کما صرحوابہ فی الزکوٰۃ وقال العلامۃ السید الحموی فی شرح الاشباہ والنظائر العبرۃ لنیۃ الدافع لالعلم المدفوع الیہ اھ۲؎ و فی ردالمحتار لا اعتبار للتسمیۃ الخ۳؎و قد فصلناہ فی زکوٰۃ فتاوٰنا۔
جیسا کہ مسئلہ زکوٰۃ میں اس کی تصریح موجود ہے علامہ سیّد حموی نے شرح الاشباہ والنظائر میں فرمایا دینے والے کی نیت کا اعتبار ہے، اسے معلوم ہونا ضروری نہیں جسے دی جارہی ہواھ ردالمحتار میں ہے زبان سے نام لینے کا اعتبار نہیں الخ ہم نے اس کی پُوری تفصیل اپنے فتاوٰی کے کتاب الزکوٰۃ میں دی ہے۔(ت)
(۲؎ غمز عیون البصائر مع الاشباہ والنظائر کتاب الزکوٰۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ /۲۲۱)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۱۱)
مگر زبان سے بھی کہہ دینے کو علماء مناسب بتاتے ہیں یہاں تک کہ طریقہ ادا میں میّت کے باپ دادا تک کا نام لینا فرماتے ہیں کہ مسکین سے کہا جائے یہ مال تجھے فلاں بن فلاں کے اتنے روزوں یا اتنی نمازوں کے فدیہ میں دیا ،وہ کہے میں نے قبول کیا،
شرح نقایہ علامہ قہستانی میں ہے: ینبغی ان یقول الدافع للمسکین فی کل مرۃ انی ادفعک مال کذافدیہ صوم کذا لفلان بن فلان المتوفی ویقول المسکین قبلتہ۱؎ ۔
مسکین کو دینے والا ہر دفعہ کہے میں تجھے فلاں بن فلاں میت کی طرف سے فدیہ صوم کے طور پر مال دے رہا ہُوں اور مسکین کہے میں نے اسے قبول کیا۔(ت)
(۱؎ جامع الرموز فصل موجب الافساد مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ /۷۱-۳۷۰)
منحۃ الخالق و شرح ہدایۃ ابن عمار و احکام الجنائز میں ہے:
یقول المسقط لواحد من الفقرأ ھکذا افلان بن فلاں ویذکر اسمہ و ابیہ، فاتتہ صلوات سنۃ ، ھذہ فدیتھا من مالہ،نملکک ایاھا ویعلم ان المال المدفوع الیہ صار ملکاًلہ ثم یقول الفقیر ھکذا وانا قبلتھا وتملکتھا منک۲؎ ۔
وارث فقراءمیں سے کسی ایک کو یُوں کہے کہ یہ فلاں بن فلاں ہے، میت کانام اس کے والد کانام ذکر کرکے کہے اس کی سال کی نمازیں فوت ہوگئی تھیں ہم ان کے فدیہ کے طور پر اس مال کا تجھے مالک بنارہے ہیں، اور وُہ مال فقیر کی ملک میں چلانا معلوم کرے ، پھر فقیر یُوں کہے میں نے قبول کیا اور تجھ سے اسے اپنی مِلک میں لیا۔(ت)
(۲؎ منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرائق باب قضاء الفوائت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۹۰)
پُر ظاہر کہ یہ سب اولویتیں ہیں جن پر توقف ادا نہیں،
کما علمت فلانظرلما یوھمہ کلام الفاضل المعاصر فی منۃ الجلیل حیث قال و یدفع عن الجنایۃ علی الحرم والاحرام مما یوجب دمااوصدقۃ نصف صاع اودون ذٰلک فلابد من التعرض لاخراجھا بان یقال خذھذا عن جنایۃ علی حرم او احرام اھ۳؎ وانما الواجب التعرض فی النیۃ والقول یعم النفسی فافھم،واﷲتعالٰی اعلم۔
جیسا کہ آپ جان چکے ، اس کی طرف توجہ نہ کی جائے جس کا وہم فاضل معاصر کے رسالہ منۃالجلیل میں کلام سے پیدا ہورہا ہے انہوں نے کہا حرم اور احرام میں جس جنایت کی وجہ سے دم لازم آیا ہو یا نصف صاع صدقہ یا اس سے کم صدقہ لازم آیا ہو تو اس کے نکالتے وقت یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ حرم یا احرام میں جنایت کا فدیہ ہے تو اُسے وصول کر ا ھ کیونکہ تعرض نیت میں ضروری ہے اور قول کلامِ نفسی کو شامل ہوتا ہے، فافہم واﷲتعالیٰ اعلم(ت)
(۳؎ منۃ الجلیل رسالہ من رسائل ابن عابدین الرسالۃ الثامنۃ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۲۲۴)
(۱۰) متعدد فرق ہیں:
(۱) شیخ فانی اپنی حیات میں روزہ کا فدیہ دے گا اور وُہ کافی ہوگا۔ اگر زندگی میں عجززائل ہوکر قوت نہ آجائے مگر نماز کا فدیہ نہیں دے سکتا کہ اس سے عجز مستمر متحقق نہیں ہوتا مگر دمِ واپسیں کھڑے ہوکر نہ ہوسکے بیٹھ کر پڑھے، بیٹھ کر نہ ہوسکے لیٹ کر اشارہ سے پڑھے۔
(۲) شیخ فانی پر روزہ کا فدیہ حیات میں دینا واجب ہے اگر قادر ہو، بعد مرگ وجوب نہیں جب تک اپنے مال میں وصیت نہ کرے۔
(۳) شیخ فانی کہ زندگی میں روزہ کا فدیہ دے اس کے کافی ہونے پر یقین کیا جائے گا کہ اس میں صراحۃً نص وارد، یونہی اگر فدیہ روزہ کی وصیت کرے اور فدیہ روزہ بے وصیت اور فدیہ نماز بوصیت میں شبہ ہے اور فدیہ نماز بے وصیت میں شبہ اقوی،
وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل۔
(۴) زندگی میں فدیہ صوم شیخ فانی پر اس کے کل مال میں ہے اور بعد مرگ بے وصیت، بے اجازت ورثہ ثلث سے زائد میں نافذ نہ ہوگی۔
فی تنویر الابصار والدرالمختار، لومات و علیہ صلوات فائتۃ واوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلٰوۃ کالفطرۃ وکذاالوترو الصوم وانما یعطی من ثلث مالہ ولو فدی عن صلوتہ فی مرضہ لایصح بخلاف الصوم اھ۱؎ملخصا،
تنویرالابصار اور درمختار میں ہے اگر کوئی فوت ہُوا اور اس کی نماز یں رہ گئی تھیں اور اس نے کفارہ کی وصیت کی تو ہر نماز کے عوض صدقہ فطر کے برابر فدیہ دیا جائے، اسی طرح وتر اور روزے کاحکم ہے، باقی یہ فدیہ صرف اس کے تہائی مال سے ادا کیا جائیگا، اگر کسی نے اپنی نماز کا فدیہ مرضِ موت میں دیا تو صحیح نہیں بخلاف روزہ کے کہ اس کا فدیہ مرض موت میں دینا جائز ہے۔
(۱؎ درمختار باب قضاء الفوائت مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۰۱)
ردالمحتار میں ہے جب کسی نے فدیہ صوم کی وصیت کی توقطعاً جواز کا حکم دیا جائے، اور اگر اس نے وصیت نہ کی مگر وارث نے بطور نفل فدیۃً ادا کردیا تو امام محمد نے زیادات میں فرمایا اگر اﷲتعالٰی نے چاہا تو یہ فدیۃً کفایت کرجائے گا، اسی طرح انہوں نے اسے مشیتِ باری تعالیٰ سے معلق فرمایا، جب کسی نے نماز کے فدیہ کی وصیت کی تو جب اس نے وصیت نہ کی ہوتو شبہ بہت قوی ہوگا ۔
(۱؎ ردالمحتار باب قضاء الفوائت مصطفی البابی مصر ۱ /۵۴۱)
وفی التنویروالدر فدی لزوما عن المیت ولیہ بو صیۃ و ان تبرع ولیہ جاز ان شاء اﷲتعالٰی والشیخ الفانی یفدی وجوبالو موسرا ومتی قدر قضی لان استمرار العجز شرط الخلیفہ اھ۲؎(الکل بالا لتقاط) وفی صوم البحر الرائق وقید بالوصیۃ لانہ لولم یأمر لایلزم الورثۃ شئی کالزکوٰۃ۔۳؎
نیزتنویر اور در میں ہے وصیت کی بنا پر وارث کو میّت کی طرف سے فدیہ دینا لازم ہے اور اگر وارث نے بطوراحسان فدیہ دے دیا تب بھی ان شاء اﷲیہ فدیہ دینا جائز ہے، اور شیخ فانی اگر امیر ہوتو اس پر فدیہ دینا لازم ہے اور اگر روزہ رکھنے پر قادر ہوگیا تو قضا کرے کیونکہ دوام عجز کا شرط ہے یعنی فدیہ کے روزے کا خلیفہ ہونے کے لیے دوام عجز شرط ہے، یہ تمام عبارتیں اختصاراً ذکر کی گئی ہیں۔بحر الرائق کے باب الصوم میں ہے وصیت کے ساتھ مقید اس لئے کیا کہ اگر میت وصیت نہ کرے تو ورثاء پر کوئی شئے لازم نہ ہوگی، جیسا کہ زکوٰۃ کا معاملہ ہے۔(ت)
(۲؎ درمختار باب مایفسد الصوم مجتبائی دہلی ۱ /۱۵۳)
( ۳؎ البحرالرائق فصل فی العوارض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۸۴)
ان کے سوااور فرق ہیں کہ مطالعہ بحرالرائق وغیرہ سے ظاہر مگر مقدار فدیہ وغیرہ جس قدر احکام نَو مسائل سابقہ میں مذکور ہُوئے اُن میں فدیہ حیات و ممات یکساں ہے،واﷲتعالیٰ اعلم
(۱۱) نہ کنز میں ہے
للشیخ الفانی وھو یفدی۴؎
(شیخ فانی فدیہ ادا کرے۔ت) فقط غیر فانی پر قضا فرض ہے پیش از قضا قضا آجائے تو فدیہ کی وصیت واجب،
فی البحرا الرائق، الولی لایصوم عنہ ولا یصلی لحدیث النسائی عہ لایصوم احد عن احد ولا یصلی احد عن احد اھ۱؎ واﷲتعالٰی اعلم۔
بحرا لرائق میں ہے ولی میت کی طرف سے نہ روزہ رکھے نہ نماز پڑھے کیونکہ حدیث نسائی میں ہے کوئی شخص کسی کی طرف سے نہ روزہ رکھے اور نہ نماز پڑھے۔ اھ، واﷲ تعالیٰ اعلم(ت)