تنبیہ: علمِ دین فقہ وحدیث ہے منطق و فلسفہ کے جاننے والے علماء نہیں، یہ امور متعلق بہ فقہ ہیں، تو جو فقہ میں زیادہ ہے وہی بڑا عالمِ دین ہے، اگر چہ دُوسرا حدیث و تفسیر سے زیادہ اشتعال رکھتا ہو پھر بھی عالمِ دین نہ ہوگا مگر سنی المذہب کہ فاسد العقیدہ جہل مرکب میں گرفتار جو جہل بسیط سے ہزار درجہ بدتر، خصوصاً غیر مقلدین کہ
فقہ و فتوٰی میں ان پر اعتماد تو ایسا ہے جیسے چور کو پاسبان بنانا۔
(م)نمبر۸:جہاں کوئی عالم بھی نہ ہو مجمع مسلمین مثلاً مسجد جامع وغیرہ میں گواہی دیں۔
(ش)نمبر۸: وان لم یوجد حاکم یشھد فی المسجد (جا)۱؎جامع الرموز
اگر حاکم موجود نہ ہو تو وہ مسجد میں گواہی دے (جامع الرموز)
(۱؎جامع الرموز کتاب الصوم مکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ /۳۵۴)
ؕؕ
قلت انما خص المسجد لہ بمحل الاجتماع و انما المقصود الاعلان لیحصل حیثما وجد وامجتمعین کما لایخفی۔
قلت: خاص مسجد کا ذکر اس لیے کہ وُہ محلِ اجتماع ہے اور مقصود اعلان ہوتا ہے تاکہ اعلان ایسی جگہ ہوجائے جہاں لوگ جمع ہوں، جیسا کہ مخفی نہیں(ت)
(م)نمبر ۹:جو بلا عُذر گواہی دینے میں تاخیر کرےگا پھر کہے گا میں نے دیکھا تھا اُس کی گواہی مردود ہوگی۔
(ش)نمبر۹:عذر کی صورت یہ کہ مثلاً شہر میں نہ تھا، دیہات میں دیکھا، وہاں سے اب آیا ہے، تواس کی گواہی سُن لیں گے، اور تاخیر سے وہی مراد کہ وقت حاجت کے بعد پھر نہ اُٹھار کھے ہلال رمضان و عیدالفطر میں پہلی ہی شب ہے۔
شھد وافی اٰخررمضان عہ۱ برؤیۃ ھلالہ قبل صومھم بیوم ان کانوافی المصر ردّت لترکھم الحسبۃ وان جاء وامن خارج قبلت من الفتح ۲؎(ش)
گواہوں نے رمضان کے آخری دن گواہی دی کہ انہوں نے اہلِ شہر کے روزہ شروع کرنے سے ایک دن پہلے چاند دیکھا تھا، اگر وُہ گواہ شہر کے رہنے والے ہوں تو گواہی مسترد ہوگی کیونکہ انہوں نے گواہی میں تاخیر کی ہے اور اگر وُہ خارج شہر سے آئے ہوں تو ان کی گواہی مقبول ہوگی، یہ فتح سے شامی میں ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۹۱)
(ح) عہ۱ نمبر۹:قولہ فی اٰخر رمضان، اقول من احاط بالدلیل علم ان الاٰخرلیس بقید بل لو شھد وامن غد بعد ما اصبح الناس مفطرین انارأینا الہلال البارحۃ وکانوافی المصر ولاعذر فسقواو ردت شھادتھم لترکھم الحسبۃ وقد علمت ذٰلک من نص العلماء ان الشہادۃ من فروض العین وانھا تجب فی لیلۃ الرؤیۃ حتی تخرج المخدرۃ والمنکوحۃ بدون اذن زوجھا ومولاھا۱؎۱۲(ملخصاً)
قولہ فی اٰخر رمضان ۔
اقول جس شخص نے دلیل کو خُوب جان لیا ہے اس پر واضح ہوگا کہ ''الاٰخر''کا لفظ قید نہیں بلکہ اگر انہوں نے اس دن سے دوسرے دن گواہی دی جب لوگ صبح بے روزہ اُٹھے، اُنہوں نے کہا ہم نے گزشتہ رات چاند دیکھا اور وہ شہر کے رہنے والے تھے اور عذر بھی کوئی نہ ہو تو وُہ فاسق قرار پائیں گے ان کی گواہی مسترد ہوگی کیونکہ انہوں نے ذمہ داری کی خلاف ورزی کی ہے اور آپ یہ بھی جان چکے کہ علماء نے تصریح کی ہے کہ شہادت فرضِ عین ہے اور یہ چاند دیکھنے والی رات میں ہی گواہی دینا لازم ہے حتی کہ پردہ نشین اور منکوحہ خواتین پر بغیر اجازت خاوند اور مولٰی کے( چاند دیکھنے کے لیے نکلنا لازم ہے)۔(ت)
(۱؎مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فیما یثبت بہ الہلال نورمحمد کارخانہ کتب کراچی ص۳۵۸)
(ردالمحتار کتاب ا لصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۹۱)
(م) نمبر۱۰: جب چاندپر نظر پڑے اور دیکھنے والوں کی گواہی کفایت نہ کرتی ہو، فوراًجہا ں تک بن پڑے ایسےمسلمانوں کو دکھا دیں،جن کی گواہی کافی ہو ، اور ویسے بھی دکھا دینا چاہئے کہ کثرت بہرحال بہتر ہے ۔
(ش) نمبر ۱۰ :اقول اگر مطلع صاف نہیں ،دفعتا ابر ہٹا اور اسے چاند نظر پڑا ،اب یہ اس قابل نہیں کہ اس کی گواہی مسموع ہو، خواہ فاسق ہے یا مستور یا اکیلا یا صرف عورتیں یا غلام ہیں اور ہلال ہلالِ عیدین تو ان لوگوں کا دیکھنا کافی نہ ہوگا۔ اور عجب نہیں کہ ابر پھر آجائے۔ لہذا نہایت تعجیل کرکے ایسے معتمد مسلمانو ں کو دکھا دے جن کی گواہیاں کفایت کرجائیں
قال اﷲتعالٰی تعاونواعلی البرّوالتقوٰی۲؎
(اﷲتعالٰی کا فرمانِ مبارک ہے۔ نیکی اور تقوٰی پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔ت)
( ۲؎ القرآن ۵ /۲)
اِس صورت میں تو بشرط قدرت معتمدین کو دکھانا لازم ہونا چاہئے ، اور اگر ایسا نہیں بلکہ خودان کی گواہی بس ہے، تاہم اوروں کا دکھانا اچھا ہی ہے کہ کثرتِ شہود بہرحال بہتر ہے عجب کیا کہ یہ اپنے نزدیک اپنی گواہی کافی سمجھیں اور حاکمِ شرع کو کسی وجہ سے اعتبار نہ آئے تو اور شہود کی حاجت پڑے
ھذاکلہ ما ذکرتہ تفقّھا وارجواان یکون حسناً اِن شاء اﷲتعالٰی
( بندہ نے یہ تمام بطور استنباط کہا ہے اور امید ہے یہ اِن شاء اﷲدرست ہوگا۔ت)
(م) نمبر۱۱: جس شام احتمالِ ہلال ہو جب تک حکم حاکمِ شرعی فتوٰی عالمِ دین نہ ہوہرگز ہرگز کسی وجہ سے بندوقیں یا آواز کی آتش بازی اپنے دنیوی کاموں کے لیے بھی ہرگزنہ کریں۔
(ش)نمبر۱۱: اصطلاح یُوں ٹھہری ہُوئی ہے کہ جہاں اسلامی ریاست ہے بعد تحقیق ہلال توپ کے فَیر ہوتے ہیں اور شہروں میں بند وقیں یا ہوائیاں وغیرہ چھوڑتے ہیں، اب اگر ثبوت شرع ہوگیا اور حاکمِ شرع نے بھی حکم دے دیا جب تو یہ فعل مستحسن ہے کہ ایک نیتِ صالحہ سے کیا جاتا ہے اور آتشبازی کا ناجائز ہونا بوجہ اضاعت مال تھا، یہاں جاری نہیں کہ بعد غرض محمود کے اضاعت کہاں۔ ورنہ دو۲ صورتیں ہیں: ایک یہ کہ اعلانِ ہلال کے سوا اور کسی وجہ سے یہ فعل کریں، مثلاً دوست کے گھر بیٹا پیدا ہُوا، بندوقیں سرکیں، یا خالی بیٹھے مال ضائع کرنا چاہا، ہوائیاں، ناٹریاں، تو مڑیاں چھوڑیں۔ یہ ممنوع ہے کہ اس میں مسلمانوں کو دھوکا ہوگا۔ دوسرے یہ کہ جاہلوں نے جو اپنے جاہلانہ مسئلوں سے بے حکمِ حاکم و فتوٰی عالم اپنے نزدیک رؤیت کی خبر ٹھیک جان کر پٹاخہ بازی شروع کردی۔اور یہ بھی زیادہ ناجائز و حرام ہے کہ منصب رفیع شرع پر جرأت ہے۔
قال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم افتوا بغیرعلم فضلّواواضلّوا۔ ۱؎
رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا فرمان ہے: جو بغیر علم کے فتوٰی دیں گے خود بھی گمراہ اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔
(۱؎صحیح مسلم باب رفع العلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۴۰)
وعنہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اجئر کم علی الفتیا اجئر کم علی النار۔۲؎ھذا کلہ ایضاً تفقھاً، ولااظن احد اٰیخالف فیہ۔واﷲالھادی للصواب۔
رسالتمآب صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا یہ بھی فرمانِ مبارک ہے: تم میں سے جو فتوٰی دینے میں زیادہ جرأ ت کرے گا وہ جہنم میں جانے میں زیادہ جرأت مند ہوگا۔ یہ تمام بھی بطور استخراج ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ اس میں کوئی مخالفت نہیں کرے گا۔ اﷲ ہی صواب کی طرف رہنمائی فرمانے والا ہے۔(ت)
(۲؎ سنن الدارمی باب الفتیا حدیث۱۵۹ نشر السنۃ ملتان ۱ /۵۳)
(م) نمبر ۱۲ :ہلال دیکھ کر اس کی طرف اشارہ نہ کریں
(ش) نمبر ۱۲: کہ افعالِ جاہلیت سے ہے،
تکرہ الاشارۃ الی الہلال عندرؤیتہ لانّہ فعل اھل الجاھلیۃ۳؎(فتح القدیر)
چاند دیکھنے پر اس کی طرف اشارہ کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ اہلِ جاہلیت کا عمل ہے (فتح القدیر) (ت)
(۳؎ فتح القدیر فصل فی رؤیہ الہلال ، نوریہ رضویہ سکھر ، ۲ /۲۴۳)
(م) نمبر ۱۳: ہلال دیکھ کر منہ پھیرلے۔
(ش)نمبر۱۳:اقول حدیث میں ہے:
ان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کان اذارأی الہلال صرّف وجہہ عنہ۔۴؎رواہ ابوداؤد عن قتادۃ مرسلا ولاشواھد و سندہ ثقات۔
حضور سیّد عالم صلی ا ﷲتعالٰی علیہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے اپنا منہ (مبارک) اس کی طرف سے پھیر لیتے۔ اسے ابوداؤد نے حضرت قتادہ سے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس کا شاہد کوئی نہیں اور اس کی سند ثقہ ہے(ت)
(۴؎ سُنن ابی داؤد کتاب الادب باب ما یقول الرجل اذارای الہلال آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳۹)
شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ شرکی چیز ہے
افادہ المناوی فی التیسیر۱؎
(مناوی نے تیسیرمیں افادہ کیا۔ت)
(۱؎التیسیر تحت حدیث کان اذارأی الہلال مکتبۃ الامام الشافعی ریاض سعودیۃ ۲ /۲۴۹)