Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
101 - 198
مسئلہ۲۱۵: از ریاست فرید کوٹ ضلع فیروزپور     مسئولہ منشی سید محمد علی فورمین     ۲۴رمضان المبارک ۱۳۳۳ھ

کیا فرماتے ہیں حضورفیض گنجور اعلٰحضرت تاج العلوم الشرعیہ اس معاملہ میں کہ اخبار دبدبہ سکندری سے معلوم ہُوا کہ ملک آسام میں رؤیت ہلال سہ شنبہ کو ہوکر چہارشنبہ کو ہو کر  پہلا روزہ ہُوا، یہاں پنجاب اور عموماً اکثر حصّہ ملک ہندوستان ومارواڑمیں چہار شنبہ کورؤیت جمعرات کا پہلا روزہ ہُوا اب اس صورت میں ہمارے واسطے کیاحکم ہے، کیا ہم پر اُس روز کی قضاء لازم آئے گی اور کس قدر فاصلہ تک رؤیت ہلال کا ایک حکم مانا جاسکتا ہے؟ اگر ۲۹رمضان المبارک کو جورؤیت ملک آسام کے حساب سے ۳۰ ہوجائے گی چاند نہ دیکھے یا گر دوغبار کی وجہ سے نہ دیکھا جاسکے تو یہاں پُورے تیس روزے کئے جائیں یا ملک آسام کی تحقیق تصدیق پر عید کرلی جائے ، یہ بھی واضح خیالِ انور رہے کہ یہاں رؤیتِ رمضان پر کوئی غبار یا ابر نہیں تھا مطلع کُھلا ہواتھا چاند کوشش سے بھی نظر نہیں آیا۔ اس حکم سے جلد اطلاع فرمائیے کہ رمضان المبارک کا وقفہ کم رہ چکا ہے۔
الجواب : ہمارے ائمہ مذہب صحیح معتمد میں دربارہ رمضان وعید فاصلہ بلاد کا اصلاً اعتبار نہیں، مشرق کی رؤیت مغرب والوں پر حجت ہے وبالعکس، ہاں دوسری جگہ کی رؤیت کا ثبوت بروجہ صحیح شرعی ہونا چاہئے، خط یاتار، یا تحریر اخبار،افواہِ بازار یا حکایت امصار محض بے اعتبار، بلکہ شہادتِ شرعیہ یا استفاضہ شرعیہ درکار،
درمختار میں ہے:
اختلاف المطالع غیرمعتبر علی المذھب وعلیہ الفتوی فیلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذاثبت عندھم رؤیۃ اولٰئک بطریق موجب کمامر۔۱؎
صحیح مذہب کے مطابق مطالع کا اختلاف معتبر نہیں، اور فتوٰی اسی پر ہے، تواہلِ مغرب کی رؤیت کی بناء پر اہلِ مشرق پر روزہ لازم ہوگا بشرطیکہ ان کی رؤیت بطریقِ شرعی ان تک پہنچے، جیسا کہ گزرچکا ہے(ت)
 (۱؎ درمختار         کتاب الصوم        مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۴۹)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ بطریق موجب کان یتحمل اثنان الشہادۃ اویشھد اعلی حکم القاضی اویستفیض الخبر بخلاف مااذا اخبراان اھل بلدۃ کذارأوہ لانہ حکایۃ ح۔۲؎
قولہ'' بطریق موجب'' سے مرادیہ ہے کہ دو۲مرد شہادت پر گواہی دیں یا قاضی کے فیصلہ پر گواہی دیں یا خبر مشہور ہوجائے بخلاف اس صورت کے کہ جب یہ خبر دیں کہ فلاں اہلِ شہر نے چاند دیکھا ہے کیونکہ یہ حکایت ہے، ح۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار          کتاب الصوم          مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۰۵)
اسی میں ہے:
قال الرحمتی معنی الاستفاضۃ ان تاتی من تلک البلدۃ جماعات متعددون کل منھم یخبر عن اھل البلدۃ انھم صامو اعن رؤیۃ الخ۔۳؎
شیخ رحمتی نے فرمایا: شہرت کا مفہوم یہ ہے کہ اس شہر سے متعدد جماعتیں آئیں اور ہر ایک یہ اطلاع دے کہ اس شہر کے لوگوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے الخ(ت)
 ( ۳؎ ردالمحتار    کتاب الصوم          مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۰۵)
پس صورت مستفسرہ میں ہم کو نہ خبر آسام پر عمل جائز نہ خبر حیدر آباد، بلکہ جب تک ثبوت شرعی نہ ہو پنجشنبہ ہی کہ پہلی ہے، اور اگر آئندہ پنجشنبہ کو خدا نخواستہ ابر یا غبارہوا اور رؤیت نہ ہو تو حرام ہے کہ اس پنجشنبہ کو ۳۰ مان کر جمعہ کی عید کرلیں بلکہ اُس صورت میں ہم پر جمعہ کا روز ہ بھی فرض ہوگا اگرچہ قواعدِ علم ہیأت سے جمعہ آئندہ یکم شوال ہے اور جبکہ ہمیں سہ شنبہ کی رؤیت ثابت نہ ہُوئی تو جس نے چہار شنبہ کو بہ نیتِ نفل بھی روزہ نہ رکھا اُس پر بھی اُس روزہ کی قضاء نہیں کہ ہمارے حق میں یکم شنبہ کو تھی۔ واﷲتعالٰی اعلم
Flag Counter