Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
131 - 198
 (۳) ان تمام اشکال کے بعد اس عمود کے حصّہ زیریں کے دونوں پہلوؤں پر نہایت تھوڑی دُور تک ایک خفیف بھوراپن خاکستری رنگ پیدا ہوتا ہے کہ کبھی تمیز میں آتا ہے اور معاً نگاہ کے نیچے سے نکل جاتا ہے اس طرز پر
10_6_2.jpg
اب یہ وہ وقت کہ صبح صادق اپنے رُخِ روشن سے نقاب اُٹھایا چاہتی ہے مگر ہنوز صبح نہیں کہ اُس کے لے تبیُّن شرط ہے اور یہ متبیّن نہیں:
 قال اﷲتعالٰی حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود من الفجر۱؎۔
اﷲتعالٰی کا ارشاد گرامی ہے: یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پَوپھٹ کر۔(ت)
 (۱؎القرآن ۲ /۱۷۸)
ان تمام حالتوں تک صبح کاذب ہی ہے اور نمازِ عشاء اور سحری کھانے کا وقت بالاتفاق باقی ہے۔

ۤ(۴) اس کے بعد وہ دونوں پہلو سپید ہوجاتے ہیں اگر چہ ان کی سپیدی مائل بہ تیرگی ہوتی ہے اور جنوباً شمالاً اس کا عرض بہت خفیف ہوتا ہے، اس وضع پر یہ ابتدائے صبح ہے اور اس وقت میں ہمارے مشائخ کرام کو اختلاف ہے: بعض نے اُسے صبح قرار دیا اور یہی احوط ہے، بعض نے
10_6_3.jpg
بلحاظ شرط استطارہ وانتشارا اسے بھی صبح کاذب کے حکم میں رکھا اور یہی اوسع ہے۔ ان جمیع حالتوں میں عمود کے تمام بالائی حصے کے آس پاس نری سیاہی ہوتی ہے۔

(۵) اس کے بعد دونوں پہلوؤں کی یہ سپیدی آناًفاناً جنوباً شمالاًپھیلناً شروع ہوتی ہے اور ایک خفیف دیر میں پھیل جاتی ہے۔ اس طور پر
10_6_4.jpg
یہ یقینی اجماعی صبح صادق ہے اور ہنوز وہ عمود بدستور باقی، اور اس کے تین طرف سیاہی ہوتی ہے مگر یہ سچی سپیدی جیسی جیسی جنوب شمال میں پھیلتی ہے ساتھ ہی نیچے سے اوپر چڑھتی جاتی ہے برعکس سپیدی کاذب کے کہ اوپر سے نیچے بڑھتی آتی تھی یہاں تک کہ اب وہ عمود سپید رفتہ رفتہ اس منتشر سپیدی میں گم ہوتے ہوتے فنا ہوجاتا ہے یعنی اُس کے اطراف کی ساری سیاہی کو سپیدی گھیر لیتی ہے اور اب اس عمود کی صورت متمیز نہیں رہتی ان صورتوں  پر
10_7_1.jpg
(۶)اب یہ سپیدی جس طرح آسمان پر بڑھی زمین کی جانب بھی متوجہ ہوتی اور صحن وبام کو روشن کر دیتی ہے یہ وقت اسفار ہے کہ نماز صبح کا مستحب وقت ہے اور اس پہلے اندھیرے میں پڑھنی خلافِ مستحب۔

(۷) جب آفتاب اور زیادہ قریبِ افق آتا ہے یہ سپیدی سُرخی لاتی ہے پھر سنہرا پن پھر چمکدار سپیدی اُس کے متصل طلوعِ آفتاب ہے، پانچویں شکل جو اجماعی صبح ہے اسے جانے دیجئے، تو چوتھی شکل بھی اس رمضان مبارک اور اس سے پہلے کے متعدد رمضانوں میں بریلی وشاہجہان پور میں تیسری شب کی صبح اُن گھڑیوں سے بھی جو پارسال تک حال کی گھڑیوں سے نومنٹ کم تھیں کبھی کسی دن ٹھیک پانچ بجے بھی نہ ہُوئی اور اخیر تاریخوں میں جو چاہے آزما کر دیکھ لے، سواپانچ بجے تک بھی ہرگزنہ ہوگی تو چار بج کر ۴۰منٹ پر روزہ نہ ہونے کا حکم کیونکہ صحیح ہوسکتا ہے تمیز کے لیے ایک اور پہچان گزارش کروں، آسمان پر چند کواکب سے ایک شکل حرف کاف بنتی ہے اس وضع پر
zz.jpg
یہ کاف آج کل پچھلی رات کو طالع ہوتا ہے اس سے ایک نیزے کے فاصلے پر ان دنوں بڑا روشن ستارہ زہرہ ہے، بریلی میں صبح کاذب کا عمودآج کل اس کاف کے الف یعنی حصہ و سطانی کے گرد ہوتا ہے اور زہرہ تک پھیلتا ہے پھر زہرہ کے دونوں پہلوؤں سے جنوب و شمال کو صبح صادق تجلی کرتی ہے اس شکل پر، اوقات کے متعلق تجلی کرتی ہے اس شکل پر،
10_7_2.jpg
 اوقات کے متعلق بیان سے فراغ ہوا۔ رہے مسائل مذکورہ اشتہار، ان میں بھی سخت اغلاط بشدت ہیں، مثلاً:اول ہلالِ رمضان بحال ابر وغبار ایک ثقہ کی گواہی شرط کرنی اس مذہب معتمد و ظاہر الروایۃ مصححہ کے خلاف ہے کہ اجلہ ائمہ مثل امام شمس الائمہ حلوانی وامام برہان الدین فرغانی واما م بزازی وغیرہم نے جس کی تصحیح فرمائی اور نظر بحال زمانہ اس پر اعتماد واجب ہے کہ یہاں شہادت مستور بھی مقبول ہے یعنی جس کا فسق معلوم نہیں اور اس کا ظاہر حال صلاح ہے محررمذہب امام محمد رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے تصریح فرمائی کہ ہلالِ رمضان میں ثقہ  وغیر ثقہ دونوں کی شہادت مقبول ہے غیر ثقہ سے وہی مستور مراد جس کی عدالت باطنی مجہول ہے آج کل ثقہ کی کمیابی ظاہر ہے تو اس ظاہرالروایۃمصححہ بالتصریح سے عدول صریح جہل نامقبول،
کافی امام حاکم شہید میں ہے:
تقبل شہادۃ المسلم والمسلمۃ عدلاکان الشاہد او غیرعدل۱؎۔
مسلمان مرداور عورت کی شہادت مقبول ہوگی خواہ شاہد عادل ہو یا نہ ہو۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار بحوالہ کافی للحاکم     کتاب الصوم     مصطفی البابی مصر    ۲ /۹۹-۹۸)
درمختار میں ہے:
صححہ البزازی۲؎
 (اس کو بزازی نے صحیح قرار دیا ہے۔ت)
(۲؎ درمختار،کتاب الصوم    مجتبائی دہلی ، ۱ /۱۴۸)
فتح القدیر میں ہے:
وبہ اخذالحلوانی۳؎
 (اسے حلوانی نے اختیار کیا ہے۔ت)
(۳؎ فتح القدیر ،کتاب الصوم،نوریہ رضویہ سکھر    ۲ /۲۵۰)
ردالمحتار میں ہے:
وکذاصححہ فی المعراج والتجنیس ومشی علیہ فی نورالایضاح وانہ ظاھر الروایۃ ایضا فا لحاکم الشہید فی الکافی جمع کلام محمد فی کتبہ التی ھی ظاھر الروایۃ والمراد بغیر العدل المستور۴؎۔ملخصاً
معراج اور تجنیس میں اسے صحیح کہا، نورالایضاح نے بھی اسی کو اختیار کیا، اور ظاہرروایت بھی یہی ہے تو حاکم شہید نے الکافی میں امام محمد کا وہ کلام جمع کیا ہے جو ان کی کتب میں مذکور ہے اور یہی ظاہرالروایۃ ہے اور غیر عادل سے مراد مستور الحال ہونا ہے(ت)
(۴؎ ردالمحتار          کتاب الصوم   مصطفی البابی مصر     ۲ /۹۹-۹۸)
دوم: قبول شہادت کے لیے مطابقت قواعد شرعیہ کے ساتھ مطابقت قواعد عقلیہ کی قید بڑھانی بھی خلافِ مذہب معتمد ہے، رؤیت ہلال میں جس قدر عقلی بات کہ شرع مطہر نے بھی قبول فرمائی ہے مثلاً اٹھائیس کو چاند نہیں ہوسکتا اُتنی قواعد شرعیہ میں آگئی اس سے زائد جو قواعد اہلِ ہیئت نے دربارہ ہلال اپنے ظنون و تخمینات سے گھڑے ہیں شرع نے اصلاً اُن کی طرف التفات نہ فرمایا اور صراحتاً ارشاد فرمایا:
اناامۃ امیۃ لانکتب ولا نحسب الشہر ھکذا وھکذا وھکذا۵؎الحدیث
ہم اُمّی امت ہیں نہ لکھتے ہیں اور نہ ہی حساب جانتے ہیں مہینہ اس طرح ، اس طرح،اس طرح ہے، الحدیث۔(ت)
 (۵؎ سنن ابی داؤد       کتاب الصوم      آفتاب عالم پریس لاہور     ۱ /۳۱۷)
درمختار میں ہے:
لاعبرۃ بقول الموقتین ولوعد ولاعلی المذھب۱؎۔
مذہب کے مطابق نجومیوں کا قول مقبول نہیں اگر چہ وُہ عادل ہوں۔(ت)
(۱؎درمختار     کتاب الصوم     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۴۸)
ردالمحتار میں ہے:
بل فی المعراج لا یعتبر قولھم بالاجماع ولا یجوز للمنجم ان یعمل بحساب نفسہ۲؎۔
بلکہ معراج میں ہے کہ نجومیوں کا قول بالاتفاق معتبر نہیں، اور منجم کے لیے اپنے حساب پر بھی عمل کرنا جائز نہیں۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار      کتاب الصوم   مصطفی البابی مصر     ۲ /۱۰۰)
اقول: یہ شرع مطہر عالمِ ماکان ومایکون کےارشادات ہیں عالم امّی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ سیر نیرین ضرور اُس عزیز علیم کے حساب مقدر پر ہے
ذٰلک تقدیر العزیز العلیم۳؎
 (یہ سادھا ہے زبردست جاننے والے کا۔ت)
 (۳؎ القرآن ۶ /۹۶)
اور کیوں نہ معلوم ہوتا حالانکہ انہیں پر نازل ہوا کہ
الشمس والقمر بحسبان۴؎
 (سورج اور چاند حساب سے ہیں۔ت)
 (۴؎القرآن ۵۵/۵)
باایں ہمہ اس عالم حقائق عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے درباب رؤیت ہلا ل حساب کویک لخت ابطال واہمال فرمایا کہ حضور جانتے تھے کہ یہ اُن محاسبات قطعیہ سے نہیں جن کا ذکر کریمہ بحسبان میں ہے بلکہ ناقص ونامنضبط متاخرین اہلِ ہیئت کے تخمینات ہیں جن کا تخلف دشوار نہیں، ولہذا امام اہلِ ہیئت بطلیموس نے مجسطی میں با آنکہ ثوابت تک کے ظہور واخفاء کے لیے فصل جداگانہ وضع کی، رؤیت ہلال کا اصلاً ذکر نہ کیا کہ وُہ اصلاً اس کے انضباط پر قادر نہ ہوااور متاخرین نے جو کچھ لکھا اُن شدیدباہمی اختلافات کے بعد(جو مطالعہ شرح مواقف وشرح زیج سلطان وغیرہ سے ظاہر ہیں) خود بھی کوئی ضابطہ صحیحہ نہ بتاسکے
ان یتبعون الاالظن وان ھم الایخرصون۵؎
 (وُہ پیچھے نہیں جاتے مگر گمان کے اور وُہ تو نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔ت)
 (۵؎ القرآن ۱۰ /۶۶)
کے مصداق رہے، ولہذا منجمین کے ان حسابات میں اکثر خطا پڑی ہے، ابھی چند سال کا ذکر ہے کہ رمضان مبارک جنتریوں میں بلا اشتباہ ۳۰ روز کالکھا تھا اور یہاں سے نقشہ سحری و افطار میں ۲۹ دن کا مہینہ شائع ہوا بفضلہ تعالیٰ ایسی صاف عام رؤیت ۲۹ کی ہوئی جس میں اصلاً اختلاف نہ ہوا، مخالفین میں سے ایک صاحب نے بعض خاص احباب سے کہا میں۲۹ کو نقشہ ہاتھ میں لیے منتظر رہا کہ آج رؤیت نہ ہو اور فوراً نقشہ لے کر پہنچوں کہ ۲۹کا مہینہ کب ہُوا، حالانکہ یہ اُن کی خام خیالی تھی، یہاں نقشوں میں تصریح کردی جاتی ہے کہ بر بنائے قواعد علم ہیئت ہے، شرع مطہر میں رؤیت پر مدار ہے، اگر رؤیت اس کے خلاف ہو نقشہ پر لحاظ نہ ہوگا، بالجملہ ایسے قواعد عقلیہ کیا قابلِ لحاظ ہوسکتے ہیں جن کے سبب ثقہ عادل کی شہادتِ شرعیہ رَد کی جائے۔
وبہ ظہر الجواب عما ذکرھھنا الامام السبکی الشافعی ان الشہادۃ ظنیۃ والحساب قطعی فانہ رحمہ اﷲتعالٰی ظن انہ کسائر حسابات الھیئۃ من الطلوع والغرب والتحویل والتقویم والخسوف ولیس کذلک بل ھو مثل حساب وقت الکسوف بدایۃ ونھایۃ بل ادون رتبۃ فانہ یتم بعد تکرار الاعمال الطوال مرۃ بعد اخری بخلاف ھذاومن جرب تجربتی عرف معرفتی لاجرم ردہ کل من جاء بعدہ من محققی الشافعیۃ ایضاو حققو اان العبرۃ بالشہادۃ الشرعیۃ وان خالفت تلک القواعد العقلیۃ کما فصلہ فی ردالمحتار۔
اس سے امام سبکی شافعی کی گفتگو کا جواب بھی آگیا کہ شہادت ظنی ہے اور حساب قطعی،کیونکہ انہوں نے اسے باقی حسابات مثلاً طلوع، غروب، تحویل، تقویم اور خسوف کی حالت پر قیاس کیا ہے حالانکہ معاملہ ایسانہیں ہے بلکہ یہ تو ابتداء وانتھا کے اعتبار سے کسوف بلکہ رتبہ کے اعتبار سے  اس سے بھی کم درجہ پر ہے کیونکہ یہ یکے بعدد یگرے تکرار عمل سے تام ہوجاتا ہے بخلاف مذکورہ کے، جوبھی مجھ جیسا تجربہ کرے گا اسے ہماری طرح ہی معرفت ہوگی، یہی وجہ ہے کہ ان کے بعد آنے والے محققین شوافع نے بھی ان کا رَد کیا ہے اور یہی ثابت کیا کہ اعتبار شہادت شرعیہ کاہے اگرچہ وُہ قواعد عقلیہ کے مخالف ہو، جیسا کہ اس کی تفصیل ردالمحتار میں ہے۔(ت)
10_6.jpg
Flag Counter