Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
112 - 198
الاعلام بحال البخورفی الصّیام (۱۳۱۵ھ)

(حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
بسم اﷲالرحمٰن الرحیم

اﷲ رب محمد صلی علیہ وسلما
مسئلہ ۲۲۵:از جونا گڑھ کاٹھیاواڑ    سرکل مدار المہام مرسلہ مولوی امیرالدین صاحب ۵ذیقعدہ ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک کامل عارف باﷲکے مقبرہ میں بارہ بارہ چند حضرات مل کر بعد ۴ بجے دن کے فاتحہ کے لیے حاضر ہوتے ہیں اور بوقتِ فاتحہ ہمیشہ مزار شریف سے کچھ فاصلہ پر لوبان جلایا جاتا ہے اور حاضرین مزار شریف کے قریب کھڑے ہوکر فاتحہ پڑھتے ہیں مگر حضار میں سے کسی شخص کا ارادہ خوشبو یا دُھواں لینے کا ہرگز نہیں ہوتا، اگر بغیر قصد وارادے کے دُھواں ناک وحلق وغیرہ میں چلا جائے تو کیا روزہ فاسد ہوجائے گا؟ ماہِ رمضان المبارک میں ایک شخص نے بیان کیا کہ اس خفیف دُھوئیں سے روزہ جاتا رہا اور کفارہ لازم آیا، اور جہاں لوبان جلتا ہے روزہ دار وہاں سے علیحدہ کھڑے ہوتے ہیں اگر چہ مکان ایک ہے۔ بینواتوجروا
الجواب :الحمد ﷲ الذی فرض علینا الصیام طہرا وجعل ھذاالدین یسراوالصلوۃ والسلام علی اطیب ریحان الرحمان طیبا ونشرا وعلٰی اٰلہٖ وصحبہ الذین من اقتفاھم لایصل الیہ دخان الضلال ورداولاصدرا۔
تمام تعریف اﷲ عزوجل کی جس نے طہارت کے لیے ہم پر روزے فرض فرمائے اور اس دین کوآسان بنایا، اور صلٰوۃ وسلام ہو اس ذات اقدس پر جو خوشبو کے لحاظ سے رحمان کے تمام گلستان میں اعلٰی ہیں، اور آپ کے آل واصحاب پرجنہوں نے آپ کی اس طرح اتباع کی کہ انہیں کسی بھی طرف سے گمراہی کی کوئی غبار لاحق نہ ہو سکے۔(ت)
متون وشروح و فتاوٰی عامہ کتب مذہب میں جن پر مدارِ مذہب ہے علی الاطلاق تصریحات روشن ہیں کہ دُھواں یا غبار حلق یا دماغ میں آپ چلا جائے کہ روزہ دارنے بالقصد اسے داخل نہ کیا ہو تو روزہ نہ جائے گا اگر چہ اس وقت روزہ ہونا یاد تھا۔ (۱)وقایہ و(۲) نقایہ و(۳)اصلاح و(۴)ملتقی و(۵)
تنویروغیرہا میں ہے:
واللفظ للاصلاح دخل غبار اودخان او ذباب حلقہ لم یفطر۱؎ ۔
اصلاح کے الفاظ یہ ہیں: حلق میں اگر غبار، دُھواں یا مکھی داخل ہوگئی تو روزہ نہ ٹوٹے گا(ت)
 (۱؎درمختار ، باب یفسد الصوم ،مجتبائی دہلی ، ۱ /۱۴۹)
 (۶)غررمتن دررمیں ہے:
دخل حلقہ غباراودخان او ذباب ولو ذاکرالم یفسد۲؎ ۔
روزہ دار کے حلق میں غبار، دُھواں یا مکھی چلی گئی حالانکہ اسے روزہ یاد تھا تو روزہ فاسد نہ ہوگا(ت)
 (۲؎ غررمع دررالحکام    باب موجب الافساد    احمد کامل الکائنہ دارالسعادۃ بیروت    ۱ /۲۰۲)
 (۷)بدایہ و(۸)ہدایہ و(۹)وافی و(۱۰)کافی میں ہے:
واللفظ للکا فی، لودخل حلقہ ذباب وھو ذاکر لصومہ یفسد قیاسالوصول المفطر الی جوفہ وکونہ ممالایتغذی لاینافی الفساد کالتراب وفی الاستحسان لایفسد لانہ لایمکن التحرزعنہ فان الصائم لا یجد بدامن ان یفتح فمہ لیتکلم فصار کا لغبار والدخان۱؎ ۔
کافی کی عبارت یہ ہے روزہ دار کے حلق میں مکّھی چلی گئی حالانکہ اسے روزہ یاد تھا روزہ قیاساً فاسد ہوجائےگا___اس لئے کہ روزہ توڑنے والی چیز اس کے حلق میں چلی گئی اور اس کاغذ اوالی چیز نہ ہونا فساد کے منافی نہیں جیسا کہ مٹی کا حکم ہے اور استحساناً روزہ فاسد نہ ہوگا کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں ہےکیونکہ روزہ دار کو بات کرنے کے لئے مُنہ کھولنا پڑتا ہے تو مکھی کا حکم غبار اور دُھوئیں کی طرح ہے۔(ت)
 (۱؎ ہدایۃ         باب مایوجب القضاء والکفارۃ     المکتبۃ العربیہ کراچی     ۱ /۱۹۸)
 (۱۱) فتح القدیر میں ہے:
قولہ فاشبہ الغبار والد خان اذا دخلا فی الحلق فانہ لایستطاع الاحتراز عن دخولھما لدخولھما من الانف اذاطبق الفم وصار ایضاکبلل یبقی فی فیہ بعد المضمضۃ۔۲؎
مصنف کا قول مکھی کا داخل ہونا غبار اور دھوئیں کی طرح ہے کیونکہ جب وہ حلق میں داخل ہوجائیں توان کے دخول سے بچنا ممکن نہیں ہوتا، منہ اگر بند بھی ہو تو وہ ناک کے ذریعے داخل ہوجائیں گے اور یہ اس تری کی مانند بھی ہے جو کُلی کے بعد منہ میں رہ جاتی ہے۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر   باب مایوجب القضاء والکفارۃ  نوریہ رضویہ سکھر     ۲ /۲۵۸)
 (۱۲) نورالایضاح متن امداد الفتاح میں ہے:
لایفسد الصوم لودخل حلقہ دخان بلاصنعہ او غبارولو غبارالطاحون او ذباب او اثر طعم الادویۃ وھو ذاکر لصومہ۳؎۔
ان صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹتا جب حلق میں بلا قصد دُھواں داخل ہوجائے یا غبار خواہ وہ آٹے کی چکی کا ہو یا مکھی یا دوائیوں کے ذائقے کا اثر منہ میں داخل ہوجائے اگر چہ روزہ دارکو روزہ دار ہونا یاد ہو۔(ت)
 (۳؎ نورالایضاح     مالایفسد الصوم         مطبع علیمی ،لاہور    ص۶۴)
(۱۳)خانیہ و(۱۴)خلاصہ و(۱۵)خزانۃ المفتین میں ہے:
واللفظ للخانیۃ اذا دخل الدخان او الغبار او ریح العطر اوالذباب حلقہ لایفسد صومہ۴؎۔
خانیہ کی عبارت یہ ہے: حلق میں دھواں، غبار، عطر کی خوشبو یا مکھی داخل ہوجائے تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔(ت)
 (۴؎ فتاوٰی قاضی خان     الفصل فیما لایفسد الصوم     منشی نولکشورلکھنؤ    ۱ /۹۸)
(۱۶) سراج الوہاج و (۱۷) ہندیہ میں ہے:
لودخل حلقہ غبارالطاحونۃ اوطعم الادویۃ اوغبار الھرس واشباھہ، او الدخان او ماسطح من غبارالتراب بالریح او بحوافر الدواب واشباہ ذلک لم یفطرہ۱؎۔
اگر روزہ دار کے حلق میں چکّی کا غبار، ادویات کا ذائقہ، گھوڑے کے دوڑنے یا اس کی ہم مثل کی غبار، دُھواں، ہوا کے ذریعے اڑنے والی، چوپایوں اور اس کے ہم مثل کی وجہ سے اڑنے والی غبار چلی جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ         الباب الرابع فیما یفسد الصوم     نورانی کتب خانہ پشاور         ۱ /۲۰۳)
(۱۸)وجیز و(۱۹)انقروی و(۲۰)واقعات المفتین میں ہے:
دخل الذباب اوالدخان اوالغبار حلقہ او بقی بلل بعد المضمضۃ فابتلعہ مع البزاق لم یفطر۲؎۔
روزہ دارکے حلق میں مکھی، دُھواں یا غبار چلی گئی یا کُلّی کے بعد تری  منہ میں رہ گئی اور اسے وہ تھوک کے ساتھ نگل گیا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا(ت)
(۲؎فتاوٰی انقرویۃ     کتاب الصوم         دارالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان     ۱ /۱۵)
ہاں اگر صائم اپنے قصد وارادہ سے اگریا لوبان خواہ کسی شَے کا دُھواں یاغبار اپنے حلق یا دماغ میں عمداً بے حالت نسیان صوم داخل کرے، مثلاً بخور سلگائے اور اسے اپنے جسم سے متصل کرکے دُھواں سُونگھے کہ دماغ یاحلق میں جائے تو اس صورت میں روزہ فاسد ہوگا۔
 (۲۱) درمختار میں ہے:
مفادہ انہ لوادخل حلقہ الدخان افطرایّ دخان کان ولو عود ااوعنبرالوذاکرا لامکان التحرز عنہ فلیتنبہ لہ کما بسطہ الشرنبلالی۳؎۔
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی روزہ دار نے بقصد اپنے حلق میں دُھواں داخل کیا تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا خواہ وُہ دُھواں عود یا عنبر کا ہو، اگر اسے روزہ یاد ہو کیونکہ اس سے بچنا ممکن ہے اس پر متنبہ رہنا چاہئے، جیسا کہ اس پر شرنبلالی سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔(ت)
 (۳؎ درمختار         باب ما یفسد الصوم         مجتبائی دہلی             ۱ /۱۴۹)
علامہ شرنبلالی نے(۲۲)غنیہ ذوی الاحکام و(۲۳)امداد الفتاح و(۲۴)  مراقی الفلاح تینوں کتابوں میں فرمایا:
وھذالفظ المراقی وفیماذکرنا اشارۃ الٰی انہ من ادخل بصنعہ دخانا حلقہ بای صورۃ کان الادخال، فسد صومہ،سواء کان دخان عنبراوعود اوغیرھما حتی من تبخرببخور فآواہ الٰی نفسہ واشتم دخاناذاکرا لصومہ افطر لامکان التحرز عن ادخال المفطر جوفہ ودماغہ وھذا مما یغفل عنہ کثیرمن الناس فلیتنبّہ لہ ولا یتوھم انہ کشم الورد ومائہ والمسک لوضوح الفرق بین ھواء تطیب بریح المسک وشبھہ وبین جوھر دخان وصل الٰی جوفہ بفعلہ۱؎۔
مراقی الفلاح کی عبارت یہ ہے جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس میں یہ اشارہ ہے کہ اگر کسی نے ارادۃً حلق میں دُھواں داخل کیا خواہ ادخال کی کوئی صورت ہوتو روزہ ٹوٹ جائے گا خواہ وہ دُھواں عنبر ، عود یا ان کے ہم مثل کسی کا ہو حتّی کہ جس نے دُھونی سلگائی اور اپنے قریب کرکے اس کا دُھواں سُونگھا حالانکہ روزہ یاد تھا روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ اس صورت میں پیٹ اور دماغ کو روزہ توڑنے والی شے سے محفوظ رکھنا ممکن ہے، یہ ان چیزوں میں سے ہیں جن سے اکثر لوگ غافل ہیں، لہذا اس پر خصوصی توجہ دیجئے، یہ وہم نہ کیا جائے کہ یہ تو پُھول اور کستوری سُونگھنے کی طرح ہی ہے کیونکہ خوشبو کی مہک اور جوہر دخان میں جوارادۃً جوف میں جائے بڑا واضح فرق ہے(ت)
 (۱؂مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی  باب فی بیان مالایفسد الصوم  نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۶۲-۳۶۱)
Flag Counter