| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
قلت : وانما اطنبناالکلام فی ھذاالمقام حرصا علی احکام الاحکام وادغام الاوھام احتراسا ان لایعثر عاثر حین یعثر علی بحث للعلامۃ الشرنبلالی فی ھذاالمرام حیث قال رحمہ اﷲتعالٰی فی غنیۃ ذوی الاحکام قولہ اودخل حلقہ غباراواثرطعم الادویۃ فیہ لانہ لایمکن الاحتراز منھا اھ لدخولہ من الانف اذااطبق الفم کما فی الفتح قلت فھذا یفید انہ اذاوجدبدامن تعاطی مایدخل غبارہ فی حلقہ افسد لوفعل اھ۱؎
قلت: ہم نے اس مقام پر اتنی طویل گفتگو اس لئے کی ہے کہ احکام میں استحکام اور اوہام کا ازالہ ہو اور اگر آپ علامہ شرنبلالیہ کی بحث پر مطلع ہوں تو وہاں ہرکسی کے اعتراض سے محفوظ ہوجائیں انہوں (رحمہ اﷲتعالٰی) نے غنیہ ذوی الاحکام میں فرمایا قولہ یا روزہ دارکے حلق میں غبار یا ادویات کا ذائقہ داخل ہوجائے کیونکہ اس سے احتراز ممکن نہیں اھ کیونکہ اگر منہ بند بھی ہو تو ناک کے ذریعے دخول ہوجائیگا، جیسا کہ فتح القدیر میں ہے، قلت یہ عبارت بتار ہی ہے اگر ایسے کام میں مشغولیت سے چارہ ہو جس سے غبار حلق میں داخل ہوجاتی ہے تو اب اگر عمل کیا تو روزہ فاسد ہوجائے گا اھ
(۱؎ غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ دررالحکام باب موجب الفساد احمد کامل الکائنۃدارسعادت مصر ۱ /۲۰۲)
وقال السیّد الطحطاوی فی حاشیۃ علی المراقی وعلی الدرواللفظ للاولی قولہ اودخل حلقہ غبارالخ بہ عرف حکم من صناعتہ الغربلۃ اوالاشیاء التی یلزمھا الغبار وھو عدم الصوم وفی سکب الانھرعن المؤلف ولووجدبدامن تعاطی مایدخل الخ ویدل علیہ التعلیل بعدم امکان التحرز۲؎اھ
سید طحطاوی نے حاشیہ مراقی اور حاشیہ درمیں کہا ہے اور یہ عبارت پہلی کتاب کی ہے قولہ یا غبار روزہ دارکے حلق میں داخل ہوگئی الخ اس سے ان لوگوں کا حکم معلوم ہوگیا جو گیہوں چھانتے یا ایسے کام کرتے ہیں جن کے ساتھ غبار لازمی ہے اور وہ ہے روزہ کا نہ ہونا، سکب الانہر میں مؤلف سے ہے اگر ایسے کام سے بچنے کا چارہ ہو جس سے دخولِ غبارہوتا ہے اب اگر ایسا عمل کیا تو روزہ فاسد ہوجائے گا، دلیل یہ علت ہے کہ اس سے بچنا ممکن نہیں اھ
(۲؎ طحطاوی علٰی مراقی الفلاح باب بیان مالایفسد الصوم نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۶۲)
وقال السید الشامی فی ردالمحتار قولہ لعدم امکان التحرز عنہ ھذایفید انہ اذاوجدبدامن تعاطی الخ شرنبلالیہ۳؎اھ ملخصاً فیظن ان مانحن فیہ من باب تعاطی سبب ممکن التحرز عنہ، وحقیقۃ الامر ان العلامۃ الباحث رحمہ اﷲتعالٰی لاینکران مدارالاحکام ھٰھنا علی التفرقۃبین الدخول والادخال، فحسب اما سمعت الی مامرمن قولہ فی متنہ لایفسد الصوم ۔
سیّد شامی نے ردالمحتار میں فرمایا قولہ'' اس سے بچنا ممکن ہوتو الخ شرنبلالیہ اھ تو اس سے گمان کرلیا گیا ہے کہ زیرِ بحث مسئلہ ان میں سے ہے یہاں غبار والے سبب میں مشغول ہونے سے بچنا ممکن ہے اور حقیقت امر یہ ہے کہ علّامہ رحمہ اﷲتعالٰی اس بات کے منکر نہیں کہ احکام کا مدار یہاں فقط دخول اور ادخال کے فرق پر ہے کیا آپ نے ملا حظہ نہیں کیاکہ متن کے حوالے سے پیچھے گزرا کہ روزہ اس صورت میں فاسد نہ ہوگا
(۳؎ ردالمحتار باب مایفسد الصوم ومالایفسدہ مصطفی البابی مصر ۲ /۱۰۶)
ولودخل حلقہ دخان بلا صنعہ۱؎ وشرحیہ لہ وحاشیتہ علی الدررمن قولہ فیما ذکرنا اشارۃ انہ من ادخل بصنعہ فسد صومہ۲؎وقولہ لامکان التحرزعن ادخال المفطر۳؎
جب دُھواں حلق میں بلا قصد وعمل داخل ہُوا، اس کی دونوں شروحات اور حاشیہ درر کے حوالے سے یہ قول بھی گزرچکا کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روزہ دار نے اگر خود دُھوئیں کو داخل کیا توروزہ ٹوٹ جائے گا، قولہ کیونکہ اس صورت میں روزہ توڑنے والی اشیاء کے ا دخال سے احتراز ممکن ہے
(۱؎ نورالایضاح باب مایفسد الصوم مطبع علیمی لاہور ص۶۴) (۲؎مراقی الفلاح مع حاشیہ طحطاوی باب فی بیان مالا یفسد الصوم نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص۳۶۱) (۳؎ غنیہ ذوی الاحکام مع حاشیہ درر باب موجب الافساد مطبعہ احمد کامل الکائنہ دار سعادۃ مصر ۱ /۲۰۲)
ولذالمااتی العلامۃ المدقق العلائی فی الدرعلٰی تلخیص کلام الشرنبلالی لم یلخص الاحر فا واحدا وھو التفرقۃ بالدخول والادخال کما اسمعناک نصہ وانما مطمع نظرہ وملمح بصرہ رحمہ اﷲتعالٰی ما القینا علیک ان السبب اذا کان مفضیا ولابد کان قصدہ قصدالمسبب فکان من باب الادخال بصنعہ، وانما یستقیم ان استقام فیما یفضی قطعا اوظناً غالباً ومن الدلیل علیہ نوطہ فی الکتب الثلثۃ حکم الفساد بمجردتعاطی تلک الاسباب حیث قال''افسد لوفعل'' ولم یقل''لو فعل ودخل'' فانما ینظر الی ان فعلہ یوجب الدخول فاجتزأبذکرہ عنہ والافلایتوھم عاقل فضلا عن فاضل فضلا عن مثل ھذاالفاضل ان مجرد تعاطی تلک الافعال یفسد الصوم وان لم یدخل شئی ثم ھو رحمہ اﷲتعالٰی دار یقیقناً ان الکینونۃ فی بیت فیہ بخور لیس سببا غالبا لدخول الدخان ولذا علق الفساد فی کتبہ الثلثۃ ''بایوائہ الٰی نفسہ'' بل ولم یقنع بہ حتی زاد''واشتم دخانہ'' فقد وضح اتضاح الشمس فی رابعۃ النھاران لامساس بمسألتنا لما بحث العلامۃ الفاضل ھنا۔
اس لئے در میں علامہ مدقق علائی نے شرنبلالی کے کلام کی تلخیص کرتے ہُوئے صرف ایک حرف کی تلخیص کی ہے اور وہ دخول اور ادخال میں فرق ہے جیسا کہ پیچھے ہم نے ان کے الفاظ آپ کے سامنے رکھے، جو ہم نے بیان کیا اس سے علامہ رحمہ اﷲتعالٰی کا مطمحِ نظریہ ہے کہ سبب اگر لازمی طور پر مفضی ہے تو اس سبب کا قصد مسبب کا ہی قصد ہوگا تو یہ ادخال بالقصد کے باب سے ہوگا، اگر یہ درست ہے تو یہ صرف وہاں ہی ہوگا جہاں سبب قطعی یا ظن غالب کے طور پر مفضی ہوگا اس پر دلیل یہ ہے کہ تینوں کتب میں حکم فساد کا مدار محض ان اسباب میں مشغول ہونے کو قرار دیا ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں '' اگر اس نے ایسا کیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا'' ، یہ نہیں کہا'' اگر کیا اور داخل ہوگیا''، کیونکہ ان کی نظر اس پر تھی کہ ایسے اسباب کا کرنا ہی دخول کا موجب ہے لہذااس کے ذکر پر اکتفاء فرمایا ورنہ کوئی عاقل چہ جائیکہ ایسا فاضل یہ بات کہے کہ محض ان کاموں میں مشغول ہونا روزہ توڑدیتا ہے اگر چہ کوئی شئی داخل نہ ہوتی ہو، پھر علّامہ رحمہ اﷲتعالٰی یہ بھی یقینا جانتے ہیں کہ جس گھر میں بخور ہو وہاں موجود ہونا دھوئیں کے دخول کا سبب غالب نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ تینوں کتب میں یہ قید لگائی ہے کہ اسے اپنے قریب کرے بلکہ اس پر بھی اکتفانہ کیا حتی کہ یہ زائد کیا کہ اس کا دھواں سُونگھے، اب تو روشن دن کی طرح واضح ہوگیا کہ علامہ فاضل نے جو یہاں کہاہے اس کا تعلق ہمارے زیر بحث مسئلہ سے نہیں ہے۔