بست ودوم : حافظ کہ ایک بار ختم کر چکا اب دوسری تاریخوں میں دوسری جگہ سنانا چاہتا ہے جہاں ابھی لوگوں نے قرآن عظیم نہیں سُنا ہے تومذہب صحیح ومعتمد پر اس کے عدمِ جواز کی اصلاً کوئی وجہ نہیں نہ اس قرآن سُننے کا ثواب نہ ہونے کے کوئی معنی، ظاہر ہے کہ ان راتوں میں وہ بھی تراویح ہی پڑھے گا نہ کہ نفل محض،تو ضرور تراویح کا امام ہوسکتا ہے اور جب امامِ تراویح ہوسکے گا تو دوبارہ قرآن عظیم پڑھنے سے کیونکر ممنوع ہوسکتا ہے، اور جب اس سے ممنوع نہیں تو بلاشبہ جو کچھ قرآن عظیم اُس میں پڑھے گا وُہ تراویح صحیحہ مسنونہ ہی میں ہوگا، پھر ثواب نہ ملنا چہ معنٰی، اور اس کی یہ تعلیل کہ'' وہ اب نفل سناتا ہے اور مقتدی واجب سُننا چاہتے ہیں'' اس سے بھی زیادہ فاسد وعلیل۔ تراویح میں پہلا ختم بھی واجب نہیں صرف سنّت ہی ہے اور دوبارہ ختم کرنا اگر چہ حافظ پر سنّت مؤکدہ نہ تھا مگر یہ قبل ایقاع ہے بعد وقوع سنّت درکنار جتنا پڑھے گا فرض ادا ہوگا کہ نماز میں فرض ابتدائی اگر چہ ایک ہی آیت ہے مگر سارا قرآن عظیم اگر ایک رکعت میں پڑھے سب فرض ہی واقع ہوتا ہے
لانہ فرد فاقرؤ اما تیسرمن القراٰن
(کیونکہ یہ بھی (ارشادباری تعالٰی) ''جو قرآن میں سے آسان ہے پڑھو ''کافردہے۔ت) ولہذا اگر سُورت بھول کررکوع میں چلا جائے پھر رکوع میں یاد آئے تو حکم ہے کہ رکوع کو چھوڑے اور کھڑاہوکر سُورت پڑھے اور پھر رکوع کرے حالانکہ ضم سورت صرف واجب تھا اور واجب کے لیے رفض فرض جائز نہیں جیسے قعدہ اولیٰ بُھول کر جو سیدھا کھڑا ہوجائے اب اُسے عود حلال نہیں کہ قعدہ واجب تھا اور قیام فرض ہے مگر سورت جو پڑھے گا یہ بھی فرض واقع ہوگی تو فرض کے لیے رفض فرض ہوا، ولہذا اگر کھڑا ہو کر سُورت پڑھے اور اس خیال سے کہ رکوع تو پہلے کر چکا ہُوں دوبارہ رکوع نہ کرے نماز باطل ہوجائیگی کہ فرض کے لیے جو فرض چھوڑا گیا وُہ جاتارہا تھا اس پر فرض تھا کہ رکوع دوبارہ کرتا۔ ردالمحتار میں ہے:
فی المبتغیٰ لوسھا عن السورۃ فرکع یرفض الرکوع ویعود الی القیام ویقرأاھ فی البحرانہ اذا عاد و قرأالسورۃصارت فرضا فقد عاد من فرض الٰی فرض لان کل فرض طولہ یقع فرضا۱؎اھ ملتقطا
المبتغٰی میں ہے اگر سُورت پڑھنا بھول گیا رکوع کرلیا تو رکوع چھوڑ کر قیام کی طرف لوٹ آئے اور قرأت کرے اھ بحر میں ہے جب لوٹ کر سُورت پڑھی تو سورت بطور فرض ادا ہوگی تو یہ ایک فرض سے دوسرے فرض کی طرف لوٹنا ہُوا کیونکہ ہر فرض کی طوالت بھی فرض میں شامل ہوئی ہے اھ ملتقطا(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب سجود السہو داراحیاء التراث العربی ۱ /۵۰۰)
ایک بار ختم کرکے دُوسری راتوں میں دوسرا ختم نئے لوگوں کو سنانا تونہایت صاف امرہے اگر بالفرض کوئی شخص آج اپنی تراویح پڑھ کر آج ہی رات اور لوگوں کی امامت تراویح میں کرے اور قرآن عظیم سنائے تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس قرآن سُننے کا ثواب نہ ہوگا۔ روایت مختارہ امام قاضی خاں پر تو ظاہر ہے کہ وہ متنفل محض کے پیچھے تراویح کی اقتداء بلا کراہت جائز مانتے ہیں،صرف امام کے حق میں کراہت کہتے ہیں اگر نیتِ امامت کرے ورنہ اس پر بھی کراہت نہیں، خانیہ میں فرمایا:
لوصلی العشاء والتراویح والو ترفی منزلہ ثم ام قوما اٰخرین فی التراویح ونوی الامامۃ کرہ ولایکرہ للقوم، ولو لم ینوالامامۃ اولاو شرع فی الصلٰوۃ واقتدی بہ الناس فی التراویح لم یکرہ لواحد منھما۲؎۔
اگرکسی نے نماز عشاء، تراویح اور وتر گھر اداکئے پھر تراویح میں لوگوں کی امامت کی نیّت سے تراویح کی امامت کی تو یہ مکروہ ہے لیکن قوم کے لیے یہ مکروہ نہیں ہے اور اگر اوّلاً اس نے امامت کی نیت نہ کی نماز میں شروع ہُواتھا کہ لوگوں نے تراویح میں اقتداکرلی تو اب کسی کے حق میں کراہت نہیں(ت)
(۲؎ فتاوٰی قاضیخان فصل فی نیۃ التراویح نولکشورلکھنؤ ۱ /۱۱۱)
اور روایت مختارہ امام شمس الائمہ سرخسی پر اگر چہ یہ ناجائز ہے اور ان لوگوں کی تراویح نہ ہوں گی،
لان التراویح سنۃ مستقلۃ شرعت بوجہ مخصوص فلا تتأدی الابہ۔
کیونکہ نماز تراویح مستقل سنّت ہے جو وجہ مخصوص پر مشروع ہے تو یہ اسی وجہ مخصوص کے ساتھ ہی وُہ ادا ہوگی(ت)
اور یہی اصح ہے اور اسی پر فتوٰی ہے، عالمگیریہ میں محیط سے ہے:
الامام یصلی التراویح فی مسجدین فی کل مسجد علی الکمال لایجوز۔۳؎
ایک امام جو دو مساجد میں مکمل طور پر نمازِ تراویح پڑھائے تو یہ جائز نہیں ہے(ت)
لو صلی امام التراویح فی مسجدین فی کل مسجد علی الکمال قال ابوبکر الاسکاف لایجوز وقال ابونصریجوز لاھل المسجدین واختارابواللیث قول الاسکاف وھو الصحیح۲؎۔
اگر کوئی امام دو مساجد میں مکمل طور پر نماز تراویح پڑھائے تو شیخ ابوبکر اسکاف نے فرما یا یہ جائز نہیں،اور شیخ ابونصر نے کہادونوں مساجد والوں کے لئے جائز ہے، شیخ ابوللیث نے اسکاف کے قول کو اختیار کیا اور یہی صحیح ہے(ت)
(۲؎ الجوہرۃ النیرہ باب قیام شہر رمضان مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ /۱۱۸)
نیز ہندیہ میں محیط سے ہے:
لوصلی التراویح مقتد یا بمن یصلی مکتوبۃ او وتراونافلۃ الاصح انہ لایصح الاقتداء بہ لانہ مکروہ مخالف لعمل السلف۳؎۔
اگر کسی نے نماز تراویح ایسے شخص کی اقتدا میں ادا کی جو فرض یا وتر یا نفل پڑھا رہا تھا تو یہ اقتداء درست نہیں کیونکہ یہ مکروہ اور عملِ اسلاف کے مخالف ہے(ت)
آپ نے دیکھا نہیں کہ علت کراہت اور مخالفت ماثور کو قرار دیا گیا ہے اور یہ دونوں اقتداء کے منافی نہیں اور نہ ہی نماز کو فاسد کرتی ہے(ت)
تو وہ نماز اگر چہ تراویح نہیں یقینا نماز صحیح و نفل محض ہے اور نفل محض میں بھی استماعِ قرآن فرض ہے اور اس ادائے فرض پر ثواب نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں تو قرآن سننے کا ثواب یہاں بھی ہے ہاں روایت مفتی بہا پر اس صورت خاصہ میں یعنی جبکہ امام اپنی تراویح پڑھ کر اُسی رات اوروں کی امامت کرے یہ کہہ سکتے ہیں کہ تراویح میں ختمِ قرآن کا انہیں ثواب نہ ملے گا کہ یہ تراویح نہیں، اورصورتِ اولیٰ میں تو اس کی طرف بھی اصلا راہ نہیں کہ وہ نماز بلا شبہ تراویح اور وہ ختم ختم فی التراویح ہے، بات یہ ہے کہ اس مسئلہ میں بھی مولوی صاحب نے مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی کا اتباع کیا ہے۔ مولوی صاحب لکھنوی خزانۃ الروایات سے ناقل ہیں:
قال السغناقی،امام ختم فی التراویح مرۃ و ختم ثانیا بغیرھذاالقوم لایخرج ھذاالقوم الثانی عن السنیۃ لان الامام خرج السنیۃ فصارلہ نفلا فیدرکون ثواب صلٰوۃ النفل ولا یدرکون ثواب صلٰوۃ التراویح۱؎۔
شیخ سغناقی کہتے ہیں امام نے ایک مرتبہ تراویح میں قرآن ختم کیا تو دوسری قوم سنت کو ادا کرنے والی قرار نہیں پائے گی کیونکہ امام سنت ادا کرچکا تھا اب اس کے لئے وُہ نفل ہے، لوگ نماز نفل کا ثواب تو پائیں گے مگر تراویح کا ثواب نہیں پائیں گے(ت)
جیسا کہ ان کا یہ قول واضح کر رہا ہے کہ وہ نماز نفل کا ثواب پائیں گے اور یہ قول بھی کہ وہ تراویح کا ثواب نہیں پا ئیں گے۔(ت)
اور یہ قول ضعیف وناماخوذ ہے اصح ومعتمدومعمول بہ یہی ہےکہ ختم اگرچہ ہو جائے تراویح سارے ماہِ مبارک میں سنّتِ مؤکدہ ہیں، اسی پر جوہرہ میں جزم کیا اور اسی کو سراج وہاج میں اصح کہا۔ عالمگیریہ میں ہے:
اگر قرآن انیسویں یا اکیسویں کو ختم ہوگیا تو باقی ماہ میں تراویح کو ترک نہ کیا جائے کیونکہ یہ سنت ہیں، جیسا کہ الجوہرۃ النیرۃ میں ہے۔ اصح یہ ہے کہ تراویح کا ترک مکروہ ہے، جیسا کہ السراج الوہاج میں ہے۔