سیزدھم : نیم صاع گہیوں سے روزے کا فدیہ اور فطر کا صدقہ ہے ایک سوپینتیس تولہ ہے انگریزی سے اسّی ۸۰روپے بھر ہے اور روپیہ سواگیارہ ماشے کا ہے آدھ پاؤ کم دو سیر نہ ہوا بلکہ تین چھٹانک اور بیسواں حصہ چھٹانک کا کم دوسیر، جیسا کہ ہم نے اپنے
فتاوٰی جلد۳؎ ''
صدقہ فطر کے بیان'' میں
(۳؎ فتاوی رضویہ (جدید) جلد ہذاصفحہ۲۳۹)
مشرحاً بیان کیا ہے اور یہ فتوٰی تحفہ حنفیہ عظیم آباد میں چھپ بھی گیا ہے اور بریلی کے سیر سے کہ پورے سَو روپے بھر کا ہے ایک سیر سات چھٹانک دو ماشے ساڑھے چھ رتی اور رامپور کے سیر سے کہ چھیانوے کا ہے پورا ڈیڑھ سیر، فاحفظ ولاتزل
چہار دہم جس نے بعذر شرعی روزہ نہ رکھا اسے دقت نہ ہو تو حرمت ماہ مبارک کے لحاظ سے حتی الوسع چھپا کر کھانا پینا چاہئے مگر کسی روزہ دار کے سامنے کچھ نہ کھانے کا مطلقاً وجوب محتاجِ دلیل ہے۔
پانزدہم کاغذ یا کنکر یا خاک وغیرہا اشیاکو کہ نہ دوا ہیں نہ غذا، نہ مرغوبِ طبع، اگر تل بھر نہیں پیٹ بھر کھالے گا صرف قضا ہوگی کفارہ نہ آئے گا۔ یونہی روزہ توڑنا عمداً حقنہ وغیرہا اشیائے مذکورہ مابعد کو بھی شامل، مگر اس میں کفارہ نہیں۔ نیز کفارہ صرف اداروزہ رمضان کے توڑنے میں ہے، جبکہ یہ نہ صاحبِ عذر تھا نہ اُس دن میں کوئی آسمانی عذر مثل حیض یا مرض پیدا ہوجائے، نہ ہی توڑنا کسی کے جبرواکراہ سے ہو اور روزے کی نیت رات سے کی ہو، درمختار میں ہے:
ثم انما یکفر ان نوی لیلا ولم یکن مکرھا ولم یطرأمسقط کمرض وحیضٍ۱؎۔
پھر کفارہ تب ہوگا جب تک رات کو نیت کی ہو اور مجبور بھی نہ ہو اور کفارہ چھوڑنے کا کوئی عارضہ مثل مرض وحیض وغیرہ کے لاحق نہ ہواہو(ت)
قولہ مسقط ای سماوی لاصنع لہ فیہ ولا فی سببہ، رحمتی۲؎۔
قولہ مسقط یعنی و ہ عارضہ سماوی جس میں بندے کا کوئی دخل نہ ہواور نہ اس کے سبب میں دخل ہو، رحمتی۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار مطلب فی الکفارۃ مصطفی البابی مصر ۱ /۱۲۰)
تو یہ اشتہاری مطلق احکام سب غلط ہیں۔
شانزدہم کفارے میں شرعاً ترتیب ہے سب میں پہلے ایک غلام آزاد کرنا ہے، اس کی طاقت نہ ہوتودو۲ مہینے کے لگاتار روزے، یہ بھی نہ ہو سکے تو اخیر درجہ ساٹھ مسکین
کما نص اﷲتعالیٰ علیہ فی اٰیۃ الظھار
(جیسا کہ اﷲتعالٰی نے آیتِ ظہار میں تصریح فرمادی ہے۔ت) غلام آزاد کرنا تو شاید اشتہار میں اس لیے مذکور نہ ہُوا کہ یہاں غلام کہاں، مگر روزوں اور ساٹھ مسکینوں میں ترتیب نہ رکھنا صحیح نہیں،
یہ اگر جہل نہ ہو تو سخت تر ہے کہ تجہیل و تضلیل ہے۔
ہفد ہم جلق سے روزہ نہیں ٹوٹتا جب تک اس سے انزال نہ ہو۔ درمختارمیں ہے:
استمنی بہ ولم ینزل ۱؎
(مشت زنی کی، انزال نہ ہُوا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔)
(۱؎ درمختار باب مایفسد الصوم ومالایفسدہ، مجتبائی دہلی ۱ /۱۵۰)
تو یہ اطلاق بھی غلط ہے۔
ہیجد ہم قصداً قے کرنے سے بھی روزہ نہیں جاتا مگر جبکہ روزہ یاد ہونے کی حالت میں منہ بھر کر ہو۔
ردالمحتار میں ہے:
لافطرفی الکل علی الاصح الافی الاعادۃ والاستقاء بشرط الملاأ مع التذکیر شرح الملتقی۲؎۔
اصح قول کے مطابق ان تمام میں افطار نہ ہوگا البتّہ اس صورت میں جب قے کو لوٹائے یا خود قے کرے بشرطیکہ منہ بھر کر ہوروزہ ہونا یاد ہو،شرح الملتقی(ت)
(۲؎ ردالمحتار مطلب فی الکفارۃ مصطفی البابی مصر ۲ /۱۲۰)
نوزدہم مفطرات غیرمکفرات مثل حقنہ وغیرہا کا مطلقاً دوبارہ کرنا موجب کفارہ نہیں جب تک بقصد معصیت نہ ہو۔درمختار میں ہے:
کل ما انتفی فیہ الکفارۃ محلہ مااذالم یقع ذلک منہ مرّۃ بعد اخری لاجل قصد المعصیۃفان فعلہ وجبت زجرالہ۳؎۔
جس صورت میں کفارہ لازم نہ ہو اس کا محل یہ ہے کہ جب اس شخص سے وہ فعل بتکرار گناہ کے قصد سے صادر نہ ہو، پس اگر اس فعل کو مکرر کرے گا توزجراً کفارہ واجب ہوگا۔(ت)
(۳؎درمختار باب مایفسد الصوم الخ مجتبائی دہلی ۱ /۱۵۱)
اور اس عبارت سے اگرچہ علامہ طحطاوی نے یہ استظہار کیا کہ دو ہی بار کرنے میں کفارہ واجب کردیں گے اور علامہ شامی نے اسے نقل کرکے مقررکھا مگر اس معنی پر جزم اُنہیں بھی نہیں، اتنا ہی فرمایا ہے:
ظاھرہ انہ بالمرۃ الثانیۃ تجب علیہ الکفارۃ ولوحصل فاصل بایام۴؎۔
ظاہر یہ ہے کہ اگردوسری دفعہ کیا تو کفارہ لازم اگر چہ درمیان میں متعدد ایام کا فاصلہ ہو(ت)
(۴؎ ردالمحتار باب مایفسد الصوم الخ مصطفی البابی مصر ۲ /۱۱۵)
اور فقیر کے نزدیک یہ ہنوز محتاجِ مراجعت ہے، اگر یہ مراد ہوتی تو مرۃ اخری (دوبارہ کرنا۔ت)کہنا کافی تھا مرۃ بعد اخری(باربار کرنا۔ت) ظاہراً باربار تکرار کی طرف ناظر ہے فلیراجع ولیحرر(غور طلب ہے۔ت) واﷲتعالٰی اعلم
بستم حاملہ کو بھی مثل مرضعہ روزہ نہ رکھنے کی اجازت اسی صورت میں ہے کہ اپنے یا بچّے کے ضرر کا اندیشہ غلبہ ظن کے ساتھ ہونہ کہ مطلقاً جیسا کہ اشتہار نے زعم کیا۔
بست ویکم جب رکعاتِ تراویح میں اختلاف پڑے کہ بیس ۲۰پڑھیں یا اٹھارہ۱۸، تو اس میں نہایت کثرت سے مختلف صورتیں ہیں، اُن کی تمام تر تفصیل اور اُن کے اصول کی تاصیل اور اُن کے احکام تحقیق و تحصیل فقیر نے تعلیقاتِ ردالمحتار میں ذکر کی یہاں اجمالاً اتنا گزارش کہ نہ مطلقاً اختلاف امام وقوم کی حالت میں مقتدیوں کو دو۲ رکعت پڑھنے کا حکم، نہ مطلقا تنہا پڑھنے کا حکم ،نہ یہ حکم مطلقاًامام کو کسی عدد پر یقین نہ ہونے کے ساتھ خاص، مثلاً مقتدیوں کا یقین ہے کہ بیس ہوگئی اور امام کو شک تھا یا اٹھارہ کا یقین ہی ہے تو مقتدی اصلاً دو۲ رکعت نہ پڑھیں گے، نہ جماعت سے نہ تنہا، کہ جب اُنہیں تراویح کامل ہوجانے کا یقین ہے تو اب اُنہیں امام کے شک یا یقین سے زیادہ کا کیونکر حکم ہوسکتا ہے، اپنے جزم پر غیر کا جزم بھی حاکم نہیں ہوسکتا نہ کہ شک، ردالمحتار میں ہے:
لو تیقن الامام بالنقص لزمھم ا لاعادۃ الامن تیقن منھم بالتمام۱؎۔
اگر امام کو کم کا یقین ہو تو ان پر اعادہ لازم ہے مگر ان میں سے جسے تکمیل کا یقین ہو(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب سجودالسہو داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۵۰۷)
فتح القدیر میں ہے:
لان یقینہ لایبطل بیقین غیرہ۲؎۔
کیونکہ اس کا یقین کسی دوسرے کے یقین سے باطل نہیں ہوسکتا ۔(ت)
(۲؎فتح القدیر باب سجودالسہو نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۴۵۷)
اور اگر مقتدیوں کو ۱۸کا یقین ہے اور امام کو بیس۲۰ کاشک ہوتو خود امام بھی دو اور پڑھے گا اور یقین مقتدیاں کی اقتداء کرے گا اور جماعت سے پڑھی جائیں گی۔درمختار میں ہے:
لواختلف الامام والقوم فلو الامام علی یقین لم یعد والااعاد بقولھم۳؎۔
اگر امام اور مقتدیوں کے درمیان اختلاف ہوگیا اگر امام کو یقین ہوتو اعادہ نہ کرے اوراگر یقین نہ ہو تو مقتدیوں کا قول معتبر ہونے کی وجہ سے اعادہ ہوگا۔(ت)
(۳؎ درمختار باب سجودالسہو مجتبائی دہلی ۱ /۱۰۳)
فتح القدیر میں ہے:
ان اعاد الامام الصلٰوۃ واعادوامعہ مقتدین بہ صح اقتدائھم۱؎۔
اگر امام نے اعادہ نماز کیا اور لوگوں نے اس کی اقتدا میں اعادہ کیا تو ان کی اقتدأدرست ہوگی (ت)
(۱فتح القدیر باب سجود السہو نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۴۵۷)