Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
130 - 198
ھدایۃ الجنان باحکام رمضان(۱۳۲۳ھ)

(ر مضان کے احکام میں جنّت کی راہ)
بسم اﷲالرحمٰن الرحیم
مسئلہ ۲۶۲: از شاہجہان پور محلہ جگدل نگر متصل اسٹیشن ریلوے مرسلہ محمد فصاحت اﷲخاں ۷رمضان المبارک ۱۳۲۳ھ

بعد ادائے آداب کے عرض پر داز ہُوں کہ ایک اشتہار مولوی اعظم شاہ صاحب نے بابت افطار وسحری رمضان المبارک ونیز چند مسائل روزے کے جواوپر نقشہ اور پشت پر نقشہ لکھے ہیں، شائع کرکے تقسیم کرائے ہیں جو کہ شاہجہان پور میں سال گزشتہ میں بابت چاند عیداضحی نزاع ہوچکا ہے اس خیال سے اس نقشہ کی بابت تحقیقات کرنا ضروری ہے۔ آج کے روزے کا نقشہ دیا ہُوا بابت افطار و سحری اور نقشہ مولوی اعظم شاہ اور نقشہ مولوی ریاست علی خان صاحب کا مقابلہ کیا گیا جواعظم شاہ کے نقشہ اورآپ کے نقشہ سے بہت فرق آیا بابت سحری کے، اور آپ کا نقشہ اور مولوی ریاست علی خاں کا نقشہ قریب قریب ہے جو کہ اب ایسی حالت میں بڑا نقصان کم علموں کا ہورہا ہے اور ہوگا کیونکہ کل کے روز ایک عورت نے چار بج کر چالیس منٹ پر سحری کھائی، اور جب اُس کی حالت مولوی اعظم کو معلوم ہُوئی تو اُنہوں نے فرمایا کہ روزہ جاتا رہا اس پراس نے روزہ توڑڈالاجب مولوی ریاست علی خاں صاحب سے دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ اُس کا روزہ تھا کیونکہ وُہ وقت سحری کھانے کا تھا اور نیز اس اشتہار میں جو مسائل بابت رمضان المبارک اور وقت افطار اور وقت سحری اور مسائل تراویح کے لکھے ہیں وہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ صحیح لکھے ہیں یا نہیں، بندہ اشتہار مذکور روانہ خدمت عالی کرتا ہے اور بعد ملاحظہ جملہ اشتہار کے اس کے صحیح اور غیر صحیح پر توجہ فرمائی جائے،اور اگر غلط ہے تو جس جس مسئلہ میں غلطی ہو اُس کا جواب بحوالہ کتاب ارقام فرمادیجئے، اگر نقشہ غلط ہوتو بابت نقشہ کے اسی قدر کافی ہے کہ نقشہ غلط ہے اور اس اشتہار کے بھیجنے کی بابت جناب مخدوم و مکرم مولوی ریاست علی خان صاحب نے بھی تاکید فرمائی تھی جب میں نے عرض کیا تھا کہ اس اشتہار کو بریلی روانہ کروں گا تو فرمایا کہ ضرور بھیج دو تاکہ وہاں سے جواب آنے کے بعد اُس اشتہار کی صحت اور غلطی کا اعلان کرادیا جائے۔فقط۔
الجواب: بعد مراسم سنت ملتمس، بعد سوال، جواب واجب اور وقتِ وجوب اظہارِ صواب لازم، اوقاتِ صحیح نکالنے کا فن جسے علمِ توقیت کہتے ہیں، ہندوستان کے طلبہ تو طلبہ اکثر علماء اس سے غافل ہیں، نہ وہ درس میں رکھا گیا ہے نہ ہیأت کی درسی کتابوں سے آسکتا ہے اور جو کچھ مسالہ مولوی مسیح الدین خاں کا کوروی وغیرہ بنا گئے وہ فقط ناکافی ہی نہیں بلکہ سخت اغلاط میں ڈالنے والا ہے، یونہی مرزاخیراﷲمنجم کی دوحرفی جدول سے کوئی ناواقف فن نفع نہیں پاسکتا، اگر کسی نے بڑی تحقیقات چاہی تو زیچ بہادر خانی کی جد اول تعدیل النہار سے کام لیا سحری کو تواُن سے کچھ تعلق ہی نہیں اور افطار میں بھی ناقص ہے جب تک متعدد ضروری اصلاحیں اُس کے ساتھ شریک نہ ہوں، پھر جسے وُہ اصلاحیں آتی ہیں اُسے اُن جدول کی کیا حاجت، فقیر نے اس فن میں نہ نری کتابی باتوں پر اعتماد کیا، نہ خالی دلائل ہندسہ پر، نہ تنہا تجربہ ومشاہدہ پر، بلکہ سب کو جمع کیا اور بتوفیق الٰہی اپنی ذہنی جدّتوں سے بہت کچھ کام لیا یہاں تک بفضلہ تعالٰی برہان و عیان کو مطابق کردیا، میرا نقشہ بفضلہ تعالیٰ جزاف نہیں ہوتا جو ہیأت و ہندسہ جانتا ہو وُہ اُسے براہین کے مطابق پائے گا، اور جو نگاہ رکھتا ہو صبح صادق وکاذب کو دیکھ کر پہچان سکتا ہو وُہ اسے مشاہدہ سے موافق پائے گا، میرے نقشوں میں بریلی کی سی سحری و افطار میں پانچ پانچ منٹ کی احتیاط ہوتی ہے اور دوسرے شہروں کا تقریبی وقت بھی اُسی صحت کے ساتھ دیا جاتا ہے کہ کم و بیش چار پانچ منٹ احتیاطی رہیں۔ جو نقشہ میرے بتائے ہوئے وقت سے جتنا مخالف ہو یقین جانئے کہ وہ اتنا ہی غلط ہے اگر چہ کسی کا بنایا ہوا ہو، دو۲نقشے اگر صحیح باقاعدہ دینے ہوں تو صرف اس قدر فرق کرسکتے ہیں کہ احتیاطی منٹ کسی نے دو ایک کم رکھے کسی نے زائد، یا ایک منٹ کی تحتانی کسروں میں کسی نے زیادہ تعمق کیا کسی نے بے ضرورت سمجھ کر مساہلت سے کام لیا وبس۔ اب آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ ان مولوی صاحب کے نقشے میں کتنا فرق ہے، شاہجہان پور، بریلی، بدایوں، پیلی بھیت، دہلی، رامپور، لکھنؤ، مرادآباد کے وقت یہاں اور شاہجہان پور والے دونوں نقشوں میں دئے ہیں ان میں ہرشہر کے لیے سحری کے اوقات میں بیس بائیس منٹ تک کا فرق ہے اور دہلی کے لیے تو ۲۸ منٹ تک ہے کہ دو منٹ کم آدھا گھٹتا ہوا مگر پیلی بھیت کے لیے اﷲاعلم کس وجہ سے اس قدر ترقی واقع ہُوئی کہ ابتداء میں وقت ٹھیک آیا اور آخر ماہ میں بڑھتے بڑھتے احتیاطی منٹ کا بھی اصلاً نشان نہ رہا کنارے ہی پر آلگا بلکہ تدقیق کی جائے تو عجب نہیں کہ کچھ حصہ صبح کا آجائے۔ بات یہ ہے کہ مولوی صاحب نے شاہجہان پور کے وقت بطورِ خود تجویز کرکے باقی شہروں کے لیے صرف اُن کا تفاوت طول جو اُن کے خیال میں تھا گھٹا بڑھا لیا حالانکہ تبدلِ اوقات میں بڑا حصہ تفاوت عرض کا ہے دوشہروں میں تفاوت طول اصلاً نہ ہو صرف اختلاف عرض سے طلوع وغروب و صبح و عشامیں گھنٹوں کا فرق پڑجاتا ہے شاہجہان پورو پیلی بھیت میں اکیس منٹ کاتفاوت کسی طرح نہیں بنتا، یہی حال کلکتے کا ہے کہ اخیر کی تاریخوں میں کچھ ہی خفیف نام احتیاط کا رہ گیا ہے دو۲ سال ہوئے کہ خاص کلکتے کے اوقات یہاں سے شائع ہوئے تھے ۲۱نومبر سے ۲۸ تک تاریخیں اس سال بھی پڑی ہیں ان سے ملا کر دیکھ سکتے ہیں پرچہ مرسل ہے افطار کے اوقات میں اتنا زیادہ تفاوت نہیں مگر اس کا تھوڑا بھی بہت ہے، مثلاً شاہجہا ن پور میں احتیاطی منٹ گھٹتے گھٹتے آخر میں صرف ایک ہی رہ گیا مگر دہلی پر آفت پوری ہے اول سے آخر تک غروب سے پہلے افطار لکھاخصوصاً آخر میں تو پانچ منٹ پیش از غروب افطار ہوئی ہے، شاہجہان پور میں جس نے ۴ بج کر ۴۰ منٹ  تک سحری کھائی اس کا روزہ یقینا صحیح ہوا، وہ عورت توڑنے سے سخت گنہ گار ہوئی اس کا روزہ نہ ہونے کا حکم محض غلط تھا۔ ابوداؤد ، دارمی ابوھریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من افتی بغیر علم کان اثمہ علی من افتاہ۱؎۔
جس نے بے علم فتوٰی دیا اس کا وبال فتوٰی دینے والے پر ہے۔(ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد     باب التوقی فی الفتیا    ای الفتوی     آفتاب عالم پریس لاہور     ۲ /۱۵۹)
اگر گھڑی صحیح تھی تو یقینا پاؤ گھنٹے سے زیادہ وقت باقی تھا۔ مسلمانو! یہ دین ہے، جس پر خدا کی دین ہے وُہ جانتا ہے کہ اس کا سیکھنا مجھ پر دَین ہے قواعد و براہین ہیأت و ہندسہ بالائے طاق سہی، وقت پہچاننا تو ہر مسلمان پر فرض عین ہے، افسوس کہ ہزاروں آدمی حتی کہ بہت ذی علم بھی صبح صادق و کاذب کی ٹھیک تمیز دیکھ کر نہیں بتاسکتے اور اس پر کتب ہیئت وغیرہ کی پریشان بیانوں نے انہیں اور دھو کے میں ڈالا ہے، سچ فرمایا امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ العالی نے کہ ابتداء میں انسان کو ان دونوں صبح میں امتیاز مشکل ہوتا ہے بکثرت بار بار بغور مشاہدہ کرتا رہے تو بعنایت الٰہی دونوں صبحیں خوب نگاہ میں جچ جاتی ہیں کہ بہ نگاہِ اولیں دیکھ کر کہہ سکتا ہے کہ ابھی صبح صادق ہوئی یا نہ ہوئی، یہاں متعدد وجوہ سے لوگ اشتباہ میں ہیں اُن کا بیان کردینا ضرور ہے کہ مسلمان سمجھ لیں اور اغلاط سے بچیں۔
فاقول: وباﷲالتوفیق
 (پس میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲتعالیٰ سے ہے۔ ت) اولاً صبح کاذب کو حدیث میں مستطیل یعنی لمبی اور صادق کو مستطیر پھیلی ہوئی فرمایا ہے، ناواقف گمان کرتے ہیں کہ صبح کاذب کوئی ڈورے کی مثل باریک سفید ہے اور جہاں ذرا چوڑی سفیدی ہُوئی تو صبح صادق ہوگئی یہ محض غلط وہم ہے، رات کی چھائی ہوئی اندھیری میں باریک ڈورا کیا نظر آسکتا صبح کاذب بھی ضرور عرض رکھتی ہے اور نگاہ میں دوتین گز بلکہ اس سے زیادہ تک چوڑی ہوتی ہے بلکہ حدیث کی مراد وہ ہے جو خود حضور پُر نور  صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے دستِ اقدس کے اشارے سے تعلیم فرمائی کہ شرقاً غرباً جو سفیدی پھیلی ہوتی ہے وُہ صبح کاذب ہے اور دونوں دست مبارک کی کلمے کی انگلیاں ملاکر ہاتھ پھیلائے یعنی جنوباً شمالاً افق میں پھیلنے والی سپیدی پھیلی صبحِ صادق ہے۔
ثانیاً: بعض کتب میں صبح کاذب کی وجہ تسمیہ یہ لکھی کہ
یعقبہ ظلمۃ فالافق یکذبہ
یعنی اس کے عقب میں ظلمت ہوتی ہے، یہ سپیدی تو کہہ رہی ہے صبح ہوگئی، افق اسکی تکذیب کرتی ہے لہذا اسے صبح کاذب کہتے ہیں۔ اس کے معنے علمائےعہ زمانہ قریب نے یہ سمجھ لیے کہ صبح کاذب کی سپیدی جاکر اُس کے بعد اندھیرا ہوجا تا ہے پھر صبح صادق نکلتی ہے حالانکہ یہ محض باطل ہے، صبح کاذب کی سپیدی جہاں شروع ہوتی ہے وہ اخیر تک بڑھتی ہی جاتی ہے ہرگز غروبِ آفتاب تک وہاں تاریکی نہیں آتی بلکہ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ صبح کاذب کی سپیدی افق سے بہت اونچی ظاہر ہوتی ہے اور اس کے عقب میں اس کے پیچھے یعنی افق میں اس کے نیچے بالکل اندھیرا ہوتا ہے، جب صبح صادق پھیلتی ہے یہ تاریکی بھی روشنی سے بدل جاتی ہے۔
 ( عہ یعنی سعد اﷲصاحب رام پوری۱۲)
ثالثا: بعض کتب ہیئت اور ان کے اتباع سے بعض کتب فقہ مثل ردالمحتار میں لکھ دیا کہ جب آفتاب افق سے ۱۵ درجے نیچے رہتا ہے وقت صبح صادق ہوتی ہے اور صبح کاذب اس سے صرف تین درجے پہلے یعنی ۱۸ درجے کے انحطاط پر ہوتی ہے مگر ہزاروں بار کا مشاہدہ شاہد ہے کہ یہ بھی محض غلط ہے بلکہ جب آفتاب کا انحطاط قریب۱۸درجے کے رَہ جاتا ہے اس وقت یقینا صبح صادق ہوجاتی ہے، صبح کاذب اس سے بہت درجوں پہلے ہوچکتی ہے، میں نے آج ہی رات کہ شب ہشتم ماہ مبارک ہے بچشمِ خود معائنہ کیا کہ آفتاب ہنوز تینتیس درجے سے زیادہ افق سے نیچا تھا کہ صبح کاذب اپنی جھلک دکھارہی تھی ، صبح صادق ہونے کو ایک گھنٹے کامل سے بھی زیادہ وقت باقی تھا۔
رابعاً: عوام صبح کا طلوع ہونا سُنتے ہیں تو اپنے زعم میں یہ گمان کرتے ہیں کہ افق یعنی زمین کے کنارہ سے یہ سپیدی اُٹھتی ہوئی جب بلندی پر آتی ہے تو ہمیں مکانوں میں یا چھت پر دکھائی دیتی ہے جیسے آفتاب وغیرہ ستارے شہر میں اپنے طلوع سے دیر کے بعد نظر آتے ہیں اس بنا پر وہ صبح ہوتی دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ بہت پہلے ہوچکی ہے جب تواتنی بلندی آگئی ہے حالانکہ یہ بھی ان کا محض وہم ہے بلکہ یہ سفیدی افق سے بہت اونچی ہی ہماری نظروں میں پیدا ہوتی ہے۔ فرض کیجئے کہ آدمی جنگل بلکہ سمندر میں ہوکہ نگاہ کے سامنے درخت، غبار، ابر وغیرہ کوئی شے اصلاً حائل نہ ہوتو وہاں بھی یہ بیاض افق سے بہت اوپر ہی حادث ہوگی اور اس کے نیچے تمام کنارہ آسمان تاریک ہوگا، اسی کو
تو یعقبہ ظلمۃ
 ( اس عقب میں ظلمت ہوتی ہے۔ت) کہا گیا، اپنی ہی سمجھ کے قابل یوں سمجھیں کہ نظر بواقع ضرور رہے کہ آفتاب کی کرنیں پہلے اُس حصّے میں سپیدی لاتی ہوں گی جو کنارہ زمین کے متصل ہے مگر وہ نہ کبھی محسوس ہوئی، نہ ہو، افق میں بخارات کا ازدحام اور خطوط نظر کا صدہا مَیل بخار وغیرہ کثافات کو طے کرکے اُفق تک جانا، آفتاب کی دھوپ جیسی روشن چیز کو کتنا میلا کرکے دکھاتا ہے کہ سپیدی کی جگہ سرخی معلوم ہوتی ہے اور تیزی نام کو نہیں ہوتی پھر یہ خفیف ضعیف سپیدی کیا اس قابل ہے کہ افق میں نظر آسکے جو صاف بھی کم ہے اور نظر سے دُور بھی بہت ہے یہ تو ہمیشہ اوپر چمکے گی جہاں نظر سے قُرب بھی ہے اور جگہ بہ نسبت افق صاف تر ہے۔
خامساً: بعض کتب میں واقع ہُوا کہ صبح رات کا ساتواں حصّہ ہے ، اسے لوگ ہر موسم میں وہر مقام کے لیے عام سمجھ لیے، حالانکہ جن عالم نے ایسا فرمایا وہ اُس موسم اور اُس عرض بلد کے لیے خاص تھا ورنہ یقینا صبح ہمارے بلاد میں رات کے چھٹے حصّے سے دسویں حصے تک ہوتی جس کی مفصل جدول فقیر نے اپنے فتاوٰی میں لکھی ہے اس ماہِ مبارک میں بھی صبح رات کے نویں حصے سے دسویں حصے تک ہے، جو لوگ ساتواں حصہ لگائیں گے وُہ آپ ہی رات کو دن بنائیں گے، اب ہم بتوفیق اﷲ تعالیٰ صبح کاذب کے شروع سے صبح صادق کے انتشار تک جو صُورتیں اس سپیدی کی پیش آتی ہیں اُن کا واضح بیان کرتے ہیں جو آج تک کسی کتاب میں نہ لکھا گیا جو ہمارا برسوں  کا مشاہدہ ہے اور جسے بغور سمجھ لینے والا اِن شاء اﷲتعالیٰ بہت جلد صبح کاذب و صادق میں امتیاز کا ملکہ پیدا کرسکتا ہے:
 (۱) اُفق سے کئی نیزے بلندی پر جانب مشرق آج جہاں سے آفتاب نکلنے کو ہو، اس کی سیدھ میں یعنی دائرہ منطقۃ البروج کی سطح کرہ بخار پر رات کی اندھیری میں ایک خفیف سپیدی کا دھبّہ پیدا ہوتا ہے جسے چاروں طرف سے رات کی اندھیری گھیرے ہوئے ہے اس انداز پر ۱؎
10_5.jpg
یہ صبح کاذب کی بنیاد پڑتی ہے۔
 (۲) جُوں جوں آفتاب افق کے نزدیک آتا جاتا ہے یہ سپیدی ترقی کرتی ہے مگر ترقی معکوس یعنی اوپر سے 

نیچے کو بڑھتی جاتی ہے، افق سے بہت اُونچی چمکی تھی اور نیچے دُور تک اندھیرا تھا اب وُہ اونچی سپیدی تواپنی جگہ  رہتی ہے اور اس کے نیچے سپیدی اور اس میں ملتی جاتی ہے یہاں کہ شدہ شدہ افق کے قریب تک آنے کو ہوتی ہے مگر ان سب حالتوں میں وُہ ایک طولانی ستون کی حالت میں ہوتی ہے گویا ایک سفید چادر اوپر سے نیچے لٹکائی گئی ہے کہ اسی حد تک سپیدی ہے اور آس پاس بالکل اندھیراان شکلوں پر
Flag Counter