Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
123 - 198
باقی صور کا حکم قابل تفتیش و مراجعت ہے اقول وباﷲالتوفیق :  امر متحمل ہے اور قائل کہہ سکتا ہے کہ قاعدہ شرعیہ ادائے کامل بہ کامل ہے، نہ کامل بنا قص۔ ولہذا اوقات ثلٰثہ میں کوئی نماز ادا وقضا جائز نہیں، مگر آج کی عصر یا اُس جنازے کی نماز جو انہیں اوقات میں لایا گیا
لتأدیھما حینئذکما وجبتاوالمسائل بتعلیلا تھا مذکورۃ متونا وشروحا
 ( کیونکہ ان کی ادائیگی اس طرح ہورہی ہے جس طرح وہ واجب ہوئے تھے اور یہ تمام مسائل اپنی تعلیلات کے ساتھ متون اور شروحات میں مذکور ہیں ۔ت) روزوں میں کوئی ناقص نہیں اور قضا نمازیں عموماً کامل ہیں ولہذا کل کی عصر آج آفتاب ڈوبتے قضا نہیں کی جاسکتی اور جو مال کسی پر دین ہو جب تک وصول نہ ہومال کامل نہیں ناقص ہے خصوصا  جبکہ کسی مفلس پر ہو کہ وہ تو گویا مردہ مال ہے ولہذا حاصل ملک مال کہ تمول وغنا نہیں ہوتا زید کے لاکھ روپے کسی مفلس پر قرض آتے ہوں جب تک پاس نصاب نہ ہو فقیر ہے خود زکوٰۃ لے سکتا ہے۔
فی الاشباہ من لہ دین علی مفلس مقر،فقیر علی المختار۱؎ ۔
اشباہ میں ہے جس کا کسی ایسے شخص پر قرض ہو جو مفلس اقرار کرنے والا ہو تو مختار قول پر وہ فقیر ہے۔(ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر ،تاب الزکوٰۃ ،دارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ،۱ /۲۲۰)
بلکہ عرفاً دین کو مال ہی نہیں کہتے اگر لاکھوں قرض میں پھیلے ہوں اور پاس کچھ نہیں تو قسم کھا سکتا ہے کہ میرا کچھ مال نہیں
کما تقدم عن الظھیریۃ ومثلہ فی البحروالتنویروغیرھما
 (جیسا کہ ظہیریہ کے حوالے سے پہلے گزرا، اس کی مثل بحر، تنویر، اور دیگر کتب میں ہے۔ت) ولہذا کسی عین یعنی نصاب موجود کی زکٰوۃ ،دین بہ نیت زکٰوۃ معاف کر دینے سے ادا نہیں ہو سکتی کہ نصاب موجود مال کامل ہے تو مال ناقص اس کی زکوٰۃ نہیں ہوسکتا بلکہ جو دین آئندہ ملنے کا ہے اس کی زکوٰۃ بھی معافی دین سے ادا نہ ہوگی کہ دین باقی، دین ساقط سے بہتر ہے، دین ساقط اب کبھی مال نہیں ہوسکتا اور دین باقی میں احتمال ہے شاید وصول ہوکر مال ہوجائے، ہاں جو نصاب کسی فقیر پر دین تھی وُہ کُل یا بعض اسے معاف کردے تو قدرمعاف شدہ کی زکوٰۃ ساقط ہوگئی کہ ناقص ناقص سے ادا ہوسکتاہے۔
فی الدرالمختار، لوابرأالفقیر عن النصاب صح وسقط عنہ، واعلم ان اداء الدین عن الدین والعین عن العین وعن الدین یجوز واداء الدین عن العین وعن دین سیقبض لا یجوز اھ۲؎
درمختار میں ہے : اگر کسی نے فقیر کو نصاب سے بری کردیا تو صحیح ہوگا اور اس سے زکوٰۃ ساقط ہوجائیگی۔ واضح رہے کہ دین کی ادائیگی دین سے اور عین کی ادائیگی عین  سے، اور دین دونوں سے جائز ہے لیکن دین کی ادائیگی عین سے اوراس دین سے جو عنقریب مقبوض ہوگا ان دونوں سے جائز نہیں اھ
 (۲؎ درمختار       کتاب الزکوٰۃ       مجتبائی دہلی   ۱ /۱۳۰)
فی تبیین الحقائق لو کان لہ دین علی فقیر فابرأہ عنہ سقط منہ زکوٰۃ نوی بہ عن الزکٰوۃ او لا لانہ کالھلاک ولوابرأہ عن البعض سقط زکٰوۃ ذلک البعض لما قلنا وزکٰوۃ الباقی لاتسقط ولو نوٰی بہ الاداء عن الباقی لان الساقط لیس بمال والباقی یجوز ان یکون مالافکان خیرامنہ فلایجوز الساقط عنہ اھ۱؎ ۔
تبیین الحقائق میں ہے اگر کسی کا فقیر پردین تھا اس نے فقیر کو قرض سے بری کردیا تو اس سے زکوٰۃ ساقط ہوجائے گی خواہ اس سے زکوٰۃ کی اس نے نیت کی ہو یا نہ، اس لیے کہ یہ ہلاک ہونیوالے مال کی طرح ہے اور اگر بعض نے ساقط کیا تو سابقہ دلیل کی بناپر بعض سے ساقط ہوجائیگی لیکن باقی سے زکوٰۃ ساقط نہ ہوگی اگر چہ باقی سے ادائیگی کی نیت کی گئی ہوکیونکہ جو ساقط ہے مال نہیں اور جو باقی ہے اس کا مال ہونا ممکن ہے تو باقی ساقط سے بہتر ٹھہرالہذا اس سے سقوط نہیں ہوگا اھ (ت)
(۱؎ تبیین الحقائق     کتاب الزکوٰۃ     المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ مصر        ۱ /۲۵۸)
یہ تقریر منیر بتوفیق القدیر اقتضاء کرتی ہے کہ دین معاف کرنے سے فدیہ مطلقاً ادا نہ ہوجب تک وصول کرکے فدیہ میں نہ دی، اس تقدیرپر وُہ حیلہ ہند والوں میں متعارف ہے اور بعض متاخرین فضلائے ہند نے اسے کشف الغطا میں ذکر کیا کہ:
متعارف چنان ست کہ حساب کنند سالہائے میّت را داد نی مدت بلوغ کہ در مرد دواز دہ سال و در زن نہ سال ست وضع کنند باقی را مقابل ہر شش نماز واجب شبانہ روز سہ صاع کامل گیر ند و ماہ کامل سی روز اعتبار کنند تا فدیہ نماز ہائے یک سال کہ سی صد وشصت روز ست یک ہزار وہشتاد صاع حاصل آید و پانزدہ صاع فدیہ رمضان افزایند ہمگی فدیہ تمام سال یک ہزار ونودوپنج صاع شود ہمیں طریق سالہائے تمام عمر را حساب کنند وحاصل آن را موافق قیمت مبلغ شخص نمایند وبنا بر ضرورت عسرت مصحفے را بمثل آنقدر زربد ست فقیرے فروشند وتسلیم نمایند تا آنقدر زر بر ذمہ اش دین شود پس بگویند کہ ایں قدر زر را کہ بر ذمہ تو دین ست عوض فدیہ نماز وروزہ ہائے فلاں میّت کہ بایں قدر می رسد ترادادیم وبگوید فلاں کردیم واگر مبلغ حساب بکنند وقرآن را بمثل آں را عوض فدیہ بوے بخشند داد قبول نماید نیز کفایت می کنند۱؎ ۔
معروف یہ ہےکہ میّت کی عمر کے تمام سالوں کا حساب لگاتے ہیں، کم ازکم مدتِ بلوغ جو مرد میں بارہ سال اور عورت میں نو سال ہے نکال کر باقی عمر ہردن رات کی چھ نمازوں کے مقابل(اعتبار سے) تین صاع لیتے ہیں اور ہر ماہ کے تیس دن شمار کئے جاتے ہیں حتی کہ ایک سال (جو تین سوساٹھ دنوں کا ہے) کی نمازوں کا فدیہ ایک ہزاراسّی صاع بنتا ہے اور ۱۵صاع رمضان کا فدیہ زیادہ کرتے ہیں تو تمام سال کا فدیہ ایک ہزار پچانوے(۱۰۹۵) صاع ٹھہرا، پس اسی طریقے سے تمام سالوں کا حساب کرلیا جائے اور اس کے حاصل کے مطابق اس کی قیمت دے دی جائے، اگر تنگ دستی ہوتو ایک مصحف کو اس مقدار کے زر پر کسی فقیر کو فروخت کردیں اور یہ اس کے ذمّہ دین کردیں اس کے بعد اسے کہیں کہ تیرے ذمّہ جو دین آیا ہے یہ فلاں کی نماز اور روزوں کا فدیہ میں نے تجھے دیا ہے وہ فقیر کہ اسے قبول کرتا ہو، اگر قیمت کا حساب نہ کریں اور قرآن کو اس کی مقدار جنس کے ساتھ ہدیہ کریں تاکہ یہ جنس اس کے ذمّہ ہوجائے اور اسے فدیہ کے عوض بخش دیں اور وُہ قبول کرے تو یہ بھی کفایت کر جائے گا(ت)
 (۱؎ کشف الغطا     فصل دراحکام دعا وصدقہ ونحوان از اعمال خیر   برائے میت        مطبع احمد ی دہلی    ص۶۷ )
ظاہراً محض ناتمام و ناکافی ہے اور اس پر ایک قرینہ واضحہ یہ بھی ہے کہ عامہ کتب معتمدہ مذہب میں ضرورتمند کے لیے جو حیلہ اس کا ارشاد فرمایا سخت دقت طلب اور بہت طول عمل ہے جس کا خود ان فاضل کو اعتراف ہے، یہ متعارف طریقہ ذکر کرکے لکھا:
ومشہور و منقول دراکثر کتب چنانست کہ قدرے گندم کہ میسر شود منجملہ فدیہ بایں نام بہ فقیر دہند واوقبول کند پس از وے طلب نما یند وبستا نند بازبوے بدہمان نا م دہند وہمچنیں مکرر کنند تا آنکہ فدیہ نماز وروزہ در فدیہ ہاتمام ادا شود وایں حیلہ خالی از تکلف نیست۲؎ ۔
مشہور اور اکثر کتب میں منقول یہ ہے کہ جو بھی گندم میسر ہو نماز روزہ کے فدیہ کے طور پر اسے فقیر کو دیا جائے وہ قبول کرے اس کے بعد اس سے بطور ہبہ لے لیں پھر اسے بطور فدیہ دے دیں اسی طرح بار بار کریں حتی کہ نماز وروزہ کا فدیہ مکمل ہوجائے اوریہ حیلہ تکلّف سے خالی نہیں۔(ت)
 (۲؎ کشف الغطا   فصل دراحکام دعا وصدقہ ونحوان از اعمال خیر برائے میت        مطبع احمد ی دہلی ص۶۸)
اقول اسی حیلہ جمیلہ کی تصریح فرمائی
درمختار و بزازیہ و خلاصہ و عالمگیریہ و بحرالرائق وغنیہ وصغیری شروح منیہ وفتح اﷲ المعین حاشیہ کنز ومنحۃ الخالق و طحطاوی علی الدرالمختار وردالمحتار میں زائدین علی مافی الشرح کلھم فی باب قضاء الفوات
 (جو شرح میں ہے اس پر اضافہ کرتے ہوئے ان سب نے یہ مسئلہ باب قضاء الفوات میں ذکر کیاہے۔ت) اور جامع الرموز وبرجندی شروح نقایہ وطحطاوی علی مراقی الفلاح میں
کلھم فی الصوم
 (ان سب نے کتاب الصوم میں یہ مسئلہ ذکر کیا ہے۔ت) اسی کو علامہ عبد الغنی بن اسمٰعیل نابلسی قدس سرہ القدسی نے شرح ہدایہ ابن العمار میں اپنے والد ماجد علّامہ اسمٰعیل بن عبدالغنی نابلسی محشی درر وغرر انہوں نے احکام الجنائز سے نقل فرمایا
کما فی منحۃ الخالق
( جیسا کہ منحۃ الخالق میں ہے۔ت) اسی پر امام اجل ناصر الدین ابو القاسم محمد بن یوسف حسینی سمر قندی نے ملتقط میں نص فرمایا
کما فی شرح مختصر الوقایۃعبدالعلی
 (جیسا کہ شرح مختصر الوقایہ عبد العلی میں ہے۔ت) اسی طرح علّامہ مدقّق علائی نے در منتقی شرح ملتقی اور علّامہ شریف ابوالسعود ازہری نے شرح نورالایضاح میں تصریح فرمائی
کما فی شرحہ للسّیداحمد المصری
 ( جیسا کہ سیّد احمد مصری کی شرح میں ہے۔ت) یہی تبیین المحارم ، علامہ سنان الدین یوسف مکی میں مذکور
کما فی شفاء العلیل و بل العلیل للعلامۃ الشامی
 ( جیساکہ شفاء العلیل وبل العلیل للعلامۃالشامی میں ہے۔ت) یہ سب عبارات اور ان سے زائد اس وقت فقیر کے پیش نظر ہیں بلکہ شفاء العلیل سے ہمارے ائمہ کی کتبِ فروع و اصول کی طرف اس کی نسبت ظاہر۔
حیث قال اعلم المذکورفیما رأیتہ من کتب ائمتنا فروعا واصولا انہ اذالم یوص بفدیۃ الصوم یجوز ان یتبرع منہ ولیہ وھو من لہ التصر ف فی مالہ بوراثۃ او وصایۃ قالو اولولم یملک شیأا یستقرض الولی شئیا فید فعہ للفقیر ثم یستو ھبہ منہ ثم یدفعہ لاخروھکذا حتی یتم۱؎ ۔
اس کے الفاظ یہ ہیں میرے مطالعہ کے مطابق ہمارے ائمہ کی کتب خواہ فروع یا اصول میں ہوں یہ مذکور ہے کہ جب میت نے فدیہ صوم کی وصیت نہ کی ہوتو اس کا ولی بطور نفل فدیہ دے سکتا ہے، اور ولی سے مراد وہ شخص ہے جواس کے مال میں بطور وارث یا وصی ہونے کے ناطہ سے تصرف کر سکتا ہو، فقہاء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر ولی کسی شئے کامالک نہ ہو تو کسی سے قرض لے کر فقیر کو دے اس سے بطور ہبہ واپس لے پھر فقیر کو دے،اسی طرح باربار کیا جائے حتی کہ فدیہ پُورا ہوجائے۔(ت)
 (۱؎ شفاء العلیل، رسالہ من رسائل ابن عابدین ،الرسالۃ السابعۃ،سہیل اکیڈمی لاہور     ۱ /۱۹۶)
اور فاصل سیّد علا ءُ الدین شامی نے منۃ الجلیل میں اسے متون و شروح و حواشی کی طرف نسبت کیا
حیث قال والمنصوص فی کلامھم متونا و شروحا وحواشی ان الذی یتولی ذٰلک انما ھو الولی وان المراد بالولی من لہ ولایۃ التصرف فی مالہ بوصایۃ اووراثۃ وان المیّت لولم یملک شیأ یفعل لہ ذٰلک الوارث من مالہ ان شاء فان لم یکن للوارث مال یستوھب من الغیر اویستقرض لید فعہ للفقیر ثم یستوھبہ من الفقیر وھکذا الی ان یتم المقصود۱؎ ۔
اس کی عبارت یہ ہے متون، شروح اور حواشی میں یہ منصوص ہے یہ سارا کچھ ولی کر سکتا ہے، اور ولی سے مراد وہ شخص ہے جو میت کے مال میں اس کی وصیت یا وارث ہونے کی حیثیت سے تصرف کرسکتا ہو اور میت اگر کسی شے کا مالک نہ ہو تو وارث اپنے مال سے بھی یہ حیلہ کرسکتا ہے تاکہ کسی فقیر کودے پھر فقیر سے بطور ہبہ واپس لے اسی طرح کرے یہاں تک کہ مقصود ہوجائے۔(ت)
 (۱؎ منۃ الجلیل،رسالہ من رسائل ابن عابدین،الرسالۃ الثامنۃ،سہیل اکیڈمی لاہور ،۱ /۲۱۲)
Flag Counter