Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
103 - 198
اقول : مگر ہلال ذی الحجہ میں آٹھویں تک کوئی حاجت ایسی نہیں جو بوجہ تاخیر خلل پذیر ہو۔ بس یُوں معلوم ہوجانا چاہئے کہ فجر عرفہ سے لوگ تکبیر میں مشغول ہوں اور حجاج سامان وقوف کریں،
فان اخّرالٰی ھذا فلایؤخّر وقت الحاجۃ ط انما کان الاٰثم بہ، فلیکن التاخیر الٰی ھنا سابعاً ھذا ماقلتہ تفقّھا فلیحرّر۔
پس اگر یہاں تک مؤخر کرتا ہے تو کوئی حرج نہیں، لیکن وقت حاجت سے مؤخر نہ کرے، ط۔ کیونکہ اس سے گنہ گار ہوگا تویہاں تاخیر سات ذوالحجہ تک ہوسکتی ہے۔ یہ بندہ نے بطور استخراج کہا ہے، اسے محفوظ کیجئے۔(ت)

(م)نمبر۵: ہلال دیکھنے والے عادل پر مطلقاً اور مستور پر رمضان میں، اور فاسق پر جب سمجھے کہ حاکم میری گواہی مان لے گا، واجب ہے کہ رمضان و عید الفطر میں اسی شب، اور ذی الحجہ میں آٹھویں تک حاکمِ شرع کے پاس حاضر ہوکر رؤیت پر گواہی دے۔

(م)نمبر ۶: یہاں تک زن پر دہ نشین نکلے اگر چہ  شوہر اذن نہ دے، اگر چہ کنیز اجازتِ مولٰی نہ پائے۔ اگر سمجھیں کہ ثبوتِ رؤیت ہم پر موقوف ہے ورنہ یہ نکلنا ناجائز ہوگا۔
 (ش) نمبر۶:یجب علی الجاریۃ المخدرۃان تخرج فی لیلتھا۔۱؎(د)(درمختار) ای لیلۃالرّؤیۃ۲؎(ش) بلا اذن مولاھا وتشھد کما فی الحافظیۃ۳؎(د)
پر دہ نشین لونڈی پر اس رات نکلنا لازم ہے۔ (د) سے مراد درمختار ہے یعنی چاند رات۔(ش) سے مراد شامی ہے  یعنی اپنے مولٰی کی اجازت کے بغیر نکلے اور گواہی دے جیسا کہ حافظیہ میں ہے(د)
 (۱؎ درمختار     کتاب الصوم     مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۱۴۸)

(۲؎ ردالمحتار      کتاب الصوم   داراحیاء الترا ث العربی بیروت    ۲ /۹۱)

(۳؎ درمختار        کتاب الصوم   مطبع مجتائی دہلی        ۱ /۱۴۸)
وکذایجب علی الحرۃ ان تخرج بلا اذن زوجھا کذاغیرالمخدّرۃ والمزوجۃ بالاولی۴؎(ش)محلہ اذا تعیّنت للشہادۃ و الا حرم علیہا۵؎(طط)
اسی طرح آزاد عورت پر بھی بلا اجازتِ خاوند نکلنا لازم ہے، اسی طرح وُہ لونڈی جو پردہ نشین نہ ہو اور وُہ عورت جو منکوحہ نہ ہو ان کانکلنا تو بطریقِ اولٰی ہوگا(ش) یہ ا س وقت ہے جب شہادت کے لیے اس کا تعیّن ہو ورنہ اس کا نکلنا حرام ہوگا(طط)۔(ت)
 (۴ ؎ ردالمحتار      کتاب الصوم        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۹۱)

(۵؎طحطاوی علی مراقی الفلاح    کتاب الصوم    نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی     ص۳۵۸)
یہ حکم اس صورت میں ہے جب خاص اِنہی لوگوں پر گواہی متعین ہو ورنہ پردہ نشین کو جانا یا عورت کو بے اذنِ شوہر یا غلام و کنیز کو بے اجازتِ مولٰی نکلنا روا نہیں،
قال ط(الطحاوی) والظاھر ان محل ذٰلک عند توقف اثبات الرؤیۃ والافلا۶؎(ش)
طحاوی نے فرمایا: ظاہر یہی ہے کہ اس کی ضرورت اس وقت ہے جب رؤیتِ چاند کا اثبات ان پر موقوف ہو ورنہ ضروری نہیں(ش)(ت)
 ( ۶؎ ردالمحتار    کتاب الصوم      داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۹۱)
 (م)نمبر۷: جہاں ریاستیں اسلامی ہیں اُن بلاد میں جو عالمِ دین سُنّی المذہب سب سے زیادہ علمِ فقہ رکھتا ہو وہ بحکمِ شرع سردارِ مسلمانان ہے، مسلمانوں پر فرض ہے کہ اپنی دینی باتوں میں اُسی کی طرف رجوع کریں اور اُس کے فتووں پر عمل کریں ، تو چاند دیکھنے پر بھی واجب ہے کہ اُس شب اُس کے حضور ہوکر ادائے شہادت کرے۔

(ش) نمبر۷:علّامہ عبد الغنی بن ا سمٰعیل نابلسی قدس سرہ حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں:
وفی العتابی اذاخلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامورمؤکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم۔۱؎
عتابی میں ہے کہ جب دَور ایسے بادشاہ سے خالی ہو جو صاحبِ قدرت ہوتو اس وقت امور علماء کے سپرد ہوں گے اور اُمت پر لازم ہے کہ اس وقت وہ علماء کی طرف رجوع کرے۔(ت)
 (۱؎ الحدیقۃ الندیہ     النوع الثالث فی المندوب الیہا    مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد     ۱ /۳۵۱)
اسی میں ہے:
المتبع اعلمھم فان استووااقرع بینھم۔۲؎
علماء میں جو سب سے زیادہ صاحبِ علم ہوگا لوگ اُس کی اتباع کریں، اگر علم میں برابر ہوں تو ان میں قرعہ ڈال لیں۔(ت)
 (۲؎ الحدیقۃ الندیہ     النوع الثالث فی المندوب الیہا    مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد     ۱ /۳۵۱)
تنبیہ: آج کل اسلامی ریاستوں میں بھی قضاۃ و حکام اکثر بے علم ہوتے ہیں، تو عالمِ دین اُن پر بھی مقدّم۔اور وقتِ اختلاف فتوٰی عالم پر ہی عمل واجب۔

حکایت: امام الحرمین ابو المعالی رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ کے زمانے میں بادشاہِ وقت کے یہاں ۲۹کے ہلال پر گواہیاں گزریں۔ بحکم سلطان اعلان ہوا کہ کل عید ہے، یہ خبر امامِ الحرمین کو پہنچی۔ گواہیاں قابلِ قبول نہ تھیں، امام کے حکم سے معاً دوسرا اعلان ہو اکہ بحکم امام ابو المعالی کل روزہ ہے۔صبح کو تمام شہر روزہ داراٹھا۔ حاسدوں نے یہ خبر خوب رنگ کربادشاہ تک پہنچائی کہ اگر امام چاہیں تو سلطنت چھین لیں۔ ملاحظہ ہو کہ اُنہیں کا حکم مانا گیا اور حکمِ سلطان کی کچھ پروانہ ہُوئی۔ بادشاہ نے برافروختہ ہو کر چوب دار بھیجے کہ جیسے بیٹھے ہیں تشریف لائیں۔ امام ایک جبّہ پہنے تھے، ویسے ہی دربار میں رونق افروز ہوئے ،اشتعال شاہی دوبالا ہوا کہ لباس درباری نہ تھا سوال کیا، فرمایا ، اطاعتِ اولوالامر واجب ہے۔ حکم تھا جیسے بیٹھے ہیں آئیں، میں یُوں ہی بیٹھا تھا چلاآیا، کہا اعلان  خلاف پر کیا باعث تھا؟ فرمایا: انتظامِ دنیا تمہارے سپرد ہے اور انتظامِ دین ہمارے متعلق۔ بادشاہ پر ہیبتِ حق طاری ہُوئی۔ باعزازِ تمام رخصت کی اور بد گویوں کو سزادی۔
Flag Counter