Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
139 - 198
بست وششم : آیتِ سجدہ کہ نماز میں تلاوت کی جائے سجدہ فوراً واجب ہے، اگرتین آیت کی تاخیر کی گنہ گار ہوگا، پھر اگر عمداً سجدہ نہ کیا نہ معاًرکوع کیا کہ سجدہ  تلاوت رکوع سے ادا ہوجاتاتو اس کی اصلاح سجدہ سہو سے نہیں ہوسکتی کہ وُہ سجدہ سہو ہے کہ نہ سجدہ عمد، اور اگر سجدہ تلاوت کرنا بھُول گیا اور حُرمتِ نماز سے باہر نکل گیا تو اب بھی سجدہ سہونہیں ہوسکتا کہ حرمت سے خروج جیسا کہ مانع سجدہ تلاوت ہے یوں ہی مانع سجدہ سہو، ہاں اگر حرمت نماز میں باقی ہے کلام نہ کیا اُٹھ کر چلانہ گیا اور یاد آیا تو سجدہ تلاوت نماز میں کیا مگر سہواً بتاخیر مثلاً دوسری رکعت میں یاد آیا کہ سجدہ تلاوت چاہئے تھا اور اب ادا کیا جب بھی سجدہ سہو کا حکم ہے اگر چہ سجدہ تلاوت نماز میں ادا ہو گیا،
درمختار میں ہے:
ھی علی التراخی ان لم تکن صلویۃ فعلی الفور لصیر ورتھا جزأ منھا ویاثم بتا خیرھا ویقضیھا مادامہ فی حرمۃ الصّلٰوۃ ولوبعد السلام، فتح۲؎۔
سجدہ تلاوت لازم ہوتا ہے تراخی کے طور بشرطیکہ سجدہ مذکورہ نماز میں لازم نہ ہوا کیونکہ اگر نماز میں لازم ہوا تو فی الفور نماز کے اندر کرنا ہی ضروری ہے کیونکہ اب وہ نماز کی جُز بن گیا ہے لہذااس کی تاخیر سے گنہ گار ہوگا اور اس کی قضا بجالاسکتا ہے جب تک وُہ حرمتِ نماز کے اندر ہے اگر چہ سلام کے بعد ہو، فتح۔(ت)
 (۲؎ درمختار    باب سجود التلاوۃ     مجتبائی دہلی    ۱ /۱۰۵)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ ولو بعد السلام ای ناسیا مادام فی المسجد۳؎۔
قولہ سلام کے بعد الخ یعنی بُھول جانے والا شخص جب تک مسجد میں ہے سجدہ ادا کر سکتا ہے(ت)
 (۳؎ درالمحتار     باب سجود التلاوۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۵۱۸)
اسی میں ہے :
لو اخرالتلاویۃ عن موضعھا فان علیہ سجود السھو کما فی الخلاصۃ جازما، بانہ لااعتماد علی مایخالفہ وصححہ فی الولوالجیۃ۱؎۔
اگر نماز میں سجدہ تلاوت مؤخر کر دیا تو اس کی وجہ سے سجدہ سہو آئے گا جیساکہ خلاصہ میں بطورجزم بیان ہے یعنی اس کے مخالف قول پر اعتماد نہیں کیا جائیگا، ولوالجیہ نے بھی اس قول کی تصحیح کی ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     باب سجودالسہو        داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱/۴۹۷)
ایضاً درمختار میں ہے:
سجود السہو یجب بترک واجب سہو افلا سجود فی العمود قیل الافی اربع۲؎۔
بھول کر ترکِ واجب میں سجدہ سہو ہوتا ہے لہذا قصداً ترک میں سجدہ سہو نہیں ہوگا، بعض کی رائے میں صرف چار مقامات پر عمداً ترکِ واجب میں سجدہ سہو لازم ہوجاتا ہے(ت)
 (۲؎ درمختار     باب سجودالسہو      مجتبائی دہلی             ۱/۱۰۲)
ردالمحتارمیں ہے:
اشار الی ضعفہ تبعالنور الایضاح لمخالفتہ للمشھور وقد ردہ العلامۃ قاسم بانہ لایعلم لہ اصل فی الروایۃ ولاوجہ فی الدرایۃ۳؎۔
نورالایضاح کی اتباع کرتے ہُوئے انہوں نے اس کے ضعیف ہونے پر اشارہ کیا ہے کیونکہ یہ قول مشہور کے خلاف ہے، اور علّامہ قاسم نے اس کی یُوں تردید کی ہے کہ اس قول کی روایت میں کوئی اصل معلوم نہیں اور نہ ہی اس پر کوئی عقل دلیل موجود ہے(ت)
 (۳؎ردالمحتار     باب سجودالسہو        داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۴۹۷)
بست وہفتم دربارہ ہلال تار کی گواہی شرعاً محض باطل ونامعتبر
وحققناہ فی فتاوٰنا بمالامزید علیہ
 (ہم نے اس کی اپنے فتاوٰی میں خوب تفصیل بیان کی ہے جس پر اضافہ دشوار ۔ت) نامعتبر شرعی کا درجہ اعتبار کو پہنچا کیونکر، یہاں بھی مولوی صاحب نے مولوی عبدا لحی صاحب لکھنوی کا اتباع کیا ہے مولوی صاحب لکھنوی نے باآنکہ جابجا خود بے اعتبارِ تار کی تصریح کی، جلد اول ص۵۲۳ اس باب(یعنی رؤیت ہلال) میں صرف خبر، تار یا تحریر خطی کافی نہیں جب تک کہ بطور کتاب
القاضی الی القاضی
 ( قاضی کا دوسرے قاضی کی طرف لکھنا۔ت) کی تحریر نہ پہنچے،
قاعدہ الخط یشبہ الخط
 ( تحریر دوسری تحریر کے مشابہ ہوتی ہے۔ت) کا مشہور ہے۴؎۔
 (۴؎مجموعہ فتاوٰی کتاب الصوم         مطبع یوسفی لکھنؤ        ۱ /۲۷۲)
ایضاً صفحہ ۵۴۰ بحسبِ ضوابط فقیہ مجرد اخبارات تار وغیرہ  در باب حکم صوم وافطار معتبر نہیں۱؎۔
 (۱؎ مجموعہ فتاوٰی         کتاب الصوم     مطبع یوسفی لکھنؤ    ۱ /۲۷۳)
صفحہ۱۰۶ پر  یہ لکھا:
واقعی درباب رؤیتِ ہلال شہرتِ اخبار معتبر ست اگراز شہرے خبرے رسیدہ کہ بہ شب گزشتہ درآنجا رؤیت شدہ یا بوساطت تار برقی دریافت ایں امر شدہ تا وقتیکہ شہرت آں نہ شود از تحریرات کثیرہ واخبار عدیدہ معلوم نہ شود اعتبار آں نباید ساخت۲؎ ۔
رؤیتِ ہلال کے بارے میں خبروں کی شہرت معتبر ہے ، اگر کسی شہر سے یہ خبر آئے کہ گزشتہ رات اس جگہ چاند دیکھا گیا ہے یا تار کے ذریعے یہ خبر معلوم ہوتو جب تک کثیر تحریروں اور متعدد خبروں کے ذریعے یہ خبر شہرت حاصل نہ کرے اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔(ت)
 (۲؎ مجموعہ فتاوٰی         کتاب الصوم     مطبع یوسفی لکھنؤ       ۱ /۲۶۴)
اس کی شہرت ہوجانے سے یہ تو مرادنہیں ہوسکتی کہ جب اس شہر میں خبر مشہور ہوگئی کہ فلاں جگہ سے تار آیا ہے تو اب وہی تار جس کی خبر شرعاً ناکافی اور بحسبِ ضوابط فقیہ نا معتبر تھی معتبر ہوجائیگا اسے تو کوئی عاقل گمان نہ کرے گا ورنہ کسی فاسق،فاجر، شراب خور، زنا کار کی خبر شہر میں اُڑ جائے کہ وُہ اپنا چاند دیکھنا بیان کرتا ہے تو چاہئے کہ معتبرہوجائے، حالانکہ تار اُس سے بھی زیادہ بے اعتبار، کہ فاسق اہلِ شہادت ہے ولہذا اگر حاکمِ شرع اس کی شہادت قبول کرلے حکم صحیح ہوجائے گا اگر چہ حاکم آثم ہو
نص علیہ فی الفتح والبحر ودروغیرہ من الاسفار الغر
 ( فتح، بحر، در وغیرہ دیگر مشہورکتب میں اس پر تصریح ہے۔ت)اور تار اصلاً اہلبیت شہادت نہیں رکھتا، ہاں شایدیہ مراد ہوکہ جب اُس شہر سے متعدد تار آئیں تو اعتبارکیا جائے گا اوریہ اُ س استفاضہ و شہرت میں داخل ہوگا جسے فقہائے کرام نے دربارہ رؤیت  ہلال معتبر رکھا ہے مگر خیال نہ کیا کہ یہ تعدد ہوگا تو مروی عنہ میں نہ راوی میں کہ یہاں بھی تار بابو اُن سب تاروں کا ناقل ہوگا حالانکہ اُن میں اکثر کفار ہوتے ہیں تو یہ استفاضہ مخترعہ اُس سے بھی بدتر ہوگا کہ ایک فاسق فاجر سرباز پکارتا پھر ےکہ فلاں شہر میں لاکھ آدمیوں نے چاند دیکھا ہے کیا اسے استفاضہ کہیں گے حاشاوکلّا، اور جہاں تار گھر متعدد بھی ہوں اور فرض کریں کہ ہر آفس میں اُس شہر سے خبر آئی تو کیا چند کافر یا فاسق یا مجہول آکر کہہ دیں کہ فلاں جگہ کے فلاں فلاں سُکّان نے ہم سے اپنا چاند دیکھنا بیان کیا تو یہ حکایت محضہ تاحدِ استفاضہ پہنچے گی، استغفر اﷲ تار والا تو بے چارہ اتنی بات کابھی گواہ نہیں اُس نے تو تار میں ایک حرکت پائی اور اس سے کچھ حروف مصطلحہ سمجھے جو نہایت جلدی میں کمال بے جزمی کے ساتھ ایک کاغذ پر لے کر چپراسی کے حوالے کئے، حرکت دینے والے بھی خود رؤیت ہلال والے نہ تھے وُہ وہاں کے بنگالی بابُو یا ہندو یا نصارٰی وغیرہم تھے، اُن کے پاس چاند دیکھنے والے خود نہ آئے، ایک پرچے پر لکھ کر یا خود انگریزی نہ جانی تو کسی ہندو وغیرہ کفار سے انگریزی کر اکر کسی نوکر چاکر یا راہ چلتے کے ہاتھ تار آفس میں بھیج دی وہ وہاں کا بابو یہاں بھیج دے گا اس کی بلا کو بھی غرض نہیں کہ جس کے نام سے تار جاتا ہے خود وُہ بھیجتا بھی ہے یا کسی نے محض جُھوٹ اس کی طرف سے تار دلوایا ہے ایسے نفیس سلسلے کی خبر اگر شرع معتبر کرے تو قیامت ہے، یہ توتار کے مہملات ہیں، زبانوں کی کہی ہُوئی خود ہمارے آگے مسلمانوں کی ادا کی ہُوئی ہزار افواہ بازار ہرگز استفاضہ شر عیہ نہیں جب تک پایہ ثبوت و تحقیق کو نہ پہنچیں پھر متعددتاروں سے سوا اس کے کہ گورنمنٹ کے خزانے میں چند روپے داخل ہوگئے، اور کیا نتیجہ! یہاں جو استفاضہ شرع نے معتبر فرمایا اس کے معنی معلوم کیجئے، ردالمحتار میں ہے :
قال الرحمتی معنی الاستفاضۃ ان تاتی من تلک البلدۃ جماعات متعددون کل منھم یخبر عن اھل تلک البلدۃ انھم صاموا من رؤیۃ لامجرد الشیوع من غیرعلم بمن اشاعہ کماقد تشیع اخبار یتحدث بھا سائر اھل البلدۃ ولایعلم من اشاعھا فمثل ھذا لاینبغی ان یسمع فضلا من ان یثبت بہ حکم اھ قلت وھو کلام حسن ویشیرالیہ قول الذخیرۃ اذااستفاض وتحقق فان التحقق لا یوجد بمجرد الشیوع۱؎۔
شیخ رحمتی کہتےہیں کہ استفاضہ کا معنی یہ ہے کہ اس شہر سے متعدد جماعتیں آئیں اور ہر کوئی یہ اطلاع دے کہ انہوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے محض ایسی افواہ سے نہیں کہ جس کے پھیلانے والا معلوم نہ ہو جیسا کہ بہت سے باتیں شہروں میں پھیل جاتی ہیں اور ان کے پھیلانے والا معلوم نہیں ہوتا، تو ایسی بات سُننا مناسب نہیں چہ جائیکہ اس سے کوئی حکمِ شرعی ثابت کیا جائے اھ قلت یہ کلام بہت ہی خوب ہے، ذخیرہ کے ان الفاظ میں بھی یہی بات ہے کہ جب مشہور و متحقق ہوجائے تب لازم ہوگا کیونکہ ثبوت وتحقق محض افواہ سے نہیں ہوگا۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الصوم     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ ۲/۹)
Flag Counter