اقول : یا یہ کہ کفار نے اُس کی عبادت کی اور شرع میں اُسے دیکھ کر اﷲ جل جلالہ سے دُعا کرنی آئی، تو پسندیدہ ہُوا کہ منہ پھیر کر کی جائے تاکہ کفار سے مشابہت نہ لازم آئے۔
واﷲ و رسولہ اعلم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم۔
(م )نمبر۱۴: یہ جو جاہلوں میں مشہور ہے کہ فلاں چاند تلوار پر دیکھے فلاں آئینے پر۔ یہ سب جہالت و حما قت ہے، بلکہ حدیث میں جو دُعائیں فرما ئیں وُہ پڑھنی کافی ہیں۔
(ش)نمبر۱۴:حدیث میں رؤیتِ ہلال کی بہت دُعائیں عہ۱ آئیں، بعض حصنِ حصین میں مذکور ہیں۔
(ح)عہ۱نمبر ۱۴:فقیر غفراﷲتعالٰی لہ جہاں تک اس وقت اپنی نظر میں ہیں تمام ادعیہ حدیث کو مع اشارہ رموز مخرجین جمع کرتا ہے وباﷲالتوفیق:
(می) اﷲاکبراﷲاکبر الحمدﷲ لاحول ولا قوّۃ اِلّا باﷲ۔ اللھم انی اسئلک من خیر ھذاالشھر اعوذبک من شرّالقدر ومن شریوم المحشر۔۲؎(اطب)عن عبادہ بن الصامت، ھلال خیر ورشد امنت بالذی خلقک۔۳؎(د) عن قتادۃ بلاغا، اللھم انی اسئلک من خیرھذا(۳) اللھم انی اسئلک من خیرھذاالشھروخیرالقدر واعوذبک من شرہ۴؎(۳)
(می) اﷲاکبر اﷲاکبر ، الحمد ﷲ، برائی سے پھرنے اور نیکی کی طاقت اﷲتعالٰی کی توفیق کے بغیر نہیں۔ اے اﷲمیں تجھ سے اس ماہ میں خیر مانگتا ہوں اور شر تقدیر اور شرِ قیامت سے تیری پناہ ڈھوندتا ہوں۔ (اطب) حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲتعالٰی عنہ سے مروی ہے اے خیرو رشدکے چاند، میں تیرے پیدا کرنے والے پر ایمان رکھتا ہوں۔ (د) حضرت قتادہ سے مرسلاً مروی ہے اے اﷲ!میں تجھ سے اس میں خیر مانگتاہوں۔ (۳) اے اﷲ!میں تجھ سے اس ماہ کی اور تقدیر کی خیرمانگتا ہوں اور اس کے شر سے تیری پناہ ڈھونڈتا ہوں(۳)
(۲؎ مسند احمد بن حنبل مرویا ت عبادہ بن الصامت دارالفکر بیروت ۵ /۲۳۹)
(۳؎ سنن ابی داؤد کتاب الادب باب ما یقول الرجل اذا رأی الہلال آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳۹)
(۴؎المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۴۴۰۹ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۴ /۲۷۶)
(طب) عن رافع بن خدیج باسناد حسن اللھم اھلّہ علینا بالیمن والایمان والسلامۃ والسّلام۔۱؎(اق ت ک حب) عن طلحۃ بن عبید اﷲباسناد حسن ، والتوفیق لما تحب وترضی۔ ۲؎ حب عن طلحۃ (طب) عن ابن عمر، والسکینۃ والعافیۃ والرزق الحسن۳؎(سن)عن حدیر السلمی مرسلا، ربی وربک اﷲ۔۴؎
(طب) حضرت رافع بن خدیج رضی اﷲتعالٰی عنہ سے سندِ حسن کے ساتھ مروی ہے:اے اﷲ!اس چاند کو ہم پر برکت، ایمان، سلامتی اور امن والا بنادے ۔ (ا،ق ت ک حب)حضرت طلحہ بن عبید اﷲ سے سند حسن کے ساتھ مروی ہے اور اس چیز کی توفیق دے جو تجھے پسند اورتو اس سے راضی ہے(حب) نے طلحہ سے اور(طب) نے حضرت ابن عمر سے یہ الفاظ بھی نقل کئے سکون، عافیت اور رزق حسن مانگتا ہُوں ، (سن)نے حضرت حدیر السلمی سے مرسلاً روایت کیا میرا رب اور تیرا رب اﷲ ہے
(۱؎ جامع ترمذی ابواب الدعوات امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ /۴۹۸)
(۲؎ الاحسان بترتیب ابن الحبان حدیث ۸۸۵ باب الادعیۃ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۳ /۷۰)
(۳؎عمل الیوم واللیلۃ حدیث۶۴۵ دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن انڈیا ص۱۷۵)
(۴؎جامع ترمذی ابواب الدعوات امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ /۴۹۸)
امی ت ک (حب)عن طلحۃ طب عن ابن عمر، الحمد ﷲ الذی ذھب بشھرکذا۵؎وعن قتادۃ بلاغاً(سنّ) عن عبداﷲبن مطرف اسئلک من خیر ھذاالشھرونورہ وبرکتہ وھداہ وطھورہ ومعافاتہ۶؎(سنّ)مثلہ، اللھم ارزقنا خیرہ ونصرہ وبرکتہ وفتحہ ونورہ ونعوذبک من شرہ وشرما بعدہ۷؎(مومص)عن علی موقوفا۔
( ا می ت ک حب) نے حضرت طلحہ سے اور طب نے حضرت ابن عمر سے روایت کیا ،تمام حمد اس اللہ کی جو گزشتہ ماہ اسے لے گیا، حضرت قتادہ سے بلاغاً، اور (سن) نے حضرت عبد اﷲبن مطرف سے روایت کیا ہے اے اﷲ! میں تجھ سے اس ماہ کی خیر ، اس کا نور، اس کی برکت، اس کی ہدایت، اس کی طہارت اور عافیت مانگتا ہوں۔
(سن) نے اس کی مثل روایت کیا۔ اے اﷲ! ہمیں اس کی خیر، مدد، برکت، رحمت، فتح اور نور عطا فرما اور ہم اس کے اور اس کے ما بعد کے شر سے تیری پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ اسے (مو مص) نے حضرت علی رضی اﷲعنہ سے مو قوفاً روایت کیا ے۔(ت)
(۵؎ عمل الیوم واللیۃ حدیث ۶۴۷ دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن انڈیا ص۱۵۷)
(۶؎ عمل الیوم واللیۃ حدیث ۶۴۷ دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن انڈیا ص۱۵۷)
(۷؎ المصنف ابن ابی شیبہ حدیث ۹۷۹۶ کتاب الدعوات ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱۰ /۳۹۹- ۴۰۰)
(م) نمبر ۱۵:چاند پر جب کبھی نظر پڑے تو اس کے شر سے پناہ مانگے ۔
(ش) نمبر ۱۵: ترمذی، نسائی، حاکم اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے راوی حضور پر نور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے چاند کو دیکھ کر فرمایا:
یاعائشۃ استعیذی با للہ من شرھذا، فانّ ھذا ھوالغاسق اذا وقب۔۱؎
اے عائشہ! اﷲتعالٰی کی پناہ مانگ اس شر سے کہ یہی ہے وہ اندھیری ڈالنے والا جب ڈوبے یا گنہائے، یعنی قرآن عظیم میں جس غاسق کا ذکر فرمایا
ومن شرّما غاسقٍ۲؎
اور اس کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم آیا اس سے یہی چاند مراد ہے۔
(۱؎ جامع ترمذی ابواب التفسیر سورۃ الفلق ، نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی،۲ /۴۸۵)
(۲؎ القرآن ۱۱۳ /۳)
فصل دوم
اُن امور میں جن کا دربارہ تحقیق ہلال کچھ اعتبار نہیں، بیس۲۰ قمر پر مشتمل
(م) قمرا نمبر ۱۶: اہل ہیأت کی بات کا کچھ اعتبار نہیں اگر چہ عادل ہوں اگر چہ کثیر ہوں، نہ ہی خود اس پر عمل جائز۔ (ش) قمر۱/۱۶ اہل ہیئت وُہ لوگ جو آسمانوں کے حال اور ستاروں کی چال سے بحث کرتے ہیں، وُہ اپنے حساب ۱؎ سے بتاتے ہیں کہ فلاں دن رؤیت ہوگی فلاں مہینہ انتیس ۲۹ کا ہوگا فلاں تیس۳۰ کا۔ پھر اُن کی بات کہ ایک حساب ہے ٹھیک بھی پڑتی ہے،پر صحیح مذہب میں اُس کا کچھ اعتبار نہیں اگر چہ وُہ ثقہ عادِل ہوں، اگرچہ اُن کی جماعت کثیر یک زبان ایک ہی بات پر اتفاق کرے۔مثلاًوہ ۲۹شعبان کو کہیں آج ضرور رؤیت ہوگی کل یکم رمضان ہے۔ شام کو ابر ہوگیا، رؤیت کی خبر معتبر نہ آئی،ہم ہرگز رمضان قرار نہ دیںگے، بلکہ وہی یوم الشک ٹھہرے گا، یا وہ کہیں آج رؤیت نہیں ہوسکتی، کل یقینا۳۰شعبان ہے، پھر آج ہی رؤیت پر معتبر گواہی گزری، فورا ً قبول کرلیں گے اور کچھ خیال نہ کریں گے کہ بربنائے ہیئت تو آج رؤیت نا ممکن تھی۔ گواہ نے دیکھنے میں غلطی کی، یا غلط کہا، دلیل اس مسئلے اور اکثر مسائل آئندہ کی جو قمر ۵ تک آئیں گے یہ ہے کہ شارع صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے صوم و فطر کا حکم رؤیت پر معلّق فرمایا، صحیحین وغیرہما میں بطریق کثیرہ بہت صحابہ رضوان اﷲتعالٰی علیہم سے مروی کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
صومو الرؤیتہ وافطر الرؤیتہ فان اغمی علیکم فاکملواعدّۃ شعبان ثلثین۔۱؎
چاند دیکھ روزہ رکھو، چاند دیکھ کر ختم کرو۔ اور اگر مطلع صاف نہ ہو تو تیس۳۰کی گنتی پُوری کرلو۔(ت)
پس ہمیں اسی پر عمل فرض ہے، باقی رہا حساب ، اسے خود حضور اقدس صلی اﷲعلیہ وسلم نے یک لخت ساقط کردیا، صاف ارشاد فرماتے ہیں،
اناامیۃ لا نکتب ولا نحسب الشھر ھکذا وھکذاوالشھر ھکذا وھکذا۔۲؎رواہ۲؎الشیخان ابوداؤدو نسائی عن ابن عمر رضی اﷲتعالٰی عنھما۔
ہم اُمّی امّت ہیں، نہ لکھیں نہ حساب کریں دونوں ہاتھوں کی انگلیاں تین بار اُٹھا کر فرمایا مہینہ یُوں اور یُوں اور یُوں ہوتا ہے۔تیسری دفعہ میں انگوٹھا بند فرمالیا یعنی انتیس' اور مہینہ یوں اور یُون ہوتا ہے، ہر بار سب انگلیاں کُھلی رکھیں یعنی تیس۔ (اسے امام بخاری، مسلم، ابوداؤد، نسائی نے ابن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
ہم بحمد اﷲولہ المنّۃ اپنے نبی اُمّی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی اُمّی اُمّت ہیں، ہمیں کسی کے حساب کتاب سے کیا کام، جب تک رؤیت ثابت نہ ہوگی نہ کسی کا حساب سُنیں' نہ تحریر مانیں، نہ قرائن دیکھیں، نہ اندازاً جانیں۔
لاعبرۃ بقول الموقتین ولو عد ولا' علی المذہب بل فی المعراج' لا یعبتر قولھم بالاجماع ولایجوز للمنجم ان یعمل بحساب نفسہ وفی النھر' فلا یلزم بقول الموقتین انہ ای الھلال یکون فی السماء لیلۃ کذاوان کانوا عدولا فی الصحیح کما فی الایضاح اھ وفی القنیۃ عن ابن مقاتل انہ کان یسألھم ویعتمد علٰی قولھم اذااتفق علیہ جماعۃ منھم ثم نقل عن شرح السرخسی انہ بیعد وعن مجد الائمۃ انہ اتفق اصحاب ابی حنیفۃ الاالنادر۳؎ والشافعی انہ لا اعتماد قولھم۱؎ش ملخصا
صحیح مذہب کے مطابق نجومیوں کا قول معتبر نہیں اگر چہ وُہ عادل ہوں، بلکہ معراج میں ہے کہ ان کا قول بالاجماع معتبر نہیں' اور نجومی کو خود اپنے حساب پر عمل کرنا درست نہیں۔ نہرمیں ہے نجومیوں کا یہ قول کہ فلاں رات کو آسمان پر چاند نظر آئے گا صحیح روایت کے مطابق ان کے اس قول سے روزہ لازم نہ ہوگا، اگر چہ نجومی عادل ہو جیسا کہ ایضاح میں سے ہے اھ قنیہ میں ابن مقاتل سے مروی ہے کہ نجومیوں سے سوال کیا جائے اور اگر ان کی ایک جماعت کا اتفاق ہوجائے تو ان کے قول پر اعتماد کیا جائے، پھر شرح سرخسی سے نقل کیاہے کہ یہ بعید (ازقیاس) ہے، مجد الائمہ سے مروی ہے کہ کچھ شاذاحناف کو چھوڑ کر باقی تمام احناف اور شوافع اس پر متفق ہیں کہ نجومیوں کے قول پر اعتماد نہیں کیا جائے گا'شامی ملخصاً(ت)