پھر بھی یہ اسی قبیل سے تجربہ ہے، یا حساب جس پرشرع میں اعتماد نہیں۔ مثلاً ربیع الآخر سے رجب تک چار مہینے ۲۹ کے ہوتے آئے، اب شعبان کی ۲۹کو شہادت رؤیت گزری، بلاشُبہ مقبول ہوگی، اور یہ خیال نہ کریں گے کہ ۵برابر۲۹ کے ہوئے جاتے ہیں۔
(م) قمر ۱۶: ان امور میں خط کا اعتبار اجس طرح عوام میں رائج محض مردود ہے اگر چہ مہر شدہ ہواور کاتب ثقہ اور خط معروف۔
(ش) ۱۶/۲۹ :جاہل لوگوں بلکہ بعض اُن مدعیان علم میں بھی جو بزعمِ خود فقیہ العصر وحیدالدہر ہوں، اعتماد خط کا عجیب جوش ہے۔ اپنے کسی معتمد کا خط آگیا اور شہادت شرعی میں کچھ باقی نہ رہا، گویا خط کا ہے کو ہے۔ خاص فلکِ قمر سے ان پر تفسیر ہلالین نازل ہُوئی، پھر کورے جُہّال کا توکہنا ہی کیا ہے، وہاں خط سے گزر کر تاریخ خط سے استناد ہوتا ہے، حالانکہ علماء فرماتے ہیں خط پر اعتماد نہیں، نہ اس پر عمل ہوکہ خط خط کے مشابہ ہوتاہے اور مُہر مُہر کے مثل ہوسکتی ہے۔
المقرر عند علماء الحنفیۃ انہ لا اعتبار بمجرد الخط والالتفات الیہ خ۱؎
(خیریہ) علمائے احناف کے ہاں یہ مسلّم ہے کہ محض خط قابل توجّہ نہیں، خیریہ۔
(۱؎فتاوٰی خیریۃ کتاب الادب القاضی دارالمعرفۃ بیروت۔ ۲ /۱۲)
الخط لایعتمد علیہ ولا یعمل بہ خ۲؎۔
خط پر نہ تو اعتماد کیا جائے نہ ہی عمل، خیریہ۔
(۲؎ فتاوٰی خیریۃ باب خلل المحاضر والسجلات دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۱۹)
لیس الموجودفیہ سوی خط فی ورق لیس من حجج الشرع فی شئی خ عہ ۱ ۳؎
اس میں ایک ورق پر خط کے علاوہ کچھ نہیں جوکوئی شرعی دلیل نہیں، خیریہ۔
(۳؎ فتاوٰی خیریۃ باب خلل المحاضر والسجلات ۲ /۲۴)
مجرد الخط علامۃ لا تبنٰی علیھا الاحکام خ۴؎۔ صرّح علماؤنابعدم الاعتماد علی الخط وعدم العمل بہ خ۵؎۔ملخصا، العبرۃ لما تقوم البینۃالشرعیۃ علیہ لالما یوجد من الخطوط والکواغذ خ۶؎۔انما ھو کاغذ بہ خط وھو لا یعتمد علیہ ولایعمل بہ کما صرّح بہ کثیر من علمائناخ۷؎۔
محض خط علامت ہے اس پر احکام کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی خیریہ۔ ہمارے علماء نے تصریح کی ہے کہ خط پر اعتماد اورعمل نہیں کیا جاسکتاخیریہ ملخصاً۔ اعتبار اس کا ہے جس پر شرعی گواہی ہو، نہ کہ خطوط اورکا غذ موجود ہونے پر ،خیریہ ۔کیونکہ وہ کاغذ ہی ہے جس پر تحریر ہے اور اس پر نہ اعتماد کیا جاسکتا ہے اور نہ عمل، جیسا کہ ہمارے اکثر علماء نے تصریح کی ہے خیریہ۔
(۴؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۱۹)
(۵؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۱۸)
(۶؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۰۰)
(۷؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۰۳)
مجرد خط لا یعتمد علیہ ولایعمل لہ شرعا خ عہ ۲ ۸؎۔لیس الورق والخط من حجج الشرع خ۹؎۔
شرعی طور پر خط پر نہ اعتماد کیا جا سکتا ہے نہ عمل خیریہ۔ کاغذ اور خط دلائلِ شرعی سے نہیں خیریہ۔
(۸؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالمرفۃ بیروت ۱ /۲۰۹)
(۹؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب البیوع دارالمرفۃ بیروت ۱ /۲۲۸)
من کتاب البیوع لا یعتمد علی الخط ولا یعمل بہ ولاشک ان الخط اعم من ان یکون بالقلم اوبالطابع الذی ھو الختم خ ملخصاً۱؎۔
کتاب البیوع میں ہے کہ خط پر نہ اعتماد کیا جاسکتا ہے نہ عمل، اور اس میں شک نہیں کہ خط سے مراد عام ہے خواہ وہ قلم سے تحریر کیا ہُوا ہو یا اس پر مُہر مطبوع ہو خیریہ ملخصاً(ت)
(۱؎فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۵۱)
ان کے سوابے اعتبارئ خط پندرہ کتابوں کی عبارتیں فقیر نے فتوی تار مندرجہ رسالہ از کی الاہلال میں ذکر کیں وباللہ التوفیق ۔
تنبیہ: خط بعض صورتوں میں مقبول ہوتا ہے ،کتاب القاضی الی القاضی یعنی حا کم شرع کو خط لکھے تو بشرائط کثیرہ حجتِ ملزمہ ہے
(ح) ۱۶/۲۹: عہ ۱ :الثلثۃ من کتاب الدعوی کالاخیرۃ۱۲
آخری کی طرح یہ تینوں بھی کتاب الدعوٰی سے ہیں ۱۲(ت)
(م) قمر۱۷:تار محض نمبر۳۰مہمل اور ناقابلِ التفات اگر چہ متعدد شہروں سے وارد ہو ۔
(ش)۱۷/۳۰ :فقیر غفر اﷲتعالٰی لہ نے اس بارے میں ایک مفصل فتوٰی لکھا اور علمائے بدایوں و رام پور و حیدر آباد و دہلی نے مُہریں کیں، وُہ فتوٰی آخر رسالہ ازکی الاہلال میں مذکور ہُوا، اور ہم ان شاء اﷲبحثِ استفاضہ میں یہ بھی ظاہر کریں گے کہ تار جیسا ایک جگہ ویسا ہی دس بیس مقام کا، سب نامعتبر ہیں، یعنی اگر کسی شہرمیں متعدد تار مختلف امصار سے آئیں تو ان کی بھی کچھ وقعت نہ ہوگی کہ کثرتِ تار شرعی تواتر واشتہار سے اصلاً علاقہ نہیں۔
(م) قمر ۱۸نمبر۳۱: بازاری افواہ اصلاً کوئی چیز نہیں۔
(ش) ۱۸ /۳۱: اکثر دیکھا گیا ہے کہ خبر رؤیت میں شہر میں شہرہ اور عام عوام کی زبان پر چاند چاند کا چرچا ہوگیا، پھر تحقیق کیجئے تو کچھ اصل نہ تھی۔ اسے افواہ کہتے ہیں۔ شرع جس تواتر و شہرت کو قبول فرماتی ہے وہ اور چیز ہے۔
(م)قمر۱۹نمبر۳۲:مجرد حکایت محض نامسموع۔
(ش)۱۹/۳۲: گواہوں کا مجرد بیان کہ فلاں شہر میں چاند ہُوا، یا فلاں فلاں نے چاند دیکھا، یا فلاں روز سے روزہ رکھا۔ مجرد حکایت ہے جس پر اصلاً التفات نہیں، بلکہ یا توا پنے معائنہ کی شہادت ہو، یا شہادت پر شہادت، یا شرعی شہرت۔یہ مسئلہ بہت ضروری الحفظ ہے۔ یہ صرف عوام بلکہ آج کل کے بہت مدعیانِ علم، بلکہ بعض ذی علم بھی ناواقف پائے،
واﷲ الھادی ھذہ الجماعۃ لم یشھد وابالرؤیۃ ولا علٰی شہادۃ غیرھم وانما حکوابالرؤیۃ غیرھم فلا یلتفت الٰی قولھم۱؎خز، وقد نص علی المسئلۃ فی دط طم ش فت ع ب وغیرہا کما ذکرنا بعض نصوصھا فی ازکی الاھلال۔
او ر اﷲ ہی ہدایت عطا فرمانے والاہے، اس جماعت نے چاند دیکھنے کی گواہی نہیں دی اور نہ ہی دُوسروں کی گواہی پر گواہی دی ہے انہوں نے صرف دُوسروں کی رؤیت کی حکایت کی ہے لہذا ان کا قول قابل توجہ نہیں ہوگا، خزانۃ۔ اور اس مسئلہ پر در، طحاوی، طم، ش، فتح القدیر، ع، ب وغیرہ نے تصریح کی ہے۔ جیسا کہ ان میں سے بعض کو ہم نے ازکی الاھلال میں ذکر کردیا ہے(ت)
( ۱؎ ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۱۰۲) (فتح القدیر کتاب الصوم نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۲۴۳)
(ش) ۲۰/۳۳:اقول یہ ایک نفیس مسئلہ ہے جس پر فقیر غفرا ﷲتعالٰی لہ نے تنبیہ کی، یقین دو۲ طرح کا ہوتا ہے: ایک شرعی کہ طریقہ شرع سے حاصل ہو۔ دوسرا عرفی کہ باوجود عدم طریقہ شرعی صرف اپنے مقبولات ومسلّمات یا تجربیات، مشہورات اور قرائن خارجیہ کے لحاظ سے اطمینان حاصل ہوجائے۔ ناواقف لوگ مدرک عرفی و شرعی میں تفرقہ نہ جان کر اسے کافی ووافی ودلیل شرعی گمان کرتے ہیں حالانکہ یہ صریح خطاہے،مثلا جہاں شرع مطہر نے شہادت میں عدد شرط کیا دو۲ مردیا ایک مرد دوعورتیں ہوں، وہاں ہمارے اعظم کسی معتمد اجل مستند نے جسے افضل اولیاء عالم جانیں، اور وُہ واقع میں بھی غوثِ زمانہ ہی ہو۔ شہادت دی کہ میرے سامنے ایسا ہُوا اور میں نے بچشمِ خوددیکھا، ہمیں جو اعتبار اس کے فرمانے پر آئے گا ہرگز دوچاردس بیس کی بات پر بھی اس سے زیادہ نہ ہوگامگر شرع دوسرا گواہ اورمانگے گی، اور معاملہ زنا میں تین۔ تواگر ایسے ہی تین گواہی دیں جب بھی نامسموع کہ قرآن کریم نے
بِاَرْبَعَۃِ شُھَدَآَ۲؎
فرمایا،
(۲؎ القرآن ۲۴ /۴)
اگر چہ اس میں شک نہیں کہ سامع مطلع کو ان کے ارشاد میں اصلاً محلِ شک نہ ہوگا۔ اسی طرح ہزاروں نظیریں اس مسئلہ کی ہوں گی اور پھر قرائن بے چارے کس گنتی شمارمیں ہیں۔ ذی علم کو بارہا واقع ہوتا ہے کہ بہت امور خارجہ کے لحاط سے چاند ہونے میں اطمینان کامل رکھتا ہے، مگر جب تک ثبوت شرعی نہ ہو ہرگز حکمِ رؤیت نہیں کرتا۔ یُوں ہی جب ثبو ت میزانِ شرع پر ٹھیک اُترے گا مجبوراًحکمِ رؤیت کرے گا، اگر چہ بنظر امور دیگر کسی طرح ہلال کا ہونا دل پر نہ جمے۔ ایسی ہی جگہ عالم و جاہل کا فرق کھلتا ہے، جب قرائن اس کے خلاف ظاہر ہوتے ہیں جہال حکم عالم پر اعتراض کرنے لگتے ہیں ،حالانکہ وُہ جانتا ہے کہ جومیں نے کیا وہی رائے صائب تھی اور مجھ پر بہر حال مدرک شرعی کی پابندی واجب اس امر کی طرف اشارہ زیر یا زدہم بھی گزرا، اور ان یقینوں کی زیادہ توضیح رسالہ ازکی الاھلال میں مذکورہُوئی،
(ف:فتح الباری میں امام سراء کی بجائے امام بزار سے یہ عبارت منقول ہے۔) لاینقصان جمیعا فی سنۃ واحدۃ ٍ۳؎
(ایک سال میں عید کے دو۲ ماہ جمع نہیں ہوتے کہ دونوں ہی ناقص ہوں۔ت)
(۳؎فتح الباری شرح صحیح بخاری کتاب الصوم دارالمعرفہ بیروت ۴ /۱۰۷)
امام احمد بن حنبل رحمہ اﷲتعالٰی نے فرمایا:
ان نقص رمضان تم ذوالحجۃ وان نقص ذوالحجۃ تم رمضان۴؎۔
رمضان ۲۹ کاہوگا تو ذوالحجہ ۳۰ کا،اور ذوالحجہ ۲۹ کا ہوگا رمضان ۳۰کا۔(ت)
(۴؎صحیح البخاری کتاب الصوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۶)
اور اس معنی کی مؤیّد وُہ حدیث ہے جو بطریق زید بن عقبہ حضرت سمر ہ بن جندب رضی اﷲتعالٰی عنہ سے مروی کہ شھر اعید لایکونان ثمانیۃ وخمسین یوما۱؎عیدکے دونوں مہینے ۵۸ دن کے نہیں ہوتے۔
(۱؎ فتح الباری شرح صحیح البخاری کتاب الصوم دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۱۰۷)
باایں ہمہ محققین کے نزدیک اس سے اکثری اغلبی حکم مراد ہے۔ نہ کہ دائمی ابدی۔ امام طحاوی رحمۃاﷲتعالٰی علیہ فرماتے ہیں:
قد وجدناھما ینقصان فی اعوام
ہم نے برسوں دیکھا کہ یہ دونوں مہینے سال میں ۲۹ کے ہوئے ۔
(۲؎ شرح معانی الآثار کتاب الصیام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۸۱)
اقول: معہذا حدیث اول کے تو عمدہ معانی علماء نے بیان فرمائے ، اور تحقیق روشن یہی ہے کہ اس کاثواب نہیں گھٹتا اگرچہ گنتی میں پُورے ہوں،اور حدیث دوم کی صحت معلوم نہیں، اگر صحیح ہوتو بعض رواۃ سے اپنی فہم کی بناء پر نقل بالمعنی محتمل، واﷲتعالٰی اعلم، بالجملہ غرض یہ ہے کہ ایسے تجریبات کا دائمی ہونا ضرور نہیں، اور دائمی ہوں بھی تو احکامِ شرع کا اُن پر مدار نہیں۔
واﷲتعالٰی اعلم، واﷲ الھادی وصلی اﷲتعالٰی علٰی سید المرسلین محمد واٰلہٖ وصحبہٖ اجمعین ط