید علی سبیل التناقص ہے، ہر بلند ی پر جو تفاوت ہے اس سے دو چند پر دوچند سے کم ہوگا مثلاً سَو فٹ بلندی پر افق ۰۱۰دقیقے نیچے گرتا ہے اور ہزار فٹ پر صرف ۰۳۳دقیقے،نہ کہ ۰۱۰ کا دس گنا، اور چار ہزار فٹ پر ایک درجہ سات دقیقے ، نہ کہ ۰۳۳کہ دو۲ درجے چودہ۱۴ دقیقے، یعنی اس سے دو چند ہوتا کہ ۰ا۰دقیقے کا چالیس گنا کہ پُورے سات۷ درجے ہوتا
وقس علٰی ھذا
 ( اور اس پر قیاس کرو۔ت) ۵۵۵۰فٹ بلندی پر میں نے حساب کیا افق ایک درجہ ۱۹دقیقے ۰۱۰ ثانیے گرا، جس کے سبب شروع ماہِ مبارک میں کہ تقویم سرطانی کہ ۲۰درجے پر تھی، طلوع وغروب الموڑہ میں ہموار زمین کے اعتبار سے ۶منٹ ۴۷سیکنڈ تفاوت تھا یعنی طلوع شمس اس قدر پہلے اور غروب اس قدر بعد اور آخرماہ مبارک میں کہ تقویم اسد کے ۱۸پر ہوگی تفاوت ۶منٹ ۲۵سیکنڈ ہوگا، یہ ۲۲ سیکنڈ کا فرق تفاوت میل شمسی کے باعث ہے، غرض اواخر رمضان حال میں ساڑھے چھ منٹ، تو یہ فرق سمجھئے اور سوامنٹ بلحاظ عرض طول مجموع پونے آٹھ منٹ وقت افطار بریلی پر بڑھیں گے جس میں احتیاطی منٹ بھی شامل ہیں۔ ۱۳ ماہ مبارک مطابق ۲۷جولائی کی نسبت جوتم نے ۱۲منٹ بڑھائے ۰۷بڑھاؤ(۰۱۲+۰۷=۱۹) وہی بات آگئی جو تم نے لکھی کہ ''میرے خیال میں۲۰منٹ سے پہلے ہی مشرق سے سیاہی نمودار ہوجاتی ہے''۔ ایک رامپور کیا ہندوستان بھر کے نقشوں کی بایں معنی قدر کرنابے جا نہیں جانتا کہ وُہ بیچارے اپنے گمان میں تو اچھا سمجھ کر کرتے ہیں، اگر چہ یہ فتوٰی ہے اور بے علم فتوی سخت حرام ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم ۔
Flag Counter