درء القبح عن درک وقت الصبح (۱۳۲۶ھ)
(صبح صادق کو سمجھنے میں کوتاہی کا ازالہ)
بسم اﷲالرحمٰن الرحیم
اﷲرب محمد صلی علیہ وسلما
مسئلہ ۲۶۳:از بازار لال کرتی کیمپ میرٹھ مرسلہ شیخ محمد احسان الحق حنفی قادری ۱۴رمضان ۱۳۲۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیانِ شرع متین اس باب میں کہ شریعت میں صبح صادق کاکوئی کلیہ قاعدہ ہےجس کے ذریعہ سے معلوم ہوجایا کرے کہ صبح صادق فلاں وقت ہوتی ہے، اور آنکھوں سے دیکھنے کی کچھ ضرورت نہ ر ہے یا کوئی حساب اور کلیہ قاعدہ نہیں ہے بلکہ آنکھوں سے دیکھنے ہی پر منحصر ہے، اگر قاعدہ کلیہ نہیں ہے تو مفتاح الصلٰوۃ میں جو بحوالہ خزانۃ الروایات لکھا ہے کہ رات کا ساتواں حصّہ فجر ہوتا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟بینو اتوجروا
الجواب
شریعتِ مطہرہ محمدیہ علیٰ صاحبہا افضل الصلٰوۃ والتحیۃ نے نماز روزہ حج و زکوٰۃ وعدّت وفات وطلاق ومدّتِ حمل وایلا وتاجیل عنین ومنتہائے حیض ونفاس وغیر ذٰلک امور کے لئے یہ اوقات مقرر فرمائے
یعنی طلوعِ صبح وشمس وغروب شمس ونصف النہار ومثلین وروز وماہ وسال ان سب کے ادراک کا مدار رؤیت و مشاہدہ پر ہے ان میں کوئی ایسا نہیں جو بغیر مشاہدہ مجرد کسی حساب یا قانون عقلی سے مدرک ہوجاتا ، ہاں رؤیت ومشاہدہ ان سب کے اداراک کا سبب کافی ہے اور یہی اس شریعت عامہ تامہ شاملہ کاملہ کے لائق شان تھا کہ تمام جہان کے لیے اتری ہے اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ دقائق محاسبات ہیئت وزیج کی تکلیف انہیں نہیں دی جاسکتی،
اناامۃ امیۃلا نکتب ولانحسب۱؎
(ہم اُمّی اُمت ہیں نہ لکھتے ہیں اور نہ حساب کرتے ہیں۔ت)
(۱؎سنن ابی داؤد کتاب الصیام آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۱۷)
فرماکر اپنے تمام غلاموں کے لیے ایک آسان اور واضح راستہ کھول دیا اور ان تمام اوقات کے لیے حکیم رحیم عزجلالہ نے دو کھلی نشانیاں مقرر فرمادیں چاند اور سورج جن کے اختلافِ احوال پر نظر کرکے خواص وعوام سب اوقات مطلوبہ شرعیہ کا ادراک کرسکیں،
کلوا واشربوا حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسودمن الفجر ثم اتمّو الصیام الی الیل۴؎،
جیسا کہ اﷲتعالیٰ نے فرمایااور ہم نے رات اوردن کو دو نشانیاں بنایا تورات کی نشانی مٹی ہوئی رکھی اور دن کی نشانیاں دکھانے والی کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور برسوں کی گنتی اور حساب جانو اور ہم نے ہر چیز خوب جُد اجُدا ظاہر فرمادی۔ اوراﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے: تم سے چاندکو پُوچھتے ہیں تم فرمادو وہ وقت کی علامتیں ہیں لوگوں اور حج کے لیے۔اور اﷲتعالیٰ کا یہ ارشاد:کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پوپھٹ کر، پھر رات آنے تک روزے پورے کرو۔
(۲؎القرآن ۱۷ /۱۲) ( ۳؎القرآن ۲ /۱۸۹) (۴؎ القرآن ۲ /۱۸۷)
وقال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم صوموالرؤیتہ وافطر والرؤیتہ۵؎۔
رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد اقدس ہے: تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑو۔(ت)
پھر ان میں بعض تو وہ ہیں جن کا مدار صرف رؤیت پر ہی رہا وہ ہلال کہ
ان اﷲامدہ لرؤیتـہ۱؎
(بیشک اﷲتعالیٰ نے چاند کا مدار رؤیت پر رکھا ہے۔ت)
( ۱؎ سنن الدارقطنی کتاب الصیام حدیث۲۶ نشر السنۃ ملتان ۲ /۱۶۲)
اس کے ظہور وخفاء کے وہ اسباب کثیرہ نامنضبط ہیں جن کے لیے آج تک کوئی قاعدہ تک کوئی قاعدہ منضبطہ نہ ہوسکا۔ ولہذا بطلیموس نے محبطی میں باآنکہ متحیرہ خمسہ وکواکب ثوابت کے ظہور و خفا کے لیے باب وضع کیے مگر رؤیت ہلال سے اصلاً بحث نہ کی، وہ جانتا تھا کہ یہ قابو کی چیز نہیں، اس کا میں کوئی ضابطہ کلیہ نہیں دے سکتا، بعد کے لوگوں نے اپنے تجارب کی بناء پر اگر چہ لحا ظ درجہ ارتفاع یا بعد سوا یا بعد معدل وقوس تعدیل الغروب وغیرذٰلک کچھ باتیں بیان کیں مگر وہ خود ان میں بشدت مختلف ہیں اور باوصف اختلاف کوئی اپنے قرار داد پر جازم بھی نہیں جیسا کہ و۱قفِ پر ظاہر ہے اسی لیے اہلِ ہیئت جدیدہ باآنکہ محض فضول باتوں میں نہایت تدقیق وتعمق کرتے ہیں اور سالانہ المنک میں ہرروز کے لیے قمر کے ایک ایک گنٹھہ کا میل و مطالع قمر اور ہر مہینہ میں آفتاب کے ساتھ اس کے جملہ انظار اجتماع واستقبال وتربیع ایمن وایسر کے وقت دیتے ہیں اور ہرہر تاریخ پر متحیرات وثوابت کے ساتھ اس کے قرانات بیان کرتے ہیں مگر رؤیت ہلال کا وقت نہیں دیتے وہ بھی سمجھے ہوئے ہیں کہ یہ ہمارے بوتے کانہیں ولہذا ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ اس بارہ میں قولِ اہلِ توقیت پر نظر نہ ہوگی،
درمختار میں وہانیہ سے ہے:
وقول اولی التوقیت لیس بموجب۲؎
(اہل توقیت کا قول سببِ وجوب نہیں نہیں سکتا۔ت)
(۲؎درمختار کتاب الصوم مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۸)
اور باقی وُہ ہیں کہ اگر چہ اُن کا اصل مدارِ رؤیت نہ ہوسکتا تھا مگر رؤیت ہی کے تکرر سے تجربہ نے اُن کے بارے میں ضوابط کلیہ دیئے جن کاادراک بے رؤیت نہ ہوسکتا تھا مگر بعد ادراک وُہ قاعدہ مقرر ہوکر وقت کو قوانین علم ہیأت وزیج کے ضابطہ میں لے آنا میسر ہُوا جس کے سبب ہم پیش از وقت حکم لگا سکتے ہیں کہ فلاں وقت مطلوب شرعی فلاں گھنٹے منٹ سیکنڈ پر واقع ہوگا۔ واقف فن کا وہ حکم لگایا ہُوا کبھی خطا نہ کرے گا کہ آخر مدار کار شمس وقمر کی چال پر ہے اور اُن کی چال عزیز علیم نے ایک حساب مضبوط پر منضبط فرمائی ہے۔
قال تعالٰی
الشمس والقمر بحسبان۳؎oوقال تعالٰی ذٰلک تقدیر العزیز العلیم۴؎۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: سورج اور چاند حساب سے ہیں۔ اور ارشاد ربانی ہے: یہ حکم ہے زبردست علم والے کا۔(ت)
(۳؎ القرآن ۵۵ /۵) (۴؎ القرآن ۳۶ /۳۸)
حسا ب تو قطعی تھاہی، جتنی بات کی طرف ا سے راہ نہ تھی وہ مکرر رؤیت نے براہِ تجربہ بتادی اور اب تجربہ وحساب دو قطعیوں سے مل کر حکمِ قطعی ہمارے ہاتھ آگیا مثلاً طلوع وغروب اگر نجومی مراد ہوتے یعنی مرکز شمس کا افق حقیقی پر طرفین شرق وغرب میں انطباق کہ ان کے جاننے کے لیے رؤیت کی کچھ حاجت نہ تھی، شہر کا عرض اور جزر شمس کا میل ہونا ہی اُن کا وقت بتانے کے لیے کافی ووافی ہوتا جس کے ذریعہ سے ہم ہر عرض کے لیے جداول تعدیل النہار تیار کرلیتے ہیں مگر شرع مطہر میں اس طلوع و غروب کا کچھ اعتبار نہیں، طلوع وغروب عرفی درکار ہے یعنی جانبِ شرق آفتاب کی کرن چمکنا یا جانبِ غرب کل قرص آفتاب نظر سے غائب ہوجانا اس میں بھی اگر صرف نصف قطر آفتاب کا قدم درمیان ہوتا تو دقّت نہ تھی ، مرکز عالم سے آفتاب کا ہر جز و مرکز شمسی پر بعد دریافت کرکے ہرروز کے نصف قطر کی مقدار دریافت کرسکتے تھے جس کی جدول المنک میں دی ہُوئی ہوتی ہے مگر بالائے زمین ۴۵ میل سے ۵۲ میل تک علی الاختلاف بخارات ہواءغلیظ کامحیط ہونا اور شعاع بصر کا پہلے اس ملاء غلیظ پھر اُس کے بعد ملاء صافی میں گزر کرافق میں پہنچنا حکیم عزوجل کے حکم سے اشعہ بصریہ کے لیے موجب انکسار ہوا جس کے سبب آفتاب یا کوئی کوکب قبل اس کے کہ جانب شرق افق حقیقی پر آئے نظر آنے لگتا ہے اور جانب غرب باآنکہ افق حقیقی پر اس کا کوئی کنارہ باقی نہیں رہتا، دیر تک ہمیں نظر آتا رہتا ہے، یہ انکسار ہی وُہ چیز ہے جس نے صد ہا موقتین کو پیچ وتاب میں رکھا اور طلوع وغروب کا حساب ٹھیک نہ ہونے دیاا ور یہی وُہ بھاری پیچ ہے جس سے آجکل عام جنتریوں والوں کےطلوع وغروب غلط ہوتے ہیں اس انکسار کی مقدارِ مدت دریافت کرنے کو عقل کے پاس کوئی قاعدہ نہ تھا جس سے وُہ محتاجِ رؤیت نہ رہتی، ہاں سالہا سال کے مکرر مشاہدہ نے ثابت کیا کہ اس کی مقدار اوسطاً ۳۳ دقیقہ فلکیہ ہے، اب ضابطہ ہمارے ہاتھ آگیا کہ ان ۳۳ دقیقوں سے اختلاف منظر کے ۹ ثانیہ منہا کرکے باقی پر اس کا نصف قطر شمس زائد کریں، یہ مقدار انحطاط شمس ہوگی یعنی طلوع یا غروب کے وقت آفتاب اُفق حقیقی کے اتنے دقیقے نیچے ہوگا، جب قدر انحطاط معلوم ہولی تو دائرہ ارتفاع کے اجزاء سے وقت و طالع معلوم کرنے کے قاعدوں نے جو علم ہیأت و زیج میں دئے ہوئے ہیں راہ پائی اور ہمیں حکم لگانا آسان ہوگیا کہ فلاں شہر میں فلاں دن اتنے گھنٹے منٹ سکنڈ پر آفتاب طلوع کرےگا اور اتنے پر غروب معمول سے زیادہ ہوا میں رطوبت یا کثافت اگر چہ انکسارمیں کچھ کمی بیشی لاتی ہے جس کا ادراک تھرمامیٹراوربیرو میٹر سے ممکن، اور وُہ قبل از وقوع نہیں ہوسکتا، مگر یہ تفاوت معتد بہ نہیں جس سے عام احکام مطلوبہ شرعیہ میں کوئی فرق پڑے یُونہی مثلین وسایہ کا ادراک بھی حساب سے بہت آسان تھا کہ عرض بلد و میل شمس سے اس کا غایۃ الارتفاع پھر جدول سے اتنے ارتفاع کا ظل اصلی معلوم کرکے اُس پر ایک یاد ومثل بڑھا کر اتنے ظل کے لیے ارتفاع اور اس ارتفاع کے لیے وقت معلوم کرلیتے مگر یہاں بھی اُسی انکسار کا قدم درمیان ہے کہ کوکب جب تک ٹھیک سمت الراس پر نہ ہو انکسار کے پنجے سے نہیں چُھوٹ سکتا مگر رؤیت نے انکسار افقی کلی بتایا اور تناسب سے انکسار ات جزئیہ مدرک ہُوئے جن کی جدول فقیر نے اپنے تحریراتِ ہندسہ میں دی ہے اس کے ملاحظہ سے پھر انہیں قوانین نے راہ پائی، اور ہر روز کے لیے وقت عصر پیش از وقوع ہمیں بتانا آسان ہوا، طلوع وغروب شفق کو توانکسار سے بھی علاقہ نہ تھا کہ اُس وقت آفتاب پیشِ نگاہ ہوتا ہی نہیں کہ بصر کی شعاعوں کا انکسار لیا جائے وہاں سرے سے عقل کو اس ادراک کی راہ نہ تھی کہ آفتاب افق سے کتنا نیچا ہوگا کہ صبح طلوع کرے گی یاکتنا نیچا جائے کہ شفق ڈوب جائے گی تو پھر رؤیت ہی کی احتیاج پڑی اور صدہاسال کے تکرر مشاہدہ نے ثابت کیا کہ آفتاب ان دونوں وقت تقریباً اٹھارہ درجے نیچے ہوتا ہے،یہ وُہ علم ہے جو اکثر ہیأت دانوں پر مخفی رہا، رجماًبا لغیب باتیں اڑا کئے، صبح کاذب کے وقت انحطاط شمس میں مختلف ہوئے، کسی نے سترہ درجہ کہا کسی نے اٹھارہ، کسی نے انیس ۱۹بتائے،اور مشہور اٹھارہ ہے، اور اسی پر شرح چغمنی نے مشی کی، اور صبح صادق کے لیے بعض نے پندرہ درجے بتائے ہیں۔ اسے علامہ برجندی نے حاشیہ چغمنی میں بلفظ قد قیل نقل کیا اور مقرر رکھا، اور اسی نے علامہ خلیل کاملی کو دھوکا دیاکہ دونوں صبحوں میں صرف تین درجہ کا فاصلہ بتایا جسے ردالمحتار میں نقل کیا اور معتمدرکھا، حالانکہ یہ سب ہو سات بے معنی ہیں، شرع مطہر نے اس باب میں کچھ ارشاد فرمایا ہی نہیں ، اس نے تو صبح کی صورتیں تعلیم فرمائی ہیں کہ صبح کاذب شرقاً غرباً مستطیل ہوتی ہے اور صبح صادق جنوباً شمالاًمستطیر، اورہم اُوپر کہہ آئے کہ مقدار انحطاط جاننے کی طرف کسی برہان عقلی کو راہ نہیں صرف مدار رؤیت پر ہے، اور رؤیت شاہد عدل ہے کہ صبح کاذب کے وقت ۱۷یا ۱۸یا ۱۹ درجے اور صادق کے وقت۱۵ درجے انحطاط ہونا اور صادق وکاذب میں صرف تین درجے کا تفاوت ہونا سب محض باطل ہے بلکہ ۱۸ درجہ انحطاط پر صبح صادق ہوجاتی ہے اور اس سے بہت درجے پہلے صبح کاذب، فقیر نے بچشم خود مشاہدہ کیاکہ محاسبات علمِ ہیأت سے آفتاب ہنوز ۳۳ در جے اُفق سے نیچا تھا اور صبح کاذب خوب روشن تھی، صبح صادق کے سالہا سال سے فقیر کا ذاتی تجربہ ہے کہ اس کی ابتداء کے وقت ہمیشہ ہر موسم میں آفتاب ۱۸ ہی درجہ زیر اُفق پایا ہے، اور صبح کاذب کے لیے جس سے کوئی حکم شرعی متعلق نہ تھا اب تک اہتمام کا موقع نہ ملا، ہاں اتنا اپنے مشاہدہ سے یقینا معلوم ہُوا کہ اس میں اور صبح صادق میں ۱۵ درجے سے بھی زائد فاصلہ ہے نہ کہ ۳درجہ ، لاجرم برہان شرح مواھب الرحمٰن پھر شرنبلالیہ علی الدرر پھر ابوالسعود علی الکنزوغیرہا میں ہے:
البیاض لا یذھب الا قریبا من ثلث اللیل۱؎۔
سفیدی، تہائی رات کے قریب ختم ہوجاتی ہے۔(ت)
(۱؎ تنبیہ ذوی الاحکام حاشیۃ درر الحکام کتاب الصّلٰوۃ احمد کامل دارسعادت بیروت ۱ /۵۱)