(ش)۵/۲۰: بہت لوگ چاند کو بڑا دیکھ کر کہنے لگتے ہیں کہ کل کا ہے یا آج ۲۹ نہ تھی ۳۰ تھی کہ ۲۹ کا چاند اتنا بڑا نہیں ہوتا، یہ اُن کی خام خیالی ہے، شرعی معاملے تو اوپر ہوچکے کہ وہاں قیاسی باتوں کا دخل نہیں اور بطور علم ہیأت ہی چلئے تو اِن شاء ا ﷲتعالٰی فقیر ثابت کرسکتا ہے کہ ۲۹ کاچاند بعض ۳۰ کے چاندوں سے بڑا ہونا ممکن۔اورسب سے بڑھ کر دافع اوہام یہ ہے کہ طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت عبدا ﷲبن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کی کہ حضرت سیّد عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
اقتراب الساعۃ انتفاخ الاھلۃ۔۱؎
قربِ قیامت کا ایک اثر یہ ہے کہ ہلال بڑے نظر آئیں گے۔
(۱؎کنز العمال بحوالہ معجم الکبیر حدیث۳۸۴۶۹ مکتبۃ التراث الاسلامی مصر ۱۴ /۲۲۰)
اور معجم اوسط میں حضرت انس بن مالک رضی اﷲتعالٰی عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی ا ﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
مِن اقتراب الساعۃ ان یری الہلال قبلا فیقال ھو للیلتین۲؎الحدیث۔
قُربِ قیامت کی ایک علامت یہ ہے کہ ہلال سامنے ہی نظر پڑے گا دیکھنے والا کہے گا کہ دو۲ رات کا ہے۔
(۲؎ کنز العمال بحوالہ معجم الاوسط حدیث۳۸۴۷۰ مکتبۃ التراث الاسلامی مصر ۱۴ /۲۲۰)
صحیح مسلم شریف میں ابوالبختری سے مروی ہے کہ ہم عمرے کونکلے بطنِ نخلہ میں ہلال دیکھا کسی نے کہا تین۳ رات کا ہے، کسی نے کہا دو۲ رات کاہے۔ حضرت عبد اﷲبن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے حال عرض کیا، فرمایا: تم نے کس رات دیکھا؟ ہم نے کہا فلاں رات۔ کہا حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اؔﷲتعالٰی نے اُسے رؤیت پر موقوف فرمایا ہے تو جس رات تم نے دیکھا اُسی رات کا ہے۔
(۳؎صحیح مسلم کتاب الصیام قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۴۸)
(ح)۵/۱۲:عہ۱ ای جعل وقت الصوم ممتدّالٰی زمان رؤیۃ الہلال۲ا۔ عہ۲ :وقع ھٰھنافی القول المنشورللفاضل اللکھنو ی لرؤیۃ رأیتموہ وھوتصحیف۱۲
اﷲتعالٰی نے وقت صوم کو رؤیت کا چاند کے زمانہ تک طویل (ممتد) کیا ہے۱۲(ت)اور القول المنشور میں فاضل لکھنو ی نے''لرؤیۃرأیتموہ'' تحریر کیا ہے یہ تصحیف ہے۱۲(ت)
(م)قمر۶:نہ اس نمبر ۲۱کے اونچے ہونے پر نظر قمر۷ نہ اس کے دیر تک ٹھہرنے پر التفات۔
(ش)۶/۲۱بہت لوگ چاند عہ اونچا دیکھ کر بھی ایسی ہی اٹکلیں دوڑاتے ہیں، بعض کہتے ہیں اگر ۲۹ کا ہوتا تو اتنا
نہ ٹھہرتا۔ یہ سب بھی ویسے ہی اوہام ہیں جن پر شرع میں التفات نہیں، خصوصاً یہ باتیں توازرُوئے ہیأت بھی کلیہ نہیں ہوسکتیں، میں اِن شاء اﷲتعالٰی ثابت کرسکتا ہوں کہ کبھی ۲۹کا ۳۰ کے بعض ہلالوں سے اونچا اور دیر پا ہونا متصور۔
(ح)۶/۲۱ عہ: اونچا ہونا اور دیر تک رہنا غالباً زیادت فصل سے ہوتا ہے اور یہ ہم اوپر واضح کرچکے کہ کبھی ۲۹ کا بہ نسبت ۳۰والے کے سورج سے دُور تر ہوتاہے تو غالباً اُتنا ہی اُونچا بھی ہوگا اور اتنا ہی دیر میں ڈوبے گا۔ علاوہ ازیں دقائق ہیأت پر نظر کیجئے تو باوجود استوائے فصل ایک حالت میں بلند تر ودیر پاترہونا ممکن
وذلک یبتنی علی مقدمات طویلۃ لو تکلمنا علیہا لخرجنا عما نحن بصددہ
۱۲( اور یہ طویل مقدمات پر مبنی ہے اگر ہم ان پر گفتگو شروع کردیں تو زیرِ نظر موضوع سے کہیں دُور نکل جائیں گے ۱۲۔(ت)
(م) قمر۸: آج کا ہلال نمبر ۲۲: شفق سے پہلے ڈوبتا ہے کل کا بعد کو، یہ بھی معتبر نہیں۔
(ش)۸/۲۲ :شفق سے مراد شفقِ احمر ہے یعنی وُہ سرخی جو غروبِ آفتاب کے بعد جانبِ مغرب رہتی ہے۔ عادت یُوں ہے کہ جو ہلال اسی شب ہُوا وہ اس سُرخی کے غائب ہونے سے پہلے ڈوب جاتا ہے، اور جو کل ظاہر ہُوا تھا اس کے بعد غروب کرتا ہے۔ پھر یہ بھی تجربہ کی بات ہے،صحیح مذہب میں اس پر اعتماد نہیں
فی مختارات النوازل وقیل ان غاب بعد الشفق فھو للماضیۃ وان غاب قبل الشفق فھوللمستقبلۃاھ۱؎وھکذاذکرہ مضعفا مقابلا لمذھب الصحیح المختار اعنی کونہ للمستقبلۃ مطلقافی مج وفت وق وبزوغیرھا من اسفار کثیرۃ۔
مختار النوازل میں ہے بعض نے کہا کہ اگر شفق کے بعد چاند غروب ہوگیا تووُہ گزشتہ رات کا ہوگا اور اگر شفق سے پہلے غروب ہوگیا تو وُہ آئندہ رات کا ہوگااھ یُونہی یہ ضعیف قول مذہب صحیح اور مختار کے مقابل ذکر کیا ہے، اور مذہب صحیح یہ ہے کہ وہ چاند ہر حال میں آئندہ رات کا ہوگا، مج، فتح القدیر، قنیہ، بزازیہ، اور دیگر کتبِ معتمدہ میں یُونہی ہے(ت)
( ۱؎ فتاوٰی بزازیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتا ب الصوم نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۹۶)
(م)قمر۹ :تیسری رات نمبر۲۳ عشاء سے پہلے چاند نہیں ڈوبتا، پر یہ بھی قابلِ لحاظ نہیں ۔
(ش)۹/۲۳:عادت اکثری یُوں ہے کہ تیسری شب کا چاند غروب نہیں کرتا جب تک عشاء کا وقت نہ آجائے۔ حدیث شریف میں نمازِ عشاء کی نسبت ہے:
کان رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم یصلّیھا لسقوط القمر لثالثۃ۔۱؎رواہ ابوداؤد عن النعمان بن بشیر رضی اﷲتعالٰی عنہما۔
حضورسیّد عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم یہ نماز اس وقت پڑھا کرتے جس وقت تیسری رات کاچاند ڈوبتا ہے (اسے ابوداؤد نے نعمان بن بشیر رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۶۰)
پر معاملہ ہلال میں شرعاً اس پر بھی التفات نہیں مثلاً گواہی گزری کہ آج چاند ہوا کل جمعہ کی یکم رمضان ہے اب شنبہ کے بعد جو شب یکشنبہ آئی کہ اس شہادت کی رُو سے تیسری شب تھی، اس میں دیکھا تو چاند مغرب ہی کے وقت عشاء کا وقت آنے سے پہلے ڈوب گیا جس کے سبب گمان ہوتا ہے کہ آج شبِ دوم ہے اس کا کچھ خیال نہ کریں گے اور تیسری ہی رات قرار دیں گے۔