Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
113 - 198
اسی طرح(۲۵) ردالمحتار میں امداد الفتاح اور(۲۶)طحطاویہ میں غنیہ سے نقل فرماکر مقرر رکھا۔ (۲۷)مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:
علی ھذالوادخل حلقہ فسد صومہ حتی ان من تبخر ببخور فاستشم دخانہ فادخلہ حلقہ ذاکرالصومہ افطر لانھم فرقوا بین الدخول والادخال فی مواضع عدیدۃ لان الادخال عملہ والتحرزممکن ویؤیدہ قول صاحب النھایۃ اذا دخل الذباب جوفہ لایفسد صومہ لم یوجد ماھو ضد الصوم وھوادخال الشئی من الخارج الی الباطن وھذا مما یغفل عنہ کثیرفلیتنبہ لہ۲؎۔
اس بناء پر اگر کسی روزہ دارنے مذکورہ اشیاء میں سے کسی چیز کو اپنے حلق میں داخل کیا تو اس کاروزہ فاسد ہوجائیگا حتی کہ جس نے بخور کے ساتھ دُھونی دی اور اس کا دُھواں سُونگھا اور روزہ یاد ہوتے ہوئے حلق میں داخل کیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ فقہاء نے متعدد جگہ پر دخول اور ادخال میں فرق کیا ہے کیونکہ ادخال صائم کا اپنا عمل ہے جس سے بچنا ممکن ہے اس کی تائید صاحبِ نہایہ کا یہ قول کرتا ہے کہ جب مکھی پیـٹ میں داخل ہوگئی تو روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ کوئی ایسی چیز نہیں پائی گئی جو روزہ کی ضد ہو اور وُہ خارج سے کسی شے کا باطن میں داخل کرناہے، اس سے بہت سے لوگ غافل ہیں لہذا اس پر توجہ چاہئے۔(ت)
 (۲؎ مجمع الانہر  ، باب موجب الفساد،داراحیاء التراث العربی بیروت ، ۱ /۲۴۵)
 (۲۸)حاشیہ الکنز للعلّامۃ السیّد ابی السعود الازہری پھرطحطاوی علی المراقی میں ہے:
واللفظ للاول قولہ اودخل حلقہ غبار والتقیید بالدخول للاحتراز عن الادخال ولھذاصرحوابان الاحتواء علی المبخرۃ مفسد۱؎۔
قولہ ''دخل حلقہ غبار''دخول کی قید ادخال سے احتراز کے لئے اسی لئے فقہاء نے تصریح کی کہ بخوردان پر محتوی ہونا مفسد روزہ ہے۔(ت)
 (۱؎ فتح المعین حاشیہ علی شرح ملامسکین     باب مایفسد الصوم     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ۱ /۴۳۱)

(طحطاوی علٰی مراقی الفلاح         باب فی بیان مالا یفسد الصوم نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی     ص۳۶۲)
بالجملہ مسئلہ غبارودخان میں دخول بلا قصد و ادخال بالقصد پر مدارِ کارہے ۔ اوّل اصلاً مفسد صوم نہیں اور ثانی ضرورمفطر، اور بداہۃً واضح کی صورت مذکورہ سوال صورتِ دخول ہے نہ کہ شکلِ ادخال، تو اس میں انتقاضِ صوم کا حکم محض بے سند و بے اصل خیال۔
اقول: وباﷲالتوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق تحقیق مقام وتنقیح مرام بتوفیق الملک العلام
یہ ہے کہ حقیقت صوم امساک عن المفطرات الشرعیہ میں محصور، اور تکالیفِ شرعیہ قدروسع پر مقصور، اور انتفائے حقیقت کو انتقائے شئے قطعاً لازم وضرور، جس میں ضرورت و عدم ضرورت کا تفرقہ عقلاً و نقلاً باطل و مہجور، مثلاً حقیقتِ نکاح ایجاب وقبول ہے اگر چہ جانب ولی سے، اب اگر کوئی شخص ایسی جگہ ہوجہاں نہ کوئی ولی نہ حاکمِ اسلام اور بوجہ شدتِ احتیاج زن حالت تابجنون حقیقی پہنچے کہ اہلیت تصرف سے خارج ہوجائے تو اس ضرورتِ شدیدہ کے لحاظ سے ہرگز روانہ ہوگا کہ کوئی عورت بمجرد ایجاب بے قبول اس کی زوجہ بن جائے یا حقیقت زکٰوۃ کہ تملیک فقیر الخ ہے، اگرکہیں ایساہو کہ مصرف کوئی نہ ملے جیسا کہ زمان برکت نشان سید نا مسیح کلمۃ اﷲصلٰوۃ اﷲتعالٰی وسلامہ  علیہ میں ہونے والا ہے تو یہ ممکن نہیں کہ براہِ ضرورت زکٰوۃ اپنی حقیقت سے منسلخ ہوکر کسی غنی کو دینا زکٰوۃ قرار پائے، ارکان ساقطہ بضرورت، حقیقت ارکان سعت ہوتے ہیں نہ ارکان اصل حقیقت، ورنہ تحقق شئے بے حقیقت شئی محال عقلی ہے تو منافیات سنخ ذات میں ضرورت و بے ضرورت سے تفرقہ نہیں کرسکتے، اب ہم ان اشیاء کو جو خارج سے جوف صائم میں داخل ہوں نظر کریں تو انحائے مختلفہ کو پاتے ہیں ان میں بعض وُہ ہیں جن سے کسی وقت صائم کو احتراز ممکن نہیں، جیسے ہوا، بعض وُہ جن سے احیاناًتلبس ہر شخص کو ضرور، اور ان سے تحرز کلی نا مقدور ،جیسے دخول غبار ودخان کہ کسی نہ کسی طرح انسان کو ان سے قرب کی حاجت  ضروری ہے اور وُہ اپنی حد ذات میں ممکن الاحترازنہیں، آدمی کو کلام سے چارہ نہیں، اور کلام نہ بھی کرے تو بے تنفس کیونکر گزرے، اور ہو اکہ ان کی حامل ہوتی ہے اورتمام فضامیں بھری اور متحرک رہتی ، جابجالیے پھرتی ہے، آدمی مُنہ بند بھی رکھے تو یہ ناک کی راہ سے داخل ہوسکتے ہیں اور بعض وُہ جن سے ہمیشہ تحر ز کرسکتا ہے اگر چہ نادراً بعض اشخاص کو بعض حالات ایسے پیش آئیں کہ تلبس پر مجبور کریں، جیسے طعام و شراب ، اور انہیں دخان وغبار کا بالقصد ادخال کہ یہ تو اپنا فعل ہے انسان اس میں مجبور محض نہیں، شرع مطہر نے کہ حکیم ورحیم ہے جس طرح قسم اوّل کو مفطرات سے خارج فرمایا کہ اگر اسے ملحوظ رکھیں تو صوم ممتنع اور  تکلیف روزہ تکلیف بالمحال ٹہہرے،اسی قسم ثا نی کو مطلقا شمار مفطرات میں نہ رکھا اگر مفطر مانیں تو دو حال سے خالی نہیں، یا تو حکمِ فطر ہمیشہ ثابت رکھیں تو وہی تکلیف مالایطاق ہوتی ہے یا وقتِ ضرورت باوصف حصول مفطر روزہ باقی جانیں تو بقائے شے مع انتفائے حقیقت یا اجتماعِ ذات ومنافی ذات لازم آئے اور یہ باطل ہے، ہم ابھی کہہ آئے ہیں کہ دربارہ حقائق ضرورت کارگر نہیں ہوتی ولہذا شرع مطہر سے ہرگز معہود نہیں کہ کسی شے کو بخصوصہ مفطر قراردے کر بعض جگہ بنظرِ ضرورت حکمِ افطار ساقط فرمایا مثلاً کتبِ فقہیہ پر نظر ڈالے،
اوّلاً: بیمار قریبِ مرگ ہو گیا مجبوراً دواپی ضرورت کیسی شدید تھی جس نے روزہ توڑنا جائز کردیا مگر روزہ ٹوٹنے کا حکم مرتفع نہ ہُوا۔

ثانیاً: تلوار  سرپر لئے کھڑا ہے کہ نہیں کھاتا تو قتل کردے گا کیسی سخت ضرورت ہے حکم ہوگا کھالے مگر یہ نہ ہوگا کہ روزہ نہ جائے۔

ثالثاً: مخمصہ والے مضطر کی ضرورت سے زیادہ کس کی ضرورت ہے، جس کے لئے مردار سے مردار حرام سے حرام میں اثم زائل، اور بقدر حفظ رمق، تناول فرض ہُوا مگر یہ نہیں کہ یہ حالت بصورت صوم واقع ہوتو ضرورت کے لحاظ سے روزہ نہ ٹوٹے۔
رابعاً: سوتا مرابرابر ہوتا ہے
النوم اخوالموت
 (نیند موت کی بہن ہے۔ت) سوتے کے پاس بچنے کا کیا حیلہ، احتراز کا کیا چارہ، مگر یہ ناممکن الاحترازی، بقائے صوم کا حکم نہ لائی، سوتے میں حلق میں کچھ چلاجائے تو روزے پر وہی فساد کاحکم آئے گا، غرض خادم فقہ کے نزدیک بدیہیات سے ہے کہ شرع مطہر کبھی کسی چیز کو مفطر مان کر ضرورت وعدمِ ضرورت کا فرق نہیں فرماتی، لحاظِ ضرورت صرف اس قدر ہوتا ہے کہ افطار جائز بلکہ کبھی فرض ہوجائے مگر مفطر مفطر نہ رہے یہ ناممکن، تو ثابت ہُوا کہ اس اصل اجماعی عقل و نقل وقاعدہ شرعیہ آیہ
لایکلّف اﷲنفساً الّا وسعھا ۱؎
 (اﷲتعالٰی کسی نفس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلّف نہیں ٹھہراتا۔ت)
(۱؎القرآن۲ /۲۸۶)
نے واجب کیا کہ قسم ثانی بھی راساً عداد مفطرات سے مہجور اور مفطر شرعی صرف قسم ثالث میں محصور ہو۔ بحمد اﷲتعالٰی اس تقریر منیر سے روشن ہُوا کہ مفطر  نہ ہونے کے لئے جس طرح قسم سوم کی ضرورت نادرہ کہ اتفاقاً بعض صائمین کو بعض احوال میں لاحق ہو جیسے مفطر و مکروہ ونائم و مریض کی مجبوری کافی نہیں ہوسکتی، یونہی قسم اول کی ضرورت دائمہ لازمہ غیر منفطر بھی درکار نہیں بلکہ صرف قسم دوم کی ضرورت عامہ فعلیہ بس ہے اور جب اس کی بناء پر وُہ شے شمار مفطر سے خارج رہی تواب تفصیل و تفریق اوقات و حالاتِ ضرورت، نہیں کرسکتے ورنہ وہی استحالہ لازم آئے گا جسے ہم ابھی عقلاً ونقلاً باطل کرچکے بس دخولِ دخان و غبار بے قصد و اختیار کبھی کہیں پایا جائے اصلاً مفسدِ صوم نہیں ہوسکتا، نہ اس کہنے کی گنجائش کہ فلاں جگہ اتفاق دخول وہاں جانے سے ہوانہ جاتا نہ ہوتا، اور جانا قصداً تھا تو ممکن الاحتراز ہُوا۔
امام (۲۹)کردری وجیزمیں فرماتے ہیں:
اذا بقی بعد المضمضۃ ماء فابتلعہ بالبزاق ثم لم یفطر لتعذر الاحتراز۱؎۔
اگر کُلی کے بعد منہ میں کچھ پانی باقی رہ جائے اور روزہ دار اسے تھوک کے ساتھ نگل جائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں (ت)
(۱؎ بزازیہ بر حاشیہ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الصوم         نورانی کتب خانہ پشاور     ۴ /۱۰۰)
فتح سے اسی مسئلہ میں گزرا:
صارکبلل یبقی فی فیہ بعد المضمضۃ۲؎۔
یہ اس تری کی طرح ہے جوکلی کے بعد منہ میں باقی رہ جاتی ہے۔(ت)
 (۲؎فتح القدیر         باب مایوجب القضاۃ         نوریہ رضویہ سکھر     ۲ /۲۵۸)
شرنبلالیہ میں امام زیلعی سے ہے:
اذادخل حلقہ غبار او ذباب وھو ذاکر لصومہ لا یفطر لانہ لا یقدرعلی الامتناع عنہ فصار کبلل یبقی فی فیہ بعد المضمضۃ۳؎۔
جب روزہ دار کے حلق میں غبار یا مکّھی داخل ہوجائے اگر چہ اسے روزہ یاد ہو تو روزہ فاسد نہ ہوگا کیونکہ اس سے بچنے پرقادرنہیں یہ اس تری کی طرح ہے جو کُلی کے بعد اس کے منہ میں باقی رہتی ہے(ت)
 (۳؎ غنیۃ ذوی الاحکام حاشیۃ دررالحکام     باب موجب الافساد     مطبعہ احمد کامل الکائنۃ دارسعادت ۱ /۲۰۲)
شرح الملتقی للعلامہ عبدالرحمٰن الرومی میں ہے:
انہ لایقدر علی الامتناع عنہ فانہ اذا اطبق الفم لایستطاع الاحتراز عن الدخول من الانف فصار کبلل یبقی فی فیہ بعد المضمضۃ۱؎۔
روزہ دار اسے روکنے پر قادر نہیں کیونکہ اگر منہ بند بھی رکھے پھر بھی ناک کے ذریعے غبار کے دخول سے احتراز کی طاقت نہیں رکھتا تو یہ یُونہی جیسے کہ وُہ تری جوکُلی کے بعد منہ میں باقی رہ جاتی ہے(ت)
(۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر     باب موجب الفساد     داراحیاء التراث العربی بیروت ،۱ /۲۴۵)
دیکھو کُلی کے بعد جو تری منہ میں باقی رہتی ہے اُسے بھی شرع نے اسی تعذر تحرز کی بنا پر مفطر نہ ٹھہرایا اب وہاں یہ لحاظ ہرگز نہیں کہ یہ کُلی خود بھی ممکن الاحتراز تھی یا نہیں، اگر محض بے ضرورت کُلی کی جب بھی وُہ تری ناقضِ صوم نہ ہوگی حالانکہ ضرور کہہ سکتے تھے کہ یہ اس کا دخول اس کُلی کرنے سے ہوا، نہ کرتا نہ ہوتا، اور کُلی بے ضرورت تھی تو ممکن الاحتراز ہُوا۔ (۳۱)
بزازیہ میں ہے:
یکرہ ادخال الماء فی الفم بلاضرورۃ وفی ظاہر الروایۃ لاباس لان المقصود التطہیر فکان کالمضمضۃ۲؎۔
بلا ضرورت پانی کا منہ میں داخل کرنا مکروہ ہے اور ظاہر روایت کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ مقصود تطہیر ہے لہذا یہ کُلی کی طرح ہے(ت)
 (۲؎ بزازیہ بر حاشیہ فتاوٰی ہندیۃ     کتا ب الصوم     نورانی کتب خانہ پشاور     ۴ /۱۰۵)
حدیہ کہ بے ضرورت کُلی کرنی ظاہرالروایۃ میں مکروہ بھی نہیں حالانکہ عنقریب آتا ہے کہ بے ضرورت نمک دیکھنے کے لئے شوربا چکھنا مکروہ وناجائز ہے، تو وجہ وہی کہ شرع مطہر اسے شمار مفطرات سے خارج فرماچکی تو اب ضرورت و عدمِ ضرورت پر نظر نہ ہوگی نہ اس میں کسی مفطر کا احتمال پیدا ہوگا کہ کراہت آئے۔
Flag Counter