امۃ افطرت فی رمضان متعمدۃ لضعف اصابھا من عمال السید من طبخ او غیرہ کان واسعا وقضیۃ للمملوک ان یمتنع عما یعجزہ عن اداء الفرائض۲؎۔
وہ لونڈی جس نے اپنے مالک کی خدمت مثلاًکھانا پکانا وغیرہ پیداہونے والے ضعف کے پیش نظر مجبوراً روزہ توڑدیا تو جائز ہے اور غلام کو یہ حکم ہے کہ وہ ایسے کاموں سے رُک جائے جوادائے فرائض سے عاجز کردینے والے ہوں(ت)
(۲؎ فتاوٰی سراجیہ کتاب الصوم منشی نولکشور لکھنؤ ص۲۹)
یہ فرمایا کہ کنیز کو پکانے کی محنت سے ضعف ایسا لاحق ہوا کہ مجبوراً روزہ توڑنا پڑا ،جائز ہے اور قضا رکھے، یہ کیوں نہیں فرماتے کہ سرے سے پکانا ہی سببِ افطار ہے، اور کنیز کو جائز نہیں کہ اس میں مولٰی کی اطاعت کرے۔
(۳۹)ظہیریہ و(۴۰)ولوالجیہ و بحرالرائق وغیرہا میں ہے:
للامۃ ان تمتنع من امتثال امرالمولٰی اذا کان ذلٰک یعجزھا عن اقامۃ الفرائض لانھا مبقاۃ علی اصل الحریۃ فی حق الفرائض۳؎۔
لونڈی کے لئے مولی کے ایسے احکام سے رک جانا ہے جس سے وہ ادائے فرض سے عا جز آجائے گی کیونکہ ادائے فرض کے اعتبار سے وہ اصلا آزاد ہے ۔(ت)
(۳؎ بحرالرائق فصل فی العوارض ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۸۲-۲۸۱)
ثالثاً: نورالایضاح و مراقی الفلاح میں ہے:
کرہ للصائم ذوق شئی لمافیہ من تعرض الصوم للفسادوکرہ مضغہ بلا عذر کالمراۃ اذاوجدت من یمضغ الطعام لصبیھا کمفطرۃ لحیض، امااذا لم تجدبدامنہ فلا باس بمضغھا لصیانۃ الولد وللمرأۃ ذوق الطعام اذاکان زوجھا سئی الخلق لتعلم ملوحتہ وان کان حسن الخلق فلایحل لہا و کذا لامۃ قلت کذاالاجیر۱؎۔
روزہ دار کے لئے کسی شئے کا چکھنا مکروہ ہے کیونکہ یہ روزہ کو فاسد کرنے کے درپے ہونا ہے۔ اسی طرح طعام کا چبانا بھی بلا عذر مکروہ ہے جیسے خاتون بچّے کے لئے کسی دوسرے کو چبانے والاپالے(مثلاً حائضہ عورت کو پائے تو چبانا مکروہ ہے) عورت کو اگر چبانے کے سوا چارہ نہ ہو تو بچّے کی حفاظت کے لئے ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں، اور خاتون کے لئےطعام کاچکھنا بھی جائز ہے جبکہ خاوند بد خلق ہو تا کہ وہ نمک وغیرہ چکھ سکے اور شوہر حسن اخلاق والا ہے تو پھر چکھنا جائز نہیں۔ اور لونڈی کا حکم اسی طرح ہے۔ میں کہتا ہوں اجیر بھی اسی حکم میں ہے(ت)
(۱؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فیما یکرہ للصائم نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۷۱)
حاشیہ طحطاوی میں ہے:
قولہ کذالاجیرای للطبخ۲؎۔قولہ''کذاالاجیر''
یعنی کھانے پکانے کا مزدور۔(ت)
(۲؎ حاشیہ طحطا وی علی مراقی الفلاح فصل فیما یکرہ للصائم نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۷۱)
کنزو بحرو نہر و ہندیہ وغیرہا میں ہے:
واللفظ للاولین کرہ ذوق شئی و مضغہ بلا عذر لما فیہ من تعریض الصوم للفسادولایفسد صومہ لعدم الفطر صورۃ ومعنی قید بقولہ بلا عذر لان الذوق بعذر لا یکرہ کما قال فی الخانیۃ، فیمن کان زوجھا سئی الخلق او سیدھا، لا باس بان تذوق بلسا نھاوالمضغ بعذربان لم تجدالمرأۃ من یمضغ لصبیھا الطعام من حائض او نفساء اوغیرھما من لایصوم ولم تجد طبیخا ولا لبنا حلیبا لاباس بہ للضرورۃ، الاتری انہ یجوز لھاالافطار اذا خافت علی الولد فالمضغ اولی۱؎۔(ملخصاً)
پہلی دونوں کتب کی عبارت یہ ہے بلا عذر شئی کا چکھنا اور چبانا مکروہ ہے کیونکہ یہ فسادِ صوم کے درپے ہونا ہے، اس سے روزہ فاسد نہ ہوگا کیونکہ صورۃو معنیً افطار نہیں پایا گیا'' بلا عذر'' کی قید اس لئے لگا ئی کہ عذر کی صورت میں چکھنا مکروہ نہیں،جیسا کہ خانیہ میں اس عورت و لونڈی کے بارے میں ہے جس کاخاوند یا مولٰی بد خلق ہو، اگر ایسا عذر ہو تو زبان کے ساتھ چکھنے میں حرج نہیں اور چبانے میں عذر یہ ہے مثلاًکوئی خاتون نہیں جو بچے کے لئےطعام چبادے مثلاًحائضہ یا نفاس والی کوئی عورت یا جو روزہ دار نہ ہوں ، اور نہ روٹی پکی ہُوئی اور نہ دودھ میسر ہوتو اب ضرورت کے پیش نظر کوئی حرج نہیں، کیا آپ نہیں جانتے کہ جب کسی خاتون کو بچّے کے ضائع ہونے کا خوف ہوتو روزہ چھوڑ سکتی ہے، تو چبانا تو بطریقِ اولٰی جائز ہوگا ۔(ت)
(۱؎ بحرالرائق باب مایفسد الصوم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۸۰-۲۷۹)
فتح القدیر میں ہے:
الذوق لیس بافطار بل یحتمل ان یصیر ایاہ اذقد یسبق شئی منہ الی الخلق فان من حام حول الحمی یوشک ان یقع فیہ انتھت،۲؎
مختصرات۔ چکھنا افطار نہیں بلکہ اس میں یہ احتمال ہوتا ہے کہ کہیں کوئی شئے حلق میں چلی جائے( یعنی افطار کا سبب ہے) کیونکہ جو محفوظ جگہ کے قریب جاتا ہے قریب ہے کہ اس میں داخل ہو جائے۔ گزشتہ عبارتیں اختصار کے ساتھ ختم ہوگئیں۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر باب ما یوجب القضاء والکفارۃ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۲۶۸)
دیکھو کنیز مولٰی یا عورت شوہر کے لئے یانان پزمزدوری پر روزے میں کھانا پکائے تو اسے نمک چکھنا جائز نہیں بتاتے جبکہ مولٰی و شوہر و مستاجر خوش خلق و حلیم ہوں کہ نمک کی کمی بیشی پر سختی نہ کریں گے اور کج خلق و بدمزاج ہوں تو روارکھتے ہیں، اور بچّے کوکوئی چیز چباکردینے میں شرط لگاتے ہیں کہ جب کوئی حیض یا نفاس والی عورت خواہ کوئی بے روزہ دارایسا نہ ملے جو چباسکے، نہ بچّہ کو دودھ وغیرہ اشیاء جن میں چبانے کی حاجت نہ ہو دے سکے اور ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہی کہ چکھنے چبانے سے روزہ جاتا نہیں بلکہ احتمال ہے کہ شاید حلق میں چلا جائے ، لہذا بے ضرورت نا جائز ہوا مگر یہ نہیں فرماتے کہ سرے سے پکانا ہی حلال نہیں۔ابھی گزر چکا کہ غلام و کنیز ایسے احکام میں اطاعت مولٰی نہ کریں، پھر زن واجیر تودوسرے درجے میں ہیں، اور پُر ظاہر کہ نمک ہرگز حلق میں چلے جانے کا سبب کُلی یا اغلبی کیسا ، سبب مساوی بھی نہیں، ہاں احتمال قریب ہے۔ ولہذا محقق علی الاطلاق نے بلفظِ احتمال ہی تعبیر فرمایا، اب پکانے کی ان اجازتوں کا منشا دو۲ حال سے خالی نہیں یا توا مروہی ہے کہ دخولِ دخان جبکہ شرعاً دائرہ مفطرات سے خارج ہوچکا مدار کا ر حقیقۃً قصدِادخال پر رہا ، بغیر اس کے جب افطار ہی نہیں تو اس کے قرب و تعریض میں کراہت کیوں ہو، یا اگر قصد سبب اغلب قصد مسبب ٹھہراؤ تو واجب کہ دخول دخان کے لئے طبخ وغیرہ کی سببیت اُس سے بھی اضعف و نادر تر ہو جو دخول شوربا کے لئے ذوق کی اور فی الواقع تجربہ بھی اس کی ندرت کا گواہ، دھوان جب حلق میں جاتا ہے اس کی تلخی محسوس ہوتی اور طبیعت کی دافعہ فوراً دفع کرتی ہے ، اور جب دماغ میں جاتا اس کی سوزش معلوم ہوتی اور دماغ کو اذیت دیتی ہے، یہ حالت کھانا پکانے والوں کو شاذ ونادر واقع ہوتی ہے نہ کہ ہر وقت یا ہر روز، تو دُھوئیں سے دُور جُدا کھڑا ہونا اور بھی زیادہ سبب شاذتر ہوگا، اُسکے قصد کو قصدِ مسبب کہنا کیونکر ممکن ، لاجرم یہاں اگر ہوگا تووہی محض دخول جسے تمام کُتب میں تصریحاً فرمایا کہ ہرگز مفسدِ صوم نہیں، بالجملہ اصو ل وفروعِ شرعیہ پر نظر ظاہر اسی طرف منجرکہ اسباب علی الاطلاق ساقط النظر، ولہذا جس طرح رمضان مبارک میں(۱) نہانا،(۲)دریا میں جانا حرام نہ ہُوا حالانکہ اس کے سبب کان میں پانی بھی چلاجاتا ہے۔ (۳)دن کو کھانا پکانا اور(۴)کاموں کے لیے آگ جلا نا حرام نہ ہوا۔ مسلمان(۵)نانبائیوں،(۶)حلوائیوں،(۷)لوہاروں،(۸)سناروںوغیرہم کی دُکانیں قطعاً معطل کردینا واجب نہ ہو حالانکہ ان میں دُھوئیں سے ملاسبت ہے۔(۹)جرّاروں،(۱۰)قصابوں، (۱۱)شکّرسازوں، حلوائیوں کا بازار ہڑتال کردینا لازم نہ ہوا کہ کثرتِ مگس کا موجب ہے۔ دن کو (۱۲)چکّی پیسنا، (۱۳)غلّہ پھٹکنا، (۱۴)باہرنکلنا گلیوں میں چلنا حرام نہ ہوا۔ حالانکہ وہ غالباً غبار سے خالی نہیں ہوتیں۔ یونہی(۱۵) کو مساجد بلکہ گھروں میں بھی جھاڑوں دینا خصوصاً صدرِ اوّل میں فرش کچّے ہوتے تھے۔ (۱۶)عطاروں کا دوائیں کُوٹنا، (۱۷)مزارعوں کا غلّہ ہوا پر اڑا کر صاف کرنا۔(۱۸) معما روں کا مٹی کی دیوار گرانا۔ (۱۹)مسافروں کا خوب چلتی ہوئی ریگستان میں سفر کرنا۔ (۲۰)فوج صائمین کا گھوڑوں پر سوار نرم زمینوں سے گزرنا کہ غالباً دخول غبار کے اسباب ہیں ان کی حرمت بھی کہیں مذکورنہیں بلکہ فوجی مجاہدوں کا روزہ احادیث سے ثابت اور بے ضرورت کُلی کا جواز تو صراحتاً منصوص، بہر حال اس قدر تو قطعی یقینی اسباب غیر غالبہ کلیۃً نا ملحوظ، لہذا علمائے کرام نے بخور کے سبب فساد صوم ہونے کی یہی تصویر فرمائی کہ اگر دان پر محتوی ہوجائے یعنی ایسا جھک جائے کہ گویا وُہ اس کے جسم کے اندر اور اس کا بدن اُس پر مشتمل ہے اور شرنبلالیہ و امداد ومراقی و طحطاوی و شامی ومجمع الانہر میں تو اس پر بھی قناعت نہ فرمائی کہ فآ واہ الی نفسہ۱؎ بخوردان کو اپنے بدن کے متصل کرلیا بلکہ صراحتاً اس پر زیادت کی واشتم دخانہ۲؎قریب کرکے اس کا دھواں اُوپر کوسونگھا، یہ خاص قصد ادخال اور اس کا مفطر ہونا بے مقال اور صورتِ سوال پر حکمِ افطار باطل خیال
(تحقیقی کا حق یہی تھا اﷲ سبحانہ ہی توفیق کا مالک ہے والحمد ﷲرب العالمین ۔ت)
(۱؎ مراقی الفلاح مع حاشیہ طحطاوی باب فی بیان مالایفسد الصو،نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ،ص۳۶۱)
(۲؎غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ دررالحکام باب موجب الافساد مطبعہ کامل الکائنہ دارسعادت مصر ۱ /۲۰۲)
اور اس پر ایجاب کفارہ تو صریح بہتان۔کفارہ کے لئے جنایت کاملہ چاہئے اور بے قصدوبے ارادہ کون سی جنایت کاملہ ہوسکتی ہے، اگر بفرضِ غلط اس صورت میں روزہ جانا بھی ٹھہرالیتے تو کیا شرع سے کوئی اس کی نظیر بتا سکتا ہے کہ بلا قصد جو افطار واقع ہو اس میں حکمِ کفارہ دیا گیا ہو، بھلا یہ توبلاارادہ حلق یا دماغ میں دُھواں جاتا ہے، بلاتعمّد جماع بھی تو موجب کفارہ نہیں جو اکبر واشنع مفطرات ہے۔ تنویرالابصار میں ہے:
ان جامع فی رمضان اداء اوکل اوشرب عمدا،قضی وکفر۱؎۔
اگر ادائے رمضان عمداً جماع کیا یا کھاپی لیا تو قضاء و کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔(ت)
(۱؎ تنویر الابصار متن درمختار باب ما یفسد الصوم ومالایفسدہ مجتبائی دہلی ۱ /۱۵۱)
درمختار میں ہے:
عمد اراجع للکل۲؎
(قصداً کی قید ہر ایک سے متعلق ہے۔ت)
(۲؎ درمختار باب ما یفسدالصوم ومالایفسدہ مجتبائی دہلی ۱ /۱۵۱)
ردالمحتار میں ہے:
المراد تعمد الافطار والناس وان تعمد استعمال المفطر لم یتعمد الافطار۳؎۔
یہاں ارادۃً افطار مراد ہے، بھول جانے والا اگر چہ کھانے پینے کا قصد توکرتا ہے مگر اس کا افطار کا ارادہ نہیں ہوتا۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب مایفسد الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۱۱۸)