Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
108 - 198
تنبیہ: اقول :  وباﷲالتوفیق  بے شک اِس شہادت پر عمل میں معاذاﷲ حدیث کی کچھ مخالفت نہیں،بلکہ عین حکمِ حدیث پر چلنا ہے۔ حضور اقدس سیّد عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وقتِ عشاء دیکھ کر نماز شروع فرماتے، وہ اس اکثری امر کے سبب غالباً اس وقت سے موافق پڑتی، یا یُوں سہی کہ زمانہ اقدس میں ہمیشہ ہی مطابق آئی، اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ حضور نے ایک وقت بھی اِس غروبِ قمر پر وقتِ نماز کی بنارکھی ہو نہ کہ اُسے ابدی غیر ممکن الخلف جانتے نہ کہ اس کے سبب امر صوم میں شہادتِ شرعیہ جسے شرع نے مثلِ رؤیت عین قرار دیا روکی جائے۔
سئل فیما غاب الہلال باللیلۃ الثالثۃ قبل دخول وقت العشاء ھل یعمل بالشھادۃ ام لا،اجاب،المعمول بہ ما شھدت البینۃ لان الشہادۃ نزلھا الشارع منزلۃ الیقین ولیس فی العمل بالبینۃ مخالفۃ لصلٰوتہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم۲؎(ش)عن فتاوی العلامۃ الشھاب الرملی الکبیر الشافعی ملخصا وھذاواضح جدّاعہ وﷲ الحمد۱۲۔
سوال کیا گیا کہ جب تیسری رات کا چاند دخولِ وقتِ عشا سے پہلے غائب ہوجائے تو کیا شہادت پر عمل کیا جائے گا یا نہیں؟ تو جواب یہ دیا کہ اس پر عمل کیا جائیگا جس پر گواہی ہُوئی کیونکہ گواہی کو شارع علیہ الصلٰوۃ والسلام نے یقین کا مقام قرار دیا ہے اور گواہوں پر عمل کرنا حضورصلی اﷲعلیہ وسلم کی نماز کے مخالف نہیں یہ شامی نے علامہ شہاب رملی الکبیر الشافعی کے فتاوٰی سے ملخصاً نقل کیا ہے اور یہ نہایت ہی واضح ہے، حمد اﷲکے لیے ہے۱۲(ت)
 (۲؎ ردالمحتار         کتاب الصوم     مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۰۰)
 (ح) ۹/۲۳: عہ  اقول وبتقریرنا ھذا ظھر بحمد اﷲ انہ لاحاجۃ الی ماتجشمہ الفاضل عبدالحی اللکھنوی فی القول المنشور مجیبا عن ھذاالاشکال انہ لیس فی الحدیث ما یدل علی الدوام فقد یکون ھکذاولا تغتربقولہ''کان'' فانہ لایدل علی الاستمرارکما بسطہ النووی فی شرح صحیح مسلم فی ابواب النوافل فتشکر انتھی،فقد علمت ان لااشکال بالحدیث اصلا ولو''کان'' للد وام دواماً علی ان ھذہ المسئلۃ کثیرۃ الخلاف وقد عقدنالبیانھا رسالتنا''التاج المکلل فی انارۃ مدلول کان یفعل'' فبناء التفصی علی امر مختلف فیہ مع عدم الحاجۃ الیہ مما لا معول علیہ۱۲
اقول: بحمد اﷲ ہماری اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ اس کی ضرورت نہیں جو فاضل عبدالحی لکھنو نے القول المنشور میں اس اشکال کے جواب میں کہا کہ حدیث میں کوئی ایسی شئی نہیں جو دوام پر دال ہو، ہاں کبھی ایسا ہوجاتا تھا اور لفظِ ''کان''سے بھی ضابطہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ دوام واستمرار پر دال نہیں ہوتا جیسا کہ شرح صحیح مسلم کے ابواب النوافل میں امام نووی نے اس پر تفصیلاً گفتگو کی ہے۔ پس اﷲ کا شکر ادا کرو انتہی یقینا آپنے جان لیا کہ حدیث کے ساتھ یہاں کوئی اشکال ہی نہیں اگر چہ کانَ ہمیشہ دوام پر دال ہو، علاوہ ازیں اس مسئلہ میں بہت زیادہ اختلاف ہے۔ ہم نے اس کے لیے ایک رسالہ لکھا جس کانام''التاج المکلل فی انارۃ مدلول کان یفعل'' رکھا ہے، لہذا چھٹکارے کے لئے ایسے معاملہ پر بنیاد رکھنا جو مختلف فیہ ہو اور ضرورت بھی نہ ہو قابلِ اعتماد نہیں ہے ۱۲(ت)

(م)قمر۱۰: چودھویں کا سُورج ڈوبنے سے پہلے نکلتا ہے قمر ۱۱ پندرھویں کا بیٹھ کر، یہ دونوں بھی نا معتبر ہیں۔
 (ش) ۱۰-۱۱/۲۴: حاکم شرع یا عالمِ دین نے شہادتِ شرعیہ لے کر شعبان کا مہینہ ۲۹ کا ٹھہرا یا اور کل بروز جمعہ رمضان کا حکم دیا، اب اس حساب سے شبِ جمعہ ۱۵ کو چاند غروب سے پہلے نکلا، تو بہت جاہل اعتراض کرینگے کہ وُہ حکم غلط تھا بلکہ ۳۰ کا چاند ہوا، اور ہفتہ کی پہلی، جب تو آج چاند بیٹھ کر نہ چمکا، یا حاکم و عالم نے گواہی ناکافی سمجھ کر شعبان کی گنتی ۳۰ پُوری کی، شنبہ سے یکم رمضان رکھی۔شبِ جمعہ میں چاند بیٹھ کر نکلا، جاہل لوگ کہیں گے کیوں صاحب!ہفتہ کی پہلی سے توآج شبِ بدر ہوتی ہے یہ چاند بیٹھ کر کیوں نکلا، ضرور جمعہ کی پہلی تھی اور آج پندرھویں، یہ اور اس قسم کے سب خیالات محض مہمل و بیہودہ ہیں جن پر اصلاً مدارِ احکام نہیں، نہ حاکم وعالم پر شرع یہ لازم فرمائے کہ عند اﷲ جو بات نفس الامر میں ہے اس پر مطلع ہوجائیں کہ یہ تکلیف مالا یطاق ہے، بلکہ شرع ان پر یہی فرض کرتی ہے کہ دلیل شرعی سے جو بات ثابت ہو اس پر عمل کرو۔ عام ازیں کہ عند اﷲکچھ ہو ،
خود حضوراقدس عالم ماکان و مایکون صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
انکم تختصمون الی ولعل بعضکم ان یکون الحن بحجتہ من بعض فاقضی بنحو مما اسمع فمن قضیت لہ من حق اخیہ شیأفلا یا خذہ فانما اقطع لہ قطعۃ من نار۔۱؎رواہ احمد والستۃ عن ام المومنین ام سلمۃ رضی اﷲتعالٰی عنھا۔
تم میرے حضور اپنے مقدمات پیش کرتے ہو اور شاید تم پر ایک دوسرے سے زیادہ اپنی حجّت بیان کرنے میں تیز زبان ہوتو میں جو سنوں اس پر حکم فرمادُوں پس جس کے لیے میں اُس کے بھائی کے حق سے کچھ حکم کروں وُہ اسے نہ لے کہ یہ تو ایک آگ کا ٹکڑا ہے اس کے لیے قطع کرتا ہوں( اسے امام احمد وائمہ ستّہ نے ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲتعالٰی عنھا سے روایت کیا ہے۔ت)
 (۱؎صحیح بخاری     باب موعظۃ الامام للخصوم    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۱۰۶۲)
علاوہ بریں چاند کا چودھویں کو غروبِ شمس سے پہلے نکلنا اگر چہ اکثر ہے، اور اسی لئے اسے بدر کہتے ہیں مگر، بحساب ہیأت بھی اس کا خلاف ممکن،
کما لایخفی علٰی من یعلمہ
 (جیسا کہ اہلِ علم پر مخفی نہیں۔ت) واﷲتعالٰی اعلم۔

(م) قمر ۱۲: غلط ہے کہ ہمیشہ رجب نمبر۲۵کی چوتھی رمضان کی پہلی ہو۔
(ش)۱۲/۲۵: عوام میں مشہور ہے کہ سال میں جس دن رجب کی چوتھی اسی دن آکر رمضان کی پہلی پڑے گی۔ یہ بات محض بے اصل ہے، اس کا شرعی نہ ہونا تو خود ظاہر، تجربہ بھی خلاف پر شاہد۔ بعض دفعہ رجب کی تیسری اور رمضان کی پہلی مطابق ہوئی ہے۔
ماھو الرابع من رجب لا یلزم ان یکون غرۃ رمضان بل قد یتفق(بز)۲؎
رجب کی چوتھی کا رمضان کی پہلی ہونا لازم نہیں بلکہ بعض دفعہ اتفاقاً ایسا ہوجاتا ہے(بزازیہ) (ت)
 (۲؎ فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش فتاوٰی ہندیۃ         کتاب الصوم نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۹۶)
 (م) قمر ۱۳: رمضان کی پہلی نمبر ۲۶ ذی الحجہ کی دسویں ہونا بھی ضروری نہیں۔

(ش)۱۳/۲۶:کہیں مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کے بعض آثار میں آگیا کہ تمہارے روزہ کا دن وہی تمہاری قربانی کا دن ہے، یہ اُس سال کا ایک واقعی بیان تھا، نہ کہ ہمیشہ کے لیے حکم شرعی ہو۔ بارہایکم رمضان ودہم ذی الحجہ مختلف پڑتی ہیں، مثلاً یکم رمضان جمعہ کی ہو اور رمضان شوال ذیقعدہ تینوں مہینے ۲۹ کے تو عیداضحی چہار شنبہ کی ہوگی اور دو۲۹ کے تو پنجشنبہ کی، اور تینوں تیس۳۰ کے تو شنبہ کی۔ ہاں دو۲ تیس کے اور ایک ۲۹ کا، توبے شک جمعہ کی پڑے گی۔ پھر یونہی ہوناکیا ضرور ہے!
شھر رمضان اذا جاء یوم الخمیس ویوم عرفۃ جاء یوم الخمیس ایضا کان ذٰلک یوم عرفۃ لایوم الضحٰی حتّٰی لا تجوز التضحیۃ فی ھذاالیوم ومایروی ان یوم نحرکم یوم صومکم کان وقع ذلک العام بعینہ دون الابدلان من اوّل یوم رمضان الی غرۃ ذی الحجۃ ثلثۃ اشھر لا یوافق یوم النحر یوم الصوم الا ان یتم شھران من الثلاثہ وینقص الواحد فاذاتمت الشھور الثلاثۃ  تأخر عنہ واذانقصت ا لشہور الثلاثۃ او شھران تقدم علیہ فلا یصح الاعتماد علٰی ھذا۱؎(خذ) عن الفتاوی الکبری۔
جب رمضان المبارک جمعرات کو آیا اور یوم عرفہ بھی جمعرات ہی کو آیا تو اب یہ یومِ عرفہ تو ہوسکتا ہے یوم اضحٰی نہیں ہوسکتا حتی کہ اس دن قربانی جائزنہ ہوگی،اور جو یہ مروی ہے کہ تمہارا یوم نحر تمہارے روزہ کادن ہے یہ ایک معّین سال میں اتفاق ہُوا تھا، نہ کہ دائمی ضابطہ ہے،کیونکہ رمضان کے پہلے دن سے لے کر ذوالحجہ کی ابتداء تک تین ماہ ہیں تو یومِ نحر یومِ صوم کے موافق تب ہی ہوگا جب ان تین ماہ میں سے دو۲ کامل اور ایک ناقص ہو، تو جب تینوں کامل واقع ہُوئے تو یومِ نحر اس سے مؤخر ہوجائے گا، اور اگر تینوں یا دو ناقص واقع ہُوئے تو یومِ نحر اس پر مقدم ہوگا لہذا اس پراعتماد صحیح نہیں۔ یہ فتاوے الکبرٰی کے حوالے سے خزانۃ میں ہے(ت)
 (۱؎خزانۃ المفتین     کتاب الصوم     قلمی نسخہ     ۱ /۶۰)
 (م) قمر ۱۴: اکثری کہ اگلے رمضان کی نمبر۲۷ پانچویں اس رمضان کی پہلی ہوتی ہے، پر شرع میں اس پر اعتماد نہیں۔

(ش)۱۴/۲۷:سیّدنا امام جعفر رضی اﷲتعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ:
خامس رمضان الماضی اوّل رمضان الاٰتی۔۲؎
گزشتہ رمضان کی پانچویں آئندہ رمضان کی پہلی ہے۔(ت)
 (۲؎ الاستبصار کتاب الصوم دارالکتب الاسلامیہ تہران ۲/۷۶ من لایحضرالفقیہ دارالکتب الاسلامیہ تہران ۲ /۷۸)
بعض علماء نے کہا اس کا پچاس برس تک تجربہ ہُوا، ٹھیک اُترا۔ بعض معاصرین نے لکھا، ۱۲برس سے میں بھی تجربہ کرتا اور درست پاتا ہُوں۔

اقول : مگر فقیر نے ۱۲۹۷ھ سے اب تک کے ۹ رمضانوں میں خیال کیا چند ہی سال میں صاف فرق پڑگیا۔ پانچ برس تک تو حساب ٹھیک تھا اور اس قاعدے کے مطابق رمضان ۱۳۰۱ھ کی پنجم روزیکشنبہ آئی مگر۱۳۰۲ھ بحسابِ تقویم یکم اسی دن مظنون تھی، مگر فقیر ۲۹ شعبان روز پنجشنبہ کو دیہات میں تھا کشادہ جنگل، صاف مطلع، ابر، غبار، دُخان کسی علّت کا نام نہ نشان۔ میں اورمیرے ساتھ اور مسلمان ہر چند غور کرتے رہے روّیت نہ ہُوئی، شبِ جمعہ کی خبر بھی نہ آئی، شنبہ کی عید قرار پائی۔ اب ۱۳۰۲ھ کا حساب تقویم اگر غلط بھی مانئے تو مطلع صاف نہ تھا اور بحکمِ ہیأت یکم یکشنبہ بھی ممکن تھی، توتصحیح قاعدہ کو اسی دن یکم رکھئے تو پنجم پنجشنبہ کی ٹھہریگی۔ ۱۳۰۳ھ میں یکم بھی جمعرات کو ہونی چاہئے حالانکہ وُہ بشہادت عین بھی غلط، اور بحکمِ ہیأت بھی ناممکن۔ لاجرم ماننا پڑے گا کہ ۱۳۰۳ھ میں ٹوٹ گیا۔ بااینہمہ اگر دائمہ بھی ہوتو صرف ایک تجربہ ہے، نہ حکمِ شرعی جس پر احکامِ شرعیہ کی بناء ہوسکے۔

(م) قمر۱۵:برابر چار مہینے سے زیادہ ۲۹ کے نہیں ہوتے، پر اس پر بھی مدار نہیں۔
 (ش)۱۵/۲۸: امام قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
قد یقع النقص متوالیا شھرین او ثلٰثۃ ولایقع اکثر من اربعۃ اشھر۔۱؎
دو۲یا  تین ۳ ماہ مسلسل انتیس کے ہوسکتے ہیں، چار ماہ سے زائد ناقص نہیں ہوسکتے۔(ت)
 (۱؎ ارشاد الساری شرح صحیح بخاری    کتاب الصوم    دارالکتاب العربی بیروت    ۳ /۳۵۷)
اسی طرح شرح صحیح مسلم  میں ہے:
لکن مصدرا بلفظۃ قالوا۲؎
 (لیکن اسے لفظ''قالوا''سے تعبیر کیا ہے۔ت)
 (۲؎شرح نووی علی صحیح مسلم           کتاب الصوم    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۴۷)
Flag Counter