Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
120 - 198
باب الفدیۃ
مسئلہ۲۳۵: مسئولہ قاضی عبدالحمید صاحب پیش امام از قصبہ ککڑی ۲۸محرم۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و فضلائے شرع متین اس مسئلہ میں کہ امام اگر عذر سے روزہ نہیں رکھتا ہے پر اعادہ روزہ کا یقینی ایک مسکین کو ہمیشہ کھانا کھلادیتا ہے مگر نمازِ تراویح پڑھا سکتا ہے یا نہیں ؟ اور تراویح کے پڑھانے میں حرج تو نہیں ہے؟ جواب دو
الجواب:بعض جاہلوں نے یہ خیال کرلیا ہے کہ روزہ کا فدیہ ہر شخص کے لئے جائز ہے جبکہ روزے میں اسے کچھ تکلیف ہو، ایسا ہر گز نہیں، فدیہ صرف شیخ فانی کے لیے رکھا ہے جو بہ سبب پیرانہ سالی حقیقۃً روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہو، نہ آئندہ طاقت کی امید کہ عمر جتنی بڑھے گی ضُعف بڑھے گا اُس کے لیے فدیہ کا حکم ہے، اور جو شخص روزہ خود رکھ سکتا ہو اور ایسا مریض نہیں جس کے مرض کوروزہ مضر ہو، اس پر خود روزہ رکھنا فرض ہے اگر چہ تکلیف ہو۔ بھوک پیاس گرمی خشکی کی تکلیف تو گویا لازم روزہ ہے اور اسی حکمت کے لیے روزہ کا حکم فرمایا گیا ہے، اس کے ڈر سے اگر روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوتو معاذاﷲ روزے کا حکم ہی بیکارومعطل ہوجائے، امام مذکور اگر واقعی کسی ایسے مرض میں مبتلاہے جسے روزہ سے ضرر پہنچتا ہے تو تاحصولِ صحت اُسے روزہ قضا کرنے کی اجازت ہے اُس کے بدلے اگر مسکین کو کھا ناد ے تو مستحب ہے ثواب ہے جبکہ اُسے روزہ کا بدلہ نہ سمجھے اور سچے دل سے نیت رکھے کہ جب صحت پائے گا جتنے روزے قضا ہُوئے ہیں ادا کرے گا۔ اس صورت میں وہ امامت کرسکتا ہے اور اگر ویسا مریض نہیں اور کم ہمتی کے سبب روزے قضا کرتا ہے تو سخت فاسق ہے اور اسے امام بنانا گناہ، اور اس کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی۔واﷲتعالیٰ اعلم
تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام(۱۳۱۶ھ)

(بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
بسم اﷲالرحمٰن الرحیم ط

اﷲ رب محمد صلی علیہ وسلما
مسئلہ ۲۳۶تا۲۴۷: از پٹنہ محلہ لودی کٹرہ مرسلہ قاضی محمد عبدالوحید صاحب فردوسی ۱۰صفر۱۳۱۶ھ
بسم اﷲالرحمن الرحیم الحمد ﷲرب العالمین کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں:
 (۱) موتی کے روزہ کا فدیہ جو فقہ کی کتابوں میں نصف صاع گیہوں یا ایک صاع جَو لکھا ہے، اس وزن کی تطبیق اس ہندوستان کے کس وزن کے برابر کی گئی ہے، کتبِ فقہ میں جوفی روزہ دوسیر گیہوں یا چار سیر جَو لکھا ہے وہ۲۰بیس گنڈے کے حساب سے ہے یا انیس۱۹ گنڈے کے؟ غرض پٹنہ ضلع میں اگر کوئی شخص فدیہ دینا چاہے تو وہ کس وزن سے فی روزہ دے گا؟
 (۲) چاول کا حساب کس چیز میں ہوگا گیہوں یا جَو میں؟ یعنی فی روزہ چاول مثل گیہوں کے ۲ثار یا مثل جَو کے ۴ ثار دیا جائے گا؟ اور اگر چاول دیا جاسکتا ہے تو کل اقسام کے چاول ایک ہی حساب میں ہیں یا باسمتی، سلیہا، جوشاندہ مثل گیہوں کے اور موٹاچاول مثل جَو کے ہے؟

(۳)دھان مثل جَو کے فی روزہ چا ر۴  ثار دے سکتے ہیں یا نہیں؟
 (۴) فدیہ روزہ کا اگر کسی کے ذم بہت ساباقی ہے تو وہ کل بیک دفعہ بیک وقت ادا کرے یا بدفعات جزوجزو کرکے دے سکتا ہے مثلاً زید متوفی کے ذمہ ۳۰ روزوں کا فدیہ باقی ہے تو یہ ۶۰ ثار گیہوں بیک دفعہ بیک وقت دینا چاہئے یا ایک ایک دودو کرکے ادا کردینے کا مجاز ہے کہ نہیں؟ اس میں ایک صورت یہ بھی نکلتی ہے کہ اگر زید کے ذمّہ ایک ہی روزہ کا فدیہ باقی رہے تو وہ اس دوسیر گیہوں کو پاؤ پاؤ کرکے ۸ دفعہ یا آدھ آدھ سیر کرکے ۴دفعہ دے سکتا ہے یا نہیں؟

(۵)متعدد روزوں کا فدیہ کل ایک ہی دن ایک شخص کودے سکتے ہیں یا روز  روز دوسرے دوسرے کو دینا چاہئے؟ مثلاً زید متوفی کے ذمہ دس روزوں کا فدیہ چاہئے تھا اگر یہ ادا کیا جائے تو کل ایک ہی شخص کو ایک ہی دن بیک وقت بیک دفعہ دے دے یا ایک ہی آدمی کو دس روز پیہم دے یا ایک ہی دن میں دس آدمیوں کے دے دے یا دس روز کرکے دوسرے دوسرے کو دے، اس کی چار۴ شکلیں نکلیں، وھوھذا:
شکل اوّل: ایک ہی دن ایک شخص کو کل دسوں روزوں کا بیک دفعہ بیک وقت دیا جائے۔

شکل دوم: ایک ہی آدمی کو دس روزوں تک برابر دیاجائے۔

شکل سوم: ایک ہی دن میں دس آدمیوں کو دیا جائے۔

شکل چہارم: دس روز کرکے دس آدمیوں کو دیا جائے___یہ چاروں شکلیں جائز ہیں یا نہیں ؟

(۶)اس کے مستحق کون کون اشخاص ہیں ؟ سیّد کودے سکتے ہیں یا نہیں؟ اقربامیں جو لوگ غریب ہیں ان کو دینے کا حکم ہے یا نہیں ؟ گھر کے نوکر چاکر کو اگر دیں اور مشاہرہ یا کھانے میں وضع نہ کریں تو جائز ہے یا نہیں؟

(۷)غلّہ دینا بہتر ہے یا اس کی قیمت باندھ کر جو اُس زمانہ میں نرخِ بازار ہو، کون زیادہ مناسب ہے؟اور نقد روپیہ کا بھی کل وہی حکم ہے جو غلّہ کا ہے یا فرق ہے؟

(۸) اگر کسی غریب کے ذمّہ روپیہ قرض کا باقی ہے اور فدیہ پانے کا مستحق ہے تو روپیہ فدیہ میں روزے کے دے سکتا ہے یا نہیں؟
 (۹) فدیہ ادا کرتے وقت یہ لفظ کہنا چاہئے کہ یہ غلّہ یا نقد فلاں کے روزہ کا فدیہ ہے یا
انما الاعمال بالنیات۱؎
 (اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ت) کافی ہے؟
 (۱؎ صحیح بخاری     باب کیف کان بدؤالوحی     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۲)
 (۱۰) شیخ فانی اور موتٰی کے فدیہ کے احکام میں کوئی فرق ہے یا دونوں کا ایک حکم ہے، اور اگر فرق ہے تو وہ کونسا فرق ہے؟

(۱۱) اگر اپنی زندگی میں ہی روزہ قضا شدہ کا فدیہ کوئی شخص دے دے حالانکہ وہ شیخ فانی نہیں ہے تو وہ روزہ اس سے ساقط ہوگا یا نہیں؟

(۱۲)اگر زید نے انتقال کیا اور اس کے ذمّہ روزہ فرض باقی رہ گیا ہے تواس کے وارث یا اقربا اُس روزہ کے بدلے میں روزہ رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟بینواتوجروا
الجواب

(۱) وزن بلاد میں مختلف ہوتے ہیں لہذا ہم تولوں اور انگریزی روپوں کا حساب بتاتے ہیں کہ ہر شخص اپنے یہاں کے وزن رائج کو بآ سانی اس سے تطبیق د ے سکے، ایک روزہ یا  ایک نماز کا فدیہ یا کفارہ میں ایک مسکین کی خوراک یا ایک شخص کا صدقہ فطر یہ سب گیہوں سے نیم صاع اور جَو سے ایک صاع ہے۔ صاع دوسوستر ۲۷۰تولے ہے ،نیم صاع  ایک سو پینتیس ۱۳۵ تولے۔ تولہ بارہ۱۲ ماشہ، ماشہ آٹھ۸ رتی، رتی آٹھ چاول۔انگریزی روپیہ سکّہ رائجہ سوگیارہ ماشے ہے۔
ردالمحتار میں ہے:
اعلم ان الصاع اربعۃ امداد والمد بالاستار اربعون والاستار بکسرالھمزۃ بالمثاقیل اربعۃ ونصف کذافی شرح دررالبحار اھ ۱؎ ملخصا ً۔
معلوم ہونا چاہئے کہ صاع چار مُد اور مُد چالیس استار اور استار(ہمزہ پر کسرہ کے ساتھ) ساڑھے چار مثقال ہے، جیسا کہ شرح دررالبحار میں ہے اھ ملخصاً(ت)
 ( ۱؎ ردالمحتار     باب صدقۃ الفطر    مصطفی البابی مصر    ۲ /۸۳)
صاع چار مُد ہے اور ہر مُد چالیس استار اور ہر استار ساڑھے چار مثقال، تو ہر مُدایک سواسی ۱۸۰ مثقال ہُوا اور مثقال ساڑھے چار ماشہ ہے ولہذا درہم شرعی کہ مثقال کا ۷/۱۰سات عشر ہے۔
فی الدرالمختار کل عشرۃ دراھم وزن سبعۃ مثاقیل۲؎ ۔
درمختار میں ہے ہر دس درہم بوزن سات مثقال کے ہے (ت)
( ۲؎ الدرالمختار  باب زکوٰۃ المال مجتبائی دہلی   ۱ /۱۳۴)
پچیس رتی اور پانچواں حصّہ رتی کا ہُوا یعنی ۳ ماشہ ۱-۱/۵سرخ۔ جواہرالاخلاطی میں ہے :
الدرھم الشرعی وعشرون حبّۃ و خمس حبّۃ۳؎ ۔
درہم شرعی پچیس رتّیاں اور رتی کا پانچواں حصّہ ہے(ت)
(۳؎ الجواہرالاخلاطی (قلمی نسخہ) کتاب الزکوٰۃ    ص۲۲)
کشف الغطاء میں ہے:
بدانکہ معتبر نزد ماصاع عراقی ست وآں ہشت رطل ست، ورطل بیست استار، واستار چارو نیم مثقال، ومثقال بیست قیراط، وقیراط یک حبّہ وچہار خمس حبہ، وحبہ کہ آنرا بفارسی سُرخ گویند ہشتم حصہ ماشہ است، پس مثقال چہار ونیم ماشہ باشد۱؎ ۔
واضح رہے ہمارے نزدیک عراقی صاع معتبر ہے اور وُہ آٹھ رطل ہے، رطل بیس استار کا ہوتا ہے اور استار ساڑھے چار مثقال کا، مثقال بیس قیراط کا اور قیراط ایک اور حبہ کے چار خمس کا ہوتا ہے، اور حبہ جسے فارسی میں سُرخ کہا جاتاہے وہ ماشہ کا آٹھواں حصّہ ہوتا ہے، لہذا اب مثقال ساڑھے چار ماشے قرار پایا۔(ت)
 (۱؎ کشف الغطاء         فصل دراحکام دعا وصدقہ و نحو ان از اعمال خیربرائے میت        مطبع احمدی، دہلی ص۶۸)
اسی حساب سے دوسو۲۰۰ درہم نصاب فضّہ کے ساڑھے باون تولہ اور بیس۲۰ مثقال نصاب ذہب کے ساڑھے سات تولے ہوتے ہیں، پس چہارم صاع کی مقدار آٹھ سودس ماشے یعنی ساڑھے سڑسٹھ(۶۷-۱/۲) تولے ہوئے اور نیم صاع۱۳۵ تولے اور اس انگریزی روپیہ سے ایک سو چالیس روپیہ بھر جہاں سیر سو روپے بھر یعنی ترانوے تولے نوماشے کا ہو جیسے بریلی، وہاں نیم صاع کے کچھ کم ڈیڑھ سیر یعنی ایک سیر سات چھٹانک دوماشے ساڑھے چھ رتی ہوئے، اور ایک صاع کے آدھ پاؤ کم تین سیر اور پانچ ماشے رتی، اور انگریزی سیر سے کہ اسّی روپے بھر یعنی پورے  پچھتّر تولے کاہے، اور دہلی ولکھنؤ میں وہی رائج ہے، ساڑھے تین سیر اور ڈیڑھ چھٹانک اور دسواں حصہ چھٹانک کا ریاست رام پور کا سیر چھیانوے روپے یعنی پورے نوّے تولے کا ہے وہاں تین سیر کامل کا ایک صاع
وعلی ھٰذا القیاس فی سائر البقاع
 (اسی قاعدے پر باقی علاقوں کو قیاس کیا جائے۔ت)
Flag Counter