مسئلہ ۲۱۷تا۲۱۹: از علی گڑھ بوساطت رحیم اﷲخاں ۲۵ رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں:
(۱)رمضان میں عورت کوئی دوا خشک اپنے جسم میں رکھے تو روزے میں کچھ فساد آئے گایا نہیں؟
(۲)عورت بتّی کسی دوا کی یا انگلی سے دوا اپنے جسم میں داخل کرے، یا مرد انگلی کرے توروزہ ٹوٹے گا یا نہیں؟
(۳)عورت کو لپٹا یا یا خیال باندھا ، کچھ دیر بعد جس وقت کہ خواہش بالکل نہ رہی بُوندیں خارج ہوچکی ہیں، پیشاب کوجاتے وقت بعد پیشاب کے کچھ گاڑھا پانی سفید نکلے جس کی شکل منی کی سی ہو تو اس کو منی کہا جائے گا یا نہی؟ اور روزہ اس سے ٹوٹے گا یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)اگر روزے کی حالت میں یعنی طلوعِ صبح صادق سے غروبِ شمس تک رمضان خواہ غیر رمضان میں دوا خشک یا تر خواہ کوئی چیز فرج میں اس طرح رکھی گئی کہ فرج داخل کے اندر بالکل غائب کردی توروزہ جاتارہا، اور اگر مثلاً دواکسی کپڑے میں باندھ کر فرج میں اس طرح رکھی کہ کپڑے کا سِرافرج داخل سے باہر رہا اگر چہ فرج خارج میں غائب ہوجائے تو روزہ نہ جائے گا جب تک دوا کاکوئی حصہ کپڑے سے چھین کر فرج داخل کے اندر نہ گرے یا دوا ایسی تر ہوکہ کپڑے میں ٹپک کر فرج داخل میں لگے یا حرکت کے سبب کپڑا چڑھ جائے کہ بالکل فرج داخل کے اندر غائب ہوجائے، ان صورتوں میں روزہ جاتارہے گا۔
فی تنویر الابصار والدرالمختار (ادخل عودا) ونحوہ(فی مقعدتہ وطرفہ خارج) وان غیبہ فسد وکذالوابتلع خشبۃ اوخیطا ولوفیہ لقمۃ مربوطۃ الاان ینفصل منھا شئی ومفادہ ان استقرارالداخل فی الجوف شرط للفساد،بدائع،ولوادخلت قطنۃ ان غابت فسد وان بقی طرفھا فی فرجھا الخارج لا(لم یفطر)اھ۱؎ملتقطا
تنویرالابصار اور درمختار میں ہے: کسی نے عود(کی لکڑی وغیرہ کو) دبر میں اس طرح داخل کیا کہ ایک کنارہ اس کا باہر ہوتو روزہ نہیں ٹوٹتا، اور اگر سب اندر چڑھالے تو ٹوٹ جائے گا اور یہی حکم ہے اس کا جو کوئی لکڑی نگل لے یا دھاگہ اگر چہ اس میں لقمہ بندھا ہُوا ہو مگر اس صورت میں کہ جب لقمہ سے کچھ جُدا ہوکر اندر رہ جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا، اس کا حاصل یہ ہے کہ پیٹ میں داخل ہونے والی چیز کا وہاں (پیٹ میں)استقرار(ٹھہرنا)فساد کے لیے شرط ہے بدائع،اگر عورت نے رُوئی داخل کی جو غائب ہوگئی تو روزہ فاسد ہوجائیگا، اور اگر اس کی کوئی طرف فرج خارج میں نکلی ہُوئی رہی تو روزہ فاسدد نہ ہوگا(یعنی روزہ نہیں ٹوٹے گا)اھ اختصاراً۔
(۱؎ درمختار باب مایفسد الصوم مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۹)
وفی ردالمحتار مادخل فی الجوف ان غاب فیہ فسد وھو المراد بالاستقرار وان لم یغب بل بقی طرف منہ فی الخارج اوکان متصلا بشئی خارج لایفسد لعدم استقرارہ۲؎ ۔واﷲتعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے کہ جو کچھ جوف میں داخل ہُوا اگر وُہ غائب ہوگیا تو روزہ فاسد ہوجائے گا، اور استقرار سے یہی مراد ہے اور اگر غائب نہ ہو بلکہ اس کی کوئی جانب خارج باقی رہ گئی یا خارج شئی سے متصل رہی تو عدِم استقرار کی وجہ سے روزہ فاسد نہ ہوگا، واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ردالمحتار باب مایفسد الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۱۰۷)
(۲)بتّی اور دوا کا حکم مسئلہ سابقہ میں گزرا ، اور انگلی فرج میں داخل کرنے سے عورت کا روزہ صرف چار صورت میں فاسد ہوگا: ایک یہ کہ انگلی داخل کرنے سے اُسی حالت میں کہ انگلی فرج کو مَس کررہی ہے عورت کو انزال ہوجائے
لو جود معنی الفطر وھو الامناء عن مباشرۃ۳؎ کما فی الھدایۃ وغیرھا
(اس صورت میں معنی افطار پایا گیا اور وُہ مباشرت کی وجہ سے منی کا خروج ہے، ہدایہ وغیرہ۔ت)
(۳؎ ردالمحتار باب مایفسد الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۱۰۹)
دوسرے یہ کہ انگلی پانی یا روغن کی مانند کسی شے سے ایسی تر ہو کہ اُس کی تری چُھوٹ کر فرج داخل میں لگے۔ تیسرے یہ کہ خشک انگلی داخل کی وُہ فرج کی رطوبت سے ایسی تر ہوگئی کہ اب اس سے چھوٹ کر دوسری چیز میں لگے،بعدہ انگلی باہر کرکے ایسی ہی تری کی حالت میں پھراندر کی کہ تری چُھوٹ کر فرج داخل میں لگی۔ چوتھے یہ کہ انگلی کٹی ہوئی جسم سے جُدا تھی وہ فرج داخل کے اندر غائب کردی گئی کہ سراباہر نہ رہا ، یہ احکام بھی اُسی مسئلہ سے ظاہر ہیں ان میں برابر ہے خواہ انگلی مرد کی ہو یا عورت خود اپنی انگلی داخل کرے اگر چہ بدن صاف کرنے کو۔
اگر کسی نے انگلی دُبر میں دی یا عورت نے اپنی فرج میں داخل کی توروزہ نہیں ٹوٹے گا، اور اگر انگلی تر تھی تو روزہ ٹوٹ جائے گا اھ اختصاراً(ت)
( ۱؎ درمختار باب مایفسد الصوم مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۹)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ ولو مبتلۃ فسد لبقاء شئی من البلۃ فی الداخل۔۲؎قولہ
اگر(انگلی) تر ہُوئی تو ٹوٹ جائے گا، یہ اس لیے ہے کہ اس صورت میں داخل دبر وفرج میں کچھ تری باقی رہ جائے گی۔(ت)
(۲ ردالمحتار ،باب مایفسد الصوم،مصطفی البابی مصر ، ۲ /۱۰۸)
حاشیہ طحطاوی میں ہے:
ظاہر کلامہ یقتضی ان الذی ادخل فی فرجھا الرجل والحکم واحد۔۳؎
ظاہر کلام کا تقاضا یہ ہے کہ فرجِ عورت میں انگلی داخل کرنے والامرد ہو، حالانکہ (دونوں صورتوں میں خواہ مرد ہویا عورت)حکم ایک ہے(ت)
(۳؎ حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار باب مایفسد الصوم دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۴۵۱)
فتح القدیر میں ہے:
لو ادخل الاصبح فی دبرہ اوفرجھا الداخل لایفسد الصوم الاان تکون مبلولۃ بماء اودھن علی المختار وقیل یجب علیہ القضاء والغسل۔۴؎
اگر کسی نے مرد کی دبر یا عورت کی فرج داخل میں انگلی داخل کی تو مختار قول پر روزہ فاسد نہ ہوگا مگر اس صورت کہ جب وُہ پانی یا تیل کے ساتھ تر ہو۔ بعض نے کہا ہے کہ ایسی صورت میں روزہ کی قضاء اور غسل لازم ہوجائے گا۔(ت)
(۴؎ فتح القدیر باب مایوجب القضاء والکفارۃ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۲۶۷)
تنبیہ: فتح القدیرومراقی الفلاح وفتاوٰی ظہیریہ وفتاوٰی ہندیہ وغیرہا عامہ کتب میں جو انگلی کی تری میں آب و روغن کا ذکر ہے محض تمثیل وتصویر ہے، نہ تخصیص وتقییدکہ اگر دودھ یا گھی لعاب دہن میں تر ہو جب بھی بِداہۃًحکم یہی ہے کہ مدارصرف کسی تری کا خارج سے جوف میں جاکر رہ جانا ہے
کما افادہ فی ردالمحتار
(جیسا کہ ردالمحتار میں بیان ہُوا۔ت) ولہذا درمختار میں مطلق مبتلۃ(تر ہوئی۔ت)فرمایا، اور شک نہیں کہ فرج کی رطوبت جب انگلی سے لگ کر باہر آئی اب وُہ بھی رطوبتِ خارجہ ہوگئی، اب دوبارہ جو باہر سے جاکر فرج داخل کے اندر رہ جائے گی ضرور فسادِ صوم لائے گی جس طرح لعابِ دہن اگر قبل خروج اُسے نگل جائے روزہ میں خلل نہیں، اور اگر دہن سے جُدا کردینے کے بعد کھائے گا روزہ جائے گا
کمافی ردالمحتار عن البدائع ومثلہ فی کثیر من الکتب
(جیسا کہ بدائع سے ردالمحتار میں اور اسی طرح اکثر کتب میں ہے۔ت)
رہا علماء کا فرمانا کہ اگر کان سے میل نکالا اور میل لگی ہوئی سلائی دوبارہ سہ بارہ کان میں کی تو بالاجماع روزہ نہ جائے گا۔
بزازیہ ونورالایضاح ودرمختار وغیرہا میں ہے:
واللفظ للوجیز، اجمعواانہ لو حک اذنہ بعود فاخرج العودوعلٰی راسہ درن ثم ادخلہ ثانیا وثالثاکذٰلک انہ لایفسد۔۱؎
وجیز کی عبارت یہ ہے فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر کسی نے عود(لکڑی) کے ساتھ اپنا کان کُھرچاپھر لکڑی جب باہر نکالی تو اس کے سرے پر میل تھی اب اسی لکڑی کو دوبارہ یا سہ بارہ اسی طرح(کان میں) داخل کیا تور وزہ فاسد نہ ہوگا۔(ت)
( ۱؎ فتاوٰی بزازیہ علی حاشیہ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصوم نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۹۸)
وہ اس مسئلہ سے جُدا ہے وہاں روزہ نہ ٹوٹنے کی وجہ یہ ہے کہ کان کریدنے میں سلائی دماغ تک نہیں جاتی تو میل جوف میں داخل نہ ہُوا بخلاف یہاں کے کہ فرج داخل خود جوف ہے۔مراقی الفلاح میں ہے:
حک اذنہ بعودفخرج علیہ درن ممافی الصماخ ثم ادخلہ ای العود مراراالی اذنہ لایفسد صومہ بالاجماع، کما فی البزازیۃ جلعدم وصول المفطر الی الدماغ ۲؎، واﷲتعالٰی اعلم۔
اگر کان کو لکڑی کے ساتھ کُھر چا پھر جب لکڑی واپس نکالی تو اس پر کان کے اندر سے میل آئی پھر ا س لکڑی کو کئی دفعہ کان میں داخل کیا تو بالاتفاق روزہ فاسد نہ ہوگا،جیسا کہ بزازیہ میں ہے کیونکہ کوئی چیز روزہ توڑنے والی دماغ تک نہیں پہنچی۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ مراقی الفلاح معہ حاشیہ طحطاوی باب فی مالایفسد الصوم،نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی، ص۳۶۲)
(۳) منی اپنی رنگت اور بُو اور قوام وغیرہا کے باعث اور پانیوں سے ممتازہوجاتی ہے بہر حال صورت مستفسرہ میں جو کچھ نکلا اگر چہ منی ہی ہوجبکہ بالکل شہوت ساکن ہوجانے کے بعد بلاشہوت بعد پیشاب نکلا تو اس سے نہ غسل واجب ہونہ روزے میں کچھ خلل آیا اور مجرد خیال باندھنے سے تو روزہ اصلاً نہیں جاتا اگر چہ اسی حالت تصوّر ہی میں شہوت کے ساتھ انزال ہوجائے، ہاں لپٹانے یا بوسہ لینے یا ہاتھ لگانے کی حالت میں اگر انزال ہوتو روزہ فاسد ہوکر قضا لازم آئے گی اور ان افعال کے ختم کے بعد شہوت ہنوز باقی رہی اور اس حالت میں کہ یہ عورت کے جسم سے جدا ہے منی اُتری اور بشہوت نکل گئی تو اگر چہ غسل واجب ہوگامگر روزہ نہ جائے گا کہ یہ انزال اُن افعال سے نہ ہوا بلکہ مجرد تصوّرہُوا،
فی الدرالمختار انزل بفکر وان طال او نزع المجامع حال کونہ ناسیافی الحال عند ذکرہ وکذاعند طلوع الفجر وان امنی بعد النزع لانہ کالاحتلام لم یفطراھ۱؎ملتقطا وبہ یعلم ماذکرنا بالاولی کما لایخفی۔واﷲتعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ اگر سوچنے سے انزال ہوگیا اگر چہ وُہ سوچ طویل تھی یا نسیاناً جماع شروع کیا تھا، روزہ یاد آنے پر فوراً چھوڑ دیا، اسی طرح حکم ہے اگر اس نے طلوعِ فجر ہوتے ہی جماع چھوڑ دیا، اگر چھوڑنے کے بعد منی کا خروج ہوااس سے روزہ فاسد نہ ہوگا کیونکہ یہ احتلام کی طرح ہے اھ مختصراً۔ اس سے زیرِ بحث مسئلہ کا حکم بطریق اولٰی معلوم ہوگیا جو نہایت ہی واضح ہے، واﷲتعالٰی اعلم(ت)
( ۱؎درمختار باب مایفسد الصوم مجتبائی دہلی ۱ /۵۰-۱۴۹)