Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
142 - 198
یہ وہی سپیدی مستطیل ہے جسے وُہ اپنے ملک میں ہمیشہ تہائی رات کے قریب تک رہتی فرماتے ہیں
کمادل علیہ الحصر
 (جیسا کہ حصر کالفظ اس پر دال ہے۔ت) اور ظاہر ہے کہ اُن بلاد میں رات ۱۴ گھنٹے اور اس سے بھی کچھ زائد تک پہنچتی ہے جس کی تہائی تقریباً پونے گھنٹے اور بحکم مقابلہ قطعاً معلوم ہے کہ ادھر جتنے حصہ شب تک یہ سپیدی رہے گی اُدھر اُتنا ہی حصہ شب کا باقی رہے گا_______تواس بیان پر لیالی شتامیں صبح کاذب کی مقدار وہاں پونے پانچ گھنٹے ہُوئی، اور معلوم ہے کہ وہاں صبح صادق کی مقدار پونے دو گھنٹے سے زائد نہیں ، تو صبح صادق وکاذب میں تین گھنٹے تک کا فاصلہ ثابت ہُوا نہ کہ صرف تین ہی درجے۔ مگر امام زیلعی نے تبیین الحقائق میں فرمایا:
روی عن الخلیل انہ قال رأیت البیاض بمکۃ شرفہا اﷲتعالٰی لیلۃ فماذھب الا بعد نصف اللیل۲؎۔
شیخ خلیل سے منقول ہے کہ میں نے مکّہ( اﷲتعالیٰ اسے اور بزرگی عطا فرمائے) میں ایک رات سفیدی دیکھی تو وُہ نصف رات کے بعد ختم ہُوئی۔(ت)
 (۲؎ تبیین الحقائق         کتاب الصّلٰوۃ       مطبع کبرٰی امیریہ مصر         ۱ /۸۱)
ظاہر ہے کہ مکہ معظمہ میں وہ سپیدی کہ آدھی رات تک رہی،اگر ہوسکتی ہے تو یہی سرطان کی بیاض دراز، ورنہ مکہ معظمہ میں اس کی صبح وشفق مستطیر ڈیڑھ گھنٹا بھی نہیں، تو خلیل بن احمد عروضی کی رؤیت وروایت اگر صحیح ہے اُس دن دونوں صبح میں تقریباً پانچ گھنٹے کا فاصلہ ہوگا یہ بہت بعید ضرور ہے مگر اس قدر میں شک نہیں کہ تین درجے کا قول فاسد ومہجور ہے، اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ برہان کے اس بیان یاخلیل کی اس رؤیت کو دربارہ وقت مغرب مذہب امام اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ کا ذریعہ تضعیف جاننا،
کما وقع عن الطر ابلسی فی البرھان فعدل عن اتباع المحقق ابن الھمام مع شدۃ تاسیسہ بہ۔
جیسا کہ برہان میں طرابلسی سے ہے، انہوں نے باتباع محقق ابن الہمام یہاں سے عدول کر لیا حالانکہ وہ ان کی شدید اتباع کرتے ہیں (ت)
محض خطاہے، امام کے نزدیک وقتِ مغرب شفق ابیض مستطیر تک ہے جو فجر صادق کی نظیر ہے،وُہ کبھی ان بلاد میں تہائی کیا چوتھائی رات تک بھی نہیں رہتی ، اور یہ جو اس قدر دیر پاہے بیاضِ دراز نظیر کاذب ہےکہ اُسی کی طرح احکامِ شرعیہ سے یکسر ساقط والی
بعض ھذا اونحومنہ اومأالتبیین
 ( اس کے بعض یاا س کے مثل کی طرف تبیین میں اشارہ ہے۔ت)
ثمّ اقول،(پھر میں کہتا ہوں۔ت) صبح صادق کے لیے ۱۵ درجے انحطاط ہونے کا بطلان اور ۱۸درجے انحطاط کی صحت، اس واقعہ مشہورہ سے بھی ثابت ہے جو فتح القدیر وبحرالرائق و درمختار میں وعامہ کتب معتبرہ میں مذکور کہ بلغار سے ہمارے مشائخ کرام کے حضور استفتاء آیاتھا کہ گرمیوں کی چھوٹی راتوں میں ان کو وقت عشاء نہیں ملتا آدھی رات تک شفق ابیض رہتی ہے اور وُہ ابھی نہ ڈوبی کہ مشرق سے صبح صادق طلوع کر آئی، امام برہان الدین کبیر نے حکم دیا کہ عشاء کی قضاء پڑھیں اور امام بقالی وامام شمس الائمہ حلوانی وغیرہما نے فرمایا اُن پر سے عشاء ساقط ہے۱؎۔
 (۱؎ درمختار     کتاب الصّلٰوۃ     مجتبائی دہلی    ۱ /۶۰)
بالجملہ اُن راتوں میں وہاں وقت عشا نہ پانا متفق علیہ ہے، اب اگر انحطاطِ صبح صادق ۱۵درجے ہوتا تو سال کی سب سے چھوٹی رات یعنی شب تحویل سرطان میں بھی اُن کو وقت عشا ملتا ایک رات بھی فوت نہ ہوتا نہ کہ راتوں، اس پر دلیل سُنئے، بلغار کا عرض شمالی ساڑھے انچاس درجے ہے
کما فی الزیج السمر قندی ثم الزیج الالوغ بیکی
 (جیسا کہ سمر قندی اور الوغ بیگی زیج میں ہے۔ت) اورمیل کلی یعنی راس السرطان کا میل اُس زمانے میں۲۳-۱/۲درجے سے کچھ زائد تھا کہ اس کی مقدار زمانہ رصد سمر قند میں جسے تقریباً پانسوبرس(عہ۱ ) ہُوئے لح ل ء تھی یعنی ۲۳-۱/۲ درجے سے ۱۷ ثانیہ زیادہ تو زمانہ امام شمس الائمہ حلوانی میں جسے پونے۲نو سوبرس(عہ۲ )گزرے اور بھی زائد ہوگا اور طوسی کا رصد مراغہ لیجئے تو وُہ اپنے ہی زمانہ میں الح لہ کارہا ہے یعنی ۲۳درجے ۳۵ دقیقے، خیر اس کی نہ سُنیے اُس پر تجربہ ہوا ہے کہ اعمال میں کچا ہے،
(عہ۱ مبدء زیج سنہ ضمارکھا ہے یعنی آٹھ سواکتالیس ہجری۔)

(عہ۲  وفات امام حدود ۴۵۰ہجری میں ہے یعنی ۴۸یا ۵۲یا ۵۶میں ۱۲منہ۔)
تو بلحاظِ تناسب کہ اب الح الریعنی ۲۳ درجے ۲۷ دقیقے معہ کسر خفیف ہے اُس وقت کا میل الح لح بالرفع رکھئے یعنی ۲۳درجے ۳۳ دقیقے تو وہاں راس السرطان کی غایت انحطاط یعنی وقت بلوغ دائرہ نصف اللیل ۱۶درجے ۵۷دقیقے تھی یا تقریباً ۱۷درجے کہئے اور انحطاط صبح ۱۵ درجے ہے تو قطعاً یہی انحطاط شفق ابیض ہے کہ جانبین سے تعادل وتناظر ہے، اس تقدیر پر بعد غروبِ شمس جب تک افق سے آفتاب کا انحطاط بڑھتے بڑھتے ۱۵درجے تک پہنچا امام اعظم کے مذہب میں وقت مغرب تھا پھر اس کے بعد جبکہ انحطاط اس سے ترقی کرکے آدھی رات کو ۱۷ درجے تک پہنچا پھرآدھی رات ڈھلے اُس سے کم ہوتاپھر ۱۵درجے رہا اُس وقت صبح ہوئی، اس بیچ میں کہ تقریباً چار درجے انحطاط بدلا، یقینا اجماعاًوقتِ عشا تھا، تو فوتِ عشا کیا معنے، اورا گر مقدار وقت جاننا چاہو توعرض شمالی۹ْ۴ ۳۰َ-میل شمالی ۳ْ۲ ۳َ۳ =۵ْ۲ ۵۷َ+بعد سمقتی مفروض ۱۰۵=۰ْ۱۳ نصفہ ۵ْ۶ ۸َ۲ ۳۰ً جیبہ ۹۵۸۹۳۶۵ئ۹جیب اول و۱۰۵-نصف مذکور۹ْ۳ ۳۱ ۳۰ً جیبہ ۸۰۳۷۴۰۳ء جیب دوم ۱۸۷۴۵۵۶ئ۰قاطع عرض پس ۴۰ً ۴۳َ ۱۰ت شروع وقت عشا۰۳۷۷۶۷۶ئ۰قاطع میل ۲۰ ۱۶ ۱۳     شروع وقت صبح ۹۸۷۸۹۹۶ئ۹یعنی رات کے ۱۰ بج کر ۴۳منٹ۴۰ سیکنڈ پر مغرب ختم ہوگیا اور ایک بج کر ۱۶ منٹ۲۰ سیکنڈ پرصبح شروع ہُوئی تو ۱/۲-۲ گھنٹے سے زیادہ وقت عشا رہا اور جب اس رات میں جس کا غایۃ الانحطاط یعنی نہایت قلت میں ہے اتنا طویل وقت ملا تو گرمی کی اور راتوں میں کہ انحطاط اس سے بھی زائد ہے اور بھی زیادہ وقت ہاتھ آئے گا اور یہ متفق علیہ مسئلہ یقینا غلط ہوجائے گا، ہاں جب صبح وشفق کا انحطاط ۱۸درجے لیجئے تو ۹ْ۴ ۳۰+۸ْ۱=۸ْ۶ ۳۰َیا تمام العرض ۰ْ۴ ۳۰َغایت مفروضہ ۸ْ۱=۲ْ۲ ۳۰ یعنی جس چیز کا میل شمالی ساڑھے بائیس درجے یا اس زائد ہوگا اُس میں ٹھیک آدھی رات کو انحطاط ۱۸درجے یا اس سے بھی کم ہوگا جو ظہور بیاض کے لیے کافی ہے تو تمام رات میں ایک آن کو بھی اُفق مظلم ہوکر وقتِ عشاء نہ آئے گا اور اب یہ فقط راس السرطان ہی پر نہیں بلکہ ۱۴ درجے جوزا سے ۱۶ درجے سرطان تک یہی حال رہے گا جس کی مقدار ایک مہینہ تین دن بلکہ زائد ہوئی
 (۱؎یعنی دائرہ نصف النہار جانب سمت القدم ۱۲ منہ )
ھکذاینبغی ا لتحقیق واﷲ ولی التوفیق
 (تحقیق اسی طرح مناسب تھی، توفیق کا اﷲ ہی مالک ہے۔ت) اس تمام بیان سے تین باتیں واضح ہوئیں جن سے جواب سوال روشن ومبین :

(۱) اصلا مدار رؤیت ہے شارع علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے اسباب میں کوئی ضابطہ وحساب ارشاد نہ فرمایا، نہ عقل صرف مقدار انحطاط صبح بتا سکتی تھی۔

(۲) ہاں رؤیت نے وُہ تجارب صحیحہ دئے جن سے قاعدہ کلیہ ہاتھ آیا اور بے دیکھے وقت بتانا ممکن ومیسر ہوا۔

(۳) ازانجاکہ یہاں جو قاعدہ ہوگا رؤیت ہی سے مستفاد ہوگا کہ شرع وعقل دونوں ساکت ہیں تو لاجرم جو قاعدہ رؤیت یا اس کے دئے ہوئے قوانین کی مخالفت کرے، خود باطل ہونا لازم ،کہ فرع جب تکذیب اصل کرے تو فرع باقرارِ خود کاذب ہے کہ اس کا  صدق اس پر مبتنی تھا، جب مبنی باطل یہ خود باطل، یہ قاعدہ کہ صبح رات کا ساتواں حصّہ ہوتی ہے انہیں قواعد باطلہ فاسدہ سے ہے کہ رؤیت وقوانین عطیہ رؤیت، بالاتفاق اس کے بطلان پر شاہد عدل ہیں۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۶۴ :از پیلی بھیت قاضی محلہ مرسلہ قاضی ممتاز حسین صاحب ممتاز ۲۰ر مضان ۱۳۱۷ھ

طعامِ سحری کا جب وقت نہیں رہتا ہے تو درِ مسجد  پرنقارہ بجایا جاتا ہے بعض کہتے ہیں کہ جائز ہے اوربعض کہتے ہیں ناجائز ہے، اس میں کیا حکم ہے؟
الجواب

سحری کا نقارہ اجازت یا ممانعت جس اصطلاح معروف پر مقرر کیا جائے اجازت ہے کہ کہیں ممانعت نہیں،

 درمنتقی شرح الملتقی میں ہے:
ینبغی ان یکون  بوق الحمام یجوز کقرب النوبۃ۱؎۔
حمام کا تُوتا جائز ہوناچاہئے جیسا کہ نقّارہ جائز ہے(ت)
 (۱؎درمنتقی علی حاشیۃ مجمع الانہر  فصل فی المتفرقات من کتاب الکراھیۃ   دارا حیاء التراث العربی بیروت  ۲ /۵۵۳)
ردالمحتار میں ہے:
ینبغی ان یکون طبل السحر فی رمضان لا یقاظ النائمین للسحور کبوق الحمام تامل۲؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
رمضان میں سحری کے وقت سونے والوں کو جگانے کے لیے طبل اسی طرح ہے جیسے حمام کے لیے تو تابجایاجاتا ہے، غور کیجئے، واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 ( ۲؎ ردالمحتار         کتاب الحظر والاباحۃ         مصطفی البابی مصر        ۵ /۲۴۷)
Flag Counter