Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
124 - 198
یہ ائمہ متقدمین سے لے کر ہمارے زمانے تک کے علمائے متاخرین کے نصوص ہیں جن میں سوا اُس طریقہ دور کے طریقہ دین کا اصلاً پتا نہ دیااور طریقہ دور میں جو سخت تکلیف ہے مخفی نہیں۔ وجیز امام کردری میں ہے:
ان لم یکن لہ مال یستقرض نصف صاع ویعطیہ المسکین ثم یتصدق بہ المسکین علی الوارث الی المسکین ثم الوارث الی المسکین ثم وثم حتی یتم لکل صلٰوۃ نصف صاع کما ذکرنا۲؎ ۔
اگر وارث کے پاس مال نہ ہو تو وارث نصف صاع قرض لے اور کسی مسکین کو دے پھر وہ مسکین اس وارث پر صدقہ کرے پھر وارث ، مسکین پر صدقہ کرے اسی طرح باربار کیا جائے حتی کہ ہرہر نماز کا فدیہ نصف صاع ہوجائے جیسے ہم ذکر کر آئے (ت)
 (۲؎ الفتاوی البزازیۃ علی حاشیہ فتاوٰی ہندیۃ         التاسع عشرفی الفوائت     نورانی کتب خانہ پشاور     ۴ /۶۹)
بعینہٖ اسی طرح نیم صاع، بحرالرائق و خلاصہ وہندیہ و طحطاوی علی نورالایضاح وابی السعود علی مسکین و ملتقط و برجندی ودرمختار و غیر ہا معتمدات اسفار میں ہے۔ اب فرض کیجئے کہ زید نے بہتّر ۷۲سال کی عمر میں وفات پائی، بارہ برس نکال کر ساٹھ۶۰رہے۔ ہر سال کے دن تین سو ساٹھ۳۶۰ نہ رکھئے جس طرح کشف الغطاء میں اختیار کیا ہر سال قمری کبھی تین سو پچپن ۳۵۵ دن سے زائد نہیں ہوتا۔
ھذاالعرفی الماخوذ بالاھلۃ اماالحقیقی فیکون اقل منھا بساعات کما فصل فی محلہ، اقول وکذا لاحاجۃ بنا الی اخذ الشمسیۃ ثلثمائۃ وخمسۃ وستین یوما کما فعل فی احکام الجنائز قائلا ینبغی ان تحسب فدیۃ الصلوٰۃ بالسنۃ الشمسیۃ اخذاباحتیاط من غیر اعتبار ربع الیوم اھ۱؎
یہ عرفی سال ہے جو چاند کی بنا پر ہوتا ہے،رہا حقیقی سال تو وُہ اس سے کچھ ساعتیں کم ہوتا ہے جیسا کہ اس کی تفصیل اپنے مقام پر کی گئی ہے اقول اسی طرح ہمیں شمسی سال تین سو پینسٹھ دن کا لینے کی ضرورت 

نہیں جیسا کہ احکام جنائز میں یہ کہتے ہوئے لیا گیا ہے کہ فدیہ نماز میں احتیاطاً شمسی سال کا اعتبار کرنا چاہئے ماسوائے دن کے چوتھائی حصّہ کے اھ۔
 (۱؎ منحۃ الخالق بحوالہ احکام الجنا ئز    حاشیہ بحرالرائق     باب قضاء الفوائت     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۲ /۹۰)
فان سن العمراذا حسبت بالقمر یات علمنا قطعا ان الایام لاتزید علی مانحسب، والمقطوع بہ لا یحتاج الی الاحتیاط فان قیل لعلھم اخذ واالزائد لیقع عمایؤد عنہ من الصلوات التی عسٰی ان یکون المیت فرط فیھا قلت قالوابعد ذٰلک ثم یحسب سن المیت فیطرح منہ اثنا عشرۃ سنۃ لمدۃ بلوغہ ان کان المیت ذکراوتسع سنین ان کانت انثی الخ۲؎کمافی احکام الجنائز ایضافا ذا اتواعلی جمیع العمر فماذاعسٰی ان یکون شاذا یحتاط لہ۔
کیونکہ جب عمر کے سالوں کا اعتبار چاند کے اعتبار سے ہے تو یقینا دن ہمارے حساب سے زائد نہ ہوں گے اور یقینی بات میں احتیاط کی محتاجی  نہیں ہوتی، اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے زائد دن اس لیے لئے ہیں شاید میّت نے بعض نمازوں میں کوتاہی کی ہو تو اس کا فدیہ ہوجائے قلت اس کے بعد فقہاء نے فرمایا ہے پھر میّت کی عمر شمار کی جائے اس سے بلوغ کی مدّت بارہ سال خارج کردی جائے اگر وہ مذکر ہو، اور اگر مؤنث ہے تو نو سال خارج کی جائے الخ جیسا کہ احکامِ جنائز میں بھی ہے تو جب وہ ساری عمر کی بات کررہے ہیں تو اس سے خارج کوئی نہیں رہا جس کے لیے احتیاط کی ضرورت ہو۔(ت)
 (۲؎ منحۃ الخالق بحوالہ احکام الجنا ئز ،حاشیہ بحرالرائق،باب قضاء الفوائت ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۹۰
تویہی تین سو پچپن کافی ہیں پس ایک سال کی نمازوں کے دوہزار ایک سوتیس (۲۱۳۰) فدیے ہُوئے ، اور تیس۳۰ فدئیے یعنی فدیے رمضان المبارک کے ملا کر دوہزار ایک سوساٹھ ۲۱۶۰، انہیں ساٹھ میں ضرب دینے سے ایک لاکھ انتیس ہزار چھ سو(۱۲۹۶۰۰)ہوتے ہیں، اتنی بار وارث و فقیر میں تصدّق و ہبہ کی اُلٹ پھیر ہونی چاہئے تو فدیہ ادا ہو، یہ صرف صوم و صلٰوۃ کا فدیہ ہُوا اور ہنوز اور بہت فدیے و کفارے باقی ہیں مثلاً (۳) زکوٰۃ فرض کیجئے ہزاروں روپے زکوٰۃ کے اس پر مجتمع ہوگئے تھے اور نیم صاع کی قیمت دو۲ آنے ہے تو آٹھ ہزار دور بہ نیت زکوٰۃ دینے لینے کو درکار ہیں (۴) قربانیاں، اگر فی قربانی ایک ہی روپیہ قیمت رکھئے تو ساٹھ۶۰ قربانیوں کے لیے چار سو اسی۴۸۰ دور ہوں۔(۵)قسموں کے کفارے ، ہر قسم کے لیے دس مسکین جدا جدا درکار ہیں ایک کو دس بار دینا کافی نہ ہوگا(۶) ہر سجدہ تلاوت کے لیے بھی احتیاطاً ایک فدیہ مثل ایک نماز کے ادا چاہئے وان لم یجب علی الصحیح کما فی التاتار خانیۃ (اگر چہ صحیح قول کے مطابق واجب نہیں جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے۔ت) (۷) صدقاتِ فطر اپنے اور اپنے اہلِ وعیال کے جس قدرادا نہ ہوئے ہوں(۸) جتنے نوافل فاسد ہُوئے اور ان کی قضانہ کی(۹) جوجو منتیں مانیں اور ادا نہ کیں(۱۰) زمین کا عشر یا خراج جوادا سے رہ گیا وغیرہ وغیرہ اشیائے کثیرہ،
علی ماذکر بعضھا فی ردالمحتار وزادکثیرا فی شفاء العلیل وفصل جلھا فی منۃ الجلیل فراجعھا ان اردت التفصیل وافاد فی الدرالمختار ضابطۃ کلیۃ ان ماکان عبادۃ بدنیۃ فان الوصی یطعم عنہ بعد موتہ عن کل واجب کالفطرۃ والمالیۃ کالزکوٰۃ یخرج عنہ القدر الواجب والمرکب کالحج یحج عنہ رجلا من مال المیت بحر اھ۱؎
ان میں سے بعض کا تذکرہ ردالمحتار میں ہے اس پر بہت سا اضافہ شفاء العلیل میں کیا اور منۃ الجلیل میں ان میں سے بڑی بڑی کی تفصیل ہے اگرتفصیل چاہتے ہوتو اس کی طرف رجوع کرو۔ درمختار میں یہ ضابطہ کلیہ بیان کیا جس کا حاصل یہ ہے ہر وہ عبادت جو بدنی ہو(جیسے نماز) تو وصی اس کے مرنے کے بعد میّت کی طرف سے ہر واجب کے عوض صدقۃ الفطر کی مقدار فدیہ دے، اگر عبادت مالی ہو مثلاً زکوٰۃ تو وصی مقدار واجب میّت کی طرف سے ادا کرے اور اگر مالی اور بدنی کا مرکب ہو جیسے حج تو کسی شخص کو بھیج کر میّت کے مال سے حج کرائے کذافی البحراھ۔
 (۱؎ الدرالمختار     کتا ب الصوم     فصل فی العوارض     مجتبائی دہلی     ۱ /۱۵۳)
قلت وکلام البحراجمع وانفع حیث قال الصلوٰۃ کالصوم، ویؤدی عن کل وتر نصف صاع ، وسائر حقوقہ تعالٰی کذٰلک مالیا کان أوبدنیا عبادۃ محضۃ اوفیہ معنی المؤنۃ کصدقۃ الفطر او عکسہ کالعشراومؤنۃ محضۃ کالنفقات او فیہ معنی العقوبۃ کالکفارات اھ۲؎(ملخصاً)
قلت بحر کا کلام بہت جامع اور نافع ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ نماز، روزے کی طرح ہے اور ہر وتر کے عوض نصف صاع ادا کیا جائے اور اﷲتعالیٰ کے بقیہ حقوق کا معاملہ بھی اسی طرح ہے خواہ وُہ مالی ہوں یا بدنی، عبادت محضہ ہوں یا اس میں ذمہ داری کا پہلو بھی ہو مثلاً صدقۃ الفطر یا اس کا عکس ہو مثلاً عشر یا اس میں محض ذمّہ داری ہو مثلاًنفقات یا اس میں معنی عقوبت ہو مثلاً کفارات اھ(ملخصاً)(ت)
(۲؎ البحرالرائق      فصل فی العوارض     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ۲ /۲۸۵)
ان کے لیے کوئی حد معین نہیں کرسکتے اس قدر ہونا چاہئے کہ براءت ذمہ پر ظن حاصل ہو
واﷲتعالٰی یقبل الحسنات ویقیل السیئات
 (اﷲتعالیٰ حسنات کو قبول کرے اور برائیوں کو ختم کرے۔ت)
ان ہزاروں لاکھوں بار کے ہیر پھیر کی دقّت دیکھئے اور اس ہندی طریقہ کی سہولت کہ ایک ہی دفعہ میں اُس کے اور اس کی سات۷ پشت کے تمام انواع واقسام کے فدیے، کفارے ، مواخذے دو حرف کہنے میں معاً ادا ہوسکتے ہیں تو اوّل تا آخر تمام علمائے مذہب کا اس کلفت کے اختیار اور اس سہولت کے ترک پر اتفاق قرینہ واضحہ ہے کہ اُن کے نزدیک اُس آسانی کی طرف راہ نہ تھی ورنہ اسے چھوڑ کر اس مشقت پر اطباق نہ ہوتا بالجملہ دین سے فدیہ ادا کرنے کی دو۲ صورتیں ہیں:
ایک وہ کہ درمختار کتاب الوصایا عبارت مذکورہ سابقاً میں ذکر فرمائی کہ مدیون سے دین وصول کرکے بعد قبضہ پھر اسے فدیہ میں دے دے۔
دوسری وُہ کہ درمختار کتاب الزکوٰۃ میں مذکور ہُوئی کہ مال فدیہ میں دے کر آتے میں واپس کرے اگرمدیون نہ دینا چاہے ہاتھ بڑھا کرلے لے کہ اپنا عین حق لیتا ہے،
حیث قال وحیلۃ الجوازان یعطی مدیونہ الفقیر زکوٰتہ ثم یا خذھا عن دینہ ولو امتنع المدیون مدیدہ واخذھا لکونہ ظفر بجنس حقہ فان ما نعہ رفعہ للقاضی۱؎ ۔
اس کے الفاظ یہ ہیں مال موجود کی زکوٰۃ دَین سے ادا کرنے کی تدبیر یہ ہے کہ فقیر مقروض کو اپنی زکوٰۃ حوالہ کردے پھر اس سے دَین کے عوض زکوٰۃ کی رقم واپس لے لے ،اگر مقروض نہ دے تو اس کا ہاتھ پکڑ کر چھین لے کیونکہ یہ اسے اس کے حق کی جنس ملی ہے پھر اگر مدیون فقیر مزاحمت کرے تو اس کو قاضی کے پاس لے جائے کہ وہ اس سے دِلوادے گا۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار     کتاب الزکوٰۃ     مجتبائی دہلی     ۱ /۱۳۰)
اسی طرح ذخیرہ و ہندیہ واشباہ وغیرہا میں ہے باقی یہ صورت کہ جو دَین فقیر پر آتا تھا یا اب اس کے ہاتھ کچھ بیچ کر مدیون کرلیا یہ فدیہ میں چھوڑدیا جائے اس کے جواز کا پتا کلماتِ علماء سے اصلاً نہیں چلتا بلکہ ظاہر عدم جواز مفہوم ہوتا ہے تو احتیاط اس میں ہے کہ جب تک مشائخ مذہب سے اُس کے جواز کے پتے کی تصریح نہ ملے ایسے امر پر اقدام نہ کیا جائے
ھذاماظھر لی والعلم بالحق عند ربی
(یہ مجھ پر ظاہر ہُوا ہے اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے۔ت)
فائدہ: علماء نے حتی الامکان تقلیل دورپر نظرفرمائی ہے، علامہ شمس قہستانی نے تین صاع سے دَور فرض کیا کہ ہر بار میں ایک دن کامل کی نماز ادا ہو۔ احکام الجنائز میں چار ہزار بہتّر۴۰۷۲ درہم سے دَور رکھا کہ اُن اعصار وامصار کے حساب سے ہردَور میں ایک سال کی نماز کا فدیہ ہو۔ ردالمحتار میں دَور یک سالہ ذکر کرکے کہا اس سے زیادہ قرض لے تو ہربار میں زیادہ ساقط ہو،
ویشمل کل ذلک وما سواہ مافی منۃ الجلیل ومماتعارفہ الناس ونص علیہ اھل المذھب ان الواجب اذاکثر اداروا صرۃ مشتملۃ علی نقوداوغیرھا کجواھراوحلی اوساعۃ وبنواالامر علی اعتبار القیمۃ الخ۱؎ ۔
یہ تمام کو شامل ہے، اس کے علاوہ جو منۃ الجلیل میں ہے کہ جو لوگوں کے ہاں معروف ہے اسی پر اہلِ مذہب نے تصریح کی کہ جب واجب کثیر ہوں تو ایک تھیلی میں نقدی وغیرہ مثلاً جواہر، ہار، زیور ڈال کر دَور کریں تو فقہاء نے قیمت کا اعتبار کیا ہے الخ (ت)
 (۱؎ منۃ الجلیل،رسالہ من رسائل ابن عابدین ،الرسالۃ الثامنۃ ، سہیل اکیڈمی لاہور     ۱ /۲۱۲)
یہ سب واضحات ہیں اور ہر فہیم بعد ادراک حساب حتی المقدور تخفیف دَور کرسکتا ہے یہاں تک کہ اگر ممکن ہو کہ جس قدر اموال تمام فدیوں ،کفاروں، مطالبوں کی بابت محسوب ہوئے سب دفعۃً تھوڑی دیر کے لیے کسی سے قرض مل سکیں تو دَور کی حاجت ہی نہ رہے گی کہ کوئی شے اُتنے اموال کے عوض فقیر کے ہاتھ بیچے ،اوراگر کفار ہ قسم بھی شامل ہے تو دس کے ہاتھ۔ پھر وُہ اموال قرضہ گرفۃ فدیہ میں دے کر شئی مبیع کو ثمن میں لے لے اور حسبِ مقدرت فقراء کو کچھ دے کر اُن کا دل خوش کر دے، ہنوز اس مسئلہ میں بہت تفاصیل باقی ہیں کہ بخیال طول ان کے ذکر سے عنان کشی ہوئی۔ واﷲتعالیٰ اعلم
Flag Counter