Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
102 - 198
اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ (۱۳۰۴ھ)

مع شرح

نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ

مع حاشیہ

رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ

(رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
مسئلہ ۲۱۶:

بسم اﷲالرحمٰن الرحیم

اﷲربّ محمد صلی علیہ وسلّما
 (م)عہ۱ ، فصل اوّل: رؤیتِ ہلال کے حکم اور اس کے متعلق مسائل وفوائد میں پندرہ ہلال پر مشتمل ۔

ہلا ل نمبر ۱  : ۲۹شعبان کو غروبِ آفتاب کے بعد ہلالِ رمضان کی تلاش فرض کفایہ ہے۔
عہ۱: قوسین کے اندر م، ش ، ح سے بالترتیب متن، شرح اور حاشیہ مراد ہے۔
(ش)نمبر۱: فرض کفایہ، یعنی سب ترک کریں تو سب گنہگار ، اور بعض بقدر کفایت عہ کریں تو سب پر سے اُتر جائے، اور  وجہ اس کی ظاہر ہے کہ شاید شعبان ۲۹ کا ہوجائے تو کل سے رمضان ہے۔ اگر چاند کا خیال نہ کیا تو عجب نہیں کہ ہوجائے اور یہ بے خبر رہیں۔ تو کل شعبان سمجھ کر ناحق رمضان کا روزہ جائے ۔
یجب کفایۃ التماس الہلال لیلۃ الثلثین من شعبان لانہ قد یکون ناقصا۱؎(مراقی الفلاح) الظاہر منہ الافتراض لانہ یتوصل بہ الی الفرض۲؎(ط ط)(حاشیۃ العلامۃ الطحطاوی علیھا)
شعبان کی تیسویں رات چاند کا تلاش کرنا وجوب کفایہ ہے کیونکہ بعض اوقات وہ ناقص ہوتا ہے(مراقی الفلاح)(ت)اس سے ظاہر یہی ہے کہ یہ فرض  ہے کیونکہ فرض تک پہنچنے کا یہ وسیلہ ہے(ط ط)
 (۱؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی     فصل فیما یثبت بہ الہلال     نور محمد کتب خانہ کراچی     ص ۳۵۴)

(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح     فصل فیما یثبت بہ الہلال     نور محمد کتب خانہ کراچی     ص ۳۵۴)
عہ:حاشیہ رفع العلۃ عن نورالادلّۃ:قلت بقدر کفایت،

فقیر نے یہ لفظ اس لیے زائد کر دیا کہ اگر التماس ہلال ایسے شخص نے کیا جس کا بیان عندالشرع مقبول نہ ہو تو اُس کا التماس کرنا نہ کرنا یکساں ہوا اور مقصود شرع کہ اُس کے ایجاب سے تھا یعنی ثبوت ِہلال، وُہ حاصل نہ ہُوا۔ مثلاًصفائے مطلع کی حالت میں صرف ایک آدمی نے تلاش کیا یا ہلالِ عیدین میں فقط عورتوں یا غلاموں نے تلاش کی، وعلٰی ہذا القیاس انمازدتہ تفقہاًفلیحرر۔

(م) نمبر ۲: یوں ہی ۲۹ رمضان کو ہلال عید کی۔

(ش) نمبر ۲: اگر چاند ہوگیا اور نہ دیکھا تو نادانستہ عید کے دن روزہ حرام میں مبتلا ہوں گے،
کذایجب التماس ہلال شوال فی غیوب التاسع والعشرین من رمضان۳؎(ط ط)
اسی طرح شوال کا چاند انتیسویں رمضان کی شام کو دیکھنا بھی واجب ہے(ط ط)(ت)
 (۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح   فصل فیما یثبت بہ الہلال     نور محمد کتب خانہ کراچی     ص ۳۵۴)
 (م)نمبر۳: ۲۹ذیقعدہ کو ہلال ذی الحجہ کی تلاش بھی ضروری ہے۔

(ش)نمبر۳: اقول یہ یوں ضروری ہوا کہ حج و نماز عید و قربانی و تکبیراتِ تشریق کے اوقات جاننے اسی پر موقوف ہیں، تواس کی تلاش عام لوگوں پر واجب کفایہ ہونی چاہئے اور اہلِ موسم پر فرضِ کفایہ کہ وہاں بے خیالی میں چاند ۲۹ کا ہوگیا اور بنارکھا۳۰ کا، تو وقوفِ عرفہ کہ حج کا فرضِ اعظم رُکن اکبر ہے، اپنے وقت سے باہر یوم النحر میں واقع ہوگا اور عام لوگوں کو کسی فرض میں خلل کا اندیشہ نہیں، پر واجبات میں دقّت آئے گی، مثلاً کسی ضروت سے نمازِ عید کی تاخیر بارھویں تک چاہی تو یہ جسے بارہویں سمجھے ہیں وُہ تیرہویں ہے۔ اور ایّامِ نماز کہ ایامِ نحر تھے گزر چکے، نماز بے وقت ہوئی،بہت لوگ بارہویں کو قربانی کرتے ہیں، ان کی قربانیاں بے وقت ہونگی،عرفہ کی  صبح سے ہر نماز کے بعد تکبیر واجب ہوتی ہے، واقع میں جو عرفہ ہے یہ اُسے آٹھویں جان کر تکبیریں نہ کہیں گے۔
وکما ان مایتوصل بہ الی  الفرض فرض فکذا  ا ن مایتوصل بہ الی الواجب واجب فصح الافتراض علی اھل الموسم والوجوب علٰی غیرھم ھذا کلہ ماذکرتہ تفقھاوارجوان یکون صوابا ان شاء اﷲتعالٰی۔
جیساکہ فرض تک پہنچانے والی چیز فرض ہوتی ہے اسی طرح واجب تک پہنچانے والی چیز واجب ہوتی ہے تو اہلِ موسم پر کوشش کرنا فرض اور دوسروں پر واجب ہے، تمام جو میں نے بیان کیا یہ بطورِ تفقہ ہے اور امید ہے کہ یہ انشاء اﷲتعالٰی صواب ہوگا۔(ت)
 (م)نمبر۴ : ۲۹ رجب کو ہلالِ شعبان، ۲۹ شوال کو ہلالِ ذیقعدہ کی بھی تلاش کریں۔ 

(ش) نمبر۴: ہلالِ شعبان کی تلاش کا حکم خود حدیث عہ۱ میں ہے، حکمت اس میں یہ ہے کہ جب رمضان کا چاند بوجہ ابر نظر نہیں آتا تو حکم ہے کہ شعبان کی گنتی تیس پُوری کرلیں۔ جب شعبان کا چاند بہ تحقق نہ معلوم ہوگا تو اس کی گنتی پر کیا یقین ہوسکے گا۔
عہ۱: قلت خود حدیث میں ہے:
اخرج الترمذی فی الجامع والحاکم فی المستدرک عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲصلی اﷲعلیہ وسلم احصو اھلال شعبان لرمضان۔۲؎۱۲(م)
ترمذی نے جامع میں اور حاکم نے مستدرک میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے لےے شعبان کے چاند کو شمار کرو۱۲(م)
 (۲؎ جامع الترمذی    باب ماجاء فی احصاء ہلال         نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی     ۱ /۱۲۳)
یُوں ہی اگر ذی الحجہ کا چاند نظر نہ آئے تو ذیقعدہ کی گنتی تیس رکھیں گے، اور وہی بات یہاں پیش آئے گی،
کذا ینبغی ان یلتمسواھلال شعبان ایضافی حق اتمام العدد۱؎(ع)(فتاوی عالمگیریۃ) عن السراج الوھاج،
یُوں ہی اتمامِ تعداد کے لیے شعبان کے چاند کا تلاش کرنا بھی ضروری ہے(ع) یہ فتاوٰی عالمگیری میں سراج وہاج سے ہے
 (۱؎ الفتاوی الھندیۃ     الباب الثانی فی رؤیۃ الہلال         دارالمعرفۃ بیروت     ۱ /۱۹۷)
قلت وزدت عہ۲  علیہ ھلال ذی القعدۃ تفقّھا۔
بندہ اس پر بطور استخراج اضافہ کرتا ہے کہ ذی القعدہ کے چاند کا بھی تلاش کرنا ضروری ہے۔(ت)
عہ۲: قلت، وزدت علیہ ھلال ذی القعدہ تفقھا ھذا والذی قبلہ فی ھلال ذی الحجۃ لیس مایتفکر فان امثال ذلک تلتحق علی وجہ دلالۃ النص وھو مما یشترک فیہ الفقہاء والعوام کما نص علیہ العلامۃط وغیرہ۱۲(م)
قلت اس پر میں نے بطور استنباط ذوالقعدہ کے چاند کا اضافہ کیا ہے یہ اور اس سے پہلے ذوالحج کے چاند میں تفکر کی ضرورت نہیں کیونکہ اس طرح کے معاملات بطوردلالۃ النص ملحق ہوجاتے ہیں اور اس میں فقہاء اور عوام دونوں مشترک ہیں جیسا کہ اس پر علامہ طحطاوی وغیرہ نے تصریح کی ہے۱۴(ت)
تنبیہ: لوگ تین قسم ہیں: (۱)عادل (۲)مستور(۳)فاسق 

عادل وُہ مرتکبِ کبیرہ عہ۱ یا خفیف عہ۲  الحرکات نہ ہو۔
عہ۱: قلت مرتکب کبیرہ نہ ہو اقول ارتکاب کبیرہ میں اصرار صغیرہ بھی آگیا کہ صغیرہ  اصرارسے کبیرہ ہوجاتا ہے
اماقول العلماء ھو ترک الکبائر والاصرار علی الصغائر الخ فارادوا الایضاح لاالتتمیم کما لا یخفی
 (رہاعلماء کا یہ قول کہ کبائر کا ترک اور صغائر پر اصرار الخ تو اس سے مراد وضاحت ہے نہ کہ تکمیلِ تعریف، جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)

عہ۲: قلت خفیف الحرکات نہ ہو جیسے بازار میں کھاتے پھرنا یا شارع عام چلنے پر راہ میں پیشاب کو بیٹھنا ۱۲(م)
اور مستور پر پوشیدہ حال جس کی کوئی بات مسقطِ شہادت معلوم نہیں۔

اور فاسق جو ظاہراً بد افعال ہے۔
عادِل کی گواہی ہر جگہ مقبول ہے اور مستور کی ہلالِ رمضان میں، اور فاسق کی کہیں نہیں۔ پر بعض روایات کے بعض الفاظ بظاہر اس طرف جاتے ہیں کہ رمضان میں فاسق کی شہادت بھی سُن لیں۔ ممکن ہے کہ اُس شہر کا حاکمِ شرع یہی خیال رکھتا ہو، اگر چہ محققین نے اِسے رَد کردیا۔ تو جس فاسق کو معلوم ہوکہ یہاں کے حاکم کا یہ مسلک ہے اس پر بیشک گواہی دینی واجب ہوگی ورنہ نہیں، اور رمضان میں جبکہ عادل و مستور کا ایک حکم ہے، تو اِس وجوب میں بھی یکساں رہیں گے۔ رہا عادِل، جب وُہ دائم المقبول ہے تو اُس پر وجوب بھی مطلقا ہے یعنی رمضان ہو خواہ عیدالفطر خواہ عید الاضحی،
  یلزم العدل  ان یشھد عند الحاکم فی لیلۃ رؤیتہ کیلایصبحوامفطرین۱؎ وھی من فروض العین
عادلِ پر لازم ہے کہ اس نے جس رات چاند دیکھا ہے اسی رات حاکم کے پاس گواہی دے تاکہ لوگ صبح کو بے روزہ نہ اُٹھیں، اور یہ گواہی فرض عین ہے،
 (۱؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فیما یثبت بہ الہلال  نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی     ص۳۵۸)
واما الفاسق ان علم ان الحاکم یمیل الی قول الطحاوی و یقبل قولہ یجب علیہ،واما المستو رففیہ شبھۃ الرویتین۱؎(ش عن الحلوانی)
اور فاسق اگر جانتا ہے کہ حاکم کا میلان طحاوی کے قول کی طرف ہے اور اس کا قول قبول کرلیتا ہے تو اس پر بھی گواہی دینا واجب ہے۔ رہا مستورالحال شخص تو اس کے بارے میں دو۲روایات کا شبہ ہے(ش عن الحلوانی)
 (۱؎ ردالمحتار         کتاب الصوم        داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۹۱)
اقول : واذقد تقررقبول المستور کماسیأتی فارتفع النزاع وقد افاد بمفھوم الشرح ان الفاسق لایجب علیہ ان لم یعلم ذلک وھوالذی افاد(در) عن البزازی ونبہ علیہ(ش)۔
اقول: جب مستور کے قول کا مقبول ہونا ثابت ہے جیسا کہ  عنقریب آرہا ہے تو نزاع ختم ہوگیا اور مفہوم شرح سے یہ واضح ہوا ہے اگر فاسق اس معاملہ کو نہ جانتا ہو تو اس پرگواہی لازم نہیں، یہ وُہ ہے جو(در) نے(بزازی) سے افادہ کی اور اس پر تنبیہ کی (شامی) نے۔(ت)

پھر وجوب کا سبب یہ ہے کہ اگر دیکھنے والے نے اسی شب گواہی نہ دی تو ہلال رمضان میں صبح کولوگ بے روزہ اٹھیں گے اور ہلال فطر میں روزہ دار۔ اور یہ دونوں ناروا جس کا الزام گواہی نہ دینے والے پر ہوگا۔
فان تاخیر الحجۃ عن وقت الحاجۃ اثم، وقد قال تعالٰی
ولا تکتموا الشہادۃ ط ومن یکتمھا فانہ اٰثم قلبہ۔۲؎
کیونکہ ضرورتِ وقت سے گواہی میں تاخیر گناہ ہے، اﷲتعالٰی کا ارشاد گرامی ہے: گواہی کو مت چھپاؤ اور جو گواہی چھپائے گا تو اندر سے اس کا دل گنہگار ہے۔(ت)
 ( ۲؎ القرآن     ۲ /۲۸۳)
Flag Counter