Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
126 - 198
مسئلہ ۲۴۸: از شہر کہنہ بریلی     مسئولہ محمد شفیع علی خاں مرحوم     ۲۴شعبان ۱۳۳۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کی عمر ۷۵ سال کی ہے اور بوجہ کمزوری کے برداشت اور طاقت روزہ رکھنے کی نہ ہو ایسی صورت میں اس کو کیا کرنا چاہئے اور کفارہ روزوں کا کس طرح ہواور کفارہ ہر روزدیا جائے۔ بینو اتوجروا
الجواب :طاقت نہ ہونا ایک تو واقعی ہوتا ہے اور ایک کم ہمتی سے ہوتا ہے کم ہمتی کا کچھ اعتبار نہیں، اکثر اوقات شیطان دل میں ڈالتا ہے کہ ہم سے یہ کام ہرگز نہ ہوسکے اور کریں گے تو مرجائیں گے، بیمار پڑ جائیں گے، پھر جب خداپر بھروسہ کرکے کیا جاتا ہے تو اﷲتعالیٰ ادا کرادیتا ہے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچتا، معلوم ہوتا ہے کہ وہ شیطان کا دھوکا تھا ۷۵ برس عمر میں بہت لوگ روزے رکھتے ہیں، ہاں ایسے کمزور بھی ہوسکتے ہیں کہ ستّر ہی برس کی عمر میں نہ رکھ سکیں تو شیطان کے وسوسوں سے بچ کر خوب صحیح طور پر جانچ چاہئے، ایک بات تو یہ ہُوئی، دوسری یہ کہ ان میں بعض کو گرمیوں میں روزہ کی طاقت واقعی نہیں ہوتی مگر جاڑوں میں رکھ سکتے ہیں یہ بھی کفارہ نہیں دے  سکتے بلکہ گرمیوں میں قضا کرکے جاڑوں میں روزے رکھنا ان پر فرض ہے، تیسری بات یہ ہے کہ ان میں بعض لگاتار مہینہ بھر کے روزے نہیں رکھ سکتے مگر ایک دودن بیچ کرکے رکھ سکتے ہیں تو جتنے رکھ سکیں اُتنے رکھنا فرض ہے جتنے قضا ہوجائیں جاڑوں میں رکھ لیں، چوتھی بات یہ ہے کہ جس جوان یا بوڑھے کو کسی بیماری کے سبب ایسا ضعف ہو کہ روزہ نہیں رکھ سکتے انہیں بھی کفار ہ دینے کی اجازت نہیں بلکہ بیماری جانے کا انتظار کریں، اگر قبل شفاموت آجائے تواس وقت کفارہ کی وصیت کردیں، غرض یہ ہے کہ کفارہ اس وقت ہے کہ روزہ نہ گرمی میں رکھ سکیں نہ جاڑے میں، نہ لگاتار نہ متفرق، اور جس عذر کے سبب طاقت نہ ہو اُس عذر کے جانے کی امید نہ ہو، جیسے وہ بوڑھا کہ بڑھاپے نے اُسے ایسا ضعیف کر دیا کہ گنڈے دار روزے متفرق کرکے جاڑے میں بھی نہیں رکھ سکتا تو بڑھا پا تو جانے کی چیز نہیں ایسے شخص کو کفارہ کاحکم ہے، ہر روزے کے بدلے پونے دوسیر گیہوں اٹھنی اُوپر بریلی کی تول سے، یا ساڑھے تین سیر جَو ایک روپیہ بھر اُوپر۔ واﷲ تعالیٰ اعلم، اسے کفارہ کا اختیار ہے کہ روز کا روز دے دے یا مہینہ بھر کا پہلے ہی ادا کردے یا ختمِ ماہ کے بعد کئی فقیر وں کو دے یا سب ایک ہی فقیر کو دے سب جائز ہے۔
مسئلہ ۲۴۹: ازمدرسہ اہلسنّت وجماعت بریلی، مسئولہ مولوی اشرف علی صاحب طالبعلم    ۲۹ذیقعدہ ۱۳۳۲ھ

ایک شخص نے انتقال کیا اور اس کے ذمّہ کچھ روزہ فرض اور کچھ وقتوں کی نماز رہ گئی اب اس کی نماز روزہ کا فدیہ ادا کرنا چاہتے ہیں تو اس فدیہ کا کون مستحق ہے، کس قسم کے لوگوں کو دیا جائے؟بینو اتوجروا

الجواب :اس کے وہی مستحق ہیں جو زکوٰۃ کے مستحق ہیں، فقیر محتاج مسلمان کہ نہ ہاشمی ہوں، نہ اس کی اولاد، نہ یہ اُن کی اولاد۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔
مسئلہ۲۵۰: از مارہرہ شریف ضلع ایٹہ سرکارکلاں ،مرسلہ حضرت سید محمد میاں صاحب دامت برکاتہم ۷شعبان ۱۳۳۱ھ

فدیہ صوم جو شخصِ فانی کے لیے ہو اس کی مقدار بحساب انگریزی اسّی تولہ کے سیر سے کیا ہے اُس سے مطلع فرمایا جاؤں فتوٰی رضویہ میں فتوی بارق النور میں ایک صاع کی مقدار آٹھ رطل اور ہر رطل کی مقدار ۳۶روپے بھر ہے اس حساب سے ایک صاع دوسو اٹھاسی روپیہ بھر ہو امگر اس میں ایک سو اٹھاسی بھر لکھا ہے شاید غلطی سے لکھا گیا ہو مجھے خیال پڑتا ہے کہ سال گزشتہ کے اشتہار افطار وسحر میں صدقہ فطر کی مقدار سوادوسیراور ایک اٹھنی انگریزی بھر لکھی ہُوئی تھی یہ اس فتاوٰی کے مقدار صاع سے جو دوسو اٹھاسی ہویا ایک سو اٹھاسی ہو بہر حال مختلف رہتی ہے میں صرف بحساب اسّی تولہ سیر کے مقدار صدقہ فطر و فدیہ دریافت کرنا چاہتا ہُوں فقط۔
الجواب:صاع وہی دوسو ستّر تولے ہے جس کا سکہ رائجہ ہند سے دوسو اٹھاسی روپے بھر وزن ہوا کہ یہ روپیہ سواگیارہ ماشے ہے مگر احسن واحوط یہ ہے کہ گیہوں کا صدقہ جَو کی صاع سے ادا کیاجائے یعنی جس پیمانہ میں ایک سو چوالیس ۱۴۴ روپے بھر جَو آئیں اُس بھر گیہوں دئے جائیں ظاہر ہے کہ گیہوں وزن میں زیادہ آئیں گے جَو سے بھاری ہیں فقیر نے صاع شعیری حاصل کیا اور اس میں گیہوۤں بلا تکویم و تقعیر بھر کر تولے تو پُورے تین سواکاون ۳۵۱ روپے بھر ہُوئے توصدقہ فطر فدیہ صوم وغیرہا میں نیم صاع گندم کے اٹھنی اُوپرپونے دو سو روپے بھر  گیہوں دینا احوط ہے جس کے بریلی کے سیر سے اٹھنی بھر اوپر پونے دوسیر ہُوئے اور اسّی روپے بھر کے سیر سے اٹھنی بھر اور تین چھٹانک دوسیر ہُوئے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۲۵۱ : از گونڈہ محلہ نبی گنج مکان مولوی نوازش احمد مسئولہ حافظ محمد اسحق ۲۳ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ

شیخ فانی کی تعریف کیا ہے اور اُس کی عمر کی کچھ تعداد بھی معیّن ہے یا نہیں، احکامِ شرعیہ مثل نماز روزہ، وضو و غسل کے کیا حکم ہے؟ بینو اتوجروا
الجواب:شیخ فانی کی عمر اسّی یا نوّے سال لکھی ہے اور حقیقۃً بنائے حکم اس کی حالت پر ہے اگر سَو برس کا بوڑھا روزہ پر قادرر ہے شیخ فانی نہیں اور اگر وہ ستّر برس میں بوجہ ضعف بیّنہ بڑھاپے سے ایسا زار ونزار ہوجائے کہ روزہ کی طاقت نہ رہے تو شیخ فانی ہے۔ غرض شیخ فانی وُہ ہے جسے بڑھاپے نے ایسا ضعیف کردیا ہو، اور جب اُس ضعف کی علّت بڑھاپا ہوگا تو اُس کے زوال کی اُمید نہیں اُسے روزے کے عوض فدیہ کا حکم ہے باقی نماز و طہارت کے بارہ میں پیر جوان سب کا ایک حکم ہے، جو جس وقت جس حالت میں جتنی بات سے معذور ہوگا بقدر ضرورت تا وقت اُسے تخفیف دی جائے گی
قال تعالٰی لایکلّف اﷲنفسا الّا وسعھا۱؎
 (اﷲتعالیٰ کا مبارک فرمان ہے اﷲہر کسی کو اس کی طاقت کے مطابق ہی حکم دیتا ہے۔ت) واﷲتعالیٰ اعلم
 (۱؎القرآن ۲ /۲۸۶)
Flag Counter