مسئلہ ۲۵۶: از بانکی پور پٹنہ محلہ مراد پور مرسلہ علی حسن صاحب تاجر ۲۳ محرم شریف ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے رمضان شریف کا روزہ جنابت کی حالت میں رکھا اور قصداً دن بھر افطار کے وقت تک غسل نہیں کیا تو کیا یہ روزہ اُس کا بغیر کسی نقص کے درست ہوگا یا نہیں ؟ اور روزے کے لیے طہارت شرط ہے یا نہیں؟ اور کیا کوئی ایسی عبادت بدنی بھی ہے جو بے طہارت صحیح ہو؟
الجواب:وہ شخص نمازیں عمداً کھونے کے سبب سخت کبائر کا مرتکب اور عذابِ جہنم کا مستوجب ہُوا مگر اس سے روزے میں کوئی نقص و خلل نہ آیا طہارت باجماعِ ائمہ اربعہ شرطِ صوم نہیں۔ رب عزوجل فرماتا ہے:
احل لکم لیلۃ الصیام الرفث الی نسائکم۱؎ ۔
روزے کی راتوں میں تمھارے لئے بیویوں سے جماع حلال کیا گیا ہے۔(ت)
(۱؎ القرآن ۲ /۱۸۷ )
آیہ کریمہ نے ہرجزو شب میں جماع و تلبیس بالجماع حلال فرمایا اور محض تحلیل ہی نہیں بلکہ بصیغہ امر ارشادی ارشاد ہوا۔
فالاٰن باشروھن وابتغواماکتب اﷲلکم۲؎ ۔
اور اب ان سے مباشرت کرو اور تلاش کرو جو اﷲتعالیٰ نے تمہارے لیے لکھ رکھا ہے(ت)
(۲ ؎ القرآن ۲ /۱۸۷)
اور ظاہر ہے کہ جز واخیر شب کو بھی لیلۃ الصیام شامل ، اور وہ بھی اس احل لکم اور باشروھن کے امر میں داخل، اور اسے بحالتِ جنابت صبح کرنا اور تاتمامی غسل، روزے میں جنب رہنا بداہۃً لازم، تو قرآن عظیم اس کی حلّت ودخول زیر امرارشادی پر حاکم۔ اگر اس سے روزے میں کوئی نقص و خلل آتا ضرور اتنے حصے کا استثناء فرمادیتا ، پھر صاحبِ شرع صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے عملا اُس کا بے نقص و بے خلل ہونا فرمادیا۔ صحیحین میں ام المومنین عائشہ صدیقہ و ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے ہے:
ان رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کان یدرکہ الفجر وھو جنب من اھلہ ثم یغتسل ویصوم۱؎ ۔
رسول اﷲصلی اﷲعلیہ وسلم ازواجِ مطہرات سے قربت فرماتے اور صبح ہوجاتی جب تک نہ نہاتے اس کے بعد غسل فرماتے اور روزہ رکھتے۔
صحیح مسلم ومؤطامالک و سُنن ابی داؤدو نسائی میں اُمّ المو منین صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے ہے:
ان رجلا قال لرسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وھو واقف علی الباب وانا اسمع یا رسول اﷲانی اصبح جنبا وانا ارید الصیام فقال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وانا اصبح جنبا وانا ارید الصیام فاغتسل واصوم فقال الرجل یا رسول اﷲانک لست مثلنا قد غفراﷲلک ما تقدم وماتا خرفغضب رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وقال انی ارجوان اکون اخشٰیکمﷲاعلمکم بما اتقی۲؎۔
یعنی حضور پُر نور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اپنے دراوزہ اقدس کے پاس کھڑے تھے ایک شخص نے حضور سے عرض کی اور میں سُن رہی تھی کہ یارسول اﷲ! میں صبح کو جنب اٹھتا ہوں اور نیت روزے کی ہوتی ہے حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا میں خود ایسا کرتا ہُوں اُس نے عرض کی حضور کی ہماری کیا برابری، حضور کو تو اﷲعزوجل نے ہمیشہ کے لیے پُوری معافی عطا فرمادی ہے۔ اس پر حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم غضب ناک ہُوئے اور فرمایا: بیشک میں امید رکھتا ہوں کہ مجھے تم سب سے زیادہ اﷲعزوجل کاخوف ہے اور میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں جن جن باتوں سے مجھے بچنا چاہئے۔
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الصائم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۲۵)
اس حدیث صحیح نے خوب واضح فرمادیا کہ اس سے روزہ میں کوئی نقص نہیں آتا ورنہ وہ صاحب سائل تھے محل بیان میں سکوت نہ فرمایا جاتا، سکوت کیسا اخیر کے ارشاد نے اور بھی روشن فرمادیا کہ اس میں کوئی بات خوف کی نہیں، نہ یہ اس میں داخل جس سے بچنا چاہئے۔ اور پُر ظاہر کہ روزہ غیر متجزی ہے جو چیز اس میں نقص پیدا کرے گی اگر سارے روزے میں ہُوئی تو موجبِ نقص ہوگی اور اس کے اوّل یا آخر کسی لطیف حصہ میں ہوئی تو ضرر دے گی، ولہذا ہمارے علمائے کرام نے انہیں آیات واحادیث سے ثابت فرمایا کہ اگر تمام دن جنب رہا جب بھی روزہ کو کچھ مضر نہیں۔ مراقی الفلاح میں ہے:
اواصبح جنبا ولواستمرعلی حالتہ یوما او ایاما لقولہ تعالٰی فالئن باشروھن لاستلزام جواز المباشرۃ الی قبیل الفجر وقوع الغسل بعد ضرورۃ وقولہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وانا اصبح جنباوانا ارید الصیام واغتسل واصوم۱؎ ۔
یا کسی نے حالتِ جنب میں صبح کی اگر چہ وُہ اسی حالت میں ایک دن یا کئی دن رہا، کیونکہ اﷲتعالیٰ کا ارشاد گرامی'' اب تم مباشرت کرسکتے ہو'' اس بات کا متقضی ہے کہ فجر سے تھوڑا ساپہلے تک مباشرت جائز ہو اور اس کے بعد غسل لازم ہو، اور حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی'' میں نے حالتِ جنابت میں صبح کی ہے اور میں روزے کا ارادہ رکھتا ہوں میں غسل کروں گا اور روزہ رکھوں گا۔(ت)
(۱؎ مراقی الفلاح علی حاشیۃ الطحطاوی باب فی بیان مالایفسد الصوم نور محمد کتب خانہ کراچی ص۳۶۲)
بحرالرائق میں ہے:
لو اصبح جنبا لا یضرہ کذافی المحیط۲؎۔
اگر کسی نے حالتِ جنب میں صبح کی تو نقصان دہ نہیں، محیط میں اسی طرح ہے۔(ت)
(۲؎ البحرالرائق، باب فی بیان مالایفسد الصوم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۷۳)
عالمگیریہ میں ہے:
ومن اصبح جنبااواحتلم فی النھار لم یضرہ کذافی محیط السرخسی۳؎۔
جس نے بحالتِ جنابت صبح کی یادن کو احتلام ہوگیا تو یہ اسے نقصان دہ نہیں۔ محیط سرخسی میں اسی طرح ہے(ت)
(۳؎ الفتاوی الہندیۃ الباب الثامن مایفسد الصوم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۲۰۰)
ہاں بوجہ ارتکاب کبیرہ اس کی نورانیت بالصوم میں فرق آئے گا، نہ اس لیے کہ جنب تھا کہ جنابت سے نورانیت میں تفاوت آتا تو بحالِ جنابت صبح کرنے سے بھی آتا بلکہ اس لیے کہ نماز فوت کی، یہاں تک کہ اگر نماز بحالِ جنابت ہوسکتی تو دن بھر بلکہ مہینہ بھر جنب رہنے سے بھی حصول نورانیت بصوم میں فرق نہ ہوتا، یہ فرق بوجہ فوت نماز ایسا ہوگا جیسے روزہ میں کسی کو ظلماً مارنے سے، مگر اس سے کوئی نہ کہے گا کہ نفسِ صوم میں کوئی نقص آگیا، گناہ کے سبب روزے میں خلل آنا ظاہر یہ کا مذہب فاسد ہے، اس کی نظیر ایسی ہے کہ کوئی ریشمیں کپڑے پہن کر قرآن عظیم کی تلاوت کرے اس سے نہ تلاوت میں کوئی نقص ہُوا نہ اُس کے ثواب میں کمی ، ہاں ظلمتِ گناہ ملنے کے باعث اُس کے لیے نورانیتِ خالصہ نہ رہی۔ یہ ان میں داخل ہواجن کو فرماتا ہے:
اور کچھ اور ہیں جو اپنے گناہوں کے مقر ہوئے اور ملایا ایک کام اچھا اور دُوسرا بُرا۔(ت)
( ۱؎ القرآن ۹/۱۰۲ )
درمختار میں ہے:
قرأالقراٰن ولم یعمل بموجبہ یثاب علی قرأتہ کمن یصلی ویعصی۲؎۔
کسی نے قرآن حکیم پڑھا لیکن اس کے احکام پر عمل نہ کیا تو تلاوت پر ثواب ملے گا، جیسا کہ کوئی نماز پڑھے اور گناہ کرے(ت)
( ۲؎ الدرالمختار کتاب الحظر والاباحۃ مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۸)
طحاوی و ردالمحتار میں ہے:
یثاب علٰی قرأتہ وان کان یأثم بترک العمل فالثواب من جہۃ والاثم من اخری۳؎۔
قرأتِ قرآن پر ثواب ملے گا اگر چہ ترکِ عمل کی وجہ سے گناہ گار ہوگا، توثواب ایک جہت سے اور گناہ دوسری جہت سے ہے۔(ت)
( ۳؎ ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ مصطفی البابی مصر ۵ /۲۸۱)
بہت عبادات بدنیہ ہیں جن میں طہارت شرط نہیں، جیسے یاد پر تلاوت اور مسجد میں اعتکاف کہ ان دونوں میں وضو ضرور نہیں اور قرآن عظیم کو بے چُھوئے دیکھنا، کعبہ معظمہ پر بیرون مسجد سے نظر کرنا، عالم کو بنگاہِ تعظیم دیکھنا، ماں باپ کوبنظرِ محبت دیکھنا، عالم سے مصافحہ کرنا، یہ سب عباداتِ بدنیہ ہیں اور سب بحالِ جنابت بھی روا ہیں۔ حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
خمس من العبادۃ قلۃ الطعم والقعود فی المساجد والنظر الی الکعبۃ والنظر الی المصحف والنظر الی وجہ العالم۴؎۔ رواہ فی مسند الفردوس عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ ۔
پانچ چیزیں عبادت سے ہیں کم کھانا اور مسجدمیں بیٹھنا اور کعبہ کو دیکھنا اور مصحف کو دیکھنا اور عالم کا چہرہ دیکھنا۔ (اسے مسند فردوس میں حضرت ابو ھریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا گیا ہے۔ت)
(۴؎ الفردوس بما ثور الخطاب حدیث۲۹۶۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۱۹۵)
دار قطنی وغیرہ کی روایت یُوں ہے کہ فرماتے ہیں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم:
خمس من العبادۃ النظر الی المصحف والنظر الی الکعبۃ والنظر الی الوالدین والنظر فی زمزم وھی تحط الخطایا والنظر فی وجہ العالم۱؎۔
پانچ چیزیں عبادت سے ہیں مصحف کو دیکھنا اور ماں باپ کو دیکھنا اور زمزم کے اندر نظر کرنا اور اس سے گناہ اُترتے ہیں اور عالم کا چہرہ دیکھنا۔
(۱؎ کنز العمال بحوالہ دارقطنی حدیث۴۳۴۹۴ التراث الاسلامی مصر ۵ /۸۸۰)
صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے ہے:
لقینی رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وانا جنب فاخذ بیدی فمشیت معہ حتی قعد فانسللت فاتیت الرحل فاغتسلت ثم جئت وھو قاعد فقال این کنت یا ابا ھریرۃ فقلت لہ فقال سبحان اﷲیا با ھریرۃ ان المؤمن لایتنجس۲؎۔
رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے اچانک ملاقات ہوگئی حالانکہ میں حالتِ جنابت میں تھا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑلیا مَیں آپ کے ساتھ چلتا رہا حتی کہ آپ تشریف فرما ہُوئے تو میں چپکے سے نکل گیا رہائش گاہ میں جاکر غسل کیا پھر واپس آیا تو آپ تشریف فرماتھے، فرمایا: اے ابوھریرہ! کہاں چلے گئے تھے؟ میں نے ساری بات عرض کی ـ تو آ پ نے فرمایا: سبحان اﷲ، ابوھریرہ! مومن ناپاک نہیں ہوتا۔(ت)
(۲؎ الصحیح للبخاری کتاب الغسل باب الجنب یخرج ویمشی فی السوق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۲)
اور افضل واعلیٰ تمام عباداتِ بدنیہ جن کے لیے طہارت صغری، نہ کبری، کچھ شرط نہیں، ذکر الٰہی ہے اور دعا وذکر کا عبادت ہونا بدیہی ہے بلکہ ذکر ہی اصلِ جملہ عبادات ہے
قال تعالیٰ اقم الصلٰوۃ لذکری۳؎
(میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔ت)
( ۳؎ القرآن ۲۰ /۱۴)
اور نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے حدیث ہے:
الدعاء مخ العبادۃ۴؎۔ رواہ الترمذی عن انس رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
دعامغزِ عبادت ہے (اسے ترمذی نے حضرت انس رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
(۴؎ جامع للترمذی ابواب الدعوات ماجاء فی فضل الدعاء امین کمپنی دہلی ۲ /۱۷۳)
اور ان کے لیے طہارت شرط نہ ہونا ظاہر، ام المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا فرتی ہیں:
کان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم یذکراﷲعلٰی کل احیانہ۱؎۔ رواہ مسلم وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ۔
رسو ل اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اپنے جمیع اوقات میں ذکرِ الٰہی فرماتے تھے(اسے مسلم ، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ت)
جنب کو بہ نیتِ دُعا وثنا الحمد وآیۃ الکرسی پڑھنے کی اجازت ہے
والمسئلۃ مشہورۃ وفی الکتب مزبورۃ
(یہ مسئلہ نہایت مشہور ہے اور کتب میں مسطور ہے۔ت) واﷲتعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۲۵۷: ۲۶رجب ۱۳۱۹ھ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کا روزہ نفل رکھنا کیسا ہے۔ ایک شخص نے جمعہ کا روزہ رکھا دوسرے نے اُس سے کہا جمعہ عید المومنین ہے روزہ رکھنا اس دن میں مکروہ ہے اور باصرار بعد دوپہر کے روزہ تُڑوادیا اور کتاب سرالقلوب میں مکروہ ہونا لکھا ہے دکھلادیا ایسی صورت میں روزہ توڑنے والے کے ذمّے کفارہ ہے یا نہیں ؟ اور تُڑوانے والے کوکوئی الزام ہے یانہیں؟ بینواتوجروا
الجواب :جمعہ کا روزہ خاص اس نیت سے کہ آج جمعہ ہے اس کا روزہ بالتخصیص چاہئے مکروہ ہے مگر نہ وہ کراہت کہ توڑنا لازم ہُوا، اور اگر خاص بہ نیتِ تخصیص نہ تھی تو اصلاً کراہت بھی نہیں، اُس دوسرے شخص کو اگر نیتِ مکروہہ پر اطلاع نہ تھی جب تواعتراض ہی سرے سے حماقت ہوا، اور روزہ توڑ دینا شرع پر سخت جرأت ،اور اگر اطلاع بھی ہوئی جب بھی مسئلہ بتا دینا کافی نہ تھا نہ کہ روزہ تڑوانا، اور وُہ بھی بعد دوپہر کے، جس کا اختیار نفل روزے میں والدین کے سوا کسی کو نہیں، توڑنے والا اور تڑوانے والا دونوں گنہ گار ہوئے، توڑنے والے پر قضا لازم ہے کفارہ اصلاً نہیں ۔واﷲتعالٰی اعلم