Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
122 - 198
(۷) قیمت افضل ہے مگر قحط میں کھانا دینا بہتر،
فی الدرالمختار دفع القیمۃ ای الدراھم افضل من دفع العین علی المذھب المفتی بہ،جوھرۃ بحرعن الظھیریۃ وھذا فی السعۃ امام فی الشدۃ فدفع العین افضل۳؎ ۔
درمختار میں ہے مفتی بہ مذہب کے مطابق قیمت یعنی دراھم کاادا کرنا عین شے سے افضل ہے جوہرہ۔ اور بحر میں ظہیریہ سے ہے کہ یہ عام حالات یعنی آسانی کے وقت ہے اگر کسی وقت شدت اور قحط ہوتو عین شئی کا دینا افضل ہوگا۔(ت)
(۳؎ الدرالمختار     باب الصدقۃ الفطر     مجتبائی دہلی         ۱ /۱۴۵)
باقی احکام نقد وغلّہ یکساں ہیں مگر وُہ تفاوت جو خاص گندم وجَو میں بسبب اعتبار وزن معتبر، شرعی اسقاط میں لحاظ مالیت کا ہے مثلاً فرض کیجئے کہ نیم صاع گندم کی قیمت دوآنہ ہے اور ایک صاع جَو کی ایک آنہ تو ایک آنہ کی قیمت کی کوئی چیز کپڑ ا، کتاب، چاول، باجراوغیرہا بلحاظ قیمت جَو دے سکتے ہیں اگر چہ گندم کی قیمت نہ ہُوئی مگر چہارم صاع گندم کافی نہیں اگر چہ قیمت اُن کی بھی ایک صاع جَو کے برابر ہوگئی کہ چار چیزیں جن پر نص شرعی وارد ہوچکی ہے یعنی گندم ، جَو، خُر ما، کشمش ان میں قیمت کا اعتبار نہیں، جتنا وزن شرعاً واجب ہے اُس قدردیناہوگا۔
فی محیط الامام السرخسی ثم الھندیۃ، لوادی ربع صاع من حنطۃ جیدۃ تبلغ قیمتہ قیمۃ نصف صاع من شعیر لا یجوز عن الکل، بل یقع عن نفسہ وعلیہ تکمیل الباقی وکذا لا یجوز ربع صاع من حنطۃ عن صاع من شعیر اھ ۱؎ ملخصًا،
محیطِ امام سرخسی پھر ہندیہ میں ہے کہ اگر کسی نے ایسی جید گندم کا چوتھائی صاع ادا کیا جس کی قیمت جَو کے نصف صاع کو پہنچ جاتی ہے تو یہ کل کی طرف سے جائز نہیں بلکہ یہ اپنی طرف سے عطیہ ہے، باقی کی تکمیل کرنا اس پر لازم ہو گا، اور اسی طرح گندم کا چوتھائی صاع جوجَو کے صاع کی قیمت کو پہنچ جائے دینا جائز نہیں اھ
 (۱؎ الفتاوی الہندیۃ     الباب الثامن فی صدقۃ الفطر     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۱۹۲)
فی البدائع لان القیمۃ انما تعتبر فی غیر المنصوص علیہ۲؎
بدائع میں ہے کیونکہ قیمت کا اعتبار وہاں ہے جہاں نص میں عین کی تصریح نہیں(ت)۔
 (۲؎ بدائع الصنائع     کتاب الزکوٰۃ         ایچ ایم سعید کراچی     ۲ /۷۳)
قیمت میں نرخ بازار آج کا معتبر نہ ہوگا جس دن ادا کررہے ہیں بلکہ روز وجوب کا مثلاً اُس دن نیم صاع گندم کی قیمت دو آنے تھی آج ایک آنہ ہے  تو ایک آنہ کافی نہ ہوگا۔ دو۲ آنے دینا لازم ، اور ایک آنہ تھی اب دو۲ آنے ہوگئی تو دو آنے ضرور نہیں ایک آنہ کافی۔
فی الدرالمختار جاز دفع القیمہ فی زکوٰۃ وعشر وخراج وفطرۃ ونذروکفارۃ غیرالعتاق وتعتبر القیمۃ یوم الوجوب وقالایوم الاداء۳؎
درمختار میں ہے کہ زکوٰۃ، عشر، خراج، صدقہ فطر، نذر، عتاق کے علاوہ کفار ہ میں قیمت کا دینا جائز ہے اور قیمت یوم وجوب کے اعتبار سے ہوگی اور صاحبین کی رائے کے مطابق یومِ ادا کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا(ت)
 (۳؎ الدرالمختار         باب زکوٰۃ الغنم         مجتبائی دہلی         ۱ /۱۳۳)
 (۸) یہاں صُورتیں متعدد ہیں، فدیہ والا اپنی حیات میں فدیہ ادا کرتا ہے جیسے شیخ فانی روزے کا یا اُس کے بعد وارث بلا وصیت بطور خود دیتا ہے یا بحکم وصیت ادا کیا جاتا ہے اور درصورت وصیت مدیون پر  یہ دین  بعد موت مورث ،حادث ہواہے جیسے کسی نے ترکہ سے کوئی چیز غصب کرکے صرف کر ڈالی کہ اس کے تاوان کا اس پر دین آیا یا دین حیات مورث کا ہے تو یہ چار صورتیں ہیں۔ صورت اخیر میں عدمِ صحت کا حکم درمختار وغیرہ میں مصرح ہے یعنی زید پر نماز روزے وغیرہما کا فدیہ تھا اس نے وصیّت کی کہ میرے مال سے ادا کرنا عمرو فقیر حیات زید سے زید کا مدیون تھا، وصی نے وُہ دین فدیہ میں عمرو کو چھوڑ دیا فدیہ ادا نہ ہوا
قال قبیل  باب الوصی ،اوصی لصلواتہ و ثلث مالہ دیون علی المعسرین فترکھا الوصی لھم عن الفدیۃ لم تجزہ ولا بد من القبض ثم التصدق علیھم ولو امران یتصدق بالثلث فما ت فغصب غاصب ثلثھا مثلاً واستھلکہ فترکہ صدقۃ علیہ وھو معسر یجزیہ لحصول قبضہ بعد الموت بخلاف الدین، الکل من القنیۃ اھ۱؎
باب الوصی سے تھوڑا پہلے ہے کسی نے اپنی نمازوں پر فدیہ کی وصیّت کی اور اس کے مال کا تہائی حصہ تنگ دست لوگوں پر دین تھا وصی نے وہ حصہ ان تنگ دستوں پر نمازوں کے فدیہ کے طور پر چھوڑ دیا تو کافی نہ ہوگاکیونکہ پہلے قبضہ ضروری ہے اور اس کے بعد ان پر صدقہ کرے تو تب درست ہوگا، اگر اس نے کہا میرا تہائی مال صدقہ کردیا جائے پھر وُہ فوت ہوگیا اور کسی غاصب نے مثلاً تہائی مال غصب کرلیا اور اسے ہلاک کردیا (حالانکہ وُہ غریب تھا) وصی نے بطور صدقہ وہ مال اس سے نہ لیا تو جائز ہوگا کیونکہ موت کے بعد وصی کو قبضہ حاصل تھا بخلاف اس صورت کے جب مال کسی پر قرض ہو، یہ مسائل قنیہ سے مروی ہیں اھ
 (۱؎ الدرالمختار،فصل فی وصایا الذمی ،مجتبائی دہلی،۲ /۳۳۴)
فی ردالمحتار قولہ اوصی لصلواتہ او صیاماتہ، منح، قولہ لم تجزہ وقیل تجزہ قال فی القنیۃ قال استاذنا والاول احب الی حتی توجد الروایۃ،قولہ بخلاف الدین ای فی المسألۃ السابقۃ فانہ مقبوض قبل الموت،بقی لواوصی بکفارۃ صلواتہ والمسألۃ بحالھا  ھل یجزیہ لحصول قبضہ بعد الموت اولا، یراجع اھ۲؎ ارادبقولہ والمسألۃ بحالھا مسألۃ الغصب،
ردالمحتار میں ہے قولہ'' فوت ہونے والے نے اپنی نمازوں یا روزوں کے بارے میں وصیت کی'' ، منح۔ قولہ '' یہ کفایت نہیں کرے گا ''لیکن بعض کے نزدیک یہ کافی ہے۔ قنیہ میں ہے کہ ہمارے استاذ نے فرمایا مجھے پہلا قول بہت محبوب ہے حتی کہ کوئی دوسری روایت آجائے۔ قولہ'' بخلاف قرض'' یعنی گزشتہ مسئلہ میں کیونکہ مال موت سے پہلے قبضہ میں نہیں ہوگا۔ باقی رہایہ معاملہ کہ اگر کسی نے نمازوں کے کفارہ کی وصیّت کی اور صورت مذکورہ ہی ہوتو موت کے بعد حصول قبضہ کی وجہ سے یہ کافی ہوگایا نہیں اس پر غور کیاجائے اھ والمسئلۃ بحالھا سے مراد مسئلہ غصب ہے
 (۲؎ ردالمحتار    فصل فی وصایا الذمی    داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۴۷)
ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ اقول وباﷲ التوفیق ولہ الحمد تبتنی عندی مسألتا الفدیہ والغصب علی ان الوصیۃ بالمال لاتتناول الدین ماکان دینا فاذاصار عینا بالقبض تناولتہ کما صرح بہ فی الظہیریۃ حیث قال اذا کان مائۃ عین ومائۃ درھم علی اجنبی دین فاوصی لرجل بثلث مالہ فانہ یا خذ ثلث العین دون الدین الاتری ان حلف ان لامال لہ ولہ دیون علی الناس لم یحنث ثم ماخرج من الدین اخذ منہ ثلثہ حتی یخرج الدین کلہ لانہ لما تعین الخارج مالا، التحق بماکان عیناً فی الابتداء، ولا یقال لما لم یثبت حقہ فی الدین قبل ان یتعین کیف یثبت حقہ فیہ اذا تعین لانا نقول مثل ھذا غیر ممتنع الاتری ان الموصی لہ بثلث المال لایثبت حقہ فی القصاص ومتی انقلب مالا یثبت حقہ فیہ اھ۔
ردالمحتار کے حاشیہ پر بندہ نے جو کچھ تحریر کیا ہے وہ یہ ہےاقول اﷲکی توفیق اور اسی کے لیے حمد ہے، سے کہتا ہوں میرے نزدیک فدیہ او رغصب کا مسئلہ اس پر مبنی ہے کہ وصیت بالمال دین کو شامل ہی نہیں جب تک وہ دین رہے، ہاں جب وہ دین قبضہ کی وجہ سے عین ہوجائے تو پھر وصیت اسے شامل ہوگی جیسا کہ ظہیریہ میں ان الفاظ سے صراحت کی ہے کہ جب ایک سودرہم عین اورایک سو درہم کسی اجنبی پر دین تھے تو فوت ہونے والے نے تہائی مال کی وصیت کی تواب عین کی تہائی سے وُہ مال لیا جائے گا نہ کہ دین سے کیا آپ کے علم میں نہیں اگر کوئی آدمی حلف اٹھاتا ہے کہ اس کے پاس مال نہیں حالانکہ اس نے لوگوں سے قرض لینا ہے تو اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی، پھر دین میں جو حصّہ خارج ہوگا اس سے تہائی لیا جائے یہاں تک کہ سارا دین خارج ہوجائے کہ جب خارج ہونے والا مال متعین ہوجائے تو اس مال کے ساتھ لاحق ہوجائے گا جو ابتدائی طور پر عین تھا یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ جب متعین ہونے سے پہلے دین میں مالک کا حق ثابت  نہیں ہوا تو متعین ہو جانے کے بعد حق کیسے ثابت ہوگاکیونکہ ہم کہتے ہیں اس طرح کا معاملہ ممتنع نہیں ہوتا ، کیا آپ نہیں جانتے کہ جس کے حق میں تہائی مال کی وصیّت کی گئی اس کا حق قصاص میں ثابت نہیں ہوتاوہ جب تبدیل ہوکر مال بن جائے تو اس میں اس کا حق ثابت ہوجائے گا اھ۔
وبہ یحصل التوفیق بین قولی الخانیۃ لا تد خل الدیون ای فی الوصیۃ بالمال والو ھبانیۃ ان الدخول اجدرکما جنح الیہ فی منحۃ الخالق فراجعھا من شئی القضاء ، ففی مسألۃ الفدیۃ لما کان الدین سابقا علی الموت وقد ارادالوصی اسقاطہ قبل القبض فیکون انفاذ اللوصیۃ فیما لم تتناولہ فلا یجوز مالم یقبض فیتصدق و فی مسألۃ الغصب لما کان المال عینا عندالوفاۃ وانما حصل قبض الغاصب واستھلا کہ وصیر ورتہ دینا بعد الموت فقد تناولتہ الوصیۃ فجازھذا ماظھر لی وبہ یظھر الجواب عما توقف فیہ العلامۃ المحشی بقولہ یراجع فانہ لاغبار علیہ من ھذہ الجھۃ الا ان یثبت ان اداء الکفارات بترک الدین لایجوز اصلا وفیہ وقفۃ فلیراجع ولیحرراھ ماکتبت علیہ۔
اس سے خانیہ اور وہبانیہ کے دونوں اقوال میں تطبیق ہوجائے گی۔ خانیہ میں ہے کہ دیون وصیت بالمال میں داخل نہیں ہوتے۔ وہبانیہ میں ہے کہ دیون کا اس میں دخول زیادہ مناسب ہے جیسا کہ منحۃ الخالق میں اسی طرف میلان ہے تو اس کے لیے منحۃ الخالق میں قضا کے متفرق مسائل کی طرف رجوع کرو۔ رہا مسئلہ فدیہ کا معاملہ تو دَین موت سے پہلے تھا اور وصی نے قبضہ سے پہلے ہی اس کے اسقاط کا ارادہ کیا تو یہ وصیّت کا ایسی چیز میں اجرا ہوگا جس کو یہ شامل ہی نہیں، تو جب تک قبضہ نہ ہو اور صدقہ نہ کیا جائے یہ جائز نہ ہوگا اور مسئلہ غصب میں وفات کے وقت مال عین تھا ، پھر غاصب کا قبضہ، اس کا اسے ہلاک کرنا اور اس کا دَین بننا یہ سب موت کے بعد ہوا ہے تو اسے وصیت شامل ہوگی تو اس طرح یہ جائز ہے، یہ وُہ تھا جو مجھ پر واضح ہوا۔ اوراس سے اس چیز کا جواب بھی آگیا جس میں علامہ محشی نے لفظ ''یراجع'' سے توقف کیا کیونکہ اس اعتبار سے اس پر کوئی غبار نہیں ،مگر جب یہ ثابت ہوجائے کہ کفارات کی ادائیگی ترکِ دین سے اصلاً جائز ہی نہیں اور اس میں توقف ہے، چاہئے یہ کہ جو ہم نے تحریر کیا ہے اس تمام کا مطالعہ کیا جائے اھ میرا حاشیہ ختم ہوا۔(ت)
Flag Counter