Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
129 - 198
سحر وافطار کا بیان
مسئلہ ۲۵۸تا۲۶۰: از پنڈراروڈضلع بلاسپور ملک متوسط مرسلہ منشی عتیق احمد صاحب ۱۳ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
 (۱) فالئٰن باشروھن، کلواشربوا حتی، ثم اتمواالصیام الی اللیل، ولا تباشروھن وانتم۱؎۔
اب تم مباشرت کر سکتے ہو، کھاؤ پیو، یہاں تک، پھر روزہ کو رات تک  پُورا کرو، اور نہ مباشرت کرو جبکہ تم۔(ت)
 (۱؎ القرآن ۲ /۱۸۷)
ان چاروں اوامر مشروطہ، ونہی ظاہرآیہ آخر، آیہ کریمہ
تلک حدود اﷲفلا تقربوھا۲؎
 (یہ اﷲکی حدودہیں ان کے قریب نہ جاؤ۔ت)
(۲؎ القرآن ۲ /۱۸۷)
سے متعلق ہے یا نہیں، اگر نہیں ہے تو جمع کا صیغہ کیوں فرمایاگیا، اگر صرف نہی آخر سے متعلق ہے تو حدوداﷲکس طرح ایک پر عائد۔ (۲) جیسا کہ
الخیط الابیض من الخیط الاسود۳؎
 (سفید دھاگا کالے دھاگے سے واضح ہوجائے۔ت)
(۳؎ القرآن ۲ /۱۸۷)
میں بعض صحابہ رضی اﷲ عنہم نے حقیقی تاگے کو سمجھا تو
من الفجر
(فطر ہونے تک۔ت) نازل ہوا۔
تلک حدوداﷲ
 (یہ اﷲکی حدودہیں۔ت) کا نزول بھی کیا اسی طرح ہُوا ہے جبکہ بعض نے سفیدہ صبح تک کھایا ہو جس سے اندیشہ روزے میں خلل ہونے کے باعث ان احکامِ اربعہ کے بعد تلک حدود اﷲ نازل ہُوئی ہو یا یہ آیت نازل ہونے پر بھی صبح ظاہر ہونے تک کھانے کا معمول برابر جاری رہا عموماً ہر ایک سحری کھاتا رہا۔
 (۳) حضور سرورعالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کا سحری کھانا بالکل قریب صبح کے دوامی تھا یا اتفاقی، جیسا کہ بعض حدیثوں میں مروی ہے اور اگر معمول دوامی تھا تو کیا آخر تک رہا اور اسی طرح عموماً سب کو اجازت تا آخر وقت بالقصد ہے یا اس حالت میں کہ آخر وقت ہی اس کو ملا ہوتب۔بینواتوجروا
الجواب :(۱) سب احکام مذکورہ کی طرف اشارہ ہے، معالم میں ہے:
تلک حدود اﷲ یعنی تلک الاحکام التی ذکرھا فی الصیام والاعتکاف۱؎ ۔
یہ اﷲکی حدود ہیں یعنی یہ وہ احکام ہیں جن کا ذکر اس نے روزے اور اعتکاف کے بارے میں فرمایا ہے(ت)
 (۱؎ معالم التنزیل مع الخازن    تحت آیت تلک حدوداﷲالخ     مصطفی البابی مصر    ۱ /۱۶۵)
بیضاوی میں ہے:
ای الاحکام التی ذکرت۲؎
 ( یعنی وُہ احکام جو پیچھے ذکر ہُوئے ہیں۔ت) واﷲتعالیٰ اعلم
 (۲؎ بیضاوی (انوارالتنزیل) علی حاشیۃ القرآن الکریم         مصطفی البابی مصر     ۱ /۴۱)
 (۲) اس آیت کا نزول
من الفجر۳؎
کے طور پر نہیں سحری کی تاخیر مستحب ومسنون ہے، احادیثِ صحیحہ میں نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے تعجیلِ افطار و تاخیرِ سحور کا حکم فرمایا اور ارشاد ہوا:''میری اُمت ہمیشہ خیر سے رہے گی جب تک افطار میں جلدی اور سحری میں دیر کرے گی۔''۴؎
 (۳؎ القرآن ۲ /۱۸۷) (۴؎ صحیح بخاری         باب تعجیل الافطار         قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۲۶۳)

(مسند احمد بن حنبل     مروی از ابوذر         دارالفکربیروت    ۵ /۱۴۷)
مگر تعجیلِ افطار کے معنی یہ ہیں کہ جب غروبِ آفتاب پر یقین ہوجائے فوراً افطار کرلے وہم ووسوسہ کو دخل نہ دے نہ بلاوجہ رافضیوں کی طرح شب کا ایک حصہ داخل ہونے کا انتظار کرے، ایسی جلدی کہ ہنوز غروب میں شک ہو حرام ومفسدِ صوم۔ اور تاخیر سحری کے معنی یہ ہیں کہ اُس وقت تک کھائے جب تک طلوعِ فجر کاظن غالب نہ ہو بخلاف افطار کے کہ وہاں بحالتِ شک روزہ جاتا رہتا ہے، وجہِ فرق یہ ہے کہ شرعِ مطہر کا قاعدہ کلیہ ہے کہ
الیقین لایزول بالشک
یعنی شک سے یقین زائل نہیں ہوتا۔ رات میں طلوعِ فجر کا جب تک شک نہ ہوا تھا بقائے لیل پر یقین تھا وقوعِ شک سے بھی یہ یقین زائل نہ ہوگا اور رات ہی کا حکم رہے گا جب تک طلوعِ فجر کاظن غالب نہ ہو۔ ولہذا ارشادفرمایا:
حتی یتبیّن لکم الخیط الابیض
یہاں تک کہ سفید ڈورا تمہارے لیے خوب ظاہر ہوجائے۔ اور افطار میں غروبِ شمس جب تک مشکوک نہ ہواتھا دن پر یقین تھا تو حالتِ شک میں بھی وہی یقین حاصل، اور دن باقی سمجھا جائے گا اور اُس وقت روزہ کھولنا دن میں کھولنا ٹھہرے گا، زمانہ صحابہ کرام رضی اﷲتعالیٰ عنہم سے اب تک انہیں قواعد پر عمل رہا ہے۔
 (۳) تاخیرِ سحور بمعنی مذکور مطلقاً مستحب و مسنون ہے' صرف اسی حالت کی خصوصیت نہیں کہ اخیری وقت آنکھ کُھلی ہو، عادتِ مستمرہ حضور سرور عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی یہی تاخیر تھی ہاں حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے برابر کسی کا علم نہیں ہوسکتا، حضور صاحبِ وحی،
صاحبِ علمتہ علم الاولین والاٰخرین
(تمام اولین وآخرین کے علوم کے جامع۔ت) وصاحبِ
علَّمک مالم تکن تعلم وکان فضل اﷲعلیک عظیما۱؎
 ( اﷲنے تعلیم دی ہر اس کی جو آپ نہ جانتے تھے اور اﷲکا آپ پر فضل عظیم ہے۔ت)
(۱؎ القرآن ۴ /۱۱۳)
ہیں اوقات حقیقۃً جن میں حدِ مشترک صرف ایک آن ہوتی ہے، اُن کا امتیاز حقیقی طاقتِ بشری سے خارج ہے، حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اُس پر مطلع تھے، لہذااحیاناً ایسی تاخیر واقع ہُوئی کہ دوسرا اس پر قادر نہیں، ایک شب سحری تناول فرمانے کے بعد صرف اتنے وقفہ پر کہ آدمی پچاس آیات پڑھ لے نمازِ صبح شروع فرمادی۔ ایسے امور میں اتباع کی قدرت نہیں، ہمارے لیے وہی حکم ہے جو جوابِ سوالِ ثانی میں مذکور ہوا۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۶۱: از شہر کہنہ بریلی ۲۷رجب ۱۳۲۰ھ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ مسئلہ جو مشہور ہے کہ رمضان شریف میں رات کے سات حصے کئے جائیں، جب ایک حصّہ رات کا باقی رہے کھانا پینا ترک کردے، آیا یہ مسئلہ صحیح ہے یا نہیں؟بینواتوجروا
الجواب :یہ قاعدہ ہر گز صحیح نہیں بلکہ کبھی رات کا ہنوز حصّہ باقی رہتا ہے کہ صبح ہوجاتی ہے اور کبھی ساتواں آٹھواں، نواں،یہاں تک کہ کبھی صرف دسواں حصہ تقریباً رہتا ہے اُس وقت صبح ہوتی ہے ہم رؤس بروج کے لیے بریلی اور اس کے موافق العرض شہروں میں ایک تقریبی نقشہ دیتے ہیں جس سے اس اجمال کی تفصیل ظاہر ہوگی، افقِ حقیقی پر انطباق مرکز شمس ،جانبِ مغرب سے ، اُسی پر انطباق مرکز، جانب شرق تک شب نجومی ہے اور افق حسی بالمعنی الثانی سے تجاوز کنارہ آخرین شمس، جانب غرب سے اُسی افق سے ارتفاع کنارہ اولین شمس، جانب شرق تک شب عرفی ہے اس کی تحصیل میں دونوں جانب کے دقائق انکسار بھی شب نجومی سے ساقط کئے جاتے ہیں اورافق حسی مذکور بے تجاوز کنارہ آفریں شمس سے طلوعِ فجر صادق تک شب شرعی ہے تحصیلِ فجر میں بھی جانب طلوع شمس کہ دقائق انکسار وقت باقی سے مستثنیٰ ہیں۔ یہ نقشہ خود فقیر کا ایجاد ہے جس کا اجمالی بیان یہ ہُوا اور جو شخص اس فن میں کچھ ادراک رکھتا ہو اُسے تفصیل بھی بتائی جاسکتی ہے،
وباﷲ التوفیق وﷲالحمد والمنۃ واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم۔
10_3.jpg
؎ یعنی نواں حصہ قدرے کم
10_4.jpg
 ان بیانوں سے واضح ہوا کہ راس السرطان کی صبح جس طرح تمام سال میں سب صبحوں سے باعتبار نسبت بڑی ہے کہ کوئی صبح اپنی رات کا اتنا بڑا حصہ نہیں ہوتی، یُونہی وہ مقدار میں بھی جمیع صبحوں سے زائد ہے کہ اتنی مدت کوئی صبح نہیں پاتی مگر اس کے خلاف راس الجدی کی صبح باآنکہ نسبت میں تمام صبحوں سے کم ہے کہ کوئی صبح اپنی رات کا اتنا چھوٹا حصّہ نہیں ہوتی لیکن وُہ مقدار میں سب سےکم نہیں بلکہ نصف جنوبی میں سب سے زائد مقدار کی فجر ہے، سال میں سب سے چھوٹی فجر فجر اعتدالین ہے مگر وُہ نسبت میں سب سے کم نہیں بلکہ نصف جنوبی میں سب نسبتوں سے زائد ہے، نیز روشن ہُوا کہ صبح کا اپنی مقدار چھوٹی بڑی ہونے میں مطلقاًتابع روز ہونا کہ جتنا دن گھٹے صبح چھوٹی ہوتی جائے اور جتنا بڑھے ترقی پائے، یا مطلقاً تابع شب ہونا کہ ہمیشہ اس کی کمی فزونی رات کی کاہش وبیشی پر رہے جیسا کہ آج کل کے ناواقف محاسبوں میں کسی نے اسے نہار کسی نے لیل کا ٹکڑا سمجھ کر گمان کیا ہے محض غلط ہے بلکہ صبح اپنی کمی بیشی میں میل شمسی کی تابع ہے اعتدالین پر کہ میل منتفی ہوتا ہے صبح سب سے چھوٹی مقدار پر ہوتی ہے پھر جتنا میل بڑھتا جاتا ہے صبح کی مقدار زیادہ ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ انقلاب پر اپنی اعظم مقادیر پر آتی ہے،پھر جس قدر میل گھٹتا ہے صبح چھوٹی ہوتی جاتی ہے حتی کہ اعتدال پر پھر اپنی انقص مقادیر پر آتی ہے اور انقلاب قطب ظاہر کے اعظم مقادیر، انقلاب قطب خفی کے اعظم مقادیر، سے بھی اعظم ہوتی ہے، یا عام فہمی کے لیے یُوں کہئے کہ صبح ہر دو نصف شمالی و جنوبی میں بڑے کی تابع ہے نصف شمالی میں دن ،رات سے بڑاہوتا ہے صبح اس کی زیادت و قلّت کے ساتھ بڑھتی گھٹتی ہے اور نصف جنوبی میں رات، دن سے بڑی ہوتی ہے، صبح افزائش و کاہش میں اُس کے ساتھ چلتی ہے، راس الحمل پر اپنی اقل مقدار تک پہنچ کر دن کے ساتھ بڑھنی شروع ہوئی، جب انقلاب صیفی میں دن اپنی نہایت زیادت پر آیا، صبح بھی غایت ازدیاد پر پہنچی، پھر دن گھٹنا شروع ہُوا، صبح بھی انہیں قدموں پر رجعت قہقری کرتی ہوئی گھٹتی چلی یہاں تک کہ اعتدال خریفی پر پھر اسی اقل مقادیر پر آگئی ، اب رات کے ساتھ فزونی کرنے لگی جب انقلاب شتوی نے شبِ یلدا(اندھیری اور طویل رات) دکھائی صبح بھی اس نصف میں اپنی اعظم مقادیر پر آئی، آگے رات کم ہوتی چلی، صبح بھی بدستور اُلٹے پاؤں کمی پر پلٹی، حتی کہ اعتدال ربیعی پر پھر انقص مقدار ہوئی،
وھٰکذا الیٰ ماشاء اﷲتعالٰی، واﷲتعالٰی اعلم۔
Flag Counter