مسئلہ۲۲۷: ازبنگال ضلع کمر لاپر گنہ سرائل ڈاک خانہ ہرن بیڑ موضع بھو پن مرسلہ عاصم علی صاحب ۲۰رمضان المبارک ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میّت کے نماز و روزہ وغیرہ کے کفارے کے عوض میں قرآن شریف کو حیلہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ مع دلائل قویہ وحوالہ کتب معتبرہ ارشاد فرمایا جائے کیونکہ اس ملک بنگالہ میں اکثر علماء حیلہ مذکورہ کو جائز رکھتے ہیں اور جونا جائز کہتا ہے اُس کے ساتھ جھگڑنے پر آمادہ ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دلیل بیان کرو، اس لیے حضور پُر نور کو تکلیف دی جاتی ہے۔
بیّنوابالدلیل توجرواعند الجلیل
(دلیل کے ساتھ بیان کرو اوراﷲتعالٰی سے اجرپاؤ۔ت)
الجواب : یہ حیلہ دو۲ طور پر ہے: اوّل: یہ کہ نماز روزے وغیرہ جس قدر ذمہ میّت ہوں سب کے کفارے میں خود قرآن مجید ہی مسکین کو دے دیا جائے یعنی مصحف مبارک ہی کو اُن فرائض کا معاوضہ و کفارہ بنالیا جائے، یہاں جہاں اسی طرح کرتے ہیں اُن کا خیال ہے کہ قرآن بے بہا چیز ہے اُس کی قیمت کا کون اندازہ کرسکتا ہے تو اگر لاکھوں کفارے ہوں ایک مصحف میں سب ادا ہوجائیں گے، ولہذا انہیں میّت کی عمر اور اس کی قضا نمازوں روزوں کا حساب کرنے کی بھی حاجت نہیں ہوتی کہ حساب تو جب کیجئے کہ کچھ کمی کا احتمال ہو اور جہاں ہرطرح یقینا زیادہ ہی چیز جارہی ہے وہاں حساب کس لئے۔ یہ طریقہ یقینا قطعاً باطل و مہمل ہے شرع مطہر نے کفارے میں مال معین فرمایا ہے کہ ہر نماز ہر روزے کے عوض نیم صاع گندم یاایک صاع جَو یا اُن کی قیمت ۔ او راس سے مقصود شرع اِدھر نفع رسانی مساکین ہے اُدھر اپنی رحمتِ کاملہ سے ترکِ فرائض پر مالِ جرمانہ لے کر اِن شاء اﷲبندہ تارک کو مطالبہ سے سبکدوش فرمانا، ولہذاہر نماز روزہ کے ایک مقدارِ مال معیّن فرمائی کہ جرم کم و زائد میں امتیاز رہے، جس نے تھوڑے چھوڑے ہیں تھوڑا مال دے کر پاک ہوجائے، جس نے زیادہ چھوڑے اس پر اُسی حساب سے جرمانہ بڑھتا جائے، مصحف شریف میں دو۲لحاظ ہیں:ایک کاغذ و سیا ہی وجلد کا اعتبار، اس لحاظ سے وہ ایک مال ہے اسی لحاظ سے اس کی بیع و شرا ہوتی ہے، بایں معنی اس کی قیمت وہی ہے جتنے پر بازار میں ہدیہ ہو، روپیہ دو روپیہ یا دس پندرہ جو حیثیت ہو اسی لحاظ سے وہ کفارے میں دیا جاسکتا ہے تو بازار کے بھاؤ سے جتنے داموں پر ہدیہ ہو اُسی قدر مال دینا ٹھہرے گا، اور کفار ہ اداہوا تو صرف اُتنے ہی نمازروزوں کا ادا ہوگا جوان داموں کے مقابل ہوں مثلاً روپے کے پانچ صاع گیہوں آتے ہیں اور یہ مصحف شریف کہ دیا گیا دو۲ روپے ہدیہ کا تھا تو گویا دس۱۰ صاع گیہوں دئے گئے صرف بیس۲۰ نمازوں یا بیس ۲۰ روزوں کا عوض ہُوئے، دوچار روپے مالیت کی چیز سے عمر بھر کی نمازوں کا کفارہ کیونکر ادا ہوسکتا ہے۔ دوسرا لحاظ اُس کلام کریم کا اعتبار ہے جو اُس میں لکھا ہے اصلاً مال نہیں بلکہ وُہ اس احد صمد جل وعلا کی صفت قدیمہ کریمہ اُس کی ذات پاکِ سے قائم اور اُس کے کرم سے ہمارے ورقوں، ہمارے سینوں، ہماری زبانوں، ہماری آنکھوں، ہمارے کانوں، ہمارے دلوں پر کتابت و حفظ و تلاوت و نظر وسماعت و فہم میں متجلی ہے،
عوام نے سچ کہا کہ وُہ بے بہا ہے اور غلط سمجھا کہ اُس کہ قیمت حد سے سوا ہے بلکہ وُہ بے بہابایں معنٰی ہے کہ تقویم و مالیت سے پاک ووراہے بایں معنٰی وہ کفارہ نہیں ہوسکتا کہ کفارہ مال سے ہوتا ہے اور وہ مال نہیں۔ ہدایہ میں ہے:
لاقطع فی سرقۃ المصحف لانہ لامالیۃ لہ علی اعتبار المکتوب واحرازہ لاجلہ لا للجلد والاوراق۱؎۔
چوری مصحف میں قطع ید نہیں کیونکہ مکتوب کے اعتبار سے یہ مالیت سے بالاتر ہے باقی اس کی حفاظت مکتوب کی وجہ سے ہوئی ہے نہ کہ جلد اور اور اق کی وجہ سے۔(ت)
(۱؎ ہدایہ باب مایقطع فیہ ومالا یقطع المکتبۃ العربیہ کراچی ۲ /۵۲)
فتح القدیر میں ہے:
لافی سرقۃ المصحف وقال الشافعی یقطع وھوروایۃ عن ابی یوسف لانہ مال محرز یباع ویشتری ولان ورقہ مال وبماکتب فیہ از دادبہ ولم ینتقص وجہ الظاھران المالیۃ للتبع وھی الاوراق المتبوع وھوالمکتوب۱؎۔
مصحف کی چوری میں قطع ید نہیں اور امام شافعی نے کہا قطع ید ہے۔ امام ابویوسف سے بھی ایک روایت یہی ہے کیونکہ یہ مال محفوظ ہے، بیچا اور خریدا جاتا ہے، اور اس لیے بھی کہ اس کے اوراق مال ہیں اور جو کچھ اس میں تحریر ہے اس سے مالیت میں اضافہ ہوگا نہ کہ کمی۔ظاہر مذہب کی دلیل یہ ہے ہے کہ مالیت تابع یعنی اوراق کی ہیں نہ کہ متبوع کی جو کہ مکتوب ہے(ت)
(۱؎ فتح القدیر باب مایقطع فیہ ومالا یقطع المکتبۃ العربیۃ کراچی ۵ /۱۳۲)
اسی طرح کافی شرح وافی وتبیین الحقائق و بحرالرائق و ردالمحتار وغیرہا معتمدات اسفار میں ہے۔ بالجملہ مصحف میں جو چیز بے بہا ہے یعنی قرآن وُہ مال نہیں کہ کفارہ بن سکے، اور جومال ہے یعنی کاغذ وجلد، وُہ بے بہا نہیں کہ عمر بھر کی نمازروزوں کا بدلہ ہوسکے، کاغذ کے اعتبار سے مال ٹھہر ا نا اور مکتوب کے لحاظ سے بیحد قیمت سمجھ کر میت کی تمام عمر بلکہ ہفت پشت کا کفارہ کرنا ایسا ہے جیسے زید پر کسی کے لاکھ روپے آتے ہوں وہ اس کے بدلے ایک روپے کا مصحف شریف بلکہ ایک آنے کا کوئی پارہ دے کر ادا ہوجانا چاہئے کہ یہ لاکھوں کروڑوں روپے کاہے بے بہا ہے یُوں تو ایک آیت بلکہ ناخن برابر کاغذ پر ایک اسم اﷲ لکھ کردے دیجئے اور کروڑوں روپے کا قرضہ اتار دیجئے کہ دُنیا ومافیہا ایک اسمِ جلالت کی قیمت نہیں ہوسکتی جیسے بندوں کے دین میں یہ حیلہ پیش نہیں کیا جاتا ویسے ہی رب العزّت عزّجلالہ کے دین میں۔ حدیث میں ارشاد ہُوا:
فدین اﷲاحق ان یقضی۲؎
(اﷲتعالٰی کا دین زیادہ حق رکھتا ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔ت)
(۲؎صحیح بخاری باب من مات وعلیہ صوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۶۲)
دوسرا طریقہ: یہ کہ میّت پر جس قدر نماز روزے وغیرہا قضاہوں سب کا حساب لگائیں اور اس کا کفارہ معین کریں کہ مثلاً ہزار من گندم ہوئے مصحف شریف اُتنے گیہوں یا اُن کی قیمت کے عوض مسکین کے ہاتھ بیع کریں وُہ قبول کرلے مصحف تو اس نے پایا اور اس پر ہزار من گندم یا مثلاً تین ہزار روپے ثمن مصحف کے دین ہوگئے، اب اس سے کہیں کہ اتنے گیہوں یا روپے جو ہمارے تجھ پر واجب الادا ہیں وہ ہم نے فلاں میّت کے کفارہ میں تجھے دئے، فقیر کہے میں نے قبول کئے۔ یہ حیلہ قرآن عظیم کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر کتاب یا کپڑے یا برتن وامثالہا سے ہوسکتا ہے، دہلی کے متاخرین علماء نے یہ حیلہ لکھا مگر نظرِ فقہی میں یہ بھی صحیح نہیں آتا، فقیر غفرلہ المولی القدیر نے اس کی تحقیق منیر اپنے فتاوٰی میں ذکر کی یہاں اسی قدر کافی کہ کفارے میں مال دینا چاہئے اور دین کہ ساقط کردیا مال نہیں۔
تبیین الحقائق میں ہے:
لوکان لہ دین علی فقیر فابرأہ منہ سقط زکٰوتہ عنہ لانہ کا لھلاک فلو ابرأہ عن البعض سقط زکٰوۃ ذٰلک البعض لما قلنا وزکٰوۃ الباقی لاتسقط عنہ ولو نوٰی بہ الاداء عن الباقی لان الساقط لیس بمال والباقی یجوز ان یکون مالافکان الباقی خیرامنہ فلایجوز الساقط عنہ۱؎۔
اگر کسی کا فقیر پر قرض تھا معاف کرکے قرض سے اسے بری کردیا تو اس قرض کی زکٰوۃ ساقط ہوجائے گی کیونکہ ہلاک ہونے والے مال کی طرح ہے اور اگر کچھ معاف کیا تومذکورہ دلیل کی بنا پر اتنے حصّہ کی زکٰوۃ ساقط ہوجائے گی لیکن باقی حصّہ کی زکوٰۃ ساقط نہ ہوگی اگر چہ وُہ ساقط ہونیوالے حصہ کو باقی کی زکوٰۃ میں شمار کرے کیونکہ ساقط ہونے والا مال نہیں اور باقی رہنے والے کا مال ہونا ممکن ہے اوربقیہ حصہ اس سے بہتر ہے لہذا اس سے اسقاط جائز نہ ہوگا۔(ت)
( ۱؎تبیین الحقائق کتاب الزکوٰۃ المطبعۃ الکبری الامیریۃ مصر ۱ /۲۵۸)
بلکہ ضرور ہے کہ وہ دین اس سے وصول کرکے قبضہ میں لاکر کفارے میں دیں۔ درمختار میں ہے :
اوصی لصلواتہ وثلث مالہ دیون علی المعسرین فترکہا الوصی لھم عن الفدیۃ لم تجزہ ولابد من القبض ثم التصدق علیھم۲؎اھ
کسی نے اپنی نمازوں کے لئے وصیت کی اس حال میں کہ اس کا ثلث مال تنگ دستوں پر قرض تھا تو وصی نے نمازوں کے فدیہ کے طور پر ان تنگ دستوں کاقرض چھوڑ دیا تو یہ کافی نہ ہوگا کیونکہ پہلے اس مال پر قبضہ ضروری ہے اس کے بعد ان پر صدقہ کرنا جائز ہوگا اھ
(۲؎ درمختار فصل فی وصایا الذمی وغیرہ مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۴)
وتمام الکلام علی ازالۃ الاوھام فی فتاوٰنا فلیرا جعھا من یتخالج فی صدرہ شئی ولایعجل، واﷲتعالٰی اعلم۔
ازالہ اوہام کے لئے تفصیلی گفتگو ہمارے فتاوٰی میں ہے، جس کے سینے میں کوئی شے کھٹک رہی ہو وہ اس کامطالعہ کرے اور جلد بازی سے کام نہ لے۔ واﷲتعالٰی اعلم