Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
134 - 198
ثانیاً : سب حضرات نے مطلق فرمایا کوئی تخصیص سمت وجانب کی نہ رکھی حالانکہ معظم معمورہ خصوصاً بلادہندوستان اور اُن کے امثال کثیرہ مثل خطہ مقدسہ عرب وغیرہ میں جہاں عرض میل کلی کے اندر ہے یا اُس سے بہت متفاوت نہیں، یہ اختلاف معتبر ہوتو یونہی کہ غربی شہر کی رؤیت شرقی پر حجت نہ ہوکہ ممکن کہ شرقی میں وقت غروب شمس فصل نیرین کم تھا قمر کا شعاع شمس سے انفضال قابل رؤیت ہلال نہ ہوا تھا جب حرکت فلکیہ نیریں کو بلد غربی کی افق پر لے گئے اتنی دیر میں انفصال بقدر استہلال ہوگیا مگر غربی میں شرقی کی رؤیت مطلقاً کیوں نامعتبر ہو خصوصا  جب کہ عرض متحد یا متقارب ہوکہ اضطجاع وانتصاب افق یکساں ہو، پُر ظاہر کہ جب مشرق میں بعد قابلِ رؤیت ہوچکا تھا تو غربی میں تواور زیادہ فصل و ظہور ہوجائے گا، اور جنوب وشمال میں ۲۴فرسخ درکنار ۹۲ا کافصل ہونا ضرورنہیں، فرض کیجئے آفتاب شمالی ہے اور قمر وقت استہلال عدیم المیل اور ایک شہر خطِ استواء سے ۸ درجہ شمال کو ہے کہ ایک مہینہ کی راہ سے کم، فاصلہ ہوا، اور دوسرا سترہ۱۷ درجے کہ دو مہینے سے بھی زیادہ فصل  ہُوا اس لئے کہ غایت تدقیق کے بعد ثابت ہوا ہے کہ زمین (عہ) کا ایک درجہ ۳۶۵۱۵۵ قدم ہے اور قدم ۱/۳ گز اور میل ۱۷۶۰ گز، تو ایک درجہ ارضیہ ۱۲۹ء۶۹میل ہوا، راہ ایک ماہ، ۵۷۶ کو اس پر تقسیم کئے سے ۳۰۳۰۲۷۷ء۸ ہوتے ہیں یعنی ۵۴ًََ ۱۰ََ ۱۸َ ۸ْ حۤ لح ی ند اور تینوں شہر ایک ہی نصف النہار کے نیچے ہیں۔
عہ اقول اور تدقیق ادق سے ۳۶۴۰۹ قدم اس لیے کہ زمین کا نصف قطر استوائی ۲۹۶ء ۳۹۶۳ میل ہے اور نیم قطر قطبی ۷۹ء ۳۹۴۹ پس نیم قطر معدل ۵۴۳ء ۳۹۵۶ پھر کمال تدقیق ادق سے قطر:محیط::ا:۱۴۱۵۹۲۶۵ء۳ لوغار شمس۴۹۷۱۴۹۹ء۰ولوغارثم معدل۵۹۷۳۱۵۹ء۳ مجموعہ۹۴۴۶۵۸ء۴ پھر نسبت انصاف مثل نسبت اضعاف ہے تو۱۸۰کے لوگار ثم ۲۵۵۲۷۲۵ء۲ کو اس تفریق کیابلکہ ۷۴۴۷۲۷۵ء ۷جمع کیا حاصل ۸۳۹۱۹۳۳ء۱ عدوش۰۵۴۷ء۶۹ یہ ایک درجہ محیطیہ کے میل ہُوئے اور گز ۱۲۱۵۳۶تو قدم ۳۶۴۶۰۹بالرفع یوں بھی وہی مطلب ثابت ہے کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت) اب حاصل قسمت ۳۴۱۲۱۵۸ء۸ ہوگایعنی۸درجے۲۰دقیقے ۲۸ ثانئے ۲۳ ثالثے ۱۲منہ غفراﷲ تعالٰی لہ(م)
اب فرض کیجئے کہ صورتِ مذکورہ میں خطِ استوا میں رؤیتِ ہلال ہوئی توشہر ابعد درکنار شہر و سطانی میں بھی رؤیت ضرور نہیں، حالانکہ یک ماہہ راہ سے کم فاصلہ ہے، اس لیے کہ خطِ استوا میں ادھر تو آفتاب جلد ڈوبے گا تو اندھیرا جلد ہوکر رؤیت کا معین ہوگا ، ادھرافق منتصب ہے تو آفتاب بعد غروب جلد افق سے دُور ہوکر نورِ شفق کہ عائق رؤیت ہوتا جلد کم ہوجائے گا،اُدھر قمر کا ارتفاع زائد ہے تو دیر تک بالائے اُفق رہے گا اور یہ بھی مؤید رؤیت  ہو گا بخلاف بلد شمالی کہ وہاں سب امور با لعکس ہیں ،اور اسی صورت میں فرض کیجئے کہ شہر ابعد میں رؤیت ہوئی تو شہر و سطانی درکنار خط استوا میں بھی بدرجہ اولیٰ رؤیت ہوگی کہ مؤیدات رؤیت وہاں بافراط ہیں حالانکہ دوماہہ راہ سے زیادہ کا فاصلہ ہے، تومعلوم ہُوا کہ جنوباً شمالاً کبھی ایک مہینے سے بھی کم کا فاصلہ اختلاف رؤیت لاتا ہے اور کبھی دو۲ مہینے سے زیادہ کا بھی فاصلہ اختلاف نہیں لاتا۔ اب یہ تقریر اس طرف لے جائے گی کہ شہروں کا باہم بُعد معتبر نہ ہو حالانکہ اختلاف مطالع ماننے والو ں کی عبارات اس میں نص ہیں، نہ تفاوتِ عرض معتبر ہو نہ تفاوتِ طول شرقی بلکہ صرف تفاوت طول غربی معتبر ہو، یعنی جس کا طول غربی اس شہر سے یک ماہہ راہ یعنی ۸ درجے ۸ا دقیقے ہو وہاں کی رؤیت 

معتبر ہو، مگر بنے گی یہ بھی نہیں کہ تفاوتِ عرض بھی قطعاً اختلافِ رؤیت لاتا ہے جس کے بعض وجوہ کی طرف ابھی اشارہ ہوچکا تو اُس کا نظر سے اسقاط نا ممکن، تفاوت عرض سے یہاں تک تو ہوگا کہ ایک شہر میں ہلال مرئی ہو اور دوسرے شہر میں چاند اس وقت زیرِ زمین جاچکا ہو رؤیت و عدمِ رؤیت ہلال تو بالائے طاق رہی، غرض یُوں بھی ٹھیک نہیں آتی ، اور حقیقتِ امر یہ ہے کہ تحدید کرنے والوں نے محض سرسری طور پر ایک حد کہہ دی تنقیح پر آئیے تو قیامت تک وُہ خود اس کی حد بست نہ کرسکیں گے۔
ثا لثاًاس سب سے قطع نظر کیجئے تو اب ہمارا وُہ سوال متوجہ ہے کہ اس اعتبار اختلاف سے کیامراد، آیا دو۲ شہروں کا ایسا فصل کہ چاند جب اک میں مرئی ہوتو دوسرے میں رؤیت ہمیشہ ناممکن ہو، یہ وہ اختلافِ مطالع ہے جسے معتبر مانتے ہیں یا صرف ایسا فصل کہ ایک میں رؤیت ہونے کے ساتھ دوسرے میں رؤیت نہ ہونا ممکن ہویہ معتبر ہے، بالجملہ بنظر فاصلہ بلدین دوسرے شہر میں عدمِ امکان چاہئے یا امکان عدم، اوّل تو یقینا باطل ہے دنیا میں کوئی فاصلہ ایسا نہیں کہ ایک جگہ ۲۹ کی رؤیت کو صرف نظر بفصل مسافت بے لحاظ خصوص حال ہلال حال دوسری جگہ محال کرتاہو، اختلاف معتبر ماننے والوں نے بڑی حد یک ماہہ راہ بتائی، اور انہیں بھی انکار نہیں ہوسکتا کہ ہزارہا بار یہاں بھی۲۹ کا چاند ہُوا اور یہاں سے مہینوں راہ کے فاصلے پر بھی ہُوا بلکہ جب یہاں ۲۹کا ہوتو اس عرض میں غرب کو جتنا بڑھیے بدرجہ اولیٰ۲۹ ہی کا ہوگا تو بالضرورۃ ثانی ہی مقصود اور اب بالیقین راہِ تحدید مسدود، مہینے بھر کی راہ تو بہت ہے، ۲۴فرسخ کا فاصل جس پر تاج تبریزی نے ادعا کیا کہ اس سے کم ہیں اختلاف ممکن نہیں، اور علّامہ شامی نے براہِ تحسینِ ظن فرمایا کہ اُن کا یہ دعویٰ قواعد فلکیہ پر ہی مبنی ہوگا۔
اقول ہرگز قواعد فلکیہ اس عدمِ امکان کے ساتھ مساعد نہیں بلکہ صراحۃً اس کا رد کرتے ہیں، ایک درجہ زمین یقینا ۲۴ فرسنگ سے کم ہے کہ یہ ۶۹ میل ہے اور وہ بہتّر، مگر ایک درجے بلکہ اس سے کم فصل غربی پر بھی اختلافِ رؤیت ممکن، دربارہ ہلال  کہ کب صالح رؤیت ہوتا ہے اگر چہ اختلاف اقوال بکثرت ہے، اس میں دس قو ل تو اس وقت میرے پیش نظر ہیں جن کی وجہ وہی
ولوکان من عند غیراﷲ
 (اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا۔ت) ہے مگر متاخرین اہلِ ہیئت نے بعد تطاول تجارب جس پر استقرار رائے کیا، وہ یہ ہے کہ نیرین میں بُعد ،سوا دس۱۰ درجے سے زائد ہو اور بُعد معدل۱۰ سے کم نہ ہو۔ زیج سلطانی میں ہے:
اگر بُعدمعدل میان دہ درجہ ودوازدہ درجہ باشد وبُعد سوا،ازدہ بیش تر باشد ہلال بتواں دید باریک۱؎۔
بُعدِ معدل اگردس۱۰ اور بارہ درجہ کے درمیان ہواور بُعد،سوا دس۱۰درجہ سے زائد ہوتو چاند ایک بار دیکھا جاسکتا ہے(ت)
(۱؎ زیج سلطانی)
علامہ عبدالعلی برجندی شرح میں فرماتے ہیں:
تاہر دو شرط وجودنگیر وہلال مرئی نہ شود و متعارف درین زمان این ست۱؎۔
جب تک یہ دونوں شرطیں نہ پائی جائیں چاند نظر نہیں آسکتا اور اس زمانہ میں یہی متعارف ہے(ت)
 (۱؎ شرح زیج سلطانی لعبد العلی البرجندی)
اب فرض کیجئے کہ یہاں وقتِ غروب بعد سوا،ط حہ لظ یعنی دس درجے سے ایک دقیقہ کم تھا تو ہلال قابل رؤیت نہ تھا اور ایک درجہ حرکت وسطی۴دقیقہ میں ہے اور اس مدّت میں سبق قمر تقریباً دودقیقے بلکہ کبھی اس سے بھی زائد ہے توجب قمر اس شہر سے ایک درجہ بلکہ کم فاصلے کے مقام رؤیت پر آیا بُعد دس درجے سے زائد ہوگیا اوررؤیت ہوگئی، اسی طرح ارتفاعِ قمر وغیرہ اختلاف کے ذرائع سے بھی تقریر مدعا ممکن، تو ثابت ہوا کہ ۲۴ بلکہ ۲۳ فرسخ سے کم بھی اختلاف ممکن ہے، اب کوئی راہ نہ رہی سوااس کے کہ حد اصلاً نہ باندھئے بلکہ یا تو ہمیشہ ہر جگہ ہر ماہ کے لیے خصوص حال ہلال، حال ومحال استہلال پر نظر کیجئے یا مطلقاً کہہ دیجئے کہ ایک شہر کی رؤیت دوسرے کے لیے اصلاً معتبر نہیں اگر چہ ۲۴ فرسخ سے بھی کم فاصلہ ہو، ثانی تو بالاجماع مردود ہے اختلاف معتبر ماننے والے بھی ایسے عموم و اطلاق کے ہر گز قائل نہیں،ا ور اوّل کی طرف راہ نہیں، مگر انہیں حسابات دقیقہ طویلہ مرئی و عرض مرئی وانکسار اُفقی اختلاف منظر افقی و تعدیل الغروب وبُعد معدل وغیرہا کے ذرائع سے جن کے بعد بھی بہت اوقات سواظن وتخمین کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ یہ وہی محاسبات ہیں جن کو شریعتِ مطہرہ دربارہ ہلال یک لخت ساقط و باطل فرماچکی، تو بحمد اﷲتعالیٰ نہ ہلال روشن بلکہ آفتاب پردہ برافگن کی طرح آشکار اہُواکہ اختلاف مطالع معتبر ماننا ہی خلافِ تحقیق تھا اور یہ کہ وہ مؤید بحدیث نہیں بلکہ وہی حدیث مجمع علیہ کے ارشاد واجب الانقیاد سے دُور وسحیق تھا اور یہ کہ نہ صرف رمضان وشوال بلکہ کسی مہینے میں شرع مطہر اُس کی طرف اصلاً دعوت نہیں فرماتی اور یہ کہ ہمارے ائمہ کا مذہب مہذب اس اعلیٰ درجہ تدقیق انیق پر  ہوتا ہے کہ مدعیانِ تحقیق تک اس کی ہوا بھی نہیں آتی
ھکذا ینبغی التحقیق واﷲتعالیٰ ولی التوفیق
 ( تحقیق یُوں ہی ہونی چاہئے اور توفیق کا مالک اﷲ ہے۔ت) کیاا نہیں معلوم نہ تھا اختلاف مطالع ہوتاہے، ضرور معلوم تھا، مگر ساتھ ہی یہ بھی جانتے تھے کہ اسکا فتح باب اسی حساب ناقص النصاب کی طرف کھینچ کرلے جائے گا، جسے مصطفی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم رَد فرما چکے ہیں، لاجرم صاف فرمادیا کہ اختلاف مطالع اصلاً معتبر نہیں
ان اﷲامدہ لرؤیتہ۲؎
احق تعالیٰ نے مدار رؤیت پر رکھا ہے،
 (۲؎صحیح مسلم     کتاب الصیام     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۳۴۹)
اگر رؤیت ثبو ت شرعی سے ثابت ہے اگر چہ کتناہی فاصلہ ہو، اور نہیں تو نہیں اگر چہ کتنا ہی قریب ہو،اور یہیں سے ظاہر 

ہو اکہ دربارہ  صلوات اختلافِ مطالع پر اس کا قیا س محض مع الفارق ہے حساب طلوع و غروب و صبح وشفق ومثل اول وثانی واضحاک جلیلہ و منضبطات کلیہ ہیں بخلاف حساباتِ رؤیت ہلال کہ قدمائے اہل ہیئت نے اپنے بوتے کا روگ نہ پا کر سرے سے اس کی طرف  التفات ہی نہ کیا اور متاخرین نے ہزار اضطراب واختلاف کے بعد آخرعلّامہ برجندی کی طرح لکھ دیا کہ،
بالجملہ ضبط آں برسبیل تحقیق متعسر ست بلکہ متعذر
 ( رؤیت ہلال کا تحقیقی ضابطہ انتہائی مشکل اور متعذر ہے۔ت) اور یہیں سے ظاہر ہُوا کہ یک ماہہ راہ پر اختلافِ مطالع کو بحسبِ قواعد مبرہنہ علمِ ہیئت ماننا جیسا کہ مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی سے اپنے فتاوٰی جلد اول طبع اول ص۳۰۹ پر واقع ہوا، محض قلتِ تدبّر سے ناشئی تھا، نیز ہماری تقریر سے ظاہر ہُوا کہ اختلافِ مطالع کے یہ معنی قرار دینا کہ ایک شہر میں رؤیت ہو سکتی ہے دُوسرے میں نہیں جیسا کہ اُنہیں سے اُسی صفحہ پر واقع ہوا، محض باطل ہے یہاں ہرگز امکان وامتناع کا اختلاف نہیں بلکہ وقوع وامکان عدم کا،
کما اوضحناسابقا
 (جیساکہ سابقہ گفتگو میں ہم نے اسے واضح کردیا ہے۔ت)خود مولوی صاحب مذکور نے اسی فتوے کے آخرمیں صفحہ ۳۱۰پر حق کی طرف رجوع کرکے اختلافِ مطالع کے معنی یُوں لکھے:'' یہ ممکن ہے کہ ایک جگہ ہلال دیکھا جائے اور دوسری جگہ نہیں۔'' یہ عبارت پھر بھی متحمل ہے، جلد دوم ص۱۴۷ پر صاف تر لکھا:'' اگردو شہروں میں اس قدر بُعد مسافت ہے کہ اختلاف مطالع ہوتا ہے اور یہ ہوسکتا ہے کہ ایک جگہ طلوع ہلال ہواور دوسری جگہ اس روز نہ ہو۔''اور ایک امام زیلعی کے ''اشبہ'' لکھ دینے پر مولوی صاحب مذکور کا فرمانا کہ'' یہی مذہب محدثین حنفیہ کا ہے'' محض دعوٰی ہے، زیلعی صاحبِ مذہب نہیں نہ محدثینِ حنفیہ ان میں منحصر، ابو حنیفہ و ابو یوسف و محمد رضی اﷲتعالیٰ عنہم کے برابر کون سے محدثین ہوں گے جن کا مذہب عدم اعتبار اختلاف مطالع ہے، اور محدثی اگر محدثین ومتاخرین ہی سے خالص ہے تو بالغ مرتبہ اجتہاد امام ابن الہمام کیا کم محدث ہیں،جو فرماچکے کہ، ظاہرالروایۃ ہی پر عمل احوط ہے۔رہی حدیث کریب کہ انہوں نے ملک شام میں رمضان مبارک کا چاند شبِ جمعہ کو دیکھا پھر مدینہ طیبہ میں عبداﷲبن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے آکر بیان کیا انہوں نے فرمایاہم نے شب شنبہ میں دیکھا تو ہم اپنے ہی حساب سے ۳۰ پُورے کریں گے، کریب نے کہا کیا آپ امیر معاویہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ کی رؤیت و حکم پر اکتفا نہ کرینگے فرمایا:
لا، ھکذاامرنا رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم۱؎
 (نہیں، رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیں یہی حکم دیا۔ت)
 (۱؎ جامع ترمذی         ابواب الصیام     امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی     ۱ /۸۷)
جس سے امام زیلعی نے استناد  کیااور اس کی بناپر مولوی صاحب مذکور نے اسے موافقِ حدیث بتایا۔اقول حدیث مذکور
واقعۃ عین لاعموم لھا
 ( یہ ایک خاص واقعہ ہے اس کا حکم عمومی نہیں۔ت) بحال صفائے مطلع بکثرت ائمہ ایک کی گواہی نہیں مانتے ممکن کہ ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما نے اسی بنا پر نہ مانی ہو ، اور امیرمعاویہ رضی اﷲتعالٰی عنہ کا حکم تو بے نصاب شہادت ثابت ہوہی نہ سکتا تھا، تنویر میں ہے:
شھد واانہ شھد عند قاضی مصرکذاالخ۱؎
گواہوں نے کہا کہ انہوں نے قاضیِ شہر کے پاس اس طرح گواہی دی ہے الخ(ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الصوم     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۴۹)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ شھدوا' من اطلاق الجمع علٰی مافوق الواحد وفی بعض النسخ شھدابضمیر التثنیۃ وھو اولٰی۲؎۔
قولہ ''شھدوا'' یہاں جمع کا اطلاق ایک سے زائد پر ہے، بعض نسخوں میں ضمیر تثنیہ کے ساتھ شھدا ہے اور یہی اولیٰ ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار  کتاب الصوم        مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۰۲)
Flag Counter