Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
127 - 198
مکروھاتِ صوم
مسئلہ ۲۵۲ : از بلگرام شریف محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت سیّد ابراہیم صاحب ۱۸ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روزے میں منجن جو بادام، کوئلہ، سپاری و گل وغیرہ کا بنتا ہے اُس کا استعمال کرنا کرنا کیسا ہے اور دربارہ مسواک کیا حکم ہے؟ بینو اتوجروا
الجواب :مسواک مطلقاً جائز ہے اگر چہ بعد زوال، اور منجن ناجائز وحرام نہیں بلکہ اطمینان کافی ہو کہ اس کا کوئی جزو حلق میں نہ جائے گا، مگر بے ضرورتِ صحیحہ کراہت ضرور ہے۔ درمختار میں ہے:
کرہ لہ ذوق شئی۱؎
 ( روزہ دارکو شَے کا چکھنا مکروہ ہے۔ت) واﷲتعالیٰ اعلم
 (۱؎ الدرالمختار         باب مایفسد الصوم     مجتبائی دہلی     ۱ /۱۵۲)
مسئلہ ۲۵۳تا۲۵۴ : ازعلی گڑھ     بوساطت رحیم اﷲخاں     ۲۵رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ، بینواتوجروا:

(۱) روزے میں اپنی عورت کو لپٹانا یا پاس لیٹنا جس سے خواہش غالب ہو اور مذی نکلے تو روزہ مکروہ ہوگا یا جاتا رہےگا؟

(۲) عورت کی شرمگاہ دیکھنا روزے کو توڑے گا یا نہیں ؟
الجواب (۱) ان افعال سے روزہ جانے کی تو کوئی صورت ہی نہیں جب تک انزال نہ ہو اور خالی پاس لیٹنا جس میں بدن چُھونا یا بوسہ لینا کچھ نہ ہو مکروہ بھی نہیں رہا، لپٹانا یا بوسہ لینا یا بدن چُھونا ان میں اگر بہ سبب غلبہ شہوت فساد صوم کا اندیشہ ہو یعنی خوف ہے کہ صبر نہ کرسکے گا اور معاذاﷲجماع میں مبتلا ہوجائے گا یا بلا جماع ہی ان افعال کی حالت میں انزال ہوجائے گا تو یہ سب فعل مکروہ ممنوع ہیں اور اگر یہ اندیشہ نہ ہو تو کچھ حرج نہیں، مگر مباشرتِ فاحشہ یعنی ننگے بدن لپٹانا کہ ذکر فرج کو مس کرے روزے میں مطلقاًمکروہ ہے۔ اسی طرح سرا ج وہاج میں بوسہ فاحشہ کو بھی مطلقاً مکروہ فرمایا، بوسہ فاحشہ عورت کے لب اپنے لبوں میں لے کر چبائے، اور زبان چوُسنا بدرجہ اولیٰ مکروہ جبکہ عورت کا لعابِ دہن جو اس کی زبان چوُسنے سے اُس کے مُنہ میں آئے تھوک دے، اور اگر حلق میں اُتر گیا تو کراہت درکنار روزہ ہی جاتا رہے گا، اور اگر قصداً بحالتِ لذّت پی لیا تو کفارہ بھی لازم آئے گا۔
فی الدرالمختار کرہ قبلۃ ومس و معانقۃ ان لم یأمن المفسد وان امن لاباس۱؎ملخصاً
درمختار میں ہے: بوسہ لینا، چھونا اور معانقہ کرنا  مکروہ ہے اگر جماع یا انزال مفسد روزہ کا خوف ہو ، اور اگر مفسدِ روزہ کا خوف نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔
 (۱؎ الدرالمختار     باب مایفسد الصوم     مجتبائی دہلی     ۱ /۱۵۲)
وفی ردالمختار جزم فی السراج،بان القبلۃ الفاحشۃ بان یمضغ شفتیھا تکرہ علی الاطلاق ای سواء أمن اولا،قال فی النھر، والمعانقۃ علی التفصیل فی المشہور وکذا المباشرۃ الفاحشۃ فی ظاھر الروایۃ وعن محمد کراھتھا مطلقا وھو روایۃ الحسن ،قیل وھو الصحیح اھ واختار الکراھۃ فی الفتح وجزم بھا فی الولوالجیۃ بلاذکر خلاف، وھی ان یعانقھا وھمامتجردان ویمس فرجہ فرجہا بل قال فی الذخیرۃ ان ھذا مکروہ بلا خلاف لانہ یفضی الی الجماع غالبا اھ وبہ علم ان روایۃ محمد بیان لکون مافی ظاھرالروایۃ ومامر عن النھر لیس مما ینبغی ثم رأیت فی التتار خانیۃ عن المحیط، التصریح بما ذکرتہ من التوفیق بین الروایتین وانہ لافرق بینھما وﷲ الحمد اھ۱؎باختصار
ردالمحتار میں ہے: سراج میں اس پر جزم کیا ہے کہ بوسہ فاحشہ یہ ہےکہ اس کے دونوں ہونٹ اپنے منہ میں لے کر دبانا مطلقاً مکروہ ہے خواہ فسادِ روزہ سے خوف ہو یا نہ ہو۔ نہر میں ہے مشہور روایت کے مطابق بوسہ میں تفصیل ہے ظاہر الروایۃ میں مباشرت فاحشہ کا بھی یہی حکم ہے اور امام محمد سے مطلق اس کی کراہت مروی ہے اور یہ روایت حسن سے ہے، بعض نے کہا یہی ہے اھ ذکر اختلاف کے بغیر فتح میں کراہت کو مختار قرار دیاہے، اور ولوالجیہ میں کراہت پرجزم کا اظہار ہے۔ اور مباشرت فاحشہ سے مراد یہ ہےکہ مردعورت دونوں معانقہ کریں اس حال میں کہ دونوں ننگے ہوں اور مرد کا فرج خاتون کی شرمگاہ کو مس کررہاہو، بلکہ ذخیرہ میں یہ کہا ہے کہ ایسا عمل بالاتفاق مکروہ ہے کیونکہ یہ غالباً جماع کا سبب بن جاتا ہے اھ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ امام محمد کی روایت ظاہر روایت کا بیان ہے اور جو کچھ نہر کے حوالے سے گزراوُہ مناسب نہیں، پھر میں نے تتارخانیہ میں محیط سے اس پر تصریح دیکھی جو میں نے دونوں روایات میں مطابقت دیتے ہوئے ذکر کی ہے کہ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں وﷲالحمد اھ اختصاراً
 (۱؎ردالمحتار     باب مایفسد الصوم الخ     مصطفی البابی مصر     ۲ /۲۳-۱۲۲)
وفی الدر، الضابط وصول مافیہ صلاح بدنہ لجوفہ ومنہ ریق حبیبہ فیکفرلوجود معنی صلاح البدن فیہ، درایۃ، وغیرہا ۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
در میں ہے غذا اور دوا کی شناخت کا ضابطہ یہ ہے پیٹ میں ایسی شئی کا پہنچ جانا جو بدن کی اصلاح کا سبب ہو(وہ غذا یا دوا کہلاتی ہے) محبوب کا لعابِ دہن اسی قبیل سے ہے، اگر کوئی نگل جائے تو ایسی صورت میں چونکہ اصلاحِ بدن موجود ہے لہذا وہ کفارہ اداکرے جیسا کہ درایۃ وغیرہ میں ہے۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔(ت)
 (۲؎ درمختار     باب مایفسد الصوم     مجتبائی دہلی     ۱ /۱۵۱)
 (۲)نہ۔ اگرچہ  باربار بتکرار دیکھے، یہاں تک کہ دیکھنے ہی کی حالت میں بے چُھوئے انزال ہوجائے، ہاں اس صورت میں کراہت ضرور ہے،
فی الدرالمختار انزل بنظر ولوالی فرجھا مرارالم یفطر۳؎۔واﷲتعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے اگر انزال ہوجائے نظر کرنے سے اگر چہ عورت کی شرمگاہ کی طرف نظر مکرر ہو روزہ نہ ٹوٹے گا۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 (۳؎ درمختار     باب مایفسد الصوم     مجتبائی دہلی  ۱ /۱۴۹)
مسئلہ ۲۵۵: از فرید پور ضلع بریلی مرسلہ قاضی محمد نبی جان صاحب ۲۷رمضان مبارک ۱۳۱۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں ایک شخص ہے اس کو حاجت غسل کی ہے مگر روزہ اس نے رکھا مگر قصدا بوقت ظہر تک اُس نے غسل نہ کیا، وقت نماز ظہر کے غسل کیا، کیا روزہ اُس کا رہا یا گیا؟
الجواب:روزہ ہوجائے گا اگر چہ شام تک نہ نہائے، ہاں ترکِ نماز کے سبب سخت اشد کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوگا۔ واﷲتعالٰی اعلم
Flag Counter