ہفتم: اس ایجادی اختراعی حکم کی یہ تعلیل'' کیونکہ با لضرور دنیا میں اس روز چاند ہوا ہوگا'' اس بالضرور پر کیا دلیل ، خود ہی اشتہار میں درمختارو شرح مجمع عینی سے اتنا نقل کیا کہ:
لجواز تحقق الرؤیۃ فی بلدۃ اخری۳؎
(کیونکہ دوسرے شہر میں رؤیت کا ثبوت ہوسکتا ہے۔ت)نہ کہ
لوجوب وقوع الرؤیۃ فی مکان من الدنیا
(دنیاکے کسی گوشے میں رؤیت کا وقوع واجب و لازم ۔ت)
(۳؎ درمختار ،کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۷)
ہشتم: اگر ہر ۲۹ کو کہیں نہ کہیں رؤیت ہونی ضرور ہوتو عدم اعتبار اختلاف مطالع پر کہ ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲتعالٰی عنہم کا وہی مذہب ہے اور اسی پر فتوٰی اور اسی پر اعتماد ہے ہمیشہ رمضان ۲۹ ہی دن کا ہونا لازم ہو کہ با لضرور دنیا میں چاند ہوا ہوگا اور اختلافِ مطالع معتبر نہیں حالانکہ یہ اجماعِ اُمّت و نصوص صریحہ کے خلاف ہے۔
نہم: جب بالضرورۃ کہیں نہ کہیں رؤیت ہونی معلوم،تو ائمہ کا ارشاد کہ ثبوتِ شرعی مثل شہادت و استفاضہ شرعیہ سے دوسری جگہ رؤیت ہونی ثانت ہوتو ہم پر لازم ہوگا ورنہ نہیں
کما نص علیہ فی الدرالمختار وسائر الاسفار
( جیسا کہ درمختار اور دیگر کتب میں اس پر تصریح ہے۔ت) محض لغو ومہمل بلکہ غلط و باطل ہو، کہ جب یقینا دوسری جگہ وقوعِ رؤیت معلوم ہے تو یقین سے زیادہ اور کون سا ثبوت چاہئے، کیا ضروریات کے لیے بھی گواہی کی حاجت ہے افسوس کہ علماء نے طریق موجب شرعی سے مقید کیا، اشتہاری فتوٰی دیکھتے تو معلوم ہوتا کہ خود ہی بالضرور ثابت ہے
ولاحول ولا قوۃ الّا باﷲالعلی العظیم۔
دہم: اب یہ تعلیل عجب ہوگی کہ خود مدعا کا ابطال محض کرے گی، جب بالضرورت رؤیت معلوم تو جو لوگ اختلافِ مطالع کا اعتبار نہیں کرتے ان کے نزدیک یہ یوم الشک کدھر سے آیا بلکہ یقین یوم الیقین ہے اورروزہ جائز ہونا کیا معنی، بلکہ فرض ہونا چاہئے کہ یقینا رمضان ہے، بالجملہ ہر ۲۹ کو کہیں نہ کہیں رؤیت ضروری و لازم مان لینا معاذاﷲ ائمہ کرام کو مخالفِ اجماعِ مسلمین و مخالفِ نصوص قاطعہ و مجانین قرار دینا ہے جس پر راضی نہ ہوگا مگر بد دین یا مجنون، ہاں احتمال کہئے، پھر اگر ہوا تو یوم الشک ہوا اور یوم الشک کا روزہ جائز نہیں، پھرجواز کدھرسے آیا۔
یازدہم :رمضان و فطر میں اعتبار اختلاف مطالع کو قول محققین حنفیہ و محدثین مذہب و مجتہدین روایات فقہیہ قرار دینا محض غلط تہمت ہے بلکہ اُس کا عدمِ اعتبار ہی ہمارے ائمہ کرام ومجتہدینِ عظام رضی اﷲتعالیٰ عنہم کا مذہب ہے اور اسی پر فتوٰی ہے، اور اسی پر جمہور، اور یہی احوط و اقوی من حیث الدلیل، تو بوجوہ کثیرہ اسی پر عمل واجب، اوراس سے عدول ہرگز جائز نہیں ۔ تنویرالابصار ودرمختار وبحرالرائق وفتاوٰی خلاصہ وغیرہ میں ہے:
اختلاف المطالع غیر معتبر علی ظاھر المذہب و علیہ اکثر المشائخ وعلیہ الفتوی۱؎۔
ظاہر مذہب پر اختلاف مطالع کا اعتبار نہیں، اکثر مشائخ کی یہی رائے ہے اور اسی پر فتوٰی ہے(ت)
(۱؎ درمختار ،کتا ب الصوم،مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ /۱۴۹)
ردالمحتار میں ہے:
ھو المعتمد عندنا عند المالکیۃ و الحنابلۃ۲؎۔
ہمارے، مالکیہ اور حنابلہ کے ہاں یہی معتمد ہے(ت)
(۲؎ردالمحتار کتا ب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۱۰۵)
فتح القدیر میں ہے:
الاخذ بظاھر الروایۃ احوط ۳؎
( ظاہر الروایۃ پر عمل احوط ہے۔ت)
(۳؎ فتح القدیر ، کتا ب الصوم،نوریہ رضویہ سکھر ،۲ /۲۴۳)
بحرالرائق میں ہے:
الاحتیاط، العمل باقوی الدلیلین ۴؎
( دونوں دلیلوں سے قوی پر عمل بہتر ہے۔ت)
(۴؎ ردالمحتار بحوالہ النہر خطبہ کتاب مصطفی البابی مصر ۱ /۵۴)
عقود الدریہ میں ہے:
العمل بما علیہ الاکثر ۱؎
( عمل اس پر کیا جائے جس پر اکثر ہوں۔ت)
(۱؎ عقود الدریۃ ، مسائل وفوائد شتٰی من الحظر والاباحۃ حاجی عبد الغفار و پسران قندھار افغانستان ۲ /۳۵۶)
فتاوٰی خیریہ میں ہے:
صرحو ابہ ان ماخرج عن ظاھرالروایۃ لیس مذھبا لابی حنیفۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ ولاقولاً لہ۲؎۔
فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے کہ ظاہر الروایۃ سے جو خارج ہے وُہ نہ تو امام ابو حنیفہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ کا مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی قول (ت)
(۲؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۵۲)
بحر میں ہے:
ما خرج عن ظاھرالروایۃفھو مرجوع عنہ والمرجوع عنہ لم یبق قولالہ۳؎۔(ملخصاً)
جو ظاہرالروایۃ سے خارج ہو وہ قول مرجوع عنہ ہوتا ہے اور مرجوع عنہ آپ (امام اعظم) کا قول نہیں ہوتا۔(ت)
(۳؎ بحرالرائق کتاب القضاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۲۷۰)
شامی میں ہے:
ماخالف ظاھرالروایۃ لیس مذھباً لاصحابنا۴؎۔
جو قول ظاہر الروایۃ کے خلاف ہو وہ ہمارے اصحاب کا مذہب نہیں ہوتا(ت)
(۴؎ ردالمحتار کتاب احیاء الموات، داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۷۸)
اسی میں ہے:
العمل بما علیہ الفتوی ۵؎
( جس پر فتوٰی ہو اس پر عمل کیا جائے۔ت)
(۵؎ ردالمحتار باب صدقۃ الفطر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۷۸)
تو ان تمام عظیم قولو ں کے خلاف دو ایک متاخرین علماء کا قول خلاف کو اشبہ کہہ دینا کیا شبہ ڈال سکتا یا کیا قابلِ التفات ہوسکتا ہے، درمختار میں ہے:
الحکم والفتیا بالقول المرجوح جہل وخرق للاجماع۶؎۔
قول مرجوح پر فیصلہ اور فتوٰی محض جہالت اور اجماع کی مخالفت ہے(ت)
(۶؎ درمختار مقدمہ کتاب ، مجتبائی دہلی ، ۱ /۱۵)
ردالمحتار میں ہے۔
کقول محمد مع وجود قول ابی یوسف اذا لم یصح او یقووجھہ واولی من ھذا بالبطلان ،الافتاء بخلاف ظاھر الروایۃ اذا لم یصحح والافتاء بالقول المرجوع عنہ۱؎ اھ۔
جیسا کہ امام محمد کا قول امام ابو یوسف کا قول کی موجودگی میں جبکہ اس کی تصحیح نہ کی گئی ہویا اس کی دلیل قوی نہ ہو اور اولیٰ بالبطلان ہے ظاہرالروایۃ کے مخالف پر فتوٰی دینا جبکہ اس کی تصحیح نہ کی گئی ہو اور اسی طرح قول مرجوع عنہ پر فتوٰی دینا ہے اھ(ت)
(۱؎ ردالمحتار مقدمہ کتاب مطلب لایجوز العمل بالضعیف حتی لنفسہٖ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۵)
دوازدہم اقول:وبا ﷲالتوفیق ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲتعالیٰ عنہم جس پر عرش تحقیق مستقر فرمائیں وُہ ایسا نہیں ہوتا کہ اس کے ارکان کسی کے متزلزل کئے متزلزل ہوجائیں، رؤیت ہلال میں اختلافِ مطالع معتبر ماننے والے ذرا سمجھ کر بتائیں کہ اس اعتبار سے کیا مراد، اور وہ کتنی مسافت ہے جس میں اختلافِ مطالع معتبر ہوگا:
اوّلاً اس کے قائلین اس بارے میں خود مختلف ہیں اور مختلف بھی اتنے کہ آٹھ گنـــے کا فرق، جواہر ولباب وغیرہما میں اُسے ایک مہینہ کی راہ سے مقدر کیا، روزانہ بارہ کو س کی منزل معتاد کے لحاظ سے از انجا کہ میل یہاں کے کوسوں کا ۵/۸ ہے ۲ء۱۹ میل مسافت یکروزہ ہوئی اور مہینہ بھر کی راہ ۵۷۶ میل جس کے ۹۲ ا فر سخ ہُوئے، جواہر میں اس تحدید پر قصہ سید نا سلیمان علیہ الصّلوٰۃ والسلام سے استدلال کیا:
غدوھا شھر ورواحھا شھر ۲؎
اس کی صبح کی منزل ایک مہینہ کی راہ اور شام کی منزل ایک مہینہ کی راہ۔
قال فانہ قد انتقل کل غدوورواح من اقلیم الٰی اقلیم وبین کل منھما مسیرۃ شہر۳؎۔
فرمایا وہ ہر صبح و شام ایک اقلیم سے دوسرے اقلیم کی طرف تشریف لے جاتے اور ان کے درمیان ایک ماہ کی مسافت ہوتی۔(ت)
(۲؎ القرآن ۳۴ /۱۲)(۳؎تنبیہ الغافل والوسنان عن رسائل ابن عابدین بحوالہ القہستانی عن الجواہر سہیل اکیڈمی لاہور ۱/۲۵۰)
یہ دلیل جیسی ہے رُویش ببیں و حالت بپرس( اس کا چہرہ دیکھو اور اس کا حال پوچھو۔ت) ولہذا ایقاظ الوسنان میں اسے نقل کرکے کہا:
فی دلالۃ القصۃ علٰی ذٰلک نظر۴؎
( اس مسئلہ پر واقعہ کی دلالت محلِ نظر ہے۔ت)
(۴؎ تنبیہ الغافل والوسنان عن رسائل ابن عابدین بحوالہ القہستانی عن الجواہر، سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۲۵۰)
ردالمحتارمیں فرمایا:
لایخفی مافی ھذاالاستدلال۱؎
(اس استدلال میں جو نظر ہے ہو مخفی نہیں۔ت)
(۱؎ ردالمحتار مطلب فی اختلاف المطالع مصطفی البابی مصر ۲ /۱۰۵)
تاج تبریزی نے کہا: بہّتر میل سے کم میں اختلاف مطالع ممکن نہیں۔ علامہ رملی شافعی نے شرح منہاج میں اسی کو اختیار کیا اور اسی پر اپنے والد کا فتوٰی بتایا۔ ایقاظ الوسنان میں اسی کو اولٰی کہا،
حیث قال فالاول ای ماذکر التاج من ان اختلاف المطالع لایمکن فی اقل من اربعۃ و عشرین فر سخااولی لان الظاھر من قولہ لا یمکن الخ انہ قدرہ بالقواعد الفلکیۃ ولا مانع من اعتبارھا ھٰھنا کاعتبار ھا فی اوقات الصلٰوۃ۲؎۔
الفاظ یہ ہیں کہ پہلا قول کہ تاج تبریزی نے جو ذکر کیا کہ اختلاف مطالع چوبیس فرسخ سے کم ممکن نہیں اولٰی ہے کیونکہ یہ ان کے قول لایمکن الخ سے ظاہر یہ ہے کہ انہوں نے قواعد فلکیہ سے اندازہ لگایا ہے اوراس مقام پر ان کا اعتبار کرنے میں کوئی مانع نہیں جیسا کہ اوقاتِ نماز میں ان کااعتبار ہے۔(ت)
(۲؎ تنبیہ الغافل والو سنان من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۲۵۰)
کہاں چوبیس ۲۴ کہاں ایک سوبانوے۱۹۲، پُورے آٹھ گُنے کا فرق ہے، اور ضرور ہونا تھا کہ ائمہ مجتہدین کا نورِ علم اس کے ساتھ نہیں،
ولوکان من عند غیراﷲلوجد وافیہ اختلافا کثیرا۳؎۔
اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے۔(ت)