Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
140 - 198
دیکھئے استفاضہ اس کانام ہے کہ اُس شہر سے متعددجماعات آئیں اور سب یک زبان خبر دیں کہ وہاں رؤیت ہُوئی اور روزہ چاند دیکھ کر رکھا، بے تحقیق خبریں جن کی سندمعلوم نہیں اگر چہ تمام اہلِ شہر کی زبان پر ہوں،کان رکھنے کے قابل نہیں ہوتیں، نہ کہ اُن سے کسی حکمِ شرعی کا اثبات، انصاف کیجئے تو تار کی یہی حالت ہے شہر والے ہرگز یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ یہ اشاعت کن لوگوں کے ہاتھوں سے ہُوئی،تار کے فارم کس نے لکھے، تار بابُو کو فارم دینے کون گیا، وہاں کا تار بابو کون تھا، یہاں کون ہے چپراسی کہ دے گیا کون تھا تو وہی رہا کہ لایعلم من اشاعھا( اسے مشہور کرنے والے کا علم نہیں۔ت) اور استفاض لغوی کے ساتھ تحقق متحقق نہ ہُوا کہ استفاضہ شرعی ہوتا، اوریہیں سے ظاہر کہ انتظام زمانہ حال جس پر مولوی لکھنوی صاحب نے اعتماد و اتکال کیا یہاں کچھ بھی بکار آمد نہیں، انتظام اس کا ہے کہ تار جو دیاجائے اپنی تین مقررہ میعادوں پر بھیج دیا جائے گا اس میں فرق نہ آئے گا مکتوب الیہ ملا تو اسے پہنچا دیاجائے گا، آفس کی غلطی سے نہ پہنچا تو محصول اتنی مدّت تک واپس دیا جائے گا، یہ انتظام اصلاً نہیں کہ تار دینے جو آئے اس کی شناخت لی جائے کہ آیا وہی ہے یا دوسرا شخص غلط سلط اُس کےنام سے دیتا ہے، نہ اس کا انتظام ہے کہ فارم لکھنے والے نے کلام قائل کا صحیح ترجمہ کیا ہے یا اُس نے کچھ کہا اور یہ تار کے تنگ لفظوں میں اُسے ادانہ کرسکا، یا محصول کے بچاؤ کو مطلب ناقص  رہ گیا، نہ اسکا انتظام ہے کہ تار دینے، لینے، پہنچانے والے عادل، ثقہ، متقی ہونا درکنار، مسلمان ہی ہوں، پھر انتظام مذکور نے کیا کام دیا، باقی تفصیل فتاوائے فقیر میں ملاحظہ ہو اور ان تمام خرابیوں سے قطع نظر کیجئے تو قبول استفاضہ جس امر پر مبنی تھا یہاں عامہ بلاد میں سرے سے وہ مبنٰی ہی مفقود ہے، مبنٰی یہ تھا کہ استفاضہ سے اُس شہر میں روزہ ہونا بالیقین ثابت ہوگا اور شہر عادۃً حاکمِ شہرع سے خالی نہیں ہوتا اور روزہ وعید حکمِ حاکمِ اسلام ہی سے ہوا کرتے ہیں تو اس استفاضہ سے معلوم ہوگا اُس شہر میں حاکمِ شرع نے حکم دیا اور اس کا حکم حجتِ شرعیہ ہے لہذا مقبول ہوگا جیسے دوگواہ عادل گواہی دیں کہ ہمارے سامنے فلاں حاکمِ شرع کے یہاں شہادتیں گزریں اور اس نے حکم دیا۔
ردالمحتار میں ہے:
الاستفاضۃ لما کانت بمنزلۃ الخبر المتواتر وقد ثبت بھا ان اھل تلک البلدۃ صاموا یوم کذالزم العمل بھا لان البلدۃ لا تخلو عن حاکم شرعی عادہ فلا بد من ان یکون صومھم مبنیا علی حکم حاکمھم الشرعی فکانت تلک الاستفاضۃ بمعنی نقل الحکم المذکور۱؎۔
جب استفاضہ خبرِ متواتر کی طرح ہے اور اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ اس شہر کے لوگوں نے فلاں دن روزہ رکھا ہے تو اس پر عمل ہوگا کیونکہ عادۃً شہر حاکمِ شرعی سے خالی نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں لامحالہ ان کا روزہ ان کے حاکم شرعی کے فیصلے پر مبنی ہوگا تو اب استفاضہ بمعنی حکم مذکور کا نقل کرنا ہوگا۔(ت)
 (۱ ؎ ردالمحتار         کتاب الصوم     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۹۴)
یہاں عامہ بلاد میں نہ حاکم شرعی نہ لوگ پابندِ احکامِ شرعیہ، پھر استفاضہ ہُوا بھی تو کیا
وحسبنا اﷲ ولاحول ولا قوۃ الّا باﷲ۔
بست وہشتم مسئلہ اختلافِ مطالع کی تحقیق اعلیٰ وجہ انیق پر بحمد اﷲتعالیٰ بیان ہوچکی جس سے روشن کہ وہ اصلاًکبھی کسی ہلال میں معتبر ہونے کے قابل نہیں۔ مصطفی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا ایک ارشاد:
اناامۃ امیۃ لا نکتب ولانحسب، الشہر ھکذا وھکذا وھکذا۱؎الحدیث۔
ہم اُمّی امت ہیں نہ لکھتے ہیں او ر نہ حساب جانتے ہیں ہم ماہ کو یُوں یُوں شمار کرتے ہیں الحدیث (ت)
 (۱؎ سُنن ابی داؤد     کتاب الصّیام     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۳۱۷)
مطلقاً اس کے ابطال واہمال کوکافی ووافی، کہ اس کی بنا ہرمہینے میں انہیں حسابات غیر مضبوط پر ہے جن کو شرع مطہر یکسر ساقط النظر فرما چکی،مگر دربارہ ہلال اضحی علامہ شامی رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ کو براہِ بشریت ایک اشتباہ واقع ہُوا اور انہیں گمان گزرا یہاں اس کا اعتبارچاہئے وُہ خود بھی اسے مسئلہ مذہب نہیں بتاتے صرف اپنی ایک رائے کہتے اور تصریح فرماتے ہیں کہ یہ حکم میں نے کسی کتاب میں نہ دیکھا اور اس کی بناء دو۲ بلکہ ایک ہی امر پر کرتے ہیں اگر وُہ اپنے اس خیال کا منشا ظاہر نہ فرماتے تو شبہ رہتا کہ شاید یہاں کوئی دقیقہ ہومگر الحمد اﷲکہ ان کے بیان نے امر واضح کردیا اُن دونوں امر میں علامہ شامی  کی رائے سامی سے لغزش ہوئی ہے تو ان کے اتباع کی طرف ہرگز سبیل نہیں۔
امر اوّل یہ فرمایا کہ اختلاف مطالع صوم میں تو اس لیے نا معتبر ہُوا تھاکہ حدیث نے اُسے مطلق رؤیت سے متعلق فرمایا تھا جب کہیں چاند دیکھا گیا رؤیت ہوگئی بخلاف اضحیہ کہ اس کا ویسا تعلق وارد نہیں۔

امر دوم یہ کہ کلام علماسے کتاب الحج میں مفہوم ہوتا ہے دربارہ حج اختلاف مطالع معتبر ہے تو اگر بعد وقوف گواہ گزریں کہ آج دسویں تھی قبول نہ کی جائے گی۔
ردالحتار میں فرمایا:
لایعتبراختلافھا بل یجب العمل بالاسبق رؤیۃ وھو المعتمد عندنا و عند المالکیۃ والحنا بلۃ لتعلق الخطاب عاما بمطلق الرؤیۃفی حدیث صوموالرؤیتہ۲؎۔
اختلافِ مطالع کا اعتبار نہ ہوگا بلکہ پہلے چاند کی رؤیت پر عمل واجب ہوگا اور یہی ہمارے(احناف)، مالکیہ اور حنابلہ کے ہاں معتمد ہے کیونکہ حدیث پاک''صوموالرؤیتـہ"۔( چاند دیکھنے پر روزہ رکھو ) میں خطاب مطلق رؤیت کو شامل ہے۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار         مطلب فی اختلاف المطالع     داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۹۶)
تنبیہ:یفھم من کلامھم فی کتاب الحج ان اختلاف المطالع فیہ معتبر فلا یلزمھم شئی لوظھر انہ رؤی فی بلدۃ اخری قبلھم بیوم وھل یقال کذٰلک فی حق الاضحیۃ لغیر الحجاج لم ارہ والظاہر نعم لان اختلاف المطالع انما لم یعبتر فی الصوم لتعلقہ بمطلق الرؤیۃ وھذابخلاف الاضحیۃ فالظاھر انھا کا وقات الصلٰوۃ یلزم کل قوم العمل بما عندھم۱؎۔
تنبیہ: کتب الحج میں کلامِ علماء سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ حج میں اختلافِ مطالع کا اعتبار ہے کیونکہ اگر واضح ہوجائے کہ کسی دوسرے شہرمیں ایک دن پہلے چاند دیکھا گیا تھا تو اب حجاج پر کوئی شَے بھی لازم نہ ہوگی، اور کیا قربانی کے بارے میں غیر حجاج کے حق میں بھی یہی کہا جائے گا؟ اس بارے میں حکم میری نظر سے نہیں گزرا، ظاہر یہی ہے( کہ اختلافِ مطالع کا اعتبار ہوگا) کیونکہ صوم میں اختلافِ مطالع کا اعتبار اس لیے نہیں کہ حدیث مبارک میں روزہ کا تعلق مطلق رؤیت سے ہے بخلافِ قربانی کے کہ اس میں ظاہر یہی ہے کہ یہ اوقات نماز کی طرح ہے ہر قوم پر اپنے اوقات کے مطابق عمل لازم ہوگا۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار         مطلب فی اختلاف المطالع         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۹۶)
اقول دونوں صحیح نہیں، الحمد ﷲدربارہ اضحیہ بھی ویسی ہی حدیث وارد ہے جیسی صوم و افطار میں تھی شرع نے اُسے بھی مطلق رؤیت سے ویسا ہی متعلق فرمایاہے جیسا اُن دونوں کو سنن ابی داؤد شریف میں امیرِمکّہ حارث بن حاطب رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے ہے:
قال عھد الینا رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ان ننسک للرؤیۃ فان لم نرہ وشھد شاھدا عدل نسکنا بشھادتھما۲؎۔
ہمیں رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے وصیّت فرمائی کہ رؤیت پر قربانی کریں پھر اگر ہمیں رؤیت نہ ہو اور دو۲ گواہ عادل گواہی دیں تو ان کی گواہی سے قربانی کرلیں۔
 (۲؎ سنن ابی ابوداؤد     کتاب الصیام         آفتاب عالم پریس لاہور         ۱ /۳۱۹)
امام دار قطنی نے فرمایا:
ھذا اسناد متصل صحیح۳؎
 ( اس کی سند متصل اور صحیح ہے۔ت)۔
 (۳؎دار قطنی         باب الشہادت علی رؤیتـہ الہلال حدیث نمبر۱ نشر السنۃ ملتان         ۲ /۱۶۷)
اور حج میں ردِ شہادت نہ بر بنائے اعتبار اختلاف ہے ورنہ مہینہ بھر سے فاصلہ کی رؤیت گواہ بیان کریں تو مقبول ہو، حالانکہ علماء مطلقاًرد فرماتے ہیں بلکہ  اس کی وجہ دفع حرج ہے جیسا کہ لباب و شرح لباب میں تصریح ہے یعنی ہزار ہا کوس کے فاصلوں سے تمام اقطارواطرافِ زمین سے لاکھوں بندہ خدا حج کے لیے حاضر ہوئے اب کہ وقت گزرگیا گواہ گواہی دینے آئے کہ تم نےدسویں کو وقوفِ عرفہ کیا تمہا را حج نہ ہوا، کتنا بڑا حرج عظیم ہے، لاکھوں بندوں کے کروڑوں روپے کا خرچ اور جانوں کی مشقتیں سب برباد گئیں، اب یا تو سال بھر اور یہ تمام لشکر ہائے عظیم الشان مکہ معظمہ میں پڑے رہیں کہ نہ انہیں روٹی نصیب ہونہ اہل مکہ کے لیے دانہ بچے یا حکم دیا جائے کہ سب اپنے وطنوں کو واپس جاکر ویسے ہی کروڑوں کے خرچ اور جانوں کی مشقت سے پھر سال آئندہ حاضر ہوں ان دونوں آفتوں سے اُن دونوں گواہوں کی تغلیط آسان تر ہے۔
وقد قال اﷲتعالٰی
ما جعل علیکم فی الدین من حرج۱؎۔
اﷲتعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے: اﷲنے تم پر دین میں تنگی نہیں فرمائی۔(ت)
 ( ۱؎ القرآن     ۲۲ /۷۸)
ولہٰذا و ہی علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اگر وقت ہنوز باقی اور تدراک ممکن ہے گواہی مقبول ہوگی پھر اعتبار اختلافِ مطالع کدھر رہا۔ درمختار میں ہے:
شھدوابعد الوقوف، بوقوفھم بعد وقتہ لا تقبل شھادتھم والوقوف صحیح استحسانا حتی الشھود للحرج الشدید وقبلہ ای قبل وقتہ قبلت ان امکن التدارک لیلامع اکثرھم والالا۲؎۔
اگر وقوفِ عرفات کے بعد گواہوں نے گواہی دی کہ حاجیوں کا وقوف وقت کے بعد ہوا ہے تو گواہی مقبول نہ ہوگی اور استحساناً حاجیوں کا وقوف صحیح ہوگا ورنہ حرج شدید لازم آئے گا،اور اگر گواہوں نے گواہی وقوف سے پہلے دی تو گواہی مقبول ہوگی بشرطیکہ رات کو اکثر لوگوں کے ساتھ تدارک ہوسکے ورنہ نہیں (ت)
 (۲؎درمختار         باب الہدی         مجتبائی دہلی     ۱ /۱۸۳)
خود اسی ردالمحتار میں ہے:
لو شھد وابعد الوقوف قبل وقتہ قبلت شھادتھم بخلاف الشہادۃ بانھم وقفوابعد یومہ فان التدارک غیرممکن اصلا فلذا لم تقبل۳؎(ملخصاً)
اگر وقوف کے بعد گواہوں نے یہ گواہی دی کہ وقوف وقت سے پہلے ہُوا ہے تو گواہی مقبول ہوگی بخلاف اس صورت کے جب یہ گواہی ہوکہ وقوف یوم عرفہ کے بعد ہوا کیونکہ اس صورت میں تدارک ممکن نہیں اس لیے گواہی مقبول نہ ہوگی(ت)
 (۳؎ردالمحتار         باب الہدی        داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۲-۲۵۱)
ان تصریحات کے بعداُس سے اعتبار اختلاف مطالع کی طرف خیال جانا محض شانِ بشریت ہے۔
کذٰلک یریکم اﷲ اٰیتہ فی الافاق وفی انفسکم لعلکم تذکرون۔
اسی طرح اﷲتعالیٰ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے آفاق میں او ر خود تمہارے اندر تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔(ت)
بست ونہم چالیس۴۰ روپے کو نصاب قرار دینے میں بھی شاید مولوی صاحب نے مولوی عبد الحی صاحب لکھنو ی کا اتباع کیا ہے ،مگر وہ صحیح نہیں، صحیح چھپن ۵۶ روپے ہے جیسا کہ جواہر اخلاطی سے ثابت ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اُسے مفصل ذکر کیا۔
سیم تاریخ ۲۱، ۲۳، ۲۵،۲۹کو شب قدر بالاختلاف اور ۲۷ رمضان کو شب قدر بالاتفاق فرمانے میں شاید اتفاق سے مراد قولِ جمہور ہو اگر چہ بالاختلاف سے اس کا مقابلہ سخت موہم خلاف ہے ورنہ لازم آئے گا کہ اُن تاریخوں میںشب قدر ماننے والوں کے نزدیک ایک رمضان میں دو دو شب قدر ہوں، ایک ان کے قول خاص کے مطابق اور دوسری ۲۷ کو قولِ متفق علیہ کے موافق۔ یونہی اس اشتہار میں اغلاط بکثرت ہیں مگر بعد ایام مبارک، اگر انصاف و ہدایت مطلوب ہو تیس ۳۰رد کیا کم ہیں،
واﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
Flag Counter