یلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذا ثبت عند ھم رؤیۃ اولٰئک بطریق موجب کما مرّ۳؎۔
اہل مشرق پر اہل مغرب کی رؤیت روزہ رکھنا لازم تب آئے گا جب ان کی رؤیت بطریق موجب شرعی ثابت ہوگی جیسا کہ گزرا ہے
(ت) (۳؎ درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۹)
ردالمحتار میں ہے:
کان یتحمل اثنان الشہادۃ او یشھدا علی حکم القاضی او یستفیض الخبر۴؎۔
دو۲ آدمی شہادت پر شہادت دیں یا حکمِ تام پرشہادت دیں یا خبر مشہور ہو۔(ت)
(۴؎ ردالمحتار مطلب فی اختلاف المطالع مصطفی البابی مصر ۲ /۱۰۵)
لہذا حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما نے لا فرمایا: بنگاہِ اولیں یہ جواب فقیر کے خیال میں آیا تھا، پھر دیکھا امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اور جواب دیا اور اس کے بعض کی طرف بھی اشارہ کیا، فرماتے ہیں:
قد یقال ان الاشارۃ فی قولہ ھکذاالی نحوماجری بینہ وبین ام الفضل وحینئذ لادلیل فیہ لان مثل ماوقع من کلامہ لووقع لنا لم نحکم بہ لانہ لم یشھد علی شھادۃ غیرہ ولا علی حکم الحاکم ،فان قیل اخبارہ عن صوم معاویۃ یتضمنہ لانہ الامام یجاب بانہ لم یات بلفظ الشہادۃ ولو سلم فھو واحد لا یثبت بشھادتہ وجوب القضاء علی القاضی واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم والاخذ بظاھرالروایۃ احوط اھ۱؎
یُوں کہا جا سکتا ہے کہ حضرت ابن عباس کے ارشاد ھٰکذامیں اس بات کی طرف اشارہ ہے جو ان کے اور حضرت ام فضل کے درمیان جاری ہوئی تو اب یہ دلیل نہیں کیونکہ ان کے کلام کی طرح ہمارے سامنے معاملہ آجائے تو ہم اس پر فیصلہ نہیں کریں گے کیونکہ ایسا بیان کرنے والے نے نہ تو کسی کی شہادت پر گواہی دی ہے اور نہ کسی حاکم کے فیصلہ پر، اگر کوئی سوال اٹھائے کہ حضرت معاویہ کے روزہ کی اطلاع اس گواہی کو متضمن ہے کیونکہ وہ امیر تھے ، اس کا جواب یہ دیا جائے گا کہ یہاں لفظ شہادت کا ذکر نہیں، اور اگر اس بات کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو وہ تنہا ہیں، تو ان کی شہادت سے قاضی پر قضا کا فیصلہ لازم نہ ہوگا اﷲتعالیٰ بزرگ و برتر بہتر جانتا ہے اور ظاہرالروایۃ پر عمل احوط ہے اھ
(۱؎ فتح القدیر کتاب الصوم نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۲۴۳)
اقول لکن فی الحدیث قال انت رایتہ قلت نعم۲؎ والاخبار فی رمضان کاف فماذکر الفقیر اولی۔
اقول حدیث میں ہے تونے اسے دیکھا ہے، میں نے کہا ہاں، اور رمضان کے لیے یہ اطلاع ہی کافی ہے، توبندہ حقیر نے جو ذکر کیا وہ اولٰی ہے(ت)
(۲؎ فتح القدیر کتاب الصوم نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۲۴۳)
معہذامو لوی صاحب مذکور کو حدیث سے استنا د اس وقت پہنچتا کہ دمشق ومدینہ طیبہ میں یک ماہہ راہ کا فصل ثابت کیا جاتا ورنہ حدیث خود ان کے بھی مخالف ہوگی
کما لا یخفی
(جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ت) یہاں ایک امر یہ بھی قابلِ تنبیہ ہے کہ مولوی صاحب مذکور نے اپنے فتاوٰی میں تین جگہ عبارتِ تاتارخانیہ:
اھل بلدۃ اذا رأو الھلال ھل یلزمہ ذٰلک فی حق کل بلدۃ اخری اختلف المشائخ فیہ، فبعضھم قالو الایلزم ذٰلک فانما المعتبر فی حق اھل بلدۃ رؤیتھم وفی الخانیۃ لا عبرۃ لاختلاف المطالع فی ظاھرالروایۃ وفی القدوری اذاکان بین البلدتین تفاوت لایختلف المطالع یلزمہ وذکر شمس الائمۃ الحلوانی انہ الصحیح من مذھب اصحابنا۱؎۔
جب ایک شہر والوں نے چاند دیکھا تو کیا ہر شہر والوں پر روزہ لازم ہوگا؟اس میں مشائخ کا اختلاف ہے، بعض نے کہا ہے اس سے روزہ لازم نہیں، ہر شہر والوں کے حق میں ان کی اپنی رؤیت ہی معتبر ہے۔ خانیہ میں ہے ظاہرالروایت کے مطابق اختلافِ مطالع کا اعتبار نہیں، اور قدوری میں ہے جب دونوں شہروں کے درمیان اتنا تفاوت ہو جس سے مطالع میں اختلاف نہ ہو تو لازم ہوگا، شمس الائمہ حلوانی نے ذکر کیا ہے کہ ہمارے مذہب میں صحیح یہی ہے ۔(ت)
(۱؎ مجموعہ فتاوٰی عبد الحی کتاب الصوم مطبع یو سفی لکھنؤ ۱ /۲۶۵، ۲۷۳،۲۷۵)
(فتاوٰی تاتارخانیہ کتاب الصوم ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۵)
نقل کی اور ظاہراً خیال کیا کہ تصحیح امام شمس الائمہ اعتبار اختلاف کی طرف ناظر ہے حالانکہ وہ مذہب اصحابنا فرمارہے ہیں اور ظاہر ہے کہ مذھب اصحابنا نہیں مگر ظاہر الروایۃ
کما قد منا نقولہ فیما سبق
(جیسا کہ ہم نے پہلے تذکرہ کردیا ہے۔ت) اور ظاہر الروایۃ نہیں مگر عدم اعتبار اختلاف جیسا کہ خود مولوی صاحب کو اعتراف، ج۲ص۱۶۲پرلکھا:
ظاہر الروایۃ کے موافق اکثر مشائخ حنفیہ کے نزدیک اختلافِ مطالع کا مطلقاً اعتبار نہیں(ت)
(۲؎ مجموعہ فتاوٰی محمد عبد الحی کتاب الصوم مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۲۷۴)
ج۲ص۱۴۷پرکہا: جب کسی شہر میں ثابت ہوجائے کہ فلاں شہر میں چاند ہوا تو ان پر موافق اس کے حکم دیا جائے گا گو دونوں شہروں میں بُعدِ مسافت ہوا ور یہی ظاہرالروایۃ ہے۳؎۔
(۳؎ مجموعہ فتاوٰی محمد عبد الحی کتاب الصوم مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۲۶۶)
لاجرم پھرغنیہ ذوی الاحکام میں فرمایا:
قال الامام الحلوانی الصحیح من مذھب اصحابنا ان الخبر اذاا ستفاض فی بلدۃ اخری وتحقق یلزمھم حکم تلک البلدۃ۴؎۔
امام حلوانی نے فرمایا ہمارے اصحاب کا صحیح مذہب یہی ہے کہ جب خبر دوسرے شہر میں مشہور ومتحقق ہوجائے تو پھر دوسرے شہر والوں پر پہلے اہلِ شہر کا حکم لازم ہوگا۔(ت)
(۴؎غنیہ ذوی الاحکام حاشیۃ دررالحکام کتاب الصوم احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادت بیروت ۱ /۲۰۱)
مسلک متقسط شرح منسک متوسط میں فرمایا:
ان ثبت فی مصر لزم سائرالناس فی ظاھر الروایۃ و علیہ اکثر المشائخ وبہ کان یفتی الفقیہ ابو اللیث وشمس الائمۃ الحلوانی وھو مختار صاحب التجرید والکافی وغیرھم من المشائخ۱؎۔
جب شہر میں ثبوت ہوجائے تو ظاہر الروایۃ کے مطابق باقی لوگوں پر لازم ہوگا، اکثر مشائخ کی یہی رائے ہے، فقیہ ابوللیث اور شمس الائمہ حلوانی نے بھی اسی پر فتوٰی دیا ہے، صاحبِ تجرید وکافی اور دیگر مشائخ کے ہاں یہی مختار ہے۔(ت)
(۱؎ مسلک متقسط شرح منسک متوسط فصل فی اشتباہ یوم عرفہ الخ دارالکتاب العربی بیروت ص۱۴۳)
خلاصہ وعالمگیریہ وغیر ہمامعتمدات میں فرمایا:
علیہ فتوی الفقیہ ابی اللیث وبہ کان یفتی شمس الائمۃ الحلوانی قال لورأی اھل مغرب ھلال رمضان یجب الصوم علی اھل المشرق۲؎۔
فقیہ ابو اللیث کا اسی پر فتوٰی ہے، شمس الائمہ اسی پر فتو ی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر اہلِ مغرب رمضان کا چاند دیکھ لیں تو اہلِ مشرق پر رمضان کا روزہ لازم ہوجائے گا(ت)
دیکھو کیسی صریح تصریحات ہیں کہ امام شمس الائمہ کا فتوٰی اسی پر ہے کہ اختلافِ مطالع اصلاً معتبر نہیں، بالجملہ بعد اس جاننے کے کہ اختلاف مطالع کا نا معتبر ہونا ہی ظاہرالروایۃ ہے اور اسی پر فتوٰی ہے اور وہی معتمد جمہور وقولِ کثیر ہے، اس سے عدول کی کوئی راہ نہیں مگرالحمد اﷲمولوی لکھنو صاحب نے اپنے فتاوٰی کی جلدسوم میں حق کی طرف صاف رجوع کی، صفحہ ۷۶پر کہتے ہیں:
سوال: رؤیت یکجا مفید حکم بجائے دیگر مے شود یا آنکہ اختلاف مطالع معتبر ست۔
سوال: آیا ایک جگہ رؤیت کا حکم دوسری جگہ پر لاگو ہوتا ہے یا اختلافِ مطالع معتبر ہے؟
جواب: اختلافِ مطالع معتبر نیست و حکم یکجا مفید حکم بجائے دیگر مے شود اگر خبر رؤیت مشتہر شود وانتشار پذیرد ودرمختار مے آرد و اختلاف المطالع غیر معتبر علی ظاھر المذہب وعلیہ الکثر المشائخ وعلیہ الفتوٰی بحر عن الخلاصۃ انتہی درجامع رموز مے آرد الصحیح من مذھب اصحابنا انہ یلزم اذااستفاض الخبر فی البلدۃ الاخری۱؎۔ملخصاً۔
جواب: اختلافِ مطالع کا اعتبار نہیں ہے اور ایک جگہ کا حکم دوسری جگہ کے لیے معتبر و مفید ہوتا ہے جبکہ خبر مشہور ہوکر اطراف میں پھیل جائے، ظاہر مذہب میں اختلافِ مطالع کا اعتبار نہیں، اکثر مشائخ کا یہی قول ہے اور فتوٰی بھی اسی پرہے کذافی البحر عن الخلاصہ انتہی،اور جامع الرموزمیں یہ مذکور ہے ہمارے ائمہ کا صحیح مذہب یہی ہے کہ جب خبر دوسرے شہر میں مشہور ہوجائے تو روزہ لازم ہوجاتا ہے۔(ت)
(۱؎ مجموعہ فتاوٰی محمد عبد الحی لکھنوی باب رؤیۃہلال مطبع یوسفی لکھنو ۳ /۷۱-۷۰)
یہ وہی صحیح من مذھب اصحابنا ہے کہ پہلے قول خلاف کی طرف منسوب سمجھا گیا تھا اور ایک اور سوال کے جواب میں بھی مطلقاً مقام بعید کی شہادت مقبول مانی،ص۷۴و۷۳:
سوال: گواہان بروز بست و نہم از رمضان گواہی دادند کہ ماہلال رمضان یک روز قبل دیدہ ایم کہ بداں حساب امر وزسیم رمضان ست پس شہادت ایشاں مقبول خواہد شد یانہ؟
سوال: گواہوں نے ۲۹ رمضان کو یہ گواہی دی کہ ہم نے رمضان کا چاند ایک روز پہلے دیکھا تھا اس حساب سے آج ۳۰ رمضان بنتا ہے تو ان گواہوں کی گواہی مقبول یا نہ؟
جواب: اگر گواہاں ہما نجا بودند وازاول رمضان ساکت ماندہ بست ونہم رمضان گواہی دادند گواہی ایشاں مقبول نخواہد شد و اگر از سفر ازمقام بعید می آیند شہادت مقبول خواہد شد کذافی الخلاصۃ۲؎۔
جواب اگر گواہ اسی مقام کے رہنے والے ہوں اور رمضان کے پہلے دن خاموش رہے اور اب ۲۹ رمضان کی گواہی دے رہے ہیں توان کی گواہی مقبول نہ ہوگی اور اگر کہیں دور کے مقام سے سفر کرکے آئے ہوں تو ان کی شہادت قبول کی جائیگی کذافی الخلاصہ۔(ت)
(۲؎ مجموعہ فتاوٰی محمد عبد الحی لکھنوی باب رؤیۃہلال مطبع یوسفی لکھنو ۳ /۷۱)
یہ تیسری جلد مولوی صاحب نے آپ ہی سوالات قائم کرکے لکھی ہے اور اس میں بہت جگہ پہلی جلدوں کے اغلاط کی اصلاح کردی ہے اُن کے فتاوٰی دیکھنے والے کو اس کا لحاظ ضرور ہے، مدت سے خیال تھا کہ مسئلہ اختلاف مطالع میں ایک بیان شافی لکھا جائے کہ ابرِ اختلاف اُٹھ کر مطلع صاف نظر آئے، الحمد ﷲکہ آج کا وقت آیا
وﷲالحمد فی الاولٰی والاخری وصلی اﷲتعالٰی علی بد رتجلی من البطحاء وعلٰی اٰلہ وصحبہ نجوم الھدی۔