(۲و۳) گندم وجَو کے سواچاول دھان وغیرہ کوئی غلّہ کسی قسم کا دیاجائے اُس میں وزن کا کچھ لحاظ نہ ہوگا بلکہ اُسی ایک صاع جَو یا نیم صاع گندم کی قیمت ملحوظ رہے گی اگر اس کی قیمت کے قدر ہے تو کافی مثلاً نیم صاع گیہوں کی قیمت دو۲ آنے ہے تو روپے کے چار سیر والے چاول سے صرف آدھ سیر کافی ہوں گے، اور چالیس سیر والے دھان سے پانسیر دینے ہوں گے، درمختار میں ہے:
مالم ینص علیہ کذرۃ وخبز یعتبر فیہ القیمۃ۲؎ ۔
وُہ چیزیں جن پر نص مذکورہ نہیں مثلاً باجرہ اور روٹی، توان میں قیمت کا اعتبار ہے(ت)
(۲؎ الدرالمختار، باب صدقۃ الفطر ،مجتبائی دہلی ،۱ /۱۴۵)
ہندیہ میں ہے:
انما تجب من اربعۃ اشیاء من الحنطۃ والشعیر والتمر والزبیب وما سواہ من الحبوب لایجوز الا بالقیمۃ اھ۱؎ ملتقطا۔
یہ صرف ان چار چیزوں میں لازم ہے گندم، جَو، کھجور، اور منقہ۔ اور جوان کے سوا غلہ جات ہیں ان میں فقط قیمت کا ہی اعتبار ہوگا اھ ملتقطا(ت)
( ۱؎ الفتاوی الھندیۃ الباب الثامن فی صدقۃ الفطر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۹۱)
لباب میں ہے:
ھذہ اربعۃ انواع لاخامس لھا واما غیرھا من انواع الحبوب فلا یجوز الا باعتبار القیمۃ کالارزوالذرۃ والماشی والعدس والحمص وغیرذٰلک۲؎ ۔
ان کی چار ہی اقسام ہیں پانچویں کوئی نہیں، لہذا ان کے علاوہ غلّہ جات میں قیمت ہی کا اعتبار ہوگا مثلاً چاول، باجرہ، ماش، مسور اور چنے وغیرہ(ت)
(۲؎ الباب المناسک مع ارشادالساری فصل فی احکام الصدقہ دارالکتاب العربی بیروت ص۶۴)
(۴و۵) فدیہ نماز و روزہ میں سوال پنجم کی چاروں صورتیں تو بلا شبہ جائز ہیں اور سوال چہارم کی بھی سب صورتیں روا، مگر جس میں فقیر کو نصف صاع سے کم دینا ہو اس میں قول راجح عدم جواز ہے، سراجیہ ، ودرمختار و ہندیہ وغیرہا میں اسی پر جزم کیا اور یہی مختار امام ابواللیث ہے۔
فی السراجیۃ لایجوزان یؤدی عن صلٰوۃ لفقیرین اھ۳؎
سراجیہ میں ہے کہ ایک نماز کا فدیہ دو فقراء کودینا جائز نہیں اھ
(۳؎ فتاوٰی سراجیہ باب قضاء الفوائت نولکشورلکھنؤ ص۱۷)
وفی الدرلوادی للفقیر اقل من نصف صاع لم یجز ولو اعطاہ الکل جاز۴؎اھ
اور در میں ہے اگر کسی فقیر کو نصف صاع سے کم دیا تو جائز نہ ہوگا، ہاں اگر اسے تمام دے دیا تو جائز ہے اھ
(۴؎ درمختار ،باب قضاء الفوائت مجتبائی دہلی،۱ /۱۰۱)
وفی الھندیۃ عن التتارخانیۃ عن الوالجیۃ لودفع عن خمس صلوات تسع امنان لفقیر واحد ومنا لفقیر واحد اختار الفقیہ انہ یجوز عن اربع صلوات ولا یجوز عن الصلٰوۃ الخامسۃ اھ۱؎
اور ھندیہ میں تاتار خانیہ سے وہاں ولوالجیہ سے ہے کہ اگر کسی نے پانچ نمازوں کا فدیہ نو مدایک فقیر کو دیا اور ایک مد ایک فقیرکو ،تو فقیہ ابواللیث کہتےہیں کہ وہ فدیہ چار نمازوں کا ادا ہوجائے گا پانچویں کانہیں اھ۔
(۱؎ الفتاوی الہندیۃ باب قضاء الفوائت نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۲۵)
وفی البحر قال ابوبکر الاسکاف یجوز ذٰلک کلہ وقال ابوالقاسم وھو اختیار الفقیہ ابی اللیث یجوز عن اربع صلوات دون الخامسۃ لانہ متفرق ولایجوز ان یعطی کل مسکین اقل من نصف صاع فی کفارۃ الیمین فکذٰلک ھذا فالحاصل ان کفارۃ الصلٰوۃ تفارق کفارۃ الیمین فی حق انہ لا یشترط فیھا العدد وتوافقھا من حیث انہ لوادی اقل من نصف صاع الٰی فقیر واحد لایجوز اھ۲؎۔
بحر میں ہے کہ شیخ ابوبکر اسکاف نے کہا کہ وُہ تمام نمازوں کا فدیہ ہوگا، ابوالقاسم کہتے ہیں اور یہی فقیہ ابواللیث کا مختار ہے کہ یہ چار نمازوں کا فدیہ ہوگا پانچویں کا نہیں کیونکہ اس سے تفریق ہوگئی، اورکفارہ قسم میں ہر مسکین کو نصف صاع سے کم نہیں دیا جاسکتا،یہاں بھی حکم اسی طرح ہے، تو حاصل یہ ہوا کہ نماز کا کفارہ اس لحاظ سے کفارہ قسم سے الگ ہے کہ اس میں تعداد شرط نہیں، اور اس لحاظ سے موافق ہے کہ اگر ایک فقیر کو نصف صاع سے کم دیاجائے تو جائز نہیں ا ھ
(۲؎ البحرالرائق باب قضاء الفوائت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۹۱)
وفی ظھار التنویر جاز لواطعم واحد استین یوما اھ۳؎قلت فاذا جاز ھذا فیما یشترط فیہ التعدد فما لا یشترط فیہ اولٰی بالجواز۔
تنویر کے مسئلہ ظہار میں ہے کہ اگر ایک ہی فقیر کو ساٹھ دن کھانا کھلایا تو یہ جائز ہوگا اھ قلت جب یہ وہاں جائز یہاں تعدد شرط ہے تووہاں بطریق اولٰی جائز ہونا چاہئے جہاں تعدد شرط نہیں ہے۔(ت)
(۶)مصرف اس کا مثل مصرفِ صدقہ فطر و کفارہ یمین وسائر کفارات و صدقات واجبہ ہے بلکہ کسی ہاشمی مثلاً شیخ علوی یا عباسی کو بھی نہیں دے سکتے۔ غنی یا غنی مرد کے نابالغ فقیر بچے کونہیں دے سکتے کافر کونہیں دے سکتے، جو صاحبِ فدیہ کی اولاد میں ہے جیسے بیٹا بیٹی ، پوتا پوتی، نواسا نواسی، یا صاحبِ فدیہ جس کی اولاد میں جیسے ماں باپ ، دادا دادی، نانانانی ، انہیں نہیں دے سکتے ، اور اقربا مثلاً بہن بھائی ، چچا ، ماموں خالہ ، پھوپھی، بھتیجا، بھتیجی، بھانجا ، بھانجی، ان کو دے سکتے ہیں جبکہ اور موانع نہ ہوں، یونہی نوکروں کو جبکہ اجرت میں محسوب نہ کریں۔
ردالمحتار میں ہے جو زکوٰۃ کا مصرف ہے صدقۃ الفطر،کفارہ ، نذر اور دیگر صدقاتِ واجبہ کا بھی وہی مصرف ہے قہستانی
(۱؎ ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ /۶۴)
اقول :وھو متمش علی تصحیح ما عن ابی یوسف من عدم جواز شئی من الصدقات الواجبۃ لکافر ذمی قال فی الدرلاتدفع (ای الزکوٰۃ) الٰی ذمی وجاز دفع غیرھا وغیرالعشر والخراج الیہ ای الذمی ولو واجباکنذروکفارۃ وفطرۃ خلافا للثانی وبقولہ یفتی حاوی القدسی اھ۲؎وفیہ لو دفعھا المعلم لخلیفۃ ان کان بحیث یعمل لہ لولم یعطہ، صح والالا اھ۳؎
اقول : (میں کہتا ہوں۔ت) یہ اس راہ کو اختیار کیا گیا جو امام ابویوسف سے مروی قول کی تصحیح کے مطابق ہے کہ صدقاتِ واجبہ کسی کافر ذمی کو دینا ناجائز ہے۔ درمیں ہے ذمی کو (زکوٰۃ) نہیں دی جاسکتی البتہ زکوٰۃ، عشر اور خراج کے علاوہ صدقات ذمی کودئے جاسکتے خواہ وہ صدقہ واجبہ ہی ہوں مثلاً نذر، کفارہ اور صدقہ فطر، اس میں امام ابویوسف کا اختلاف ہے، امام مذکور کے قول پر حاوی مقدسی نے فتوٰی دیا ہے اھ اور اسی میں ہے اگر معلم نے اپنے خلیفہ کو زکوٰۃ دی اگر وہ اس طرح کام کرتا ہے کہ اگر معلم نہ دیتا تب بھی وہ اس کاکام کرتا ایسی صورت میں دینا درست ہے ورنہ نہیں اھ
(۲؎ درمختار باب المصرف مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۱)
(۳؎ درمختار باب المصرف مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۲)
وفی معراج الدرایۃ ثم الھندیۃ وکذا مایدفعہ الی الخدم من الرجال والنساء فی الاعیاد وغیرھا بنیۃ الزکوٰۃ۴؎ ۔
اور معراج الدرایہ اور ہندیہ میں ہے اسی طرح حکم ہے اس رقم کا جوبہ نیتِ زکوٰۃ عید وغیرہ کے موقعہ پر خدام مردوں یا عورتوں کو دی جاتی ہے(ت)
(۴؎ الفتاوی الہندیۃ الباب السابع فی المصارف نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۹۰)
صدقاتِ واجبہ زوجین کو بھی نہیں دے سکتے اقول فدیہ نماز و روزہ جب بعد مرگ دیا جائے تو مقتضائے نظر فقہی یہ ہے کہ زوجہ کا فدیہ شوہر فقیر کو فورا اور شوہر کا زوجہ فقیرہ کو بعد عدت گزرنے کے دینا جائز ہو کہ اب زوجیت نہ رہی اور شوہر زوجہ کے مرتے ہی اجنبی ہوجاتا ہے ولہذا اسے مَس جائز نہیں ۔
فی الدرالمختار لایصرف الٰی من بینھا زوجیۃ ولومبانۃ ۵؎
درمختار میں ہے کہ زکوٰۃ ان کو نہ دی جائے جن کے درمیان زوجیت کا تعلق ہوخواہ خاتون کو طلاق بائنہ ہوچکی ہو اھ۔
(۵؎ درمختار باب المصرف مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۱)
قال الشامی ای فی العدۃ ولو بثلاث نھر معراج الدرایہ اھ۱؎
علامہ شامی نے فرمایا یعنی وہ عدت میں ہو اگر چہ تین طلاقیں ہوچکی ہوں یہ نہر میں معراج الدرایہ سے ہے اھ
(۱؎ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲/۶۹)
وفی ردالمحتار عن بدائع الامام ملک العلماء المرأۃ تغسل زوجھا لان اباحۃ الغسل مستفادۃ بالنکاح فتبقی مابقی النکاح والنکاح بعدالموت باق الی ان تنقضی العدۃ بخلاف مااذا ماتت فلا یغسلھا لانتھاء ملک النکاح لعدم المحل فصار اجنبیا۲؎، واﷲتعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں امام ملک العلماء کی بدائع سے ہے کہ خاتون اپنے خاوند کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ غسل کی اباحت نکاح کی وجہ سے حاصل ہُوئی تو جب تک نکاح باقی ہے اباحت بھی باقی رہے اور نکاح تو خاوند کی موت کے بعد بھی باقی رہتا ہے یہاں تک کہ عدت گزرجائے بخلاف اس صورت کہ جب بیوی فوت ہوجائے تو خاوند اسے غسل نہیں دے سکتا کیو نکہ محل نہ رکھنے کی وجہ سے نکاح ختم ہوگیا لہذا اب خاوند اجنبی قرار پائے گا واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الجنائز دارا حیاء التراث العربی بیروت ۱ /۵۷۶)