(بلا قصد دخول جیسے بھی ہو۔ت)اصلا صالح افطار نہیں ، ولہذا علمائے کرام نے مدار فرق صرف دخول و ادخال پر رکھا، دخول کا کوئی فرد مفطر میں داخل نہ کیا
کما سمعت من نصوصھم
(جیسا کہ ان کی تصریحات آپ سُن چکے۔ت) مگر یہاں ایک نکتہ دقیقہ اور ہے
سبب شئی مفضی الی الشئی
(شئی کا سبب شئی تک پہنچانے والا ہوتا ہے۔ت) دو۲ قسم ہے:ایک مفضی کلیۃً یا غالباً جس کے بعد وقوع مسبب عادت متیقن یا مظنون بظن غالب ہوکہ فقہیات میں وُہ بھی ملتحق بالیقین۔
دوسرا مفضی نادراً جس کے بعد مسبب کبھی واقع ہوجائے قسم اوّل کے قصد کو قصدِ مسبّب کہنا مستبعدنہیں کہ جب صاحب قصد کو معلوم کہ اس کے بعد مسبب ضرور یا اکثر واقع ہی ہوتا ہے اور اس نے سبب کا ارتکاب بالقصد کیا تو گویا وقوع سبب کا التزام کرچکا بایں معنی خیال کرسکتے ہیں کہ ایسا دخول داخل شق ادخال ہوگا ، مگر قسم دوم ہرگز اس قابل نہیں ، پُرظاہر کہ یہ سبب سببِ کافی نہ ہوگا۔ اوراس کے بعد وقوع مسبب حالت شک و احتمال ہی میں آئے گا اس کے قصد کو مجازاً بھی قصد نہیں کہہ سکتے
وھذا لایذھب عن عقل عاقل نبیہ،فضلا عن فاضل فقیہ
(یہ تو کسی عقل عاقل سے مخفی نہیں چہ جائیکہ کسی فاضل فقیہ کے علم سے مخفی ہو۔ت) حجتِ ساطعہ لیجئے کان میں بالقصد پانی کا ادخال اصح الاقوال پر مفسد صوم ہے مگر یہی ائمہ کرام جو بحالتِ قصدادخال افساد وابطال کی تصحیح فرماتے ہیں نہانے یادریا کے اندر جانے میں اگر پانی کان میں چلا جائے تو روزہ نہ جانے کی تصریح فرماتے ہیں ائمہ نے اصلاً اس کا اعتبار نہ فرمایا کہ اس دخولِ آب کا سبب نہانا یا غوطہ لگانا ہُوا اور یہ افعال اس نے بالقصد کئے تو گویا بالقصد پانی کان میں پہنچایا وجہ وہی ہے کہ یہ افعال غالباً دخولِ آب کے موجب نہیں ہوتے اگر چہ کبھی واقع ہوتا بھی ہے تو اُن کا قصد اس کا قصد نہیں ہوسکتا۔ خانیہ میں ہے:
لوخاض الماء فدخل الماء فی اذنہ لایفسد صومہ وان صب الماء فی اذنہ اختلفوا فیہ والصحیح ھو الفساد لانہ وصل الی الجوف بفعلہ فلا یعتبر فیہ صلاح البدن۱؎۔
اگر پانی میں غوطہ لگا یا اور پانی کانوں میں داخل ہوگیا توروزہ فاسد نہ ہوگا اور اگر کان میں پانی خود ڈالا اس بارے میں اختلاف ہے، مذہب صحیح یہی ہے کہ روزہ فاسد ہوجائے گا کیونکہ اس صورت میں پانی پیٹ تک اس کے عمل سے پہنچا ہے لہذا اس میں اصلاح بدن کا اعتبار نہیں ہوگا۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضیخان الفصل الخامس فیما لایفسد الصوم منشی نولکشور لکھنؤ ۱ /۹۹)
فتاوٰی امام بزازی میں ہے:
خاض الماء فدخل اذنہ لایفسد بخلاف دخول الدھن وان صب الماء فی اذنہ افسدہ فی الصحیح لوجود الفعل لایعتبر فیہ صلاح البدن۲؎۔
روزہ دار پانی میں غوطہ زن ہُوا، اس کے کان میں پانی داخل ہوگیا تو روزہ فاسد نہ ہوگا بخلاف تیل کے دخول کے، اور اگر پانی کان میں ڈالاتو یہ صحیح قول کے مطابق روزہ کو فاسد کردے گا کیونکہ یہ اس کے اپنے عمل سے ہوا ہے، پس اس صورت میں اصلاحِ بدن کا ا عتبار نہیں کیا جائے گا۔(ت)
(۲؎بزازیہ بر حاشیہ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصوم نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۸)
(۳۴)جواہر الاخلاطی میں ہے:
لو اغتسل اوخاض فی الماء فدخل الماء اذنہ لا یفسد صومہ بلاخلاف ولو ادخل الماء فی اذنہ ففیہ الاختلاف والاصح ھو الفساد دلوصولہ الی الراس و وصول مالافیہ صلاح البدن غیرمعتبر کمالوادخل خشبۃ فی دبرہ وغیبھا۱؎۔
اگر غسل کیا یا پانی میں غوطہ زن ہُوا تو پانی کان میں داخل ہوگیا بالاتفاق روزہ فاسد نہ ہوگا اور اگر پانی کان میں داخل کیا تو اس میں اختلاف ہے اصح قول یہ ہے کہ روزہ فاسد ہوجائے گا کیونکہ یہ دماغ تک پہنچ جاتا ہے اور دماغ تک ایسی چیز کا پہنچنا جس میں اصلاحِ بدن نہ ہو غیر معتبر ہے، جیسا کہ اگر کسی نے اپنی دبر میں لکڑی داخل کی اور وُہ غائب ہوگئی(ت)
(۱؎ جواہر الاخلاطی کتاب الصوم قلمی نسخہ ص۴۷)
فتح القدیر میں ہے:
الفساد اذاأدخل الماء أذنہ لااذا دخل بغیرصنعہ کما اذا خاض نھرا۲؎۔
روزے کا فساد تب ہوگا جب خود اپنے کان میں پانی داخل کرے، اپنے عمل کے بغیر پانی داخل ہونے سے فاسد نہ ہوگا جیسا کہ نہر میں غوطہ زن ہُوا۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر باب مایوجب القضاء نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۲۶۷)
دیکھو کیسی صریح تصریحیں ہیں کہ ایسے سبب کا قصد قصدِ مسبب نہیں ، یہاں تک کہ اس صورت میں باوصف فعل سبب وقوعِ مسبب کو بغیر صنعہ(اپنے عمل کے بغیر۔ت) فرماتے ہیں۔ اب ہم اپنے مسئلہ دائرہ کو دیکھیں تو کسی مکان میں جہاں بخور سلگتا ہو موضع بخور سے جدا دُور جاکھڑا ہونا کہ دُھواں لینے کا قصد درکنار دُھوئیں کے پاس تک نہ ہو، ہر گزکسی عاقل کے نزدیک دخولِ دخان کا سبب غالب نہیں ہوسکتا ورنہ واجب تھا کہ رمضان المبارک میں دن کو آگ روشن ہونا، شام کے لئےکچھ کھانا پکناحرام و باعثِ افطار صیام ہوتااس میں تو شاید خود یہ معترضین بھی شامل ہوں اور امکان احترازہی کی ہوس ہواگر چہ عندالتحقیق مفطرات میں اس کو دخل نہیں
کما بیّناہ بابین وجہ لا یحوم حوم حماہ شبھۃ
(ہم نے اسے ایسی واضح وجہ کے ساتھ بیان کیا جسے شبہ کا کوئی جالا ڈھانپ نہیں سکتا۔ت) تو وُہ بداہۃً حاصل ،کیا ممکن نہ تھا کہ جو کچھ پکانا ہو سحری تک پکارکھیں یا شام کے وقت بازاری اشیاء پر قناعت کریں خصوصاً اہلِ عرب کہ ویسے بھی کھجوروں پر قناعت کے عادی تھے ، ہاں سحر کا پکا سرد ہو جاتا یا بازاری اشیا میں مزہ نہ آتا ،یہ عدم امکان تحرز نہ ہوا زبان کا مزہ ٹھہرا، کیا اس کے لئے روز روزے رکھ کر باطل کر دینا حلال ہوجاتا ، جس گھر میں دُھواں ہو وہاں موجودہونا درکنار، نصوصِ علماء شاہدِ عدل، کہ خود کھانا پکانا، صبح سے شام تک روٹی لگانا بھی دخولِ دخان کا سبب غالب نہیں،
اوّلاً: (۳۵)قنیہ و (۳۶)تاتارخانیہ و(۳۷)بحرالرائق و درمختارو ردالمحتار وغیرہا میں ہے:
والنظم للدر، لا یجوزان یعمل عملا یصل بہ الی الضعف فیخبز نصف النھار ویستریح الباقی فان قال لا یکفینی کذب باقصر ایام الشتاء۱؎۔
درکے الفاظ میں کوئی ایسا عمل جائز نہیں جو کمزور کردے تو نانبائی مثلاًیوں کرے کہ نصف دن روٹی پکائے اور باقی دن آرام کرے، پس اگر وہ شخص کہے کہ اس قدر عمل مجھے کفایت نہیں کرتا تو اس کی تکذیب کی جائے سردیوں کے سب سے چھوٹے دن ہیں (ت)
(۱؎درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۵۲)
دیکھو نان پزکو فرماتے ہیں اگر گرمی کے دنوں میں سارے دن روٹی لگانے سے وہ ضعف پیدا ہوکہ ادائے صیام میں خلل انداز ہوتوآدھے دن پکائے کہ چھوٹے دنوں میں دن بھر پکاتا تھا، نمازوں وغیرہ کے وقت نکال کر گرمیوں کا نصف دن اسی کے قریب قریب ہوجائے گا، یہ نہیں فرماتے کہ ضعف توجب آئے گا آئے گا اور چوتھائی دن درکنار روٹی پکانے سے دُھواں جو حلق و دماغ میں جاکر روزہ ہی کھودے گا۔