| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
مسئلہ ۲۲۰تا۲۲۱: ۲۶صفر۱۳۱۷ھ (۱) ایک شخص پان کھاکے اوّل شب میں سویا،صبح کو اُٹھ کر نیت روزہ کرتا ہے، روزہ درست ہوگا یا نہیں؟ (۲) حالتِ روزہ میں اگر کوئی پانی سے استنجا کرے اور بائی اخراج ہو اور بدستور استنجا کرنے میں مشغول رہے توروزہ رہا یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب: (۱) اگرپان کھالیاتھا مُنہ میں صرف چند دانے چھالیا کے دانتوں میں لگے رہ گئے تو روزہ صحیح ہوجائے گا اور اگر صبح کے بعد بھی ایسا اُگال کثیر منہ میں تھا جس کا جرم خواہ عرق لعاب کے ساتھ حلق میں جانا مظنون ہے تو روزہ نہ ہوگا۔ (۲) اس سے روزہ میں کوئی خلل نہیں آتالعدم المفطر۔واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ۲۲۲:مسئولہ عبد الرحمان صاحب جونپوری از گولڑہ ضلع راولپنڈی ۲۶صفر ۱۳۳۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ جولوگ پان یا تمباکو یا نسوار کے عادی ہیں وہ اگر روزہ کی حالت میں پان تمباکونسوارمنہ میں رکھ لیں اور اس کا جرم حلق کے اندر نہ جانے دیں تو روزہ ٹوٹ جائیگا یا نہیں؟ اور بصورت ٹوٹ جانے کے قضا لازم آئے گی یا کفارہ؟ مدلل بیان کیجئے، بینو اتوجروا
الجواب: پان جب مُنہ میں رکھا جائے گا اُ س کا عرق ضرور حلق میں جائیگا، اور تمباکو جیسی کھائی جاتی ہے وہ اگر منہ میں ڈالی جائیگی تو یقینا اس کا جرم لعاب کے ساتھ حلق میں جائے گا اور نسوار تو بہت باریک چیز ہے جب اوپر کو سُونگی جائے گی ضرور دماغ کو پہنچے گی اور ان طلب والوں کے مقاصد بھی یونہی برآئیں گے اور فقہیات میں ایسا مظنون مثل متیقن ہے، یہ سب شیطانی وسوسے ہیں، ان چیزوں کے استعمال سے جو روزہ جائے اس کی فقط قضا نہیں بلکہ کفارہ بھی ضرور ہوگا کہ ان میں صلاح بدن وقضائے شہوت ہے اور اگر بالفرض ان میں احتیاط یقینی کی صورت متصور بھی ہوتی جب بھی ممانعت میں شک نہ تھا جیسے مباشرتِ فاحشہ کہ بے انزال ناقص نہیں مگر ممنوع ضرور ہے رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من وقع فی الشبہات فی الحرام کالراعی یرعی حول الحمی یوشک ان یرتع فیہ۱؎ ۔واﷲتعالٰی اعلم۔
جو شبہات میں داخل ہوتا ہے وہ حرام میں داخل ہوجائے گا جیسا کہ محفوظ جگہ کے قریب بکریاں چرانے والاقریب ہے کہ وُہ حرام میں واقع ہوجائے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
( ۱؎ صحیح مسلم ، باب اخذالحلال وترک الشبہات،قدیمی کتب خانہ کراچی،۲ /۲۸)
مسئلہ ۲۲۳:ازکلکتہ پور نزدیک اسپتال ای، بی ، ایس ،آر، یکم ربیع الاول۱۳۳۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روزہ کس کس حالت میں نہیں ہوتا؟ مثلاً اگر کوئی شخص پچھلے کو اتنا زیادہ کھالے کہ صبح کو اُسے کھٹّی ڈکاریں آئیں تو روزہ ہُوا یا نہیں ؟ اگر نہیں ہُوا تو کیا خرابی واقع ہوئی؟ دوسری یہ بات کہ روزہ کس کس حالت میں درست نہیں رہتا؟
الجواب :کھٹّی ڈکار سے روزہ نہیں جاتا ، یہ کسی کتاب میں نہیں لکھا۔ روزہ تین باتوں سے جاتا ہے (۱)جماع اگر چہ انزال نہ ہو، اور (۲) مس جبکہ انزال ہو، اور (۳) باہرسے کوئی چیز جوف میں اس طرح داخل ہو کہ باہر اُس کا علاقہ نہ رہے مثلاً ڈورے میں بوٹی باندھ کر نگل لی اور ڈور باہر ہے تو اگر اسے نکال لے گا روزہ نہ جائے گا اور اگر ڈور باہر نہ رہی یا نکالنے میں بوٹی یاا س کا کچھ حصہ جو ف میں رہ گیا تو روز ہ جاتا رہا ،
کل ذٰلک منصوص علیہ فی الدرالمختار ۱؎وغیرہ من الاسفار۔واﷲتعالٰی اعلم۔
اس تمام پر درمختار اور دیگر کتب میں تصریح ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ درمختار باب مایفسد الصوم مجتبائی دہلی ۱ /۱۵۰)
مسئلہ۲۲۴: مرسلہ قاری عبدالنبی طالب علم ۲رجب المرجب ۱۳۳۳ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ روزہ دار کو فصد کھلوانا اور سوزاک میں پچکاری لگوانا جائز ہے یا نہیں؟ اور فصد یا پچکاری لگوایا تو روزہ باطل ہوجائے گا یا نہیں ؟
الجواب:فصد سے روزہ نہ جائے گا، ہاں ضعف کے خیال سے بچے تو مناسب، اور پچکاری سے مرد کا روزہ نہ جائے گا عورت کا جاتا رہے گا۔واﷲتعالٰی اعلم