تنبیہ: اس مسئلہ کے یہ معنی ہیں کہ جو بات وہ بطور ہیأت کہیں مقبول نہیں ورنہ اگر شہادت رؤیت ادا کریں تو مثل اور لوگوں کے ہیں، جن شرائط سے اوروں کی گواہی سُنی جاتی ہے اُن کی بھی گواہی قبول ہوگی، پھر اُن کا قابل شہادت ہونا جبھی ہے کہ ہیأت و نجوم کی خلافِ شرع باتوں پر اعتقاد نہ کرتے ہوں صرف صناعی طور پر آسمان کی گردشوں، ستاروں کی چالوں، طلوع وغروب، جوع واستقامت، بطؤوسرعت، قرآن، تسدیس ترجیح ، تثلیث ،مقابلہ، اجتماع وغیرہ سے بحث کرتے ہوں، ورنہ مثلاً امورِ غیبِ پر احکام لگانا سعد و نحس کے خرخشے اٹھانا،زائچہ کے راہ پر چلنا چلانا، اوتاداربع، طالع رابع، عاشر، سابع پر نظر رکھنا زائلہ مائلہ کو جانچنا پرکھنا ، شرعاً ہجر ہے۔ اور اعتقاد کے ساتھ ہوتو قطعاً کفر، والعیاذباﷲ رب العالمین۔ اسی قبیل سے ہے ان کا کہنا کہ فلاں دن رؤیت واجب ہے فلاں دن محال۔ اگر وجوب واستحالہ عادی مراد لیتے ہیں توخیر کہ سنۃ اﷲکیلئے تبدیل نہیں، ورنہ حقیقی و عقلی کا قصد معاذاﷲکُھلا ہوا کفر ہے۔
اعاذنااﷲبمنہ العظیم، اٰمین
(اﷲتعالٰی اپنے بڑے احسان پر ہمیں محفوظ رکھے، آمین۔ت)
اہل تخجیم میں قرار پایا ہے کہ جب تک چاند آٹھ درجے آفتا ب سے دور نہیں ہوتا ہرگز نظر نہیں آتا
صرح بہ الفاضل الرومی
(اس پر فاضل رومی نے تصریح کی ہے۔ت) اور جب ۱۲ درجے جُدا ہوتا ہے ضرور نظر آتاہے
نص علیہ علامۃ الشریف
(علامہ شریف نے اس پر نص کی ہے۔ت) پھر وُہ ۲۹ تاریخ مغرب کی تقویم یعنی اُس وقت فلک بروج سے شمس و قمر کے مواضع نکال کر فصل دیکھتے ہیں اگر آٹھ درجے سے کم پایا حکم لگادیا کہ آج رؤیت ہرگز نہ ہوگی اور ۱۲ یا ۱۲سے زائد دیکھا تو جزم کردیا کہ ضرور ہوگی، اور اس کے مابین معلوم ہوا تو رؤیت ہلال مشکوک رکھتے ہیں، پھر منجمان ہند کی ادا کچھ نرالی ہے۔ فقیر نے بارہا دیکھا کہ ۲۹ کی مغرب کو قمر ۱۲ درجے سے بہت زیادہ دُور ہے پھر بھی اُنہوں نے کل کی رؤیت رکھی۔ خیر یہاں یہ کہنا ہے کہ حکمائے یُونان اُن کے قواعد وضع کرچکے خود بھی ان پر مطمئن نہیں، تصریح کرتے ہیں کہ احوال قمر کا آج تک انضباط نہ ہُوا پھر ایسے شاک وشاک فی انہ شاک بات کا کیا اعتبار،
سبحانک لا علم لنا الّا ما علمتنا انّک انت العلیم الحکیم ط۲؎
پاک ہے تیری ذات ہمیں علم نہیں مگر اتنا جو تُونے ہمیں سکھایا، بلا شُبہ تُوہی جاننے والا ہے اور حکمت والاہے
(۲؎ القرآن ۲ /۳۲)
اقول : وبھذا یردما اعتمدہ الامام السبکی من الشافعیۃ وصوبہ الزرکشی منھم وجنح الیہ بعض منّا من جوزالاعتماد علٰی قولھم بناءً علی ان الحساب قطعی والشھادۃ ظنّی قلنا ھذاالحساب ایضا لیس من القطع فی شئی کما علمت واحتمال الغلط لیس باقل من احتمالہ فی خبر العدل والشارع صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم قد الغی الحساب ونزل الشھادۃ بمنزلۃ الیقین وبالجملۃ فالمذھب عدم جواز الاعتماد علیہم اصلا۱۲۔
اقول اس سے اس کا رَد ہوجاتا ہے جس پر شوافع میں سے امام سبکی نے اعتماد کیا ہے اور ان میں سے زرکشی نے اس کی تصویب کی۔ اور ہم احناف میں سے بعض نے ان کی طرف جھکاؤ کیا کہ ان کے قول پر اعتماد جائز ہے اس بنا ء پر کہ حساب قطعی ہوتا ہے اور شہادت ظنی۔ ہم کہتے ہیں کہ حساب بھی کسی معاملہ میں قطعی نہیں جیسا کہ آپ جان چکے، او ر غلطی کا احتمال خبر عادل میں احتمال سے کم نہیں، اور شارع صلی اﷲتعالٰی تعالٰی علیہ وسلم نے حساب کو لغو قرار دیا اور شہادت کو بمنزل یقین فرمایا، الغرض مذہب صحیح یہی ہے کہ اہل، توقیت(نجومیوں) پر اعتماد جائز نہیں(ت)
(ح)۱/ ۱۶: عہ۲ :قدرواہ البخاری فی کتاب الصوم وعقدلہ، باب قول النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم لانکتب ولانحسب، فقصر الفاضل المرحوم عبدالحی اللکھنوی فی" القول المنشور'' عزوہ علی مسلم تقصیر۱۲۔
اسے بخاری نے کتاب الصوم میں روایت کیاہے اور باب کا نام ''حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے کہ ہم نہ لکھیں اور نہ حساب کریں'' فاضل مرحوم عبدالحی لکھنوی کا '' القول المنشور'' میں اسے صرف مسلم کی طرف منسوب کرنا قلتِ مطالعہ ہے۱۲(ت)
(ح) ۱/۱۶: عہ۳:اقول الاولٰی تاخیر الاستثناء بعد الشافعی لان من اصحابہ ایضامن اعتمد علیھم کما سمعت۱۲۔
اقول : یہاں حرف استثنا ء لفظ شافعی کے بعد ہونا چاہئے کیونکہ ان میں سے کچھ حضرات نے اہلِ ہیئت پر اعتماد کیا ہے جیساکہ آپ سُن چکے ہیں۔(ت)
(م) قمر۲ :اخیر میں دو ایک رات ضرور بیٹھتا ہے نمبر ۱۷ پر شریعت میں اس پر مدارِ حکم نہیں۔
(ش) قمر۲/۱۷: مہینہ انتیس کا ہوتا ہے تو ایک رات بیٹھتا ہے، تیس کا ہوتو دو رات، پھر آج صبح کو طلوعِ شمس سے پہلے چاند جانبِ شرق نظر آیا تھا اور آج شام کی نسبت شہادت شرعی رؤیت پر گزری، بلاشُبہ قبول کی جائے گی اور یہ لحاظ نہ ہوگا کہ آج صبح تک تو چاندموجود تھا بن ڈوبے کیونکر ہلال عہ ہوگیا۔
روی یوم التاسع والعشرین قبل الشمس ثم رؤی لیلۃ الثلاثین بعد الغروب و شھدت بینۃ شرعیۃ بذلک فان الحاکم یحکم برؤیتہ لیلا کما ھو نص الحدیث ولا یلتفت الی قول المنجّمین انہ لا یمکن رؤیتہ صباحاً ثم مساء فی یوم واحد، کیف وقد صرحت ائمۃ المذھب الاربعۃ بان الصحیح انہ لا عبرۃ بقول المنجمین۱؎ش ملخصا۔
طلوع شمس سے پہلے انیتسویں دن کو چاند دیکھا گیاپھر غروب کے بعد تیسویں رات کو دیکھا گیا اور اس پر شرعی گواہی بھی ہُوئی تو حاکم رات کی رؤیت پر فیصلہ دے جیسا کہ اس پر حدیث میں تصریح ہے اور اہل نجوم کے اس قول کی طرف توجہ نہ کرے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ایک ہی دن میں چاند صبح اور شام دکھائی دے، یہ کیوں نہ ہو، حالانکہ ائمہ مذاہب نے تصریح کی ہے کہ صحیح مذہب یہی ہے کہ اہلِ نجوم کے قول کا اعتبار نہیں، شامی ملخصاً(ت)
(۱؎ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۰۴ا)
(ح)۲/۱۷:عہ چاند سورج دونوں کی اپنی چال مغرب سے مشرق کو ہے، اور حرکتِ یومیہ جس کے بسبب طلوع و غروب روزانہ ہوتا ہے مشرق سے مغرب کو تو چاند صبح کے وقت جب ہی نظر آئیگا کہ سورج کے پیچھے ہو یعنی جانب مغرب ہٹا ہوا ہو کہ اگر جانبِ مشرق بڑھا ہوتو آفتاب اس سے پہلے طلوع کرے گا، صبح کے وقت چاند آفتاب سے بھی زیادہ زیرِ زمین اترا ہوگا نظر کیونکرآئے ، اور جب پیچھے ہے توافقِ مشرقی پر سورج سے پہلے چمک آئیگا، آفتاب ہنوز زیرِ زمین ہوگا، تو نظر آسکتا ہے بشرطیکہ ۸ درجے سے کم نہ ہو، ورنہ اتنے قرب میں سورج کی شعاعیں اُسے چُھپالیں گی، نظر کام نہ کرسکے گی۔ اسی طرح شام کو مغرب میں جب ہی نظر آتا ہے کہ سورج کے آگے یعنی جانبِ مشرق بڑھا ہوکہ اگر جانبِ مغرب ہٹا ہوگا تو سورج سے پہلے ڈوب جائے گا، اور جب آگے ہے تو افق غربی پر بعد غروب آفتاب باقی رہے تو نظر آنا ممکن بشرطیکہ آٹھ درجہ سے کم فصل نہ ہو۔ جب یہ بات سمجھ لی تو اگر آج صبح کو نظر بھی آئے پھر شام کو ہلال بھی ہو تو لازم ہے کہ صبح کو آٹھ درجے پیچھے تھا شام کو لااقل آٹھ درجے آگے ہوگیا، چار پہر میں سولہ درجے طے کرگیا، حالانکہ وہ کبھی آٹھ پہر کامل میں بھی اتنا نہیں چلتا اس وجہ سے ہیأت والے اجتماع رؤیتِ صبح و شام کو ناممکن کہتے ہیں، مگر جب ثبوت شرعی ہوتو انکار کا کیا یارا،
اِنَّ اﷲ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْر
(بلاشبہ اﷲتعالٰی ہر شئی پر قادر ہے۔ت)
(م) قمر۳نمبر ۱۸: انتیس ۲۹ رات کی صبح کو چاند نظر نہیں آتا، شرع اِسے بھی نہیں سنتی۔
(ش) ۳/۱۸: یہ دعوٰی دعوٰی اول سے اخصّ ہے وہاں دو ایک رات بیٹھنا تھا، عام ازیں کہ ۲۹ کو ڈوبے یا ۳۰ کو، یہاں خاص دعوٰی ہے کہ ۲۹ کو ضرور ڈوبتا ہے، شرع میں اس پر بھی لحاظ نہیں۔ مثلاً۲۹ شعبان روز یکشنبہ کو شام کے وقت ابر تھا، گواہانِ شرعی نے رؤیت بیان کی، صبح کو رمضان ٹھہرا، اب جو گنتی ہوئی آئی تو ۲۹ رمضان دو شنبہ کو طلوع شمس سے پیشتر چاند موجود تھا، اس پر کوئی خیال کرے دوشنبہ کی پہلی ہوئی تو آج ۲۹ کو چاند صبح کے وقت کیونکر نظر آتا، ضرور ہے کہ گواہوں نے غلطی کی شعبان ۳۰ کا ہُوا ، آج ۲۸ ہے ابر ہُوا تو اسی حساب پررمضان کے ۳۰ پُورے ہوں گے، تو یہ خیال محض غلط ہوگا بلکہ وہی دوشنبہ کی ۲۹ ٹھہرے گی او اسی پر بناء احکام رہے گی
والدلیل علی ذلک مع السند قد انطوی فیما قد منا
(اور اس پر دلیل مع سند ہماری سابقہ گفتگو میں آچکی ہے۔ت)
(م) قمر۴نمبر ۱۹: دن کو دوپہر سے پہلے چاند جب ہی نظر آتا ہے کہ شبِ گزشتہ ہلال ہوچکا ہو، پر صحیح مذہب میں اس کا بھی لحاظ نہیں۔
(ش) ۴/۱۹: یعنی مثلاً پنجشنبہ ۲۹ شعبان یا ۲۹ رمضان کو ابر تھا رؤیت نہ ہوئی جمعہ کی دوپہر عہ سے پہلے چاند نظر آیا توا گر چہ قیاس یہی چاہتا ہے کہ شبِ جمعہ میں ہلال ہوگیا، ورنہ دوپہر سے پہلے نظر نہ آتا۔ تو آج پہلی ہونی چاہئے ۔مگر صحیح مذہب میں اس کا کچھ لحاظ نہ ہوگا اور آج تیس ہی ٹھہرے گی۔
رؤیتہ بالنھار للیلۃ الاٰتیۃ مطلقا علی المذھب ذکرہ الحدادی(ای سواء روی قبل الزوال او بعدہ علی المذھب الذی ھو قول ابی حنیفۃ و محمد۱؎(ملخصا)(ش)
دن کو دیکھا جانے والا چاند مذہب صحیح کے مطابق ہر حال میں آئندہ رات کا شمار ہوگا۔ اسے حدادی نے ذکر کیا مذہب صحیح جو امام اعظم اور امام محمد کا مذہب ہے کے مطابق خواہ زوال سے پہلے دکھائی دے یا زوال کے بعد)(شامی)
(۱؎ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۱۰۳)
اوجب الحدیث ای قولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام صوموالرؤیتہ وافطر والرؤیتہ،فوجب فسبق الرؤیۃ علی الصوم والفطر و المفھوم المتبادر منہ الرؤیۃ عند عشیۃ اٰخرکل شہر عند الصحابۃ والتابعین ومن بعدھم بخلاف ماقبل الزوال من الثلثین والمختار قولھما۱؎(فت)(فتح القدیر) وکذاصرح باختیارہ فی ع وخز (خزانۃ المفتین) و ص (خلاصۃ) و ق(قاضی خان) ومروبز(بزازیۃ) وجو (جواھرالاخلاطی) ومج(مجمع الانھر) وب(بحرالرائق) والاختیار وجامع المضمرات والعنایۃ والغیاثیۃ والتتارخانیۃ والتجنیس وغیرھا۔
یہ اس حدیث نبوی علٰی صاحبہا الصلٰوۃ والسلام سے ثابت ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو، تو اس سے چاند کی رؤیت کا روزے اور عید سے پہلے ہونا ضروری ہے، اس سے متباد دریہی مفہوم ہوتا ہے کہ چاند کی رؤیت جو ہر ماہ کی آخری شام کی ہو،مراد ہے۔یہی صحابہ، تابعین اور ان کے بعد آنے والے اہلِ علم نے کہاہے، بخلاف تیسویں دن کے ماقبل الزوال دکھائی دینے کے، اور مختار امام اعظم اورامام محمد کا قول ہی ہے (فتح القدیر) اس کے مختار ہونے پر ع، خزانۃ المفتین، خلاصہ، قاضی خاں، مر، بزازیہ، جواہرالاخلاطی، مجمع الانہر، بحرالرائق، اختیار، جامع المضمرات، عنایہ، غیاثیہ، تتارخانیہ اور تجنیس وغیرہ میں تصریح ہے۔(ت)
(۱؎فتح القدیر کتاب الصوم نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۲۴۳)
(بحرالرائق کتاب الصوم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۶۳)
(ح)۴/۱۹ عہ: دوپہرسے پہلے کی قید اس لئے لگائی کہ اگر بعد زوال نظر آیا تو عامہ کتب پر کسی کے نزدیک گزشتہ رات نہ ٹھہرے گا کہ تیس ۳۰ کا چاند بھی اکثر دن سے نظر آجاتا ہے مگر دوپہر ڈھلنے کے بعد،
ھکذا فی عامۃ الکتب کالبدائع والایضاح والمنظومۃ والخانیۃ وطم وش والبزازیۃ والعتابیۃ والذخیرۃ والتتارخانیۃ وجامع الرموز وجواھر الاخلاطی والاختیار والبحروالتبیین والمجتبٰی والقنیۃ ومجمع البحرین وشرحہ لابن ملک وشرح الکنز لملّامسکین وغیرھا و وقع فی المجمع الانھر تبعالما فی الفتح من التحفۃ انہ عند ابی یوسف اذارؤی قبل الزوال اوبعدہ الی وقت العصر فللما ضیۃ وبعدہ للمستقبل۲؎
عام کتب میں اسی طرح ہے مثلاًبدائع، ایضاح، منظومہ، خانیہ، طم، شامی، بزازیہ، عتابیہ، ذخیرہ، تتارخانیہ، جامع الرموز، جواہرالاخلاطی، اختیار، بحر، تبیین، قنیہ، مجمع البحرین اور اس کی شرح لابن ملک، اور شرح کنز لملّا مسکین وغیرہ اور مجمع الانہر میں فتح کی اتباع میں اور وہاں تحفہ سے ہے کہ امام ابو یوسف کا قول یہ ہے کہ جب چاند زوال سے پہلے یا اس کے بعد عصر تک دکھائی دے تو وہ گزشتہ رات کا ہوتا ہے اور اگر اس کے بعد نظر آئے تو وُہ آئندہ رات کا ہوگا۔(ت)
(۲؎ مجمع الانہر کتاب الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۲۳۷)
(فتح القدیر کتاب الصوم نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۲۴۳)