مسئلہ ۲۲۸:از بلگرام ضلع ہردوئی محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت سید ابراہیم میاں صاحب ۱۴رمضان المبارک ۱۳۱۱ھ
شبِ سہ شنبہ ۱۲ رمضان المبارک کو ہم لوگوں کی آنکھ قریب ساڑھے چار بجے کُھلی، جلد جلد ہم لوگوں نے کھانا یعنی سحری کھا کر حقّہ پی رہے تھے کہ یکایک اذان ہوگئی فوراً کُلی کرکے اور کاموں میں مصروف ہوگئے، صبح کو ایک بزرگ سے سب حال کہا گیا انہوں نے اس قسم كے کلمات کہے جس سے ابطالِ صیام معلوم ہوا نہایت تشویش ہُوئی، جب ہم لوگوں نے جان لیا کہ روزہ یقینانہیں ہے تب ہم چند آدمیوں نے دن کو یعنی ۱۲ بجے اسی ماہ کھالیا اور یہ امر تخمیناً دس آدمیوں سے واقع ہُواا عنی روزہ کھول لینا، بعد کو اور لوگوں سے ذکر ہُوا تو اُن لوگوں نے تنبیہ کی اور کہا کہ کھانا کھانا مناسب نہ تھا استطاعتِ کفارہ نہیں حتی کہ دوماہ متواتر روزے رکھنے کی بھی بظاہر قدرت نہیں، اب جیسی رائے ہو مطلع فرمایا جائے۔ بینواتوجروا
الجواب:آج کل کہ آفتاب اوائل بُرج حمل میں ہے۔ بریلی بلگرام کے قریب قریب عرض کے شہروں میں سحری چار بجے تک کھانی چاہئے، ساڑھے چار بجے کب کی صبح ہوچکتی ہے، اس وقت کچھ کھانے پینے کے معنی ہی نہ تھے، وہ روزہ یقینانہ ہوا اُس کی قضا فرض ہے مگر غیر مریض و مسافر کو روزہ جاتے رہنے کی بھی حالت میں بوجہ ادب وحُرمت ماہ مبارک دن بھر مثل روزہ رہنا واجب تھا، دن کو پھر جو قصداً کھا یا حرام تھا گناہ ہُوا، توبہ کی جائے، مگر روزہ تو تھا ہی نہیں جسے اس کھانے نے توڑا ہو،لہذا کفارے سے کچھ علاقہ نہیں۔واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۲۹: ازخورجہ ضلع بلندشہر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید رمضان شریف میں روزہ سے تھے اخیر رمضان المبارک میں جبکہ وُہ روزہ سے تھے ان کے دردصدر میں ہو اور دست آئے اور استفراغ کئی بار ہُوا، درد کی بہت سخت تکلیف تھی، بالآخر ۴ بجے بخوف ترقی مرض بعد ظہر ڈاکٹری دوا حالتِ صوم میں پلادی گئی، روزہ تڑوادیا گیا، ایسی حالت میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ روزہ توڑنے کی وجہ سے آیا ساٹھ روز ے رکھے جائیں یا ساٹھ مسکین کھلائے جائیں یا کچھ نہ کیا جائے؟ درد سے آرام ہونے کے بعد جو آٹھ سات روزے باقی تھے وہ بوجہ ضعف وناطاقتی کے نہیں رکھے گئے تا عید الفطر۔ ایسی صورت میں شارع کا کیا حکم ہے؟بینو اتوجروا
الجواب:اس صورت میں نہ ساٹھ روزے ہیں نہ ساٹھ مسکین غرض کفارہ نہیں صرف اُس روزہ کی جو توڑا اور ان روزوں کی جونہ رکھے قضا ہے ہرروزہ کے بدلے ایک روزہ وبس۔
فی الدرالمختار من مبیحات الفطر خوف ھلاک اونقصان عقل ولو بعطش اوجوع شدید اولسعۃ حیّۃ۱؎ ۔
درمختار میں عوارض مبیحہ سے ہے یعنی روزہ نہ رکھنے کو مباح کرنے والی چیزوں میں سے یہ ہیں ہلاکت کا خوف یا نقصانِ عقل کا خوف، یہ خوف خواہ پیاس سے ہو یا سخت بھوک کی وجہ سے یا سانپ کے کاٹنے سے ہو(ان صورتوں میں روزے کا ترک جائز ہے)(ت)
(۱؎ درمختار ،فصل فی العوارض،مجتبائی دہلی ،۱ /۱۵۲)
شامی میں ہے:
فلہ شرب دواء ینفعہ۲؎ ۔
روزہ دار کے لیے ایسی دوا کا پینا جائز ہے جو اسے نفع دے۔(ت)
( ۲؎ ردالمحتار فصل فی العوارض مصطفی البابی مصر ۲ /۱۲۶)
مسئلہ۲۳۰ : از بہرائچ چوک بازار مرسلہ حافظ محمد شفیع صاحب ۲۶ماہ مبارک ۱۳۳۳ھ
اگر رمضان شریف کاچاند مکہ معظمہ یا ہندوستان سے دُور دراز ملکوں میں۲۹ شعبان کو ہُوا اور مثلاً بہرائچ میں اُس تاریخ کو چاند نہیں نظر آیا بلکہ ۳۰ شعبان کو چاند ہُوا کیا اس صورت میں بہرائچ کے باشندوں کو ایک روزہ کی قضا علم و واقفیت قطعی ہونے پر لازم آتی ہے یا نہیں؟ زید کہتا ہے صورت مذکورہ میں قضا ایک روزہ کی لازم نہیں اس لیے کہ جب قریب ملک میں چاند نظر آئے تو اُس کا اعتبار ہے دُور ملک کا اس بارے میں اعتبار نہیں، عمر و کا قول اُس کے برخلاف ہے یعنی وُہ قضا لازم ہونے کا التزام کرتا ہے۔بینواتوجروا
الجواب :عمرو کاقول صحیح ہے، ہمارے ائمہ کرام کا مذہب صحیح و معتمد یہی ہے کہ دربارہ ہلالِ رمضان و عید اختلا ف مطالع کا کچھ اعتبار نہیں، اگر مشرق میں رؤیت ہو مغرب پر حجت ہے، اور مغرب میں تو مشرق پر، مگر ثبوت بروجہ شرعی چاہئے، خط یا تار یا تحریرِ اخبار یا افواہ بازاریا حکایتِ امصار محض بے اعتبار۔
کما فصلناہ فی فتاوٰنا بما لا مزید علیہ
(جیسا کہ اس کی ایسی تفصیل اپنے فتاوٰی میں تحریر کی ہے جس پر اضافہ دشوار ہے۔ت)
درمختار میں ہے:
اختلاف المطالع غیر معتبر علی المذھب وعلیہ اکثر المشائخ وعلیہ الفتوی فیلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذا ثبت عندھم رؤیۃ اولٰئک بطریق موجب۳؎ (ملخصا) واﷲتعالٰی اعلم۔
مذہب صحیح کے مطابق مطالع کے اختلاف کا اعتبار نہیں، اس پر اکثر مشائخ ہیں اور فتوٰی اسی قول پر ہے، لہذااہلِ مشرق پر اہلِ مغرب کی رؤیت کی بنا پر روزہ رکھنا لازم ہوگا بشرطیکہ ان کے ہاں ثبوت چاند موجب شرعی سے ثابت ہو۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۳ ؎ درمختار کتاب الصوم مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۹)
مسئلہ ۲۳۱ : از موضع درؤ ضلع نینی تال مسئولہ عبد الجلیل خاں ۱۳ صفر المظفر۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے طعام سحری ساڑھے چار بجے سے پانچ بجے تک کھانا باہر صحنِ مکان میں نکلنے سے کچھ سفیدی شرق میں آسمان پر معلوم ہوئی اور اذانِ صبح بھی ہوگئی چونکہ تین روزے ہوچکے تھے روزہ رکھ لیا گیا دن میں کچھ اشخاص نے کہا یہ روزہ نہیں ہوا اس واسطے ایک بجے دن کو توڑ ڈالا، پس اندریں صورت ایک روزہ قضا واجب ہوا یا ساٹھ؟ دیگر یہ کہ ماہ صیام میں جو روزے قضا ہوگئے ہوں اور وُہ قضا بھی ادانہ ہُوئے تو بقول بعض بالعوض ایک قضاکے کیا ساٹھ کا حکم ہے یا ہر وقت میں ایک ہی رکھنا ہوگا؟ بینواتوجروا
الجواب:اس رمضان شریف میں پانچ بجے تک کسی طرح وقت نہ تھا جبکہ پانچ بجے تک سحری کھائی تور وزہ بلاشبہ ہواہی نہیں کہ توڑنا صادق آئے قضا لازم ہے اور کفارہ نہیں، ہاں رمضان مبارک میں اگر کسی وجہ سے روزہ نہ ہوتو غیر معذور شرعی کو دن بھر روزہ کی طرح رہنا واجب اور کھانا پینا حرام، ایک بجے کھانا کھالیا یہ دوسرا گناہ ہوا، تو بہ فرض ہے واﷲتعالٰی اعلم ایک روزہ کی قضا ایک ہی ہے ساٹھ کا حکم کفارہ میں ہے کہ کسی نے بلاعذر شرعی رمضان المبارک کا ادا روزہ جس کی نیت رات سے کی تھی بالقصد کسی غذا یا دوا یا نفع رساں شئی سے توڑ ڈالا اور شام تک کوئی ایسا عارضہ لاحق نہ ہوا جس کے باعث شرعاً آج روزہ رکھنا ضرورت نہ ہوتا تو اُس جُرم کے جرمانہ میں ساٹھ روزے پے درپے رکھنے ہوتے ہیں ویسے جو روزہ نہ رکھا ہو اس کی قضا صرف ایک روزہ ہے واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۲: ازگونڈل علاقہ کاٹھیاواڑ مسئولہ عبدالستار بن محمد اسمٰعیل ۱۴رجب ۱۳۳۴ھ
ماہ رمضان المبارک میں ایک شخص نے قبل صبح صادق سحری کا کھانا کھا کر روزے کی نیت کرکے کھانا پینا بند کیا، بعد اس کے اپنی منکوحہ سے خوش طبعی کرتے ہوئے بلاجماع منزّل ہوا اور یہ امر قبل صبح صادق یا بعد صبح صادق ہوا اب اس کا روزہ رہا یا قضا کرے یا کفارہ دے؟ اور عورت کے لیے کیا حکم ہے؟
الجواب:عورت کے لئے کچھ حکم نہیں اور مرد پر بھی کفارہ نہیں، اور اگر انزال قبل صادق ہُوا تو قضا بھی نہیں، اور بعد صبح صادق ہوا اور اس وقت مس وغیرہ نہیں کررہا تھا اُس کے بعد مجردبقائے تصور سے واقع ہُوا جب بھی قضا نہیں، ورنہ اس روزہ کو پُورا کرے اور ایک روزہ اس کے عوض رکھے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۳: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر دو صاحب کسی شخص کا روزہ زبردستی تڑوادیں ان کےلیے کیا حکم ہے؟ اور جو صاحب روزہ توڑیں وہ کیا کریں اور اُن کے لیے کیاحکم ہے؟ دوسرے کسی صاحب کے بار ڈالنے سے روزہ توڑا جائے تو ہر دو صاحبان کے لئے کیا حکم ہوگا؟
الجواب:بلا ضرورت و مجبوری شرعی فرۤض روزہ زبردستی تڑوانے والا شیطانِ مجسم و مستحقِ نارِ جہنم ہے اور بغیر سچی مجبوری کے فقط کسی کے بار ڈالنے یا زیر کرنے سے فرض روزہ توڑ دینے والے پر عذاب ہے، اور روزہ ادائے رمضان تھاتو حسبِ شرائط اس پر کفارہ واجب جس میں ساٹھ روزے لگاتار رکھنے ہوتے ہیں۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۴ :ازلاہور مسئولہ گلاب خلیفہ ۱۱صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
بخدمت شریف جناب عالی خاندان دام اقبالکم بعدادائے آداب کے عرض کمترین کی یہ ہے کہ جو شخص اس ماہِ رمضان میں روزہ نہ رکھے اور بعدمیں پورا روزہ رکھے جس طرح حکمِ رسول ہو تحریر فرمائیں کیونکہ اس ماہ میں طاقت نہیں ہے رکھنے کی، کمزوری ناطاقتی بدن میں ہے۔ جناب کو اس وجہ پر تکلیف دیتا ہُوں صاف تحریر فرمائیں، اور ایک شخص روزہ نہیں رکھتاہے اپنے عوض ایک عورت کو روزہ رکھاتا ہے، آپ فرمائیں مرد کا مرد کو لازم ہے یا عورت کا عورت کو؟ غیر عورت ہے جس کو روزہ رکھاتاہے۔فقط
الجواب:جو ایسا مریض ہے کہ روزہ نہیں رکھ سکتا روزہ سے اُسے ضرر ہوگا، مرض بڑھے گا یا دن کھینچیں گے، اور یہ بات تجربہ سے ثابت ہو یا مسلم طبیب حاذق کے بیان سے جو فاسق نہ ہوتو جتنے دنوں یہ حالت رہے اگر چہ پُورا مہینہ وہ روزہ ناغہ کرسکتا ہے اور بعد صحت اس کی قضا رکھے، جتنے روزے چُھوٹے ہوں ایک سے تیس تک۔ اپنے بدلے دوسرے کو روزہ رکھوانا محض باطل وبے معنی ہے، بدنی عبادت ایک کے کئے دوسرے پر سے نہیں اُتر سکتی، نہ مرد کے بدلے مرد کے رکھے سے نہ عورت کے۔واﷲتعالٰی اعلم