Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
138 - 198
خود مولوی لکھنوی صاحب نے لکھا:
مفتی بہ ومختار متحققین آنست کہ تراویح سنّت علٰیحدہ است و ختمِ سنّت علٰیحدہ ہیچ ازیں ہردو تابع دیگر نیست پس بعد ختم سنیت تراویح باقی خواہد ماند چنانکہ بود۱؎۔
مفتی بہ اور مختار محققین کے ہاں یہ ہے کہ تراویح الگ سنّت اور ختمِ قرآن الگ سنّت ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے تابع نہیں لہذا قرآن کے بعد سنیتِ تراویح اسی طرح قائم رہے گی جیسے کہ پہلے تھی۔(ت)
 (۱ ؎ مجموعہ فتاوٰی         کتاب الصّلٰوۃ     مطبع یوسفی لکھنؤ    ۱ /۱۳۴)
باوصف اس جاننے کے پھر مفتٰی بہ سے عدول ہرگز  روا نہ تھا اور اس بچنے کے لئے مولوی لکھنوی صاحب کی یہ توجیہ کہ:

قول مفتی بہ پرـ
اگر چہ تراویح از ذمہ مقتدیاں ساقط خواہد شد چہ درسنت تراویح امام ومقتدی ہر دو برابر اندلیکن در سقوط ختم اشکالیست چہ فقہا در باب اقتداء ضعف نماز امام را اگر چہ بہ یک رکن باشد مانع اقتداء می نویسند چنانچہ در درمختار وغیرہ مذکورست امااقتداء المسافر بالمقیم فیصح فی الوقت  و یتم لا بعدہ فیما یتغیر لانہ اقتداء المفترض بالمتنفل فی حق القعدۃ لواقتداء فی الاولیین اوالقراءۃ لو اقتداء فی الاٰخریین۲؎۔ انتہی
قول مفتی بہ پر اگر چہ تراویح مقتدیوں کے ذمّہ سے ساقط ہوجائیں گی کیونکہ سنت تراویح میں امام اور مقتدی دونوں برابر ہیں لیکن ختم کے سقوط میں اختلاف ہے کیونکہ فقہااقتداء کے باب میں نماز امام کے ضعف کو اگر چہ وُہ ایک رکن میں ہومانع اقتداء قرار دیتے ہیں جیسا کہ درمختاروغیرہ میں ہے ، مسافر کی اقتداء مقیم کے ساتھ وقتی نماز میں صحیح ہے اور وہ ادا بھی چار رکعت کرے لیکن بعد میں تبدیلی آجاتی ہے لہذا اقتدادرست نہیں ہوگی کیونکہ اب اگر پہلی دورکعات میں اقتداکرے گا تو قعدہ کے اعتبار سے فرض ادا کرنے والے کی متنفل کی اقتدا لازم آئے گی اور اگر آخری دورکعات میں اقتداء کرے تو قرأت کے اعتبار سے یہی خرابی لازم آئیگی انتھٰی،
 ( ۲؎ مجموعہ فتاوٰی    کتاب الصّلٰوۃ     مطبع یوسفی لکھنؤ         ۱ /۱۳۵)
دریں صورت باوجود یکہ امام ومقتدی ہر دو تحریمہ  فرض بستہ ، سبب ضعف یک جز از اجزاء نمازامام حکم بفساد اقتداء دادہ شد پس بناء ً علیہ درصورت سوال ہم حکم بعدم سقوط ختم از مقتدیان دادہ خواہد شدوہمیں امراز عبارت سغناقی 

 مفہوم شود ہر گاہ درباب سقوط ختم وعدم سقوط آں اختلافے واقع شد پس امام را لازم کہ ختم ثانی رامع تراویح برخودنذر کردہ گیر دوگوید ﷲان اختم القراٰن فی صلٰوۃ التراویح تاختم او واجب شود واقتدائے مقتدیان درست شود چنانچہ درخزانۃ الروایۃ تفصیل آں مذکور ست واﷲاعلم حررہ محمد عبدالحی عفا عنہ۱؎۔
حالانکہ اس صورت میں امام اور مقتدی دونوۤں نے فرض کی تکبیر تحریمہ کہی لیکن نمازِ امام کے ایک جُز کے ضعف کی وجہ سے فسادِ اقتداء کا حکم جاری ہوگیا۔اس پر بناء کرتے ہوئے سوال مذکور کے جواب میں یہی حکم ہوگا کہ مقتدیوں کے ذمّہ سے ختم قرآن ساقط نہیں ہوگا، اور عبارت سغناقی سے یہی بات مفہوم ہورہی ہے لہذا جہاں بھی سقوط وعدم سقوط ختم میں اختلاف ہوجائے وہاں امام کے لیے ضروری ہےکہ وہ تراویح میں دوسرے ختم کی نذر مانتے ہوئے کہے کہ مجھ پر اﷲکی رضا کی خاطر نماز تراویح میں ختمِ قرآن لازم تاکہ اس پر ختم قرآن واجب ہوجائے اور مقتدیوں کی اقتداء بھی درست ہوجائے، جیسا کہ خزانۃ الروایۃ میں اس کی تفصیل ہے واﷲ اعلم المحرر محمد عبد الحی عفاعنہ(ت)
 (۱؎مجموعہ فتاوی     درینکہ بعدیک ختم قرآن آیا سنت تراویح الخ     مطبع یوسفی لکھنؤ    ۱ /۵۲-۲۵۱)
انصافاً شطرنج میں اضافہ بغلہ سے بہتر اوّلاً سُنن و نوافل میں اضعفیت مانع صحتِ بنا، نہیں ہوسکتی ورنہ جس طرح عاری کے پیچھے لابس کی نماز نہیں ہوسکتی یونہی کلاہ پوش کے پیچھے عمامہ بند کی نماز نہ ہوسکے کہ وُہ سنیت میں مقتدیوں سے اضعف ہے۔

ثانیاً یہ مان کر کہ مقتدیوں کے ذمّہ سے تراویح ساقط ہوجائیگی پھر یہ فرمانا کہ امام پر نذر ماننا لازم کہ اقتدائے مقتدیان درست ہو صریح تناقض ہے۔
ثالثاً عبارت سغناقی کا ہرگز یہ مفاد نہیں کہ باوصف صحت تراویح صرف اس بنا پر کہ امام ایک بار ختم کرچکا ہے مقتدیوں کے ذمّہ سے ختم ساقط نہ ہوگا بلکہ اس کا مبنٰی صراحۃً وہی تھا کہ تراویح ختم کے لیے تھیں جب ختم ہوچکا تراویح بھی ختم ہوگئیں تو امام نفل محض پڑھ رہا ہے اور متنفل کے پیچھے تراویح ادا نہیں ہوتیں،ولہذا تصریح کی کہ ثوابِ نفل پائیں گے ثوابِ تراویح نہ پائیں گے ، یہ مفاد اُس مفاد کے صریح مضاد ہے نہ کہ باہم اتحاد۔
رابعاً شروع سے معلوم ہے کہ  جماعت نفل بہ تداعی مشروع نہیں اور تراویح باجماعت وارد ہوئیں تو وجہ متوارث ماثور پر مقتصر ہوں گی اور وۤہ یونہی ہے کہ امام مقتدی سب نیتِ تراویح کرتے یہاں اضعف واقوٰی کو دخل نہیں، ولہذا اوپر تصحیح گزری کہ تراویح جس طرح متنفل کے پیچھے ساقط نہ ہونگی یُونہی مفترض کے پیچھے بھی ادا نہ ہوں گی حالانکہ مفترض یقینا اعظم قوت پر ہے توجب تک دلیل صریح سے ثبوت نہ دیاجائے کہ امام کا ایک بار ختم کئے ہوئے ہونا بھی ماثور ومتوارث کے خلاف ہے اس پر اس کا قیاس محض بے معنی ہے بالجملہ متنفل کے پیچھے تراویح نہ ہونا تو ضرور  منقول بلکہ اس پر فتوائے فحول، اور ایک بار ختم قرآن پڑھ لینے کے باعث حافظ کا امامت دیگراں سے معزول ہوناکہیں منقول نہیں اور آپ کی اپنی رائے سے بے نقل صحیح حجت و مقبول نہیں۔
خامساً بلکہ امر بالعکس ہے خود اسی خزانۃ الروایات میں کنز الفتاوٰی سے منقول:
رجل ام قوما فی التراویح وختم فیھا ثم ام قوم اخرین لہ ثواب الفضیلۃ ولھم ثواب الختم۱؎۔
کسی نے تراویح میں امامت کرتے ہوئے قرآن ختم کیا پھر دوسرے لوگوں کی امامت کی تواب امام کے لیے ثوابِ فضیلت اور لوگوں کے لیے ختم کا ثواب ہوگا(ت)
(۱؎ خزانۃ الروایات)
یہ صریح جزئیہ ہے اور آپ کے خیال کا صاف رَد اور قاضی گجراتی کا ارشاد کہ ھذا الکتاب غیر مشہور  بین العلماء فلا وثوق بہ( یہ کتاب علماء کے درمیان مشہور نہیں لہذا اس پر اعتماد نہیں کیاجاسکتا ہے۔ت)مسلم نہیں، صاحبِ کنز الفتاوٰی امام احمد بن محمد بن ابی بکر حنفی مصنف مجمع الفتاوٰی وخزانۃ الفتاوٰی ہیں کشف الظنون میں انہیں بلفظ شیخ و امام وصف کیا:
حیث قال کنزالفتاوی  للشیخ الامام احمد بن محمد صاحب مجمع الفتاوی الحنفی۲؎ ۔
ان کے الفاظ یہ ہیں کنز الفتاوٰی، شیخ امام احمد بن محمد حنفی صاحب مجمع الفتاوٰی کی کتاب ہے(ت)
 (۲؎کشف الظنون     باب الکاف     منشورات مکتبۃ المثنی بغداد         ۲ /۱۵۱۸)
سادساً ہم عنقریب واضح کرتے ہیں کہ نذر سے بھی عقدہ کشائی نہ ہوگی امثال فاضل لکھنوی سے قال ابو حنیفۃ والحق کذا(امام ابو حنیفہ نے اسی طرح فرمایا ہے مگر حق یہ ہے۔ت) فرمانے والے ہیں، مصنف خزانۃ الروایۃ ایک متاخر ہندی قاضی جگن گجراتی کی ایسی تقلید سخت عجیب و بعید
ولکن اﷲیفعل ما یرید والحمد ﷲعلی اراء ۃ السبیل السدید واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی۔
اﷲاپنے ارادے کے مطابق کرتا ہے اور صحیح رہنما ئی فرمانے پر اﷲتعالیٰ ہی کی حمد وثنا ہے اور اﷲتعالیٰ بہتر جانتا ہے جس کی ذات نہایت ہی مقدس وبالا ہے(ت)
بست وسوم اگر وہ مسئلہ وتعلیل قبول کرليے جائیں تو حافظ مذکور اگر نذر بھی مان لے کہ میں تراویح مع جماعت وختم قرآن ادا کروں گا تو اب بھی کار بر آری مسلم نہیں کہ مقتدیوں پر وجوب اصلی تھا اور نذر کا وجوب عارضی ہے اور وہ وجوب اصلی سے، اضعف ہے، توا ضعف پر اقوٰی کی بناء صحیح نہیں۔
فتح اﷲالمعین پھر طحطاوی پھر ردالمحتار میں ہے: بناء القوی علی الضعیف انما یمنع اذا کانت القوۃ ذاتیۃ فلو عرضت بالنذر کما ھنا فلاومن ھنا قال فی شرح المنیۃ النذر کالنفل۱؎ ۔
قوی کی بناء ضعیف پر تب منع ہے جب قوت ذاتی ہو، اگر نذر کی وجہ سے عارضی ہو جیسا کہ یہاں ہے تو پھر مانع نہیں۔ اسی مقام پر شرح منیہ میں ہے کہ نذر نفل کی طرح ہوتی ہے(ت)
 (۱؎ ردالمحتار         باب الوتر والنوافل     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۴۷۶)

(طحطاوی علی الدرالمحتار    باب الوتر والنوافل    دارالمعرفۃ بیروت         ۱ /۲۹۷)
اور ضعیف بھی مانئے تو سبب وجوب مختلف ہیں جب بھی بناء صحیح نہ ہوئی جیسے ناذر ناذر کی اقتداء نہیں کرسکتا بلکہ ناذر مفترض کی اقتداء نہیں کرسکتا حالانکہ فرض اقوٰی ہے تو سبب وہی کہ سبب جُدا ہے۔
درمختار میں ہے:
لایصح اقتداء ناذر بمفترض ولا بناذر لان کلّا منھما کمفترض فرضا اٰخر الااذانذر احد ھما عین منذور الاخر للاتحاد۲؎ اھ۔
نذر ماننے والے کے ليے فرض ادا کرنے والے اور نذر ادا کرنے والے کی اقتداء صحیح نہیں کیونکہ یہ دونوں الگ الگ فرائض ادا کررہے ہیں البتہ اس صورت میں جائز ہوگی جب دونوں کی نذر ایک ہو کیونکہ اس صورت میں اتحاد حاصل ہوگا اھ(ت)
 (۲؎درمختار     باب الامامۃ         مجتبائی دہلی      ۱ /۸۴)
مولوی صاحب نے یہاں بھی فاضل لکھنوی کااتباع کیا اور فاضل لکھنوی نے حسب حوالہ خود قاضی جگن ہندی کا،
والحق احق ان یتبع
 (جبکہ حق ہی اتباع کے لائق تر ہے۔ت)
بست و چہارم تحقیق یہ ہے کہ جس نے فرض جماعت سے پڑھے اور تراویح تنہا وہ تو جماعتِ وتر میں شریک ہوسکتا ہے، اور جس نے فرض تنہاپڑھے ہوں اگر چہ تراویح جماعت سے پڑھی ہوں وہ وتر کی جماعت میں داخل نہیں ہوسکتا
وقد حققناہ فی فتاوٰنا بما یکفی ویشفی
 (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس پر تسلی بخش گفتگو کی ہے۔ت)
در مختار میں ہے:
لولم یصل التراویح بالامام یصلی الوتر معہ۱؎ ۔
اگر کسی نے تراویح امام کے ساتھ ادا نہیں کی تو وتر امام کے ساتھ ادا کرسکتا ہے(ت)
 (۱؎ درمختار        باب الوتر والنوافل     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۹۹ )
جامع الرموز میں ہے:
لکنہ اذا لم یصل الفرض معہ لا یتبعہ فی الوتر۲؎ ۔
اگر فرض امام کے ساتھ ادا نہ کئے ہوں تو پھر وتر میں امام کی اتباع نہ کرے(ت)
 (۲؎جامع الرموز    فصل فی الوتر والنوافل     مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ /۲۱۶)
ردالمحتار میں ہے:
امالوصلاھا جماعۃ مع غیرہ ثم صلی الوتر معہ لاکراھۃ۳؎ ۔
اگر فرض کسی اور کی اقتداء میں ادا کيے پھر وتر دوسرے امام کے ساتھ پڑھے تواب کراہت نہ ہوگی(ت)
 (۳؎ ردالمحتار باب الوتر والنوافل مبحث صلوۃ التراویح     داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۷۶)
مولوی عبدا لحی صاحب لکھنوی نے بھی فقہائے کرام سے اس کی ممانعت ہی نقل کی اگر چہ صرف اس بنا پر کہ اس کی وجہ اپنی سمجھ میں نہ آئی، اپنی خاص رائے مخالف بتائی، اپنے فتاوٰی میں لکھتے ہیں:
درقنیہ از عین الائمہ ودر تاتارخانیہ از علی بن احمد رحمہ اﷲ تعالیٰ مرقوم کہ ہر کہ فرض باجماعت ادا نہ کردہ باشد وتر ہم بجماعت ادانہ سازد وہمچنیں در غنیہ وغیرہا مذکور ست لیکن کدامی وجہ قوی معتد بہ عدمِ جوازِ معلوم نمی شود حق جواز معلوم مے شود انتہی۴؎ ۔
قنیہ میں عین الائمہ سے اور تاتارخانیہ میں علی بن احمد رحمہ اﷲتعالیٰ سے مروی ہے کہ جوشخص فرض جماعت کے ساتھ ادا نہ کرے وُہ وتر بھی جماعت سے نہ پڑھے۔ اور اسی طرح غنیہ وغیرہ میں مذکور ہے۔لیکن اس کے عدمِ جواز پر قوی ومعتدبہ وجہ معلوم نہیں ہوسکی جواز حق معلوم ہوتا ہے انتہی(ت)
 (۴؎ مجموعہ فتاوٰی    کتاب الصلٰوۃ     مطبع یوسفی لکھنؤ     ۱ /۳۶-۱۳۵)
امام عین الائمہ کرابیسی وامام علی بن احمد وقنیہ وغنیہ و جامع الرموز و ردالمحتار کے نصوص صریحہ کے مقابل صرف آپ کی''معلوم نمی شود''(معلوم نہیں ہوسکی۔ت) پر عمل کی کوئی وجہ نہیں،
کما لا یخفی
 (جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے۔ت)
بست وپنجم بارہ برس سے کم عمر تخصیص نہیں بلکہ صحیح ومختاریہ ہے کہ نابالغ کے پیچھے بالغوں کی کوئی نماز جائز نہیں اگر چہ ایک دن کم پندرہ برس کا ہو، امامتِ بالغین کے لیے بلوغ شرط ہے خواہ یہ ظہور آثار مثل احتلام وانزال خواہ بتمامی پانزدہ سال۔
درمختار میں ہے:
لایصح اقتداء رجل بصبی مطلقا ولا فی نفل علی الاصح۱؎۔
بالغ مرد کی اقتداء بچّے کے پیچھے مطلقاً اگر چہ نفل نماز میں ہو اصح مذہب پر درست نہیں ہے(ت)
 (۱؎ در مختار     کتا ب الصلوٰۃ     مجتبائی دہلی     ۱ /۸۴)
Flag Counter