سوم: رمضان مبارک میں بحال صفائی مطلع ایک ثقہ کی گواہی مطلقاً رَد کر دینا مذہب منقح کے خلاف ہے بلکہ وہ بتصریح محرر مذہب امام محمد رحمہ اﷲتعالیٰ اس حالت سے مقید ہے جبکہ اس اکیلے کا رؤیت سے تفرد خلاف ظاہرہو ورنہ اگر بیرون شہر سے آیا اور اہلِ شہر نے نہ دیکھا یا یہ بلندی پر تھا اور لوگ زمین پر، یا لوگوں نے تلاشِ ہلال میں کوشش نہ کی تو صفائے مطلع میں بھی ایک کی شہادت ظاہرالروایۃ مصححہ معتمدہ منقحہ پر مقبول ہے۔
درمختار میں ہے:
صحح فی الاقضیہ، الاکتفاء بواحد، ان جاء بخارج البلد اوکان علی مکان مرتفع واختارہ ظہیرالدین۱؎۔
کتاب الاقضیہ میں اس بات کی تصحیح ہے کہ ایک گواہ پر اکتفاء درست ہے جبکہ وہ بیرون شہر سےآیا ہو یا وُہ کسی جگہ بلند پر ہو، اور ظہیرالدین نے اسی کو مختار کہاہے۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۸)
ردالمحتار میں ہے:
واعتمدہ فی الفتاوی الصغری ایضا وھو قول الطحاوی واشارالیہ الامام محمد فی کتاب الاستحسان من الاصل قال فی النھایۃ اذاجاء من خارج المصر اوکان فی موضع مرتفع فانہ یقبل عندنا اھ فقولہ عندنا یدل علٰی انہ قول ائمتناالثلثۃ رضی اﷲتعالٰی عنھم وقد جزم بہ فی المحیط وعبر عن مقابلہ بقیل ففیہ التصریح بانہ ظاھرالروایۃ وھو کذلک، ویظھر لی ان لامنافاۃ بینھما لان روایۃ اشتراط الجمع العظیم محمولۃ علٰی مااذاکان الشاھد من المصرفی مکان غیر مرتفع فتکون الروایۃ الثانیۃ مقیدۃ لاطلاق الروایۃ الاولٰی الخ اھ باختصار۲؎۔
فتاوٰی صغریٰ میں بھی اسی پر اعتماد کیا ہے اور یہی امام طحاوی کا قول ہے، امام محمدکی اصل کتاب الاستحسان میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے، فرمایا: نہایہ میں ہے جب گواہ بیرونِ شہر سے آیا ہو وہ کسی بلند جگہ پر ہو تو ہمارے نزدیک اس کی گواہی مقبول ہوگی اھ نہایہ کا عندنا یہ واضح کررہا ہے کہ یہ تینوں ائمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہم کا قول ہے۔ محیط میں اس پر جزم ہے اور اس کے مقابل قول''قیل'' سے ذکر کیا اور اس میں تصریح ہے کہ یہ ظاہرالروایت ہے، اور وُہ اسی طرح ہے، میرے نزدیک ان روایات میں کوئی منافات نہیں کیونکہ یہ روایت کہ جم عظیم کا ہونا ضروری ہے، یہ اس صورت پر محمول ہے جب گواہ شہری بلند جگہ والا نہ ہو، تواب دوسری روایت پہلی مطلق روایت کے لیے مقید بن جائے گی الخ اھ اختصاراً(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۱۰۱)
یہاں تین۳ روایتیں ہیں اور تینوں مصححہ، اور تینوں ظاہرالروایۃ ہیں، اور فقیر نے اپنی تعلیقات حاشیہ شامی میں بیان کیا ہے کہ وُہ سب اپنے اپنے محامل پر مقبولہ معمولہ ہیں، اور فقہ میں بڑا کام یہی قول منقح کا ادراک ہے وباﷲ التوفیق۔
چہارم :جب رمضان دو۲عادلوں کی شہا دت سے ثابت ہُوا ہو اور ۳۰ روزوں کے بعد اکتیسویں شب باوصف صفائے مطلع ہلال نظر نہ آئے تو علماء کو اختلافِ شدید ہے ایسی نادر صورت کے ذکر کی اشتہار میں حاجت نہ تھی، اورذکر ہوا تومذہب مفتی بہ کا اتباع ضرور تھا اوریہاں مفتی بہ یہی ہے جس کے ضعف کی طرف اشتہار میں اشعار کیا یعنی عید کرلی جائے اگر چہ چاند نظر نہ آئے، بلکہ علامہ نوح نے فرمایا کہ یہی مذہب ہمارے ائمہ ثلاثہ رضی اﷲتعالیٰ عنہم کا ہے، اور دوسرا قول کہ ۳۱ روزے رکھے جائیں صرف بعض مشائخ کا ہے تو اس تقدیر پر تو وُہ اصلاً قابلِ لحاظ نہ رہا۔ تنویرالابصار میں ہے:
بعد صوم ثلثین عدلین حل الفطر۱؎۔
تیس روزوں کے بعد دو۲ عادل گواہوں کی شہادت پر عید الفطر جائز ہوتی ہے(ت)
(۱؎درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۹)
ردالمحتار میں ہے:
ای اتفاقاان کانت لیلۃ حادی والثلثین متغیمۃ وکذا لومصحیۃ علی ماصححہ فی الدرایۃ والخلاصۃ والبزازیۃ۲؎۔
یعنی یہ جواز بالاتفاق ہے جب اکتیسویں رات مطلع ابر آلود ہو اوردرایہ،خلاصہ اور بزازیہ کی تصحیح کے مطابق اگر مطلع ابر آلود نہ بھی ہوتب بھی یہی حکم ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۱۰۲)
اسی میں ہے:
ونقل العلامۃ نوح الاتفاق علی حل الفطر فی الثانیۃ ایضاعن البدائع والسراج والجوھرۃ قال والمراد اتفاق ائمتنا الثلثۃ وما حکی فیھا من الخلاف انما ھو لبعض المشائخ، قلت وفی الفیض، الفتوی علی حل الفطر۳؎۔
علامہ نوح نے بدائع، سراج اور جوہرہ سے نقل کیا کہ دوسری صورت (جب اکتیسویں رات مطلع ابر آلودنہ ہو)میں بھی جواز عید الفطر پر بھی اتفاق ہے اور پھر کہایہاں اتفاق سے مراد ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق ہے اور اس میں جو اختلاف منقول ہے وُہ بعض مشائخ کا ہے ۔میں کہتا ہُوں فیض میں ہے فتوٰی جواز فطر پر ہے(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۱۰۲)
مذہب مفتی بہ بلکہ اپنے تمام ائمہ کے مذہب صحیح و معتمد کو ضعیف بتانا اور اُس کے مقابل بعض مشائخ کے قول پر اعتماد کرنا بحکم درمختار وتصحیح القدوری وغیرہما جہل و خرقِ اجماع ہے۔
پنجم :۳۰ شعبان کو مطلع صاف ہونے کے ساتھ یو مِ شک کی تخصیص محض باطل ہے بلکہ مطلع صاف نہ ہو تو ۲۹ شعبان کے بعد کا دن بالاتفاق یوم الشک ہے اور بہ نیتِ رمضان اس کا روزہ رکھنا ممنوع، اختلاف اگر ہے تو اس میں ہے کہ بحال صفائے مطلع بھی ۳۰ شعبان یوم الشک ہے یا نہیں، معراج الدرایہ شرح ہدایہ و مجتبیٰ شرح قدوری و جامع الرموز شرح نقایہ میں تصریح کی کہ وہ اصلاً یوم الشک نہیں، اور درمختار میں بحوالہ شرح مجمع العینی زاہدی سے نقل کیا کہ بربنائے عدمِ اعتبار اختلاف مطالع وہ بھی یوم الشک ہےکہ شاید کہیں اور رؤیت ہوئی ہو، ردالمحتار میں ہے:
القھستانی قیدہ بما اذا غم فلو مصحیۃ ولم یراحد فلیس بیوم شک اھ ومثلہ فی المعراج عن المجتبٰی۱؎۔
قہستانی نے اسے اس صورت کے ساتھ مقید کیا جب مطلع ابر آلود ہو، اگر مطلع ابر آلود نہ ہوا ور کسی نے چاند بھی نہ دیکھا ہوتو یہ یومِ شک نہ ہوگا اھ معراج میں مجتبیٰ کے حوالے سے اسی طرح منقول ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۹۵)
درمختار میں ہے:
ھو یوم الثلثین من شعبان وان لم یکن علۃ ای علی القول لعدم اعتبار اختلاف المطالع لجواز تحقق الرؤیۃ فی بلدۃ اخری، شرح المجمع للعینی عن الزاھدی ۲؎۔
یومِ شک شعبان کا تیسواں دن ہوگا اگرچہ علّت نہ ہو (یعنی مطلع صاف ہو) یعنی اس قول پر جس میں اختلافِ مطالع کا اعتبار نہیں کیونکہ کسی دوسرے شہر میں رؤیت کا ثبوت ہوسکتا ہے۔ یہ امام عینی کی شرح المجمع میں زاہدی کے حوالے سے منقول ہے۔(ت)
(۲؎درمختار کتاب الصوم مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۷)
اقول :تو کلام زاہدی مضطرب ہوا اور کلام معراج معارض سے سالم رہا اور اُسی کے مثل تبیین الحقائق وغیرہ معتمدات میں ہے اور وہی اظہر وازہر ہے کہ شک استوائے طرفین کی حالت ہے۔یہی بحرالرائق میں ہے:
ھو استوا طرفی الادراک من النفی والاثبات۳؎۔
نفی واثبات کے ادراک کی دونوں اطراف کے برابر ہونے میں شک ہے(ت)
(۳؎بحرالرائق کتاب الصوم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۴۶)
اور جبکہ مطلع صاف ہواور چاند اصلاًنظر نہ آئے تو صرف اس احتمال بعید پر کہ شاید کہیں اور سے رؤیت کا ثبوت آجائے شک متحقق ہونا کس درجہ بعید ہے۔
فان مجرد الرؤیۃ بلدۃ اخری لا یلزمنا مالم تثبت بطریق شرعی وھو احتمال لاعن دلیل فلا یعارض الظن الحاصل من استقراء الحس الصحیح فی المرای الصریح فافھم۔
محض دوسرے شہر میں دیکھ لینا ہمارے لیے لزوم کو کافی نہیں جب تک طریقِ شرعی سے اس کا ثبوت نہ ہو، یہ تو بغیر دلیل محض احتمال ہے، اب یہ اس ظن کے مقابل و معارض کیسے ہوسکتا ہے جو حس صحیحہ سے رؤیت صحیحہ میں حاصل ہوتا ہے غور کرو(ت)
ششم: یہ کہنا کہ جو لوگ اختلاف مطالع کا اعتبار نہیں کرتے اُن کے قول پر روزہ شک کا جائز ہونا چاہئے سخت عجیب، اور دونوں قول سے مخالف وغیر مصیب ہے ۳۰ شعبان کو جب رؤیت نہ ہو تو اس میں ہرگز اختلاف قولین نہیں کہ اُس دن روزہ رمضان رکھنا گناہ ہے، اختلاف علت حکم میں ہے، جو بحال صفائے مطلع اُسے یوم الشک نہ قرار دیں، اُن کے نزدیک اس لیے کہ
لاتقدمو ارمضان بصوم یوم ولایومین
(رمضان سے پہلے ایک یا دو دن روزہ نہ رکھو۔ت)، خود اشتہار میں درمختار سے نقل کیا:
اما علی مقابلہ فلیس بشک ولا یصام اصلا۱؎۔
اسکے مخالف قول پر یوم شک نہیں تو اب ہرگز روزہ نہ رکھا جائے گا۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۷)
ردالمحتار میں ہے:
ولایجوز صومہ ابتداء لا فرضا ولا نفلا۲؎۔
رمضان سے پہلے نہ فرضی روزہ رکھا جائے اور نہ نفلی(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۹۵)
اسی میں ہے:
لانہ احتیاط فی صومہ للخواص بخلاف یوم الشک۳؎۔
اس لیے کہ اس روزہ کے رکھنے میں خواص کے لیے کچھ احتیاط نہیں بخلاف یومِ شک کے۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الصوم ۲/ ۹۶-۹۵)
اور جو اس حال میں بھی یوم الشک کہیں ان کے نزدیک اس لیے کہ:
من صام یوم الشک فقد عصی اباالقاسم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم۱؎۔
جس نے یومِ شک کاروزہ رکھا اس نے حضور ابوالقاسم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔(ت)
(۱؎سنن ابی داؤد باب کراہیۃ صوم یوم الشک آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۹۶-۹۵)
درمختار میں ہے:
لایصام یوم الشک ھو یوم الثلثین من شعبان وان لم یکن علۃ، الاتطوعا ویکرہ غیرہ۲؎۔(ملخصا)
یومِ شک میں روزہ نہ رکھا جائے اور یہ شعبان کا تیسواں دن ہوسکتا ہے اگر چہ کوئی علت نہ ہو، ہاں نفلی روزہ رکھا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ مکروہ ہے(ت)