Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
117 - 198
ثمّ اقول : وبہ ظھر وﷲالحمد انہ لایرد علی بحثہ ماقد منا من مسائل الطبخ والذوق والاغتسال وخوض الماء والطحن والسف ودخول الطرقات وامثالھا، فھذا غایۃ ماوصل الیہ ذھنی القاصر فی تصحیح بحثہ لکن یرد علیہ من المنصوصات مسألۃ المضمضۃ وروداً لامردلہ فانھا سبب اغلبی بل کلی لدخول البلل ولم یکن تعاطیھا ولو بلا ضرورۃ بل بلا حاجۃ لیفسد الصوم  بالاجماع وان قیل فی النوادر بکراھتھا ولعل مجیبا یجیب بان لیس الحامل فیہ علی الحکم بعدم الفطر مجرد امتناع التحرز بل وشئی اٰخر وھو کونہ قلیلا تابعا للریق کما قالوافی لحم بین اسنانہ قال فی الھدایۃ لو اکل لحمابین اسنانہ فان کان قلیلالم یفطر لان القلیل تابع لاسنانہ بمنزلۃ ریقہ، بخلاف الکثیرلانہ لایبقی فیما بین الاسنان والفاصل مقدار الحمصۃ ومادونھاقلیل۱؎اھ۔
ثمّ اقول: بحمد اﷲاس سے واضح ہوگیا کہ جو ہم نے  پیچھے مسائل بیان کئے مثلاً کھانا پکانا، چکھنا، غسل کرنا، پانی میں غوطہ لگانا، چکّی پیسنا، غلّہ پھٹکنا اور گلیوں میں چلنا وغیرہ، یہ سب علامہ کی بحث کارد نہیں کرتے۔ علّامہ کی بحث کی تصحیح میں بندہ کا ذہن قاصر اسی انتہائی مقام پر پہنچاہے، لیکن اس پر منصوصات میں سے مسئلہ کلی کرنا ایسا وارد ہوتا ہے جس کا جواب نہیں کیونکہ وہاں تری کا دخول سبب اغلب ہی تک نہیں بلکہ کلی سبب ہے اور روزہ دار کا اس میں مشغول ہونا اگر چہ بلا ضرورت بلکہ  بلاحاجت ہو حالانکہ اس صورت میں روزہ بالاتفاق نہیں ٹوٹتا، اگر یہ کہا جائے کہ نوادر میں ہے کہ اس میں کراہت تو ہے تو شاید جواب دینے والا یہ کہے کہ کُلی میں عدم فطر کے حکم کا باعث محض احتراز کا امتناع ہی نہیں بلکہ ایک اور شئی بھی ہے اور وہ اس کا قلیل اور تھوک کے تا بع ہونا ہے جیسا کہ  فقہاء نے اس گوشت کے بارے میں کہا ہے جودانتوں میں پھنس جاتا ہے۔ ہدایہ میں ہے کسی نے دانتوں کے درمیان پھنسا ہوا گوشت کھالیا اگر وُہ تھوڑا تھا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ قلیل دانتوں کے تابع ہونے کی وجہ سے بمنزل تھوک ہوگا بخلاف کثیر کے، کیونکہ وُہ دانتوں کے درمیان باقی نہیں رہ سکتا اور قلیل و کثیرمیں فرق یُوں ہے کہ اگر چنے کی مقدار ہوتو کثیر اور اس سے کم ہوتو قلیل اھ۔
 (۱؎الہدایۃ     باب مایوجب القضاء والکفارۃ     المکتبۃ العربیۃکراچی     ۱ /۱۹۸)
اقول: ولا یجدی فان عدم الافطار ھٰھنا ایضاانما ھو معلل بعدم امکان التحرز، فرجع الامرالی ماوقع،قال فی الفتح وانما اعتبر تابعا لانہ لایمکن الامتناع عن بقاء اثر مامن المآ کل حوالی الاسنان وان قل ثم یجری مع الریق التابع من محلہ الی الحق فامتنع تعلیق الفطار بعینہ فیعلق بالکثیر وھو ما یفسد الصلٰوۃ لانہ اعتبر کثیرافی فصل الصلوۃ ومن المشائخ من جعل الفاصل کون ذٰلک ممایحتاج فی ابتلاعہ الی الاستعانۃ بالریق او لا الاول قلیل والثانی کثیروھو حسن لان المانع من الحکم بالافطار بعد تحقق الوصول کونہ لا یسھل الاحترازعنہ وذٰلک فیمایجری بنفسہ مع الریق الی الجوف لافیما یتعمد فی ادخالہ لانہ غیر مضطر فیہ اھ۱؎
اقول : یہاں یہ بات بھی مفید نہیں کیونکہ روزہ نہ ٹوٹنے کی وجہ یہی بیان کی گئی کہ تری سے بچنا ممکن نہیں تو معاملہ پھر اسی طرف لوٹ آیا جہاں تھا،فتح میں ہے تابع اس لیے قرار دیا کہ کھانے کے بعد دانتوں کے اردگرد پر اثر کا باقی نہ رہنا نا ممکن ہے اگر چہ وہ اثر بہت قلیل ہو پھر وُہ تھوک کے ساتھ اپنی جگہ سے حلق کی طرف چلاجاتا ہے تو اب روزہ ٹوٹ جانے کو بعینہٖ اس اثر کے ساتھ متعلق کرنا ممکن نہ رہا، ہاں کثیر سے متعلق ہوگااور وُہ اتنی مقدار ہے جو نماز کو فاسد کردے کیونکہ اسے نماز کے معاملہ میں کثیر اعتبار کیا گیا ہے، مشائخ میں سے بعض نے قلیل و کثیرمیں یُوں فرق کیا کہ اس شئی کو نگلنے کے لئے تھوک کی مدد کی ضرورت ہے یا نہیں،ا گر مدد درکار ہے تو قلیل ورنہ کثیر، اور یہ بہت خوب فرق ہے کیونکہ جوف میں وصول کے بعد روزہ نہ ٹوٹنے کے حکم میں مانع صرف یہ ہے کہ اس سے احتراز آسان نہ تھا اور یہ بات اس میں جاری ہوسکتی ہے جو تھوک کے ساتھ جوف میں جائے، لیکن اس میں جاری نہیں ہوسکتی جس کا ادخال عمداً ہوکیونکہ اس میں روزہ دار مجبور نہیں اھ
 (۱؎ فتح القدیر ،باب مایوجب القضاء والکفارۃ،نوریہ رضویہ سکھر    ۲ /۵۹-۲۵۸)
وقد نقل کلامہ العلامۃ الشرنبلالی نفسہ فی المراقی تصریحا وفی الغنیۃ تلویحامقرا علیہ، وھذاایضا بحمداﷲتعالٰی مشید ارکان مانحونا الیہ من ان المناط ھو الفرق بالدخول والادخال لاغیر وان لا نظر فی الدخول  الی کون سببہ ممایستھل التحرز عنہ، الاتری ان الانسان غیر مضطرالی اکل مایبقی شئی منہ فی اسنانہ کاللحم وامثالہ، بل یمکن الاجتزاء بمثل اللبن ثم ان سلم لہ ان تعاطی الاسباب الغالبۃ من باب الادخال المفطر لوجب ان یکون مفطرامطلقا وان احتاج الیھا کما قد منا بحقیقتہ فلیس من لم یکن عندہ ما یغنیہ یومہ ولم یقدر علی الاکتساب الابحرفۃ غر بلۃ وھرس وخبز وطبخ ونحوھا ممایدخل فیہ الغبار والدخان باجلّ ضرورۃ واقل حیلۃ من مریض اونائم اومکرہ او ذی مخمصۃ فاذالم یستحق اولٰئِک اسقاط حکم الفطر فانّٰی یستحقہ من ھو دونھم وقد جری ھو بنفسہ فی متنہ علی تعمیم الغبار غبارالطاحونۃ فالاوفق الارفق الالصق بالاصول بالقبول عندی ھوالاطلاق الذی جرت علیہ المتون والشروح و الفتاوی قاطبۃ الی اواسط القرن الحادی عشر حتی جاء العلامۃ الشرنبلالی فنظر مانظر ولقد احسن واجاد فی کتبہ الثلثۃ اذا علق الفساد بالبخور علی اشتمام الدخان والعلم بالحق عند الملک المنّان۔
علامہ شرنبلالی نے یہ کلام مراقی میں تصریحاً اور غنیہ میں اختصارکے ساتھ اسے ثابت رکھتے ہُوئے نقل کیا ہے، بحمد اﷲیہ بھی ہماری اس گفتگو کی بنیادوں کو مستحکم کرتا ہے کہ فرق کامدار دخول اور ادخال پر ہے، اس کے علاوہ کوئی فرق نہیں اور دخول میں اس طرف نظر کرنا بھی مناسب نہیں کہ اس کا سبب ہونا ایسا تھا جس سے بچنا آسان تھا، کیا آپ ملاحظہ نہیں کرتے کہ دانتوں میں جو بچ جاتا ہے مثلاً گوشت وغیرہ تو انسان اس کے کھانے پر مجبور نہیں بلکہ انسان کا اس سے محفوظ رہنا ممکن بھی ہے، مثلاًدودھ وغیرہ کے ذریعے، پھر اگر یہ تسلیم کرلیا جائے ایسے اسباب میں مشغول ہونا جن سے غالباً دخولِ غبار ہوجاتا ہے اور روزہ ٹوٹ جاتا ہے، تو ضروری ہوگا کہ یہ ہرحال میں روزہ ٹوٹنے کا سبب بنے اگرچہ آدمی ان کا محتاج ہو، جیسا کہ ہم پیچھے اس کی حقیقت بیان کرآئے، تو وہ شخص جس کے پاس دن گزارنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو اور وُہ آٹا چھاننے، گھوڑا دوڑانے، روٹی کھانے اور پکانے وغیرہ جو دخولِ غبار کا سبب ہیں ان کے علاوہ کسی کاروبار پر قادر بھی نہ ہو تو ایسا شخص مریض، سونے والے، مکرہ اور صاحبِ اضطرار سے ضرورت میں زیادہ اور حیلہ میں کم نہیں ہوتا، توجب مذکورہ لوگ اسقاط حکم افطار کے مستحق نہیں تو جوان سے کم درجہ کا معذور ہے وہ اسقاط کا کیسے مستحق ہوگا، علامہ نے خودمتن میں عام غبار کا اعتبار کیا ہے جیسے چکّی کی غبار، تواصول کے زیادہ موافق و مناسب ہوگی اور قبول کے زیادہ لائق۔ میرے نزدیک وہ اطلاق ہے جس پر گیارہویں صدی کے وسط تک تمام متون وشروحات اور فتاوٰی کی نقل جاری رہی حتی کہ علّامہ شرنبلالی کا دور آیا تو اُنہوں نے اس پر غور و فکر کیاجو اُن کی شان کے لائق تھا، اُنہوں نے اپنی تینوں کُتب میں یہ لکھ کر بہت ہی خُوب کیا کہ بخور کا دُھواں قصداً سُونگھنے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے۔ حق کا علم مالک اور احسان فرمانے والے اﷲتعالٰی کے لئے ہے۔(ت)
الحمد ﷲیہ جواب عجاب ، کاشف صواب، ورافع حجاب اوائل ذی القعدۃ الحرام کے چند جلسوں میں تمام اور بلحاظ تاریخ'' الاعلام بحال البخور فی الصیام''نام ہوا، وصلی اﷲ تعالٰی علی سیّدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہ وبارک وسلم، وا ﷲ وسبحانہ وتعالٰی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۲۲۶: مسئولہ امانت علی شاہ ساکن قصبہ نواب گنج ضلع بریلی ۱۷رمضان ۱۳۳۱ھ

اس سے پہلے میں نے آپ سے سوال کیاتھا کہ روزہ دار کو غوطہ لگانا چاہئے یا نہیں ؟ اور سُرمہ لگانا چاہئے یا نہیں ؟ تو ایک شخص کہتا ہے کہ غوطہ لگانا  کیا بلکہ ناف کے اُوپر پانی پہنچ جائے گا تو روزہ ٹوٹ جائے گا، اور سُرمہ بعد عصر  کےلگا نا چاہئے۔ اور ایک شخص نے یہ بھی کہا کہ سُرمہ لگاکر سونا نہ چاہئے، اور روزہ دار کو خوشبو سُونگھنا چاہئے یا نہیں؟ اور سر میں تیل ڈالنا چاہئے یا نہیں؟ اور بدن پر روغن ملنا چاہئے یا نہیں؟ اور ہلاس سُونگھنا چاہئے یا نہیں؟ اور مسواک کرنا چاہئے یانہیں؟ اور مسواک کی لکڑی چبانا چاہئے یا نہیں؟ اور دانتوں میں خلال کرنا چاہئے یانہیں؟ اور منجن ملنا چاہئے یانہیں؟
الجواب: وہ شخص غلط کہتا ہے، پانی بدن کے اُوپر ہونے سے روزہ جائے تو نہانے سے بھی جائے، وضو سے بھی جائے۔ ہاں جوف کے اندر مسام کے سوامنافذ سے پہنچے تو روزہ جائے گا مگر غوطے میں ایسا نہیں، غوطہ لگا کر کھلے ہُوئے منفذ نتھنوں کو دیکھئے کہ ان میں بھی پانی نہیں پہنچتا اور سُرمہ بھی ہر وقت لگانے کی اجازت ہے اور لگا کر سو بھی سکتا ہے اور سونے سے بھی کھکھار میں سُرمہ کی رنگت آجائے تو کچھ حرج نہیں کہ یہ مسام سے پہنچا اور آنکھوں میں معاذاﷲکان یا ناک کے سوراخ نہیں کہ اُن میں داخل روزہ کو مضر ہو۔ روزہ دار خوشبُو سُونگھ سکتاہے، سُونگھنے سے جس کے اجزاء دماغ میں نہ چڑھیں بہ خلاف اگر لوبان کے دُھوئیں کے کہ اسے سونگھ کر دماغ کو چڑ ھ جائے گا تو روزہ جاتا رہے گا۔ روزہ دار سر میں روغن ڈال سکتا ہے،کہ یہ بھی مسام میں کوئی منفذ نہیں ۔ بدن پر بھی روغن مل سکتاہے مل کر خوب جذب کر سکتا ہے،ہاں مثلاً کان میں نہیں ڈال سکتا، اگر ڈالے گا روزہ جاتا رہے گا۔ روزہ دارکو ناس لینا حرام ہے اُس کا کوئی ذرّہ دماغ کو پہنچا تو روزہ جاتا رہے گا۔ مسواک کرنا سنّت ہے، ہروقت کرسکتا ہے، اگر چہ تیسرے پہر یا عصر کو چبانے سے لکڑی کے ریزے چھوٹیں یا مزہ محسوس ہوتو نہ چاہئے۔ خلال کرنے میں تو کوئی مضائقہ نہیں مگررات کا دانتوں میں کچھ بچارکھنا نہ چاہئے جسے دن کو خلال سے نکالے، ہاں سحری کھا کر فارغ ہُوا تھا کہ صبح ہوگئی تو اب ہی خلال کرے گا اس کاحرج نہیں، روزہ میں منجن مَلنا نہ چاہئے۔
Flag Counter